آج : 22 November , 2017

ایران: سنی مدارس پر بڑھتے ہوئے دباؤ، مولانا عبدالحمید کا اظہارِ تشویش

ایران: سنی مدارس پر بڑھتے ہوئے دباؤ، مولانا عبدالحمید کا اظہارِ تشویش

اہل سنت ایران کے مختلف صوبوں میں سرگرم دینی مدارس پر حال ہی میں حساس اداروں کی جانب سے دباؤ بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنی رہ نما مولانا عبدالحمید نے علمائے کرام اور دینی مدارس کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کو ’قانون‘ اور ’اتحاد‘ کے خلاف قرار دے دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان کی آفیشل ویب سائٹ نے ان کی گفتگو شائع کرتے ہوئے لکھا: مولانا عبدالحمید نے کہا: حال ہی میں صوبہ خراسان کے بعض دینی مدارس میں کچھ طلبا و طالبات کو مدارس سے نکال دیا گیا ہے جن کا تعلق کرد علاقوں سے تھا۔ نیز صوبہ مغربی آذربائیجان کے بعض مدارس پر دباؤ ڈالاگیا، چنانچہ ضلع بوکان کے جامعہ امام نوویؒ کے ذمہ داران کو جامعہ بند کرنا پڑا۔ اسی طرح ارومیہ کے مدرسہ صلاح الدین ایوبی کے مہتمم کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا اور پھر انہیں معزول کیا گیا۔ صوبہ کرمان کے کچھ علمائے کرام کو بھی حساس ادارے ہراساں کرتے چلے آرہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: آئین کے رو سے تمام مسالک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر کسی کو کوئی پابندی لگانا ہے، بہتر ہے سب سے پہلے اپنی خواہشات کے مطابق قانون میں تبدیلی لائے۔ بصورت دیگر قانون پر پابند رہیں اور عوام کی آزادیوں پر چھاپہ نہ ماریں۔ ایرانی قوم کی ثقافت اور روایات ایسے رویوں سے میل نہیں کھاتیں۔
مولانا عبدالحمید نے پریشر گروپس کی شناخت ظاہر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: اعلی حکام کو چاہیے ایسے عناصر کو بے نقاب کریں جو ہماری مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا چاہتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی محکمہ یا ادارے سے ہو۔
انہوں نے مزید کہا: اہل سنت ایران کے دینی مدارس بہترین مواقع ہیں۔ ہمارے مدارس تکفیر اور انتہاپسندی سے دور ہیں۔ فکری لحاظ سے یہ پرامن ہیں اور تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمارے فضلا اندرون و بیرون ملک ہرگز انتہاپسند گروہوں کے ساتھ نہیں گئے ہیں۔ افغان حکام بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہمارے مدارس میں ’حنفی شافعی‘ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہمارے طلبہ آسانی سے سبق پڑھتے ہیں۔ جو لوگ مذہبی تعصبات کے ساتھ رہتے ہیں، وہ اپنے آس پاس کی دنیا سے ناواقف ہیں اور وقت کے تقاضوں سے ناآشنا ہیں۔ شیعہ طلبہ جہاں بھی چاہیں بغیر کسی روک ٹوک کے سبق پڑھ سکتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ اہل سنت کے طلبہ کو بھی ایسی آزادی حاصل ہونی چاہیے، اگر ایسا نہ ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ بیرون ملک کے طلبہ کا ہم پر اعتماد ہے، اگر انہیں یہاں آنے نہیں دیا گیا، تو وہ کسی اور ملک میں جاکر ہمارے ملک کے خلاف ہوسکتے ہیں۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم انہیں یہاں آنے دیں تا کہ وہ ہمارے مفت سفیر بھی بن جائیں اور دین بھی سیکھ لیں؟
مولانا عبدالحمید نے ایرانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آس پاس کے ملکوں کے حالات سے عبرت حاصل کریں۔ اگر دباؤ ڈالا گیا اور تنگ نظری کا سلسلہ جاری رہا، کچھ لوگ غصے میں آکر مشتعل ہوجائیں گے کہ یہاں نماز پڑھنے اور دینی تعلیم تک کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
صدر شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے اہل مدارس اور علمائے کرام کو نصیحت کی استقامت اور صبر کا مظاہرہ کریں اور اپنے مدارس کو فعال رکھیں۔ طلبہ کو مدارس سے نہ نکالیں اور آئین و قانون کے دائرے میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں، نیز اپنے قانونی حقوق کا دفاع کریں۔
یاد رہے ایران کے اکثر دینی مدارس حکومتی امداد کے بغیر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے مشرقی صوبوں میں برصغیر ہند کے طرز پر دینی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں