آج : 7 December , 2017

تعارف سورت آل عمران

تعارف سورت آل عمران

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)
یہ قرآن کریم کی تیسری سورت ہے ،پوری سورت مدنی ہے۔ اس کا نام ”آل عمران“ ہے (یعنی عمران کے خاندان والے)، عمران نام کی دو شخصیات گزری ہیں۔1.. حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد گرامی عمران بن یصہر،2.. حضرت مریم علیہا السلام کے والد گرامی عمران بن ماثان۔ یہاں سورت کون سے آل عمران سے موسوم ہے؟ اس میں دونوں احتمال ہوسکتے ہیں، لیکن اس سورت کی آیت نمبر33میں جہاں ”آل عمران“ کا لفظ آیا ہے، وہاں سیاق و سباق سے راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے حضرت مریم کے والد یعنی عمران بن ماثان کی آل مراد ہے۔ حسن اور وہب تابعین سے یہی منقول ہے۔ ( روح المعانی، آل عمران، ذیل آیت:33)

اس سورت کی ابتدائی 83 آیتیں نجران کے عیسائی وفدکے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں،جو 9ہجری میں وفد کی صورت آپ علیہ الصلاة والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ”نجران“ یمن کے شمالی حصے میں ایک جگہ کا نام ہے۔ موجودہ جغرافیہ کے مطابق اب یہ علاقہ سعودی مملکت کی یمنی سرحد پر واقع ہے اور سعودی مملکت کا حصہ ہے۔

اس قبیلے سے آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور ان کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کے بندے ہونے پر تفصیلی کلام فرمایا۔اس سورت کے اہم موضوعات ردّ مسیحیت، ردّیہودیت، عقیدہ توحید اور رسالت کا اثبات، حج اور قتال فی سبیل اللہ کی فرضیت اور سود کی حرمت ہے۔

اس سورت کی سورة بقرہ کے ساتھ کئی مناسبتیں ہیں۔ سورة بقرہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی غیر معمولی تخلیق کا تذکرہ تھا اور اس سورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غیر معمولی تخلیق کا تذکرہ ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ کے آخر میں کافروں کے خلاف مدد کی دعا تھی اور اس سورت میں کفار کے ساتھ قتال کرنے کا حکم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں کے فضائل ایک ساتھ وارد ہوئے ہیں۔ چناں چہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:”زہراوین“ یعنی بقرہ اور آل عمران کو پڑھا کرو، یہ دونوں قیامت کے روز بادل کے ٹکڑوں یا صف بستہ پرندوں کے گروہوں کی شکل میں اپنے پڑھنے والوں پرسایہ فگن ہوں گی۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1874)

﴿الم، اللّہُ لا إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ، نَزَّلَ عَلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیْلَ، مِن قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِآیَاتِ اللّہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَاللّہُ عَزِیْزٌ ذُو انتِقَامٍ﴾․ (آل عمران:4-1)

”المo اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، سب کا تھامنے والاoاتاری تجھ پر کتاب سچی، تصدیق کرتی ہے اگلی کتابوں کی اور اتارا تورات اور انجیل کوo اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے اور اتارے فیصلے، بے شک جو منکر ہوئے اللہ کی آیتوں سے ان کے واسطے سخت عذاب ہے اوراللہ زبردست ہے بدلہ لینے والاo

تفسیر: شان نزول۔ مسیحی وفد کے ساتھ آپ علیہ السلام کا مناظرہ
سورہٴ آل عمران کی ابتدائی تراسی آیات نجران کے مسیحی وفد کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ وفد 9ہجری میں ساٹھ افراد، بشمول چودہ سرداروں کے آپ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا۔ ان کے سرکردہ افراد تین تھے۔1. عاقب ،جس کانام عبدالمسیح تھا۔2. سید، جس کا نام ایہم تھا 3. لاٹ پادری جس کا نام ابو حارثہ بن علقمہ تھا۔

عاقب اور سید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو فرمائی۔ آپ نے قبول اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اپنے مزعومہ کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے کر آپ کی دعوت یہ کہہ کر رد کردی کہ ہم پہلے سے مسلمان ہیں۔ آپ نے ان کے مزعومہ اسلام کی تردید فرمائی کہ اسلام اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹے کا عقیدہ رکھنے اور صلیب کی پوجا کرنے اور خنزیر کھانے کا نام نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے آپ علیہ السلام سے استفسار کیا ،اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہیں تو پھر آپ بتائیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کون تھے؟ یہ بات کہہ کر تمام عیسائی اس گفتگو میں حصہ لینے لگے۔

چناں چہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ بتاوٴ بیٹا ، باپ کے ساتھ (جنس و شکل میں )مشابہت رکھتا ہے یا نہیں؟ کہنے لگے جی ہاں رکھتا ہے، پھر آپ نے پوچھا:ہمار ا رب تو زندہ اور ہمیشہ رہنے والاہے، کیاحضر ت عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی کہ نہیں؟ کہنے لگے جی ہاں ان پر موت آئے گی۔ (آپ علیہ السلام نے ”یَاْتی علیہ الفَنَا“کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔”یَاْتی“مستقبل کا صیغہ ہے۔ یعنی ان پر فنا طاری ہوگی کہ نہیں؟ اس کے جواب میں مسیحیوں کو اپنے عقیدے کے موافق کہنا چاہیے تھا کہ آپ پر تو موت آچکی ہے۔“ لیکن اس اقرار پر ان کا دعوی ابن اللہ اور بھی کمزور پڑجاتا اس لیے لفظی مناقشے میں پڑنا مناسب نہیں سمجھا اور کہہ دیا کہ ان پر موت آئے گی چوں کہ اہل اسلام کے نزدیک وہ تاحال زندہ ہیں۔ اس لیے آپ علیہ السلام نے مسیحی عقیدے کو مسیحیوں کے سامنے دہراتے ہوئے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تحقق موت کا اطلاق نہیں کیا۔ اس سے قادیانی مذہب کی تردید ہوتی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فوت ہوچکنے کا عقیدہ رکھتے ہیں)۔

اس سے معلوم ہوا بیٹا اپنے باپ کی طرح نہیں ہے( وگر نہ اسے موت نہ آتی)، پھر آپ عليه السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہمارا پروردگار ہرچیز کو تھامے ہوئے ہے، ہرچیز کا محافظ اور رازق ہے، کہنے لگے جی ہاں ۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ عليه السلام کو یہ تصرفات حاصل ہیں؟ کہنے لگے نہیں، پھر آپ نے فرمایا کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر ساتوں آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ کہنے لگے کیوں نہیں؟ ہم یہ جانتے ہیں۔ پھر آپ عليه السلام نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ ں اس طرح علم محیط سمجھتے تھے سوائے اس علم کے جو آپ کو بذریعہ وحی عطا کیاگیا؟ کہنے لگے نہیں۔ پھر آپ ں نے فرمایا: کیاتمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے پروردگار نے حضرت عیسیٰ ں کی شکل و صورت ان کی ماں کے رحم میں جیسی چاہی بنائی؟اور ہمارا پروردگار کھانے پینے سے ماورا ہے؟ کہنے لگے جی ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا:کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عیسیٰ ں کی والدہ عام عورتوں کی طرح ان کو پیٹ میں حمل کے دوران انہیں لیے پھرتی تھی؟ اور عام عورتوں کی طرح ان کی ماں نے انہیں نہیں جناہے؟ کیاوہ دیگر بچوں کی طرح والدہ کا دودھ نہیں پیتے تھے؟کھاتے پیتے اور بول و براز نہیں کرتے تھے؟ کہنے لگے بالکل کرتے تھے۔ آپ علیہ السلامنے فرمایا پھر یہ تمہارے دعوے کے مطابق خدایا خدا کا بیٹا کیسے بن سکتا ہے؟ حالاں کہ ان میں تمام بشری صفات موجود تھیں۔ یہ سن کر وہ ہکا بکا رہ گئے، اس پر یہ ابتدائی تراسی آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیرالثعلبی، اٰل عمران تحت آیہ: 2، وفد نجران کا قصہ اختلاف الفاظ کے ساتھ تفسیر و سیرت اور تاریخ کی تمام کتابوں میں مذکور ہے)

آخر میں انہیں مباہلے کی دعوت دی گئی، جسے وقت آنے پر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور جزیہ پر صلح کرکے واپس لوٹ گئے۔

﴿آلٓمٓ، اَللّٰہُ لاَ اِلَہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﴾
الله تعالیٰ، حیّ اور قیوّم ہے۔

معبود حقیقی کی منجملہ صفات میں ایک صفت ”حیُّ“ہے، یعنی ازل سے ابد تک ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات۔ اس میں تمام مشرکین کا رد ہے، بالخصوص نصاری پرجن کے عقیدے کے موافق معبود پر موت طاری ہوسکتی ہے، جن کے عقیدہ کفارہ کے مطابق ”ابن اللہ “یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی دنیا میں آمد مرنے کے لیے ہوئی ہے۔ نصاری کے عقیدے کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سے جو غلطی جنت میں سرزد ہوئی اس کی وجہ سے آدم کی ساری اولاد پیدائشی گناہ گار ٹھہری، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس گناہ کو معاف کرسکتا تھا، لیکن بغیر سزادیے معاف کردینا عدلِ الہٰی کے خلاف تھا۔ اس لیے اس گناہ کے کفارے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کو بھیجا، جنہوں نے صلیب پر جان دے کر پوری گناہ گار انسانیت کا کفارہ اداکردیا ہے۔

اس مضحکہ خیز سزااور تصور عدل پر تبصرہ اپنے مقام پر آئے گا ،لیکن سردست یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام معبود برحق ہوتے تو ان پر موت طاری نہ ہوتی، جو ذات فنا کے گھاٹ اترجائے وہ معبود بننے کے لائق نہیں ہوتی۔

”القیوم“معبود برحق بذات خود ”قائم “ہے، ساری کائنات اس کی وجہ سے قائم ہے، لیکن وہ کسی کی وجہ سے قائم نہیں، نہ ہی اپنے وجود کے قیام میں کسی کا محتاج ہے ۔ یہاں بھی مسیحیوں کی تردید ہوتی ہے، جن کا عقیدہ ہے؛”جس طرح بیٹا باپ کے بغیر تنہا خدا نہیں اسی طرح باپ بغیر بیٹے کے تنہا خدا نہیں۔ “( انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجنس اینڈ انکلس: 7/536)

آسمانی کتابوں کانزول
”نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بَالْحَقِّ… “انسانیت کی راہ نمائی کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام پر کتابیں نازل فرمائیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری کتاب قرآن کریم، جو محکم دلائل پر مشتمل ہے، اتاری، آیت کریمہ میں ”الکتب“ سے قرآن کریم مراد ہے۔ قرآن کریم چوں کہ بتدریج نازل ہوا ہے ،اس لیے اس مفہوم کو ”نَزَّلَ“کے لفظ سے عیاں کیاگیا ہے۔ اس کے برعکس سابقہ کتب سماویہ کے متعلق”اَنْزَلَ“ کا لفظ آیا ہے ،جو یک بارگی نزول کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔

تورات و انجیل کا تعارف
”وَاَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِیْلَ مِنْ قَبْلُ ھُدَی لِلنَّاسِ“ سابقہ کتب سماویہ میں سے تورات وانجیل کے نزول کا تذکرہ خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس کے بعد ”الفرقان“ حق و باطل میں فیصلہ کرنیوالی کتاب، یعنی قرآن کریم کے نزول کا تذکرہ فرمایاہے۔ قرآن کریم کو ”الفرقان“ کا خطاب دے کر واضح کردیا کہ تورات و انجیل کے اختلافی مضامین پر قول فیصل صرف قرآن کریم کا ہے۔ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے تورات و انجیل کے مضامین کو معیار بنانا صداقت کی روشنی کو جھوٹ کے ظلمت کدے میں لے جانے کے مترادف ہے۔

قرآن کریم کی اصطلاح میں تورات اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری تھی۔ تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی اور لفظ ”تورات“ خود عبرانی لفظ ہے، جس کا معنی ہے ”قانونِ“ ہیکل کی تباہی کے بعد تورات کے اصلی نسخے کا آج تک پتہ نہ چل سکا۔

انجیل اس کتاب کا نام ہے جو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام پر نازل ہوئی تھی۔ لفظ ”انجیل“ یونانی لفظ ”انگیلیون“ سے معرّ ب ہوا ہے، اس کا معنی ہے ”خوش خبری کی باتیں“۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام بالاتفاق عبرانی نسل کے تھے ،اس لیے بظاہر انجیل بھی عبرانی زبان میں اتری ہوگی، وہ انجیل خالص آسمانی کتاب تھی، اس میں کسی متی، مرقس ،لوقا اور یوحنا کا عمل دخل نہیں تھا، جو حالات اور زمانے کی ستم ظریفی کے باعث نایاب ہوگئی۔

چناں چہ آج بھی بعض مسیحی دبے لفظوں میں اصلی آسمانی انجیل کا اقرار کرتے ہیں۔ چناں چہ نارٹن ایک مسیحی عالم کہارن سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

”ابتدائے مسیحیت میں ایک مختصر رسالہ پایا جاتا تھا، جس کے بارے میں اصل انجیل کا شبہ کیا جاتاہے۔“(دیکھیے مسیحیت، علمی اورتاریخی حقائق کی روشنی میں، ص: 61)

مرقس جو ، اناجیل اربعہ میں سے ایک کاموٴلف ہے ،لکھتا ہے: حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا:

”کیوں کہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اسے کھوئے گا اور جو کوئی میری اور انجیل کی خاطر اپنی جان کھوئے گا وہ اسے بچائے گا۔ “( مرقس: 8:35)

 

موجودہ تورات و انجیل کی حقیقت
یہود کے مذہبی ذخیرے میں جس مجموعے کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل ہے ،اسے بائبل کہاجاتا ہے، بائبل دراصل یونانی لفظ ”ببلیا“ بمعنی کتاب سے ماخوذ ہے۔ اسے عہد عتیق، پرانا عہد نامہOld Testuments کہاجاتا ہے۔یہ بائبل39کتابوں پر مشتمل ہے، جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے:

پہلاحصہ: اسے تورات کہتے ہیں ،جو پانچ کتابوں پرمشتمل ہے:
1..پیدائش Genesis
2..خروج Exodus
3..احبار Eviticus
4..گنتی Numbers
5..استثناء Deuteronomy اس حصے کے متعلق یہود کا دعوی ہے کہ یہ الہامی ہے۔

دوسرا حصہ: یہ انبیاء علیہم السلام کے مختلف صحیفوں پر مشتمل ہے۔

تیسرا حصہ: مختلف کتب اور اشعارپر مشتمل ہے۔

یہودی تاریخ کے مطابق حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے تورات کو ایک صندوق میں رکھوایا تھا اور ہر سال کے آخر میں پڑھ کر سنانے کا حکم دیا تھا۔ (استثناء: 31:9:13)چناں چہ آپ کے بعد آپ کے نائب حضرت یوشع علیہ السلام نے دوبار اس حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے عہد خلافت میں پڑھ کر سنائی، جس صندوق میں تورات ہوتی تھی وہ صرف کاہن اعظم کے پاس ہوتاتھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں اسے کھولا گیا تو اس میں کچھ نہ تھا، اس واقعے کی تفصیل عہد عتیق میں ملتی ہے۔ (سلاطین: 8:9) تین سو سال سے زائدعرصے کے بعد یہ گم شدہ تورات یوسیاہ بادشاہ کی حکومت کے اٹھارہویں سال دریافت ہوئی، پھر کئی بار جلنے اور گم ہوجانے کے حادثے کا شکار ہوئی، آخرمیں بُخْتَ نَصَّر نے یروشلم پر حملہ کرکے پورے شہر کو آگ لگاکر ویران کردیا۔ اس میں وہ صندوق بھی جل گیا، جس میں بقول یہود، تورات تھی۔ ستر ہزار یہودی قتل ہوئے اور سترہزار قیدی ہوئے ،جنہیں بُخْتَ نَصَّر اپنے ساتھ بابل لے گیا، ستر سالہ غلامی کے بعد واپس آئے تو عذرانبی (جنہیں قرآن کریم میں ”عذیر“ کہا گیا ہے) (حضرت عزیر علیہ السلام کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے نہیں معلوم وہ نبی تھے یا نہیں ، ابو داوٴد، رقم الحدیث:4676) نے اپنی یادداشت سے تورات کو ازسرنو مرتب فرمایا۔

خلاصہ یہ کہ اصلی تورات دنیا سے چار پانچ بار جل کر ضائع ہوچکی ہے، اس میں موجود تناقضات، تضادات، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد کے تذکرے، اللہ تعالیٰ کی گستاخیاں، انبیاء علیہم السلام پر تہمت اس کے جعلی پن کو عیاں کرتی ہیں۔ اس کی جعل سازی پر علامہ علی بن احمد بن حزم الاندلسی، علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ اور مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے اپنی تالیفات میں تفصیل کے ساتھ دلائل وشواہد ذکر فرمائے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں