آج : 23 November , 2017

لامذہبیت کا فتنہ لادینیت پر جا کر ختم ہوتا ہے!

لامذہبیت کا فتنہ لادینیت پر جا کر ختم ہوتا ہے!

دین کی کچھ باتیں تو ایسی سادہ اور آسان ہوتی ہیں کہ جن کے جاننے میں سب خاص و عام برابر ہیں، جیسے وہ تمام چیزیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے یا مثلاً وہ احکام جن کی فرضیت کو سب جانتے ہیں، چنانچہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ نماز، روزہ، زکوۃ اور حج ارکانِ اسلام میں داخل ہیں، لیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جو عوام کی سمجھ میں نہیں آتے، اس لیے ان کو علماء سے پوچھنا ضروری ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کو اہل علم قرآن و حدیث میں غور کرنے کے بعد سمجھتے ہیں اور علماء کو بھی ان مسائل کے سمجھنے کے لیے شرعی طور پر ایک خاص علمی استعداد کی ضرورت ہے، جس کا بیان اصول فقہ کی کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہے، بغیر اس استعداد کے حاصل ہوئے کسی عالم کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی مشکل آیت کی تفسیر کرے، یا کوئی مسئلہ قرآن و حدیث سے نکالے۔ جس عالم میں یہ استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنی پوری کوشش صرف کر کے قرآن و حدیث سے مسئلہ نکالتا ہے، اس کو مجتہد کہا جاتا ہے اور جس شخص میں یہ استعداد نہ ہو وہ عامی ہے، عامی کو یہ حکم ہے کہ ہر مسئلہ میں مجتہد کی طرف رجوع کرے اور مجتہد کا یہ فرض ہے کہ وہ جو مسئلہ بھی بیان کرے کتاب وسنت میں خوب غور کر کے اور اپنی پوری کوشش صرف کر کے اولاً اس مسئلہ کو سمجھے اور پھر اس پر فتویٰ دے۔
اجتہاد و فتوی کا یہ سلسلہ عہد نبوی سے لے کر آج تک اُمت میں رائج چلا آرہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی بہت سے ایسے حضرات صحابہ کرام میں تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے خود مدینہ شریف میں اور تمام ملکِ عرب میں جہاں اسلام پھیل چکا تھا‘ فتویٰ دیا کرتے تھے اور سب لوگ ان کے فتویٰ پر عمل کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد تابعین رحمہم اللہ کے دور میں بھی یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہا، بلکہ ہر شہر کے مفتی اور مجتہد جو مسائل بیان کرتے تھے اس شہر کے رہنے والے انہی کے فتاویٰ کے مطابق تمام احکام دین پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ پھر تبع تابعین کے دور میں ائمہ مجتہدین نے کتاب و سنت اور گزشتہ مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ کے فتاویٰ کو سامنے رکھ کر زندگی کے ہر باب میں تفصیل سے احکام مرتب کردیئے۔ ان ائمہ میں اولیت کا شرف امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو حاصل ہے، پھر امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالی اجمعین ہیں۔
چونکہ ان ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے زندگی میں پیش آنے والے اکثر و بیشتر مسائل کو جمع کردیا تھا اور ساتھ ہی وہ اُصول بھی بیان کردیئے تھے جن کی روشنی میں یہ احکام مرتب کیے گئے تھے، اس لیے تمام اسلامی دنیا میں قاضیوں اور مفتیوں نے انہی کے مسائل کے مطابق فیصلہ کرنا اور ان پر فتویٰ دینا شروع کردیا، اس طرح تمام عالم اسلامی میں ان حضرات کے مذاہب مقبول و معتمد ہوگئے، چنانچہ یہ سلسلہ دوسری صدی سے لے کر آج تک اسی طرح قائم و دائم ہے۔
ہندوستان میں جب انگریز کی عملداری شروع ہوئی تو اس زمانہ میں کچھ لوگوں کے سر میں یہ سودا سمایا کہ ہمیں اگلوں کے فتاویٰ پر چلنے اور ان کی تقلید کرنے کی کیا ضرورت ہے؟! ہمیں تو خود قرآن و حدیث سے مسئلہ نکالنے چاہئیں، یہ لوگ اپنے آپ کو اہل حدیث یا غیرمقلد کہتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بھی مقلد ہی ہیں۔ ان کے عوام تو مسجد کے مولوی ملاؤں سے مسئلے پوچھ پوچھ کر ان پر عمل کرتے ہیں اور یہ خود حدیث کی کچھ کتابوں کو سامنے رکھ کر علمائے شوافع نے جو اُن کا مطلب بیان کیا ہے اس پر چلتے ہیں۔
حدیث کی تصحیح و تضعیف اور راویانِ حدیث کی جرح و تعدیل میں بھی یہ محدثین ہی کے مقلد ہیں، چنانچہ بطور مثال ان کے نزدیک امام بخاری رحمہ اللہ یا امام ترمذی رحمہ اللہ کا کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا اس حدیث پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے لیے کافی ہے، حالانکہ انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ حدیث کیوں صحیح ہے؟ یا کیوں ضعیف ہے؟ غرض اس بارے میں یہ بخاری و ترمذی کی تقلید کو کافی سمجھتے ہیں اور اس باب میں اجتہاد نہیں کرتے۔
اس عدم تقلید کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہندوستان میں دین و مذہب کے اندر فتنوں کے دروازے کھل گئے، ہر شخص مجتہد بن بیٹھا، چنانچہ سب سے پہلے سرسید احمد خان نے اس راہ میں قدم رکھا، پہلے حنفی مذہب کو خیرباد کہا، تقلید سے منہ موڑا، غیرمقلد ہوئے، پھر ترقی کرتے کرتے نیچریت پر معاملہ جا پہنچا، اور ظاہر ہے کہ جب فقہاء کی تقلید حرام ٹھہری تو تصحیح و تضعیف میں کسی محدث کی کیوں سنی جائے اور بغیر دلیل سمجھے اس کو کیوں صحیح مان لیا جائے؟! یہی حال غلام احمدقادیانی کا ہوا، وہ مذہب حنفی سے نکلا اور غیر مقلدیت میں بڑھتے بڑھتے معاملہ یہاں آکر ٹھہرا کہ مہدی سے بھی آگے بڑھ کر مسیح موعود کے منصب پر اپنے کو پہنچادیا۔ دوسری طرف اس انکارِ تقلید نے انکارِ حدیث کی راہ دکھلائی، چنانچہ اسلم جیراج پوری کے دادا حنفی تھے، ان کے باپ مولوی سلامت اللہ غیرمقلد بنے، اسلم جیراج پوری نے باپ دادا سے بھی ایک قدم آگے بڑھایا تو انکارِ حدیث کے داعی بن گئے اور ان کے نام لیوا مسٹر پرویز کی زندگی کا مشغلہ ہی حدیث وسنت کا مذاق اُڑانا رہ گیا۔ اسی طرح ملک میں جتنے دوسرے دینی فتنے ہیں، وہ سب انکارِ تقلید کے شاخسانے ہیں۔ پہلے آدمی تقلید سے منکر ہوتا ہے، غیرمقلد بنتا ہے اور پھر اس کی خود رائی اسے گمراہی کے گڑھے میں ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب سے مذاہب اربعہ کا رواج ہوا، مسلمانوں میں نئے نئے فرقے پیدا ہونے بند ہوگئے تھے اور جب سے تقلید کا بند ٹوٹا ہے اور لامذہبی کا دور دورہ ہوا ہے، ہر طرف نئے نئے فتنے سر اُٹھانے لگے ہیں۔ آج کل خود کراچی شہر میں ہی دو نئے فتنے زور سے سر اُٹھا رہے ہیں: ایک فتنہ کراچی کے ساحل سے توحید کے نام پر اُٹھ رہا ہے، چنانچہ وہاں سے کتابچے ’’توحید خالص‘‘ کے نام سے شائع ہو رہے ہیں، ان میں یہی بتایا جارہا ہے کہ حسن بصری رحمہ اللہ سے لے کر آج تک کوئی توحید کا حامل ہی نہیں رہا اور خاص کر ہندوستان کو تو تصوف نے ایسا تباہ کیا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ سے لے کر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تک ایک بھی مسلمان کہلانے کے لائق نہیں، اس فتنہ کا سربراہ ایک نامسعود شخص تھا جو حال میں فوت ہوگیا۔
دوسرا فتنہ کراچی چہر کی دوسری سمت سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام سے برپا کیا گیا ہے، جس کا مقصد ناصبیت کو زندہ کرنا ہے۔ اس فتنے کا سربراہ یزید اور مروان کا فدائی ہے اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرات حسنین رضی اللہ عنہما اور ائمہ اہل بیت رحمہم اللہ کو کوسا جائے اور ان کی عظمت کو پامال کیا جائے۔ اس فتنہ کا سربراہ نامحمود عباسی تھا، وہ تو مرگیا، اب اس کے چیلے چانٹے اس فتنہ کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان دونوں فتنوں کی خرابی اور نقصان کا اندازہ لگانا ہو تو ان کے یہاں سے اس سلسلہ میں جو کتابچے شائع کیے جاتے ہیں ان کو دیکھ لیا جائے کہ کس قدر گمراہی پھیلا رہے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں