آج : 10 December , 2017

سونے کے آداب

سونے کے آداب

اسلام ایک کامل دین ہے ۔ انسانی زندگی کے تمام مراحل میں اس نے راہ نمائی فرمائی ہے ، یہاں تک کہ نیند کی حالت کو بھی فراموش نہیں کیا ، وہ نیند جس میں انسان تقریبا اپنی ایک تہائی زندگی گزار دیتاہے ، اسلام نے اس کے بہت سے آداب اور سنتیں ذکر فرمائی ہیں ، جو شخص ان پر عمل کرے گا اسے سکون واطمینان کی نیند نصیب ہو گی، پریشانی ،بے چینی اور بے خوابی سے نجات ملے گی۔

سورج کا غروب ہونا رات کی دلیل ہے ، رات ایک طرف تھکے ہارے کے لیے پرسکون نیند کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف اس میں شیاطین اور شریروں کی چلت پھرت تیز ہوجاتی ہے ۔رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : سورج غروب ہوتے وقت اپنے بچوں اور جانوروں کو باہر نہ چھوڑو، اس لیے کہ سورج غروب ہونے کے وقت سے عشا کا اندھیرا چھانے تک شیاطین گھومتے پھرتے ہیں۔(مسلم)

رات کی تاریکی میں بہت سی برائیاں اور مصائب رونما ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالی نے ہمیں رات کی تاریکی سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی :﴿وَ مِن شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾(سورة فلق) ”اور (میں صبح کے رب کی پناہ مانگتاہوں ) تاریک رات کے شر سے جب اس کی تاریکی پھیل جائے “ ۔

نیند زندگی کی ایک اہم ترین ضرورت ہے ،اللہ کی ایک نشانی ہے اور ایک بڑی نعمت ہے ،اللہ نے اپنے بندوں پر اس نعمت کااحسان جتلاتے ہوئے فرمایا:”رات اور دن میں تمہارا نیند کرنا اور تمہارا اس کا فضل ( یعنی روزی ) تلاش کرنا بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے ، جو لوگ (کان لگاکر) سننے کے عادی ہیں ان کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔“ (سورة الروم)

جلدسے جلد سونا اور بغیر ضرورت کے جاگنے سے پرہیز کرنا
ابوبرزة اسلمی  سے روایت ہے کہ:رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشا سے قبل سونے کواور عشا کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۔ (بخاری، مسلم)

سونے سے پہلے ہاتھ اور منھ میں گوشت یا چربی وغیرہ کا اثر یا مہک ہو تو اس کو دھو لینا چاہیے
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے ہاتھ میں (گوشت یا چربی کی ) مہک یا اس کااثر موجود ہواور اسے دھوئے بغیر سوگیا ، پھر اسے کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرے۔ ( ترمذی،احمد، ابوداو )

سونے سے قبل وضو کرنا
براء بن عازب  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے بستر پر آو تو وضو کرلو جیسے نمازکے لیے وضو کیا جاتاہے۔ (بخاری مسلم) مقصود یہ ہے کہ سوتے وقت باوضو رہنا سنت ہے ۔

باوضو سونے سے انسان ڈراونے خواب اور شیطان کے کھلواڑ سے محفوظ رہے گا۔ اگر اس رات اس کی موت ہوجائے تو طہارت کی حالت میں موت ہوگی، اگرکوئی اچھا خواب دیکھے تو وہ سچا ہوسکتاہے ۔(شرح مسلم ،نووی )

سونے سے پہلے وتر پڑھنا
جو شخص رات کے آخری حصہ میں بیدار نہ ہوسکے تو ابتدائی رات میں وتر پڑھ لے۔ (مسلم )رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ابوہریرہ کو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت فرمائی۔( بخاری ، مسلم)

سونے سے پہلے بسم اللہ کہہ کر دروازے بندکر نا
حضرت جابر  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : دروازے بند کرو اور (انہیں بند کرتے وقت) بسم اللہ کہو ، اس لیے کہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا۔(بخاری ،مسلم)

ایسا کرنے سے شیطان سے دوری اور اس سے بچاو کا ذریعہ بھی ہے اور جان ومال کی حفاظت بھی ہے ۔

سونے سے قبل کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپنا
سونے سے قبل کھانے پینے کے برتنوں کوبسم اللہ کہہ کر ڈھانک دیں، اگر کوئی چیز نہ ملے تو کم سے کم ایک لکڑی ہی سہی بسم اللہ کہہ کر اس پررکھ دیں، اس لیے کہ شیطان بنددروازوں کو اور ڈھکے ہوئے برتنوں کو نہیں کھولتا۔(مسلم)

ایک حدیث میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کا سبب یہ بیان فرمایاہے کہ: سال میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں وبااور بلانازل ہوتی ہے اور جس چیز کا منھ بند نہ ہو اور جوبرتن ڈھکا ہوا نہ ہو اس میں یہ وبا اتر پڑتی ہے۔ (مسلم)

سونے سے قبل بسم اللہ کہہ کر بستر جھاڑ نا
جو اپنے بستر سے اٹھ جائے پھر دوبارہ سونے کے لیے آئے تودوبارہ اس کو جھاڑلے ، کیوں کہ معلوم نہیں کہ اس کے جانے کے بعد وہاں کیا کچھ آیا ہے۔ (بخاری،مسلم)

سونے سے پہلے آگ اورچراغ بجھانا
حضرت جابر بن عبداللہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :رات میں جب تم سونے جاؤ تو چراغ بجھا دو اور دروازے بند کردو۔(بخاری، مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر  کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ کو جلتے ہوئے نہ چھوڑو۔ (بخاری،مسلم) ایک اورروایت میں ہے کہ چراغ بجھادو، کیوں کہ بسااوقات چوہا چراغ کی بتی کو بھڑکا کر گھروالوں کو جلاڈالتاہے۔ (بخاری )

مسئلہ : آگ یا چراغ جلائے رکھنے کی ضرورت پڑے تو اس سے محفوظ رہنے اور اس کے نہ بھڑکنے کے اسباب اختیار کرلیے جائیں تو پھر اسے بجھائے بغیر سونا جائز ہے، اس لیے کہ حدیث میں جو سبب ذکر کیا گیا ہے اگر وہ ختم ہوجائے تو منع کا حکم بھی ختم ہوجاتاہے ۔ (شرح مسلم، نووی)

امام قرطبی فرماتے ہیں : آگ بجھادے یا پھر ایسے طریقے اپنا ئے کہ وہ بھڑک نہ سکے ۔(فتح الباری)

دائیں کروٹ لیٹے اور اپنے داہنے ہاتھ کواپنے گال کے نیچے رکھ لے ،رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت براء بن عازب کو سیدھی کروٹ سونے کے لیے کہا۔(بخاری)

حضرت حفصہ اور دیگر صحابہ سے روایت ہے کہ :رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سوتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھ لیتے تھے ۔(احمد )

پیٹ کے بل سونا منع ہے
ایسا سونے سے اللہ تعالی غصہ ہوتے ہیں اوراس کو ناپسند فرماتے ہیں، اس لیے کہ یہ دوزخیوں کا طریقہ ہے : اللہ تعالی کا فرمان ہے :﴿یَوْمَ یُسْحَبُونَ فِی النَّارِ عَلَی وُجُوہِہِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ﴾․( سورة القمر )

ترجمہ:” جس دن وہ اپنے منھ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا)دوزخ کی آگ کے مزے چکھو ۔“

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اِنَّ ھٰذِہِ ضِجْعَةٌ یُبْغِضُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی یَعْنِی الْاَضْطِجَاعُ عَلَی الْبَطَنِ․“(صحیح الجامع الصغیر)

ترجمہ :یقینا اس طرح لیٹنے کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے، یعنی پیٹ کے بل (اوندھا)لیٹنا۔الاضطجاع علی البطن: یعنی ایسے سونا کہ پیٹ زمین کی طرف اور پشت اوپر کی طرف ہو)۔( سنن الترمذی)

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا،تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا:جُنیدب ! ( یہ ابوذر کا نام ہے ) سونے کا یہ انداز توجہنمیوں کا ہے۔ (ابوداوٴد)

چت لیٹ کر ایک پیر کو دوسرے پیر کے گھٹنے پر رکھ کر سونا مکروہ ہے،اس لیے کہ اس میں ستر کھلنے کا امکان ہے ۔

حضرت جابر بن عبداللہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی ایک پیر کو دوسرے پر اٹھاکر رکھ لے جب کہ وہ چت لیٹا ہواہو۔( مسلم )

اگر ستر کھلنے کا امکان نہ ہوتو ایساسونے میں کوئی حرج نہیں ہے ؛ اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی  کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر لیٹے ہوئے دیکھا۔ (بخاری، مسلم )

چھت پر سونا منع ہے
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسی چھت پر سوئے جس کے اطراف کوئی آڑاور چار دیواری نہ ہو اوروہ اوپر سے گرکر مرجائے یا اسے کوئی نقصان پہنچے تو وہ اللہ کی ذمہ داری سے بری ہے۔ (احمد،ابوداود) یعنی گویا اس نے خود کشی کرلی ۔ اور اگر حفاظت کے ذرائع اپنانے کے بعد بھی وہ ہلاک ہوگیاتو ان شاء اللہ وہ شہید کہلائے گا۔

بچے الگ الگ بستروں پر
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر سزا دو اور ان کے بستروں کو الگ کردو جب دس سال کے ہوجائیں(احمد، ابوداود )


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں