آج : 27 November , 2017
روزنامہ ’اعتماد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا:

سیاست کو اسلامائز کریں، اسلام کو سیاسی نہ بنائیں

سیاست کو اسلامائز کریں، اسلام کو سیاسی نہ بنائیں

ایران کی سنی برادری کی دینی و سماجی شخصیت مولانا عبدالحمید نے موقر ایرانی اخبار ‘اعتماد‘ کودیے گئے انٹرویو میں ’اسلام اور سیاست‘ اور ’اہل سنت ایران‘ کی شکایات کے بارے میں اظہارِ خیال کیا۔
سنی آن لائن اردو نے اخبار کے حوالے سے رپورٹ دی، زاہدان سے تعلق رکھنے والے ممتاز بلوچ عالم دین نے کہا: کچھ لوگوں کا خیال ہے اسلام ایک سیاسی دین ہے۔ لیکن ایک دوسری رائے یہ ہے کہ سیاست اسلامی ہے، لیکن اسلام سیاسی نہیں ہے۔ سیاست اسلام کے احکام کا حصہ ہے جس طرح نماز، روزہ اور حج جیسے احکام اس میں داخل ہیں۔ ہمارے خیال میں بھی اسلام سیاسی نہیں ہے، بلکہ سیاست ہی کو اسلامائز کرکے اسے اللہ تعالی کی حدود کا پابند بنانا چاہیے۔ سیاست اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے ۔
اہل سنت ایران کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: جب ہم امتیازی رویوں کے حوالے سے شکوہ کرتے ہیں ہمارا مقصد روزگار اور عہدوں کی تقسیم میں اہل سنت کو نظرانداز کرنا ہے۔ رفاہ عامہ کے حوالے سے یہاں کوئی شکایت نہیں ہے، لیکن ہمارے قابل افراد کو اہم عہدوں سے دور رکھا جاتاہے۔ مثلا سنی اکثریت علاقوں میں اگر کسی ادارے کے ملازم تین سو ہیں، ان میں صرف بیس افراد سنی ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے اپنے انٹرویو میں کہا: سیاسی سرگرمیوں سے سنی علمائے کرام کی مقبولیت میں کمی نہیں آئے گی، بلکہ وہ مزید مقبول اور ہردلعزیز بن جائیں گے۔ اہل سنت کے علما ایگزیکٹیو کاموں میں براہ راست شریک نہیں ہیں، ان میں کوئی جج، کمشنر یا گورنر نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا، پھر ان کی مقبولیت میں کمی آتی۔ ایران میں شیعہ علما کی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ یہی ہے کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے طلبہ کو دوران تعلیم پڑھائی پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: البتہ طلبہ کو چاہیے سیاست میں حصہ لینے کے بجائے اپنی پڑھائی پر زیادہ فوکس کریں۔

ہم کسی ملک سے پیسہ نہیں لیتے ہیں
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: جامع مسجد مکی کی تعمیرنو اور دارالعلوم زاہدان کے تمام خرچے عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔ کچھ عناصر پروپگینڈا کرتے ہیں اور یہ شوشہ چھوڑتے ہیں کہ سعودی عرب یا دیگر ممالک ہمارے اخراجات کو برداشت کرتے ہیں۔ لیکن یہ ہمارے اصول کے خلاف ہے کہ ہم کسی بھی حکومت یا بااثر قوت سے پیسہ لے لیں۔ ہم ہرگز حکومتی امداد کو نہیں مانتے۔ ہمارے خیال میں دینی مدارس کو مستقل ہونا چاہیے اور وہ حکام اور حکومتوں سے مالی لحاظ سے لاتعلق رہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں