آج : 10 December , 2017
مولانا عبدالحمید:

امریکا و اسرائیل نے ’خطرناک کھیل‘ کا آغاز کیا ہے/ایران اور سعودیہ اختلافات چھوڑدیں

امریکا و اسرائیل نے ’خطرناک کھیل‘ کا آغاز کیا ہے/ایران اور سعودیہ اختلافات چھوڑدیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو صہیونی ریاست کے دارالحکومت تسلیم کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا اسرائیل اور امریکا نے ایک خطرناک کھیل کا آغاز کیا ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کھل کر اعلان کیا ہے بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا اور امریکا کا سفارتخانہ اس شہر میں منتقل ہوگا۔ اس سے پہلے کسی امریکی صدر کو ایسے فیصلے کی جرات نہ ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا: یروشلم کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنا اس شیطانی، قبضہ گیر اور دہشت گرد ریاست کی پرانی خواہش ہے۔ اب تک کسی کو یہ اقدام اٹھانے کی جرات نہ ہوئی تھی، لیکن ٹرمپ جو ایک بے وقوف اور تدبیر سے دور آدمی ہے، اس نے یہ ناشایست حرکت کی۔
مولانا عبدالحمید نے ٹرمپ کے فیصلے کو خطرناک یاد کرتے ہوئے کہا: ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایک ناگوار، چونکا دینے والا اور شوم حادثہ ہے۔ خطہ کئی سالوں سے جنگ و لڑائی کی آگ میں جل رہاہے، یہاں مزید لڑائیوں اور بدامنیوں کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: امریکی حکومت نے فلسطینی قوم سمیت تمام مسلمانوں کے حقوق اور جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے یہودیوں اور صہیونیوں کا ساتھ دیا ہے جو بزور طاقت فلسطین کو ہمیشہ کے لیے اپنے نام رجسٹر کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: تم نے ایک خطرناک کھیل کا آغاز کیا ہے۔ تم مسلمانوں کو مجبور کررہے ہو کہ وہ ’جہاد‘ ہی کے ذریعے تمہارے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ خطہ تمہاری ہی کی وجہ سے بدامن ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یورپ، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کو چاہیے اس خطرناک فیصلہ کے سامنے خاموش نہ رہیں، ٹرمپ کا ہاتھ پکڑلیں، وہ چاہتاہے خود کو بھی آگ لگادے اور عالم اسلام سمیت پوری دنیا کو بھی آگ کے منہ میں ڈالے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ٹرمپ پوری دنیا کو میدان جنگ میں بدلنا چاہتاہے۔ جب اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے بعض ارکان خطے میں لڑائی اور جنگ پیدا کرکے ان میں شدت لانا چاہتے ہیں، تو دیگر گروہوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟

اگر مسلم حکومتیں متحد نہ ہوں، قومیں متحد ہوجائیں گی
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا: امریکی صدر اور سیاستدانوں کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے اس فیصلہ سے عالم اسلام میں مزید اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا اور وہ بیدار ہوجائیں گے۔ مسلم امہ کو خواب غفلت سے اٹھنا چاہیے، دشمنان اسلام مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ کرکے ہمیشہ کے لیے اس کو اپنی ملکیت میں لانا چاہتے ہیں اور اس میں اپنی عبادتگاہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جائے عبادت نہ ہوگی۔ لہذا دشمنوں کے سامنے متحد ہوکر اس مقدس شہر کی حفاظت کرنی چاہیے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: مسلم ممالک کو متحد و متفق رہنا چاہیے۔ ایران اور سعودی عرب کو اپنے اختلافات چھوڑدینا چاہیے۔ سارے مسلم ممالک اپنے جغرافی، سیاسی اور دیگر مفادپرستانہ اختلافات کو چھوڑکر خبردار رہیں کہ دشمن ان کے اختلافات سے غلط فائدہ اٹھارہاہے۔
رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن نے مزید کہا: اگر مسلم ممالک امریکا و اسرائیل کے خلاف متحد نہ ہوجائیں، مسلم قومیں ضرور متحد ہوکر ان کے خلاف کھڑی ہوجائیں گی۔ مسلم حکام کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تمام قوموں کا مطالبہ ہے کہ وہ دشمنوں کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں تاکہ مسلمانوں کے جذبات و عقائد کو مزید مجروح نہ ہوں۔
اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے صدر مملکت حسن روحانی کے حالیہ دورہ سیستان بلوچستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حکومت اس صوبے کے مسائل حل کرنے میں مزید فراخدلی، سخاوت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرے۔
یادرہے نماز جمعہ کے بعد، یروشلم کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں علمائے کرام اور نمازیوں نے شرکت کی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں