آج : 7 December , 2017

ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا

ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے امریکی صدرکے فیصلے کوتاریخی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی امن معاہد ے میں مقبوضہ بیت المقدس بطوراسرائیلی دارالحکومت شامل ہوگا۔
دوسرے ممالک بھی امریکہ کی طرح اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کریں۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیااور کہا کہ کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن اب بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ۔ امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کے اعلان کے دوران کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کیلئے کاوشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کیلئے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں کسی دوسرے ملک کا سفارتخانہ موجود نہیں ہے البتہ تل ابیب میں 86 ممالک کے سفارتخانے موجود ہیں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ پرانے چیلنجز نئے مطالبات کرنے ہیں اس سے پہلے بہت سے امریکی صدور نے سفارتخانہ منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہمت کم تھی یا انہوں نے ارادہ بدل دیا کچھ کہہ نہیں سکتا فیصلے کو کئی اختلافات کا سامنا رہا۔
بیت المقدس میں تمام مذاہب کے لوگ پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ اسرائیل خود مختار ملک ہے اور خود مختار دارالحکومت کا اختیار ہے۔ امریکہ نے 70 سال پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اس دن سے اسرائیلی مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت مانتا ہے مقبوضہ بیت المقدس 3 بڑے مذاہب کا دل اور کامیاب جمہوریت کا مرکز ہے وعدہ کیا تھا عالمی مسائل کا حقیقت پسندانہ مقابلہ کروں گا بیت المقدس میں تمام مذاہب کے رہنے والوں کو آزادی حاصل ہے۔
بیت المقدس میں مسلمان، عیسائی اور یہودی اپنی عبادت کرتے ہیں ہدایت کرتا ہوں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا جائے امریکی سفارتخانے کی منتقل یکاف عرصے سے رکی ہوئی تھی۔ امریکہ دو ریاستی حل پالیسی کی حمایت کرتا رہے گا تمام فریقین کو کہتا ہوں کہ وہ سٹیٹس کو برقرار رھیں ہماری سب سے بڑی امید امن ہے کچھ دنوں میں امریکی نائب صدر مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا عمل 6 ماہ بعد ہوگا ٹرمپ نے کہا کہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین میں امن کیلئے ضروری تھا۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا کہ امریکی صدر کے اعلان پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں