آج : 18 November , 2017

متاثرین زلزلہ سے تعاون جہاد شمار ہوتاہے/زلزلے اللہ تعالی کی طرف سے وارننگ ہیں

متاثرین زلزلہ سے تعاون جہاد شمار ہوتاہے/زلزلے اللہ تعالی کی طرف سے وارننگ ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سترہ نومبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں زلزلہ سمیت تمام آفتوں کو ’آسمانی وارننگ‘ یاد کرتے ہوئے عوام و حکام کو توبہ و استغفار کی ترغیب دی۔ انہوں نے متاثرین سے تعاون اور ان کی اشک شوئی کو ’جہاد‘ یاد کیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا» کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: ملک کے مغربی صوبوں میں پیش آنے والا زلزلہ انتہائی خوفناک اور چونکا دینے والا ہے۔ اس میں ہزاروں افراد کے جاں بحق ہونے اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
وحی‘ کی روشنی میں زلزلہ جیسے حوادث کی اصل وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ زلزلہ جیسے حوادث کو کائنات کے طبعی واقعات سمجھتے ہیں اور زلزلوں کو زمین کے نیچے پیدا ہونے والے جیالوجیکل فالٹ کے نتیجے قرار دیتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے گزشتہ اقوام کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک نے متعدد جگہوں پر کچھ اقوام کی خبر سنائی ہے کہ جب وہ قحط، زلزلہ اور سیلاب جیسی مصیبتوں سے دوچار ہوتیں، خود کو پاک و مبرا قرار دے کر اس طرح کے واقعات کو ایک طبعی اور معمول امر سمجھتی تھیں۔ وہ اللہ تعالی کے غضب سے عبرت کا سامان نہ لیتے اور توبہ نہ کرتے، اس لیے اللہ تعالی مزید بڑے عذاب سے انہیں سزا دے کر پوری طرح انہیں ہلاک کردیتا۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: آج بھی بہت سارے مسلمان اور غیرمسلمان ماہرین دنیا کی خشک سالیوں، طوفانوں، زلزلوں اور آفات کو ’کائنات کا غضب‘ کہتے ہیں۔ یہ لوگ عذاب الہی کو ظاہری اسباب سے جوڑ کر مالک حقیقی کے کردار سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کو توبہ اور رجوع الی اللہ سے محروم رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی کا عذاب کوئی آزمائش نہیں ہے، یہ عذاب ہی ہے۔ جب عذاب کسی خطے میں آتاہے، چھوٹے بڑے، معصوم اور گنہکار سب اس کی زد میں آتے ہیں۔ ارشاد الہی ہے: «وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» اس عذاب کو بڑوں ہی نے اپنے کرتوتوں اور برے اعمال سے لایا اور سب کو تباہ کرکے رکھا۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: حقیقت کو عوام کے سامنے لائیں اور انہیں نصیحت کرکے بیدار کریں۔ قرآن پاک میں آیا ہے: «فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» کرمانشاہ میں زلزلہ آیا تاکہ کرمانشاہ سمیت پورے ایران کے لوگ توبہ کرکے اللہ تعالی کے سامنے سرجھکائیں۔
انہوں نے مزید کہا: جب کسی علاقے میں زلزلہ آتاہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیگر علاقوں کے لوگوں کے اعمال اچھے ہیں اور وہ عذاب کے مستحق نہیں ہیں۔ اللہ تعالی کسی مخصوص مقام پر اپنا عذاب بھیج کر سب کو وارننگ دیتاہے کہ چوکس رہیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اگر ہم عذاب سے محفوظ ہیں، یہ محض اللہ ہی کے فضل وکرم سے ہے یہ ہمارے ’نیک اعمال‘ کا صلہ نہیں ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ تعالی کا عذاب غفلت، ظلم وستم اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ یہ عذاب اس لیے آیا ہے کہ ہم سب بشمول علمائے کرام، حکام اور عوام توبہ کریں اور اپنے اعمال پر اللہ تعالی سے معافی مانگیں۔
انہوں نے مزید کہا: جب ہم اللہ تعالی کے عذاب کے سامنے برائت و پاکی کا اعلان کریں اور خود کو قصوروار ٹھہرانے سے گریز کریں، اس کا مطلب ہے ہم سنگدل ہوچکے ہیں۔ یہ قساوت قلبی کی نشانی ہے۔ اگر ہم اس سے قبل اجتماعی توبہ کرتے، آج ملک کے ایک حصے میں اتنی بڑی تباہی رونما نہ ہوتی۔ ہمیں اللہ تعالی کی وارننگز کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور یقین کرلیں کہ اللہ تعالی مسلمانوں کے اعمال سے ناراض ہے۔

متاثرین کی ہرممکن مدد کے لیے کوشش کریں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخری حصے میں زلزلہ کے متاثرین کی ہمہ جہت مدد پر زور دیتے ہوئے کہا: توبہ کے بعد ہماری دوسری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ اس آفت اور مصیبت سے متاثر ہم وطنوں کی مدد کے لیے محنت کریں۔
انہوں نے مزید کہا: یہ زلزلہ بہت خطرناک اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا تھا جس میں ہزاروں افراد کے مارے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب سردی کی لہر بھی اس علاقے میں آچکی ہے اور لوگ سخت پریشانی میں ہیں۔ لہذا حکومت بھی مزید مدد پہنچائے اور عوام حلقے بھی اپنی حد تک زلزلے میں بچ جانے والوں کی مدد میں حصہ لیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: زلزلہ سے متاثر لوگوں کی مدد کرنا جہاد شمار ہوتاہے۔ جو لوگ ان مصیبت زدہ عوام سے ہمدردی کرتے ہیں، اللہ تعالی آفت و بلا کو ان سے دور فرماتاہے۔ پورے ملک خاص کر صوبہ کردستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے کرمانشاہی عوام کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

یاد رہے اہل سنت زاہدان کے مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ میں متاثرین زلزلہ کے لیے چندہ اکٹھے کیا گیا جو دارالعلوم زاہدان سے وابستہ ’محسنین ٹرسٹ‘ کے ذریعے متاثرین تک پہنچادیے جائیں گے۔ ایران کے دیگر علاقوں میں بھی جمعہ کی نماز کے دوران چندہ جمع کیا گیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں