آج : 5 December , 2017

شہر سے گاؤں تک

شہر سے گاؤں تک

شہر اور گاؤں میں موجودہ دور میں تو اتنا فرق نہیں، لیکن جب میں سات برس کی تھی تو اس وقت گاؤں اور شہر میں بہت فرق تھا۔ گاؤں کی فضائیں، وہاں کا سکون، وہاں کی مٹی کا سوندھاپن، وہاں پر لہلہاتی فصلیں میرے دل کو خوشیوں اور سکون کی فضاؤں میں لے جاتی تھیں۔ حالاں کہ بعض لوگ تو گاؤں اور دیہات کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے اور بہت عجیب و غریب منہ بنانے لگتے ہیں، لیکن میرے ساتھ عجیب بات تھی جہاں گاؤں کا تذکرہ چھڑا میرے کان کھڑے ہوجاتے تھے اور میرے لیے اس خبر کو سن کر اپنی خوشی کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا تھا۔ علی گڑھ کا نام تو آپ نے سنا ہوگا، جہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے۔ علی گڑھ کے قریب ہی ایک قصبہ تھا جو ’کھیر‘ کہلاتا تھا۔ میرا جہاں تک خیال ہے کسی بزرگ نے اسے ’خیر‘ کہا ہوگا۔ ہندی نے اسے ’کھیر‘ بنادیا۔ کھیر میری چچی جان کا گاؤں تھا جہاں میں اکثر ان کے ساتھ جاتی رہتی تھی۔ ان کے گھروالے انتہائی سادہ مزاج تھے اور مجھے ان کے تمام بہن بھائی اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ یہاں کے کھیت، کھیلان، رہٹ اور فصلوں نے مجھے گاؤں سے پیار کرنا سکھایا۔
اسی زمان میں میرے کانوں میں بھنک پڑی کہ اماں جی (دادی جان) کا ارادہ دادری (ایک گاؤں) جانے کا ہے۔ میں نے اماں کے پاس بیٹھ کر تمام معلومات حاصل کیں کہ دادری کے چودھری علیم الدین صاحب (جنہیں ہم تایا جی کہتے تھے) کے بیٹے کی شادی ہے جس میں انہوں نے ہماری حویلی سے کافی لوگوں کو شادی میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ خواتین میں اماں جی کا نام سرِ فہرست جگمگا رہتا تھا اور جہاں اماں جائیں ناممکن تھا کہ مجھے چھوڑ جائیں۔ اس زمانے میں ٹرین کا سفر بچوں کے لیے انتہائی خوش کن سفر ہوتا تھا۔ شادی سے چار، پانچ دن قبل تایا جی ہم سب کو ٹرین میں بٹھا کر دادری پہنچے۔ میں نے دیکھا کہ سب آرام سے گاؤں پہنچ کر اپنے کھانے پینے میں لگ گئے، لیکن میرے خوشی کا عالم ایسا تھا جو میں کسی کو بتا نہیں سکتی تھی لیکن اماں جی کو نجانے کس طرح میرے خیالات سے آگہی ہوجاتی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد نماز سے فارغ ہوکر اماں جی نے جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے مجھے پیار کیا اور کہا کہ ’’ہم کسی کے گھر مہمان ہیں، اس لیے یہاں کوئی شرارت نہیں کرنا کہ میرے لیے اسے سنبھالنا مشکل ہوجائے۔‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں زور زور سے سر ہلایا اور اماں مطمئن ہوگئیں۔ حویلی سے آنے والی خواتین کے ساتھ بچیاں بھی تھیں۔ ان میں سے اکثر میری ہم جولیاں اور ہم سبق تھیں لیکن یہ ساری بچیاں میری آنکھ کے ایک اشارے پر کھڑی ہوجاتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں سب کو سبق یاد کراتی تھی۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد جب سب سونے کے لیے لیٹے تو میری اماں جی نے زبردستی مجھے بھی لٹالیا کہ ’’اب سوجاؤ صبح نماز کے لیے اٹھنا ہے۔ تھکان بہت ہوگئی ہے۔‘‘ میں نے غور کیا تو تھکان کا میرے پاس تو نام و نشان بھی نہیں تھا کیوں کہ اس وقت تک میں تھکان سے واقفیت بھی نہیں رکھتی تھی۔ نماز اور ناشتے کے بعد میرا ذہن آج کی شرارت کی پلاننگ کررہا تھا۔ یہ مارچ کا مہینہ تھا اور مجھے فصلوں کے سلسلے کی کافی معلومات تھیں کہ اس وقت گیہوں کی فصل اپنے پورے قد سے کھڑی ہوتی ہے اور گاؤں کی عورتیں اپنے خاص انداز میں اس فصل کو کاٹتی ہیں۔
دوسری بڑی فصل گنے کی ہوتی ہے جسے توڑ توڑ کر گٹھے بنائے جاتے ہیں۔ اس موسم میں کیلے کے نئے پودے لگائے جاتے ہیں اور سبزیاں بھی خاصی بڑی تعداد میں کھیتوں میں موجود ہوتی ہیں۔ میں نے خاموشی سے اپنی ہم عمر ہم جولیوں کاانتخاب کیا اور انہیں بڑے میٹھے میٹھے خواب دکھائے کہ ’’میں تمہیں کھیتوں میں لے کر جاؤں گی۔ وہاں کھیتوں پر کام کرنے والی عورتیں تمہیں دکھاؤں گی اور پھر ان کے ہاتھوں سے گاجر، مولی اور کھیرا و غیرہ توڑوا کر تمہیں کھلاؤں گی۔‘‘
ساری بچیاں بڑی خوشی سے تیار ہوگئیں۔ میں نے اماں کے گلے میں پیار سے بانہیں ڈالیں اور کہا:
’’بس اماں ہم قریب کے کھیت دیکھ کر جلدہی لوٹ آئیں گے۔‘‘
انہوں نے اجازت دے دی۔ میں نے دائیں بائیں اپنی ہم جولیوں کو دیکھا اور ہم ہنستے کھیلتے آگے بڑھتے رہے۔ گاؤں کی عورتوں نے گھونگٹ نکالے ہوئے تھے اور وہ اپنے کام میں مصروف تھیں۔ زیادہ تر عورتوں کے ہاتھوں میں چھاج (یہ اناج کو پھٹکنے کے کام آتا ہے) تھے جس میں وہ گیہوں پھٹک کر بھوسا نکال رہی تھیں۔
ہم سب دیر تک عورتوں کے اس کام کو دیکھتے رہے لیکن کسی عورت نے ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ میرے دل کو بہت برا لگا، لیکن میں نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے سب سہیلیوں کے چہروں کی طرف دیکھا تو کسی قسم کا غلط تأثر نظر نہیں آیا۔ میں نے سب کو آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ ہم اپنے اسی انداز میں ہنستے کھیلتے آگے بڑھ رہے تھے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے سے مٹی کے ٹیلے بنے ہوئے تھے جہاں گاؤں کی بچیاں چھپن چھپائی کھیل رہی تھیں۔ واقعی بچوں کے دل تعصب سے پاک ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بھی کھیلنے کا اشارہ کیا تو چند منٹ ہم نے ان کی خوشی کے لیے کھیلا لیکن میرا دل نہیں لگا، کیوں کہ میرے ذہن کے کینوس پر گاجر، مولی اور کھیرا نظر آرہے تھے۔ میں نے ایک بڑی سی بچی سے کہا کہ ہمیں سبزی کے کھیت دکھاؤ۔ اس نے فوراً میری بات مانی اور تیزی سے آگے دوڑنے لگی۔ ہم ان کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ اس بھاگ دوڑ میں کتنا وقت لگا یہ تو مجھے یاد نہیں، لیکن آخر کار ہم ایسے کھیت میں پہنچے جہاں سبزیاں لگی ہوئی تھیں۔ میں بڑے غور سے بیٹھ کر مولی اور گاجر کے پتوں کو دیکھ رہی تھی۔ سب سے بڑی بچی نے کچھ گاجریں ، مولی اور کھیرے نکال کر بہتے ہوئے پانی سے دھو کر ہمیں دیے اور کہنے لگی کہ یہ ہماری سبزیاں ہیں تم آرام سے بیٹھ کر کھاؤ۔ شاید بکری کو بھی کھانے میں وقت لگتا ہوگا لیکن ہم نے کھانے میں بالکل بھی وقت نہیں لگایا بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ وقت بہت گزر گیا تھا۔ ہمیں چاہیے تھا کہ ہم وہیں سے واپس لوٹ جاتے لیکن میرے ذہن میں چھپی ہوئی شرارتی بچی کہہ رہی تھی کہ ابھی تو کوئی شرارت بھی نہیں کی اور ابھی سے واپسی کی رٹ لگا رکھی ہے۔
اب ہم نے بھاگنا دوڑنا شروع کردیا اور بہت جلد گنے کی فصل تک پہنچ گئے۔ لیکن یہاں دور دور تک سناٹا تھا اور ایک عجیب سا خوف فضاؤں میں رچا ہوا تھا۔ میری ہم جولیوں کے چہرے پر مجھے خوف نظر آرہا تھا۔ وہ وہاں تھک کر بیٹھ گئیں اور سب اپنے گھٹنوں پر سر رکھ کر زار و قطار رونے لگیں۔ اب مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میرے شرارتی طبعیت نے میری ہم جولیوں کو پریشان کردیا۔ میں زمین پر بیٹھ گئی پھر اللہ سے مدد مانگنے لگی جیسا کہ میرے گھر کے بزرگوں نے اور استادِ محترم رحمہ اللہ نے سکھایا تھا۔ دعا کے بعد جب میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے قریب ہی کوئی موجود ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیہاتی لباس میں کھڑا ہوا ایک آدمی نظر آیا لیکن ان کے چہرے کی نرمی نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ میں نے کھڑے ہو کر سلام کیا اور کہا: ’’ماماجی! ہم راستہ بھول گئے ہیں۔‘‘
ماماجی نے دیہاتی انداز میں میرے سلام کا جواب دیا: ’’کیا یہ سب چھوریاں (لڑکیاں) تیرے ساتھ ہیں؟‘‘ میں نے تمہیں دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو مجھے لگا یہ چھوری ان کے سردار ہے۔ میں نے کہا: ’’ماماجی! میں ان کے سردار تو نہیں ہوں، ساتھی ہوں، لیکن ہمیں گھر سے نکلے ہوئے بہت دیر ہوچکی ہے۔ میری اماں جی اور میری ان سہیلیوں کی مائیں پریشان ہو رہی ہوں گی۔ میری چھوٹی سے شرارت تھی۔ لیکن ماماجی! مجھے لگتا ہے ہم چودھری صاحب کے گاؤں سے بہت دور آگئے ہیں۔‘‘
انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’’کون سے چودھری؟‘‘
میں نے کہا: ’’چودھری علیم الدین۔‘‘
انہوں نے پریشان ہوکر زور سے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا کہ ’’چھوری تم اپنے پیچھے تین گاؤں چھور کر آگئی ہو یہ تو چوتھا گاؤں ہے۔‘‘
میں نے کہا: ’’ماماجی! آپ گھبرا کیوں رہے ہیں؟ آپ ہمیں چودھری صاحب کے یہاں چھوڑ کر آجائیں۔‘‘ میری بات سن کر وہ مسکرانے لگے اور کہنے لگے: ’’واقعی! گھبرانا تو تمہیں چاہیے لیکن میں مرد ذات ہو کر گھبرا رہا ہوں۔‘‘ (ہماری یہ گفتگو ہندی بھاشا میں ہو رہی تھی، لیکن میں نے آپ تمام بچوں کی سہولت کے لیے اردو میں تحریر کی ہے)۔ ماماجی کہنے لگے: ’’چلو میرے ساتھ آؤ سامنے والا گھر میرا ہے۔‘‘
ان کے گھر پر لکڑی کا دروازہ لگا ہوا تھا۔ انہوں نے دستک دی تو ایک ضعیف خاتون نے دروازہ کھولا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے بڑے پیار سے بزرگوں کے انداز میں لائیں لیں۔ اسی وقت ایک خاتون گھونگٹ نکالے ہوئے ہمارے سامنے آئیں، میں نے انہیں بھی سلام کیا اور کہا: ’’مجھے لگتا ہے آپ ہماری مامی جی ہیں۔‘‘ وہ میرے بات سن کر ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں: ’’تمہارا خیال صحیح ہے۔‘‘ ان کی والدہ نے پوچھا: ’’اتنی ساری چھوریاں تمہیں کہاں سے مل گئیں؟‘‘
ماماجی نے جواب دیا کہ: ’’یہ اپنے گاؤں کا راستہ بھول کر یہاں تک پہنچ گئی تھیں۔‘‘ میری سہیلیاں بڑی حیرت زدہ تھیں جب ہاتھ دھو کر ہم دسترخوان پر بیٹھے تو مکئی کی روٹی اور پالک کا ساگ ہمارا منتظر تھا۔ جسے میں نے تو بڑے شوق سے کھایا کیوں کہ ہمارے گاؤں کے بڑے پرانے اور لذیذ ساتھی ہیں، لیکن تمام لڑکیاں برے برے منہ بنا رہی تھیں۔ کھانا کھا کر ماماجی تیار ہوگئے انہوں نے گنوں کا سر پر ایک بڑا گٹھا (بندے ہوئے گنے) رکھا تو میں نے ان سے کہا کہ: ’’ماماجی! چھوٹا سا ایک گٹھا میرے سر پر بھی رکھ دیں تا کہ اماں جی مجھے دیکھ کر ناراض ہونے کی بجائے خوش ہوجائیں۔‘‘ پھر ان کی بیوی نے بڑا ساتھیلا بھنے ہوئے ہولوں (بھنے ہوئے سبز چنے) کا ماماجی کے ہاتھ میں پکڑایا۔ ہم نے ان کی اماں کو سلام کیا تو کہنے لگیں: ’’میں کل اپنے بیٹے کے ساتھ چودھری صاحب کے گھر ضرور آؤں گی تا کہ دلی والوں کی دعوت کر سکوں اور تمہاری شرارت سے ان کو کوئی تو فائدہ پہنچے۔‘‘ ماماجی تیز تیز قدموں سے آگے چل رہے تھے اور ہم بھی دوڑ دوڑ کر ان کے پیچھے جارہے تھے۔ اب لڑکیوں کی سستی بھی دور ہوگئی تھی۔ چلتے چلتے کئی لڑکیاں زمین پر بیٹھ گئیں۔ ماماجی نے ان کو تسلی دی تو انہوں نے پھر سے چلنا شروع کیا۔
ابھی ہم چودھری صاحب کے گاؤں نہیں پہنچے تھے کہ ہم نے دیکھا مردوں کا ایک جمِ غفیر اس طرف آرہا ہے اور سب سے آگے تایا علیم الدین تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بہت شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگے: ’’ان بچیوں کی مائیں تو دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں، لیکن تمہاری اماں نے انہیں تسلی دی، خود بھی وضو کیا انہیں بھی کرایا اور سب نے دو دو رکعت صلوۃ الحاجت کی پڑھیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم سب بچیاں یہاں خیریت سے پہنچ گئیں۔‘‘
ماماجی نے کہا: ’’میری اماں کل یہاں آئیں گی تا کہ سب کی دعوت کر سکیں۔ کیا آپ اجازت دیتے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا بڑے شوق سے آئیں، پھر تایا ماماجی کو بھی بلانے لگے تو انہوں نے کہا: ’’میرا گاؤں دور ہے اور مجھے واپس گھر پہنچنا ہے۔‘‘ میں دوڑتی ہوئی تایا کے گھر میں داخل ہوئی تو اماں سامنے ہی کھڑی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن میرے سر پر گنوں کا گٹھا دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ کہنے لگیں: ’’میری بچی تمہاری شرارت نے ہمارے دلوں کو دہلا کر رکھ دیا۔‘‘ میں نے بھولا سا منہ بنا کر کہا: ’’اماں! میں نے تو کوئی شرارت نہیں کی سب کو سیرکرائی تھی۔‘‘
اللہ کا شکر ہے کہ کسی ماں نے اپنی بچی کی پٹائی نہیں کی۔ دوسرے دن ماماجی اپنی بیوی اور والدہ کو بیل گاڑی میں بٹھا کر تایا کے گھر آئے اور دوسے دن سب دلی والوں کی دعوت کی۔ انہوں تایا کی بیوی تائی چودھرانی کو بھی اس دعوت میں شامل کیا تھا۔ دوسرے دن سب بڑے خوشی خوشی تیار بیٹھ کر ماما کے گھر پہنچے۔ ماماجی کی بیوی نے چاول کا خشکہ بنایا تھا اور دال گوشت بنایا تھا۔ گاؤں والوں میں شکرانے کی دعوت بہت اعلی دعوت کہلاتی ہے جس میں اصلی گھی اور شکر ملا کر کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے رساول (گنے کے رس کی کھیر) بھی بنائی ہوئی تھی۔
میری اماں جی نے ماماجی کی اماں کو پیسے دیے کہ ہم خالی ہاتھ آئے ہیں، آپ کچھ بھل منگوا کر کھالینا۔ وہ لینا نہیں چاہ رہی تھیں لیکن تائی چودھرانی نے بھی پیسے دیے اور کہا یہ تو دلوں کی خوشی کا معاملہ ہے۔ مامی اندر گئیں اور ہرے رنگ کا سوٹ لے کر آئیں اور کہا یہ پہن کر آؤ۔ میں نے سوٹ لے کر اماں کی طرف دیکھا تو انہوں نے مجھے اشارے سے کہا کہ چلی جاؤ۔ ہرے رنگ کا سوٹ شاید میرے اوپر بہت اچھا لگ رہا تھا کیوں کہ میں نے اپنی اماں کی آنکھوں میں نئی جوت (روشنی یا چمک) چمکتی ہوئی دیکھی۔ امامی جی نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور میرے بال کھولے اور میر چٹیا باندھی۔ میں نے دو پٹا اوڑھ کر سب کو سلام کیا۔ میری چھوٹی سی شرارت نے گاؤں اور شہر میں محبت کا ایک بندھن باندھ دیا۔ آج بھی مجھے وہ بندھن یاد آتا ہے تو میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔
ہر رنگ میں دھرتی رنگ رچے
ان آنکھوں میں وہ خواب سجے
ہر خواب کو وہ تعبیر ملے
دنیا میں ہماری بات بنے

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں