آج : 11 November , 2017
مولانا عبدالحمید مسلم حکام کو مخاطب کرتے ہوئے:

مزید ’رواداری‘ اور ’دوراندیشی‘ کا مظاہرہ کریں

مزید ’رواداری‘ اور ’دوراندیشی‘ کا مظاہرہ کریں

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے مشرق وسطی کی ابتر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم حکام کو مزید ضبط و برداشت اور دوراندیشی و سمجھداری دکھانے کی نصیحت کی۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت نے اپنے دس نومبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں کہا: آج کل اسرائیل سمیت تمام سامراجی طاقتوں کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک بدامنی کا شکار ہوجائیں۔ ان کی کوشش ہے مسلم ممالک ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں۔
انہوں نے مزید کہا: سامراجی قوتوں کی اصل خواہش یہی ہے کہ مسلم عوام اور حکام آپس کی لڑائیوں میں لگ جائیں۔ حالاں کہ مسلم ممالک کی لڑائیاں اسرائیل ہی کے مفاد میں ہیں، چنانچہ اب تک مشرق وسطی کی تمام چپقلشوں اور لڑائیوں کا نفع اسرائیل ہی کو پہنچا ہے۔ اخیر سالوں میں جب مسلم ممالک خانہ جنگی اور لڑائیوں میں مصروف ہوئے، اسرائیل نے سب سے زیادہ امن و سکون پایا۔
مولانا عبدالحمید نے مسلم ممالک کو ’ضبط و برداشت‘ دکھانے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلمان خاص کر مسلم حکام رواداری و برداشت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں اور جذبات سے کام نہ لیں۔ خطہ مزید جنگوں اور بدامنیوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ حد سے زیادہ ہی فرقہ واریت اور چپقلشوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوچکے ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مسلم ممالک کو ’بات چیت‘ اور ’تعلقات مستحکم کرنے‘ کی نصیحت اور تاکید کی۔

نئے گورنر انصاف کی فراہمی سے سب کو اکٹھے کرے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے صوبہ سیستان بلوچستان میں نئے گورنر کی تقرری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: انصاف کے نفاذ اور تمام قومیتوں اور مسالک کو اکٹھے کرنا بہترین پالیسی ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: سابق گورنر نے یہاں بہت محنت کی اور ترقی کے لیے ایک مناسب فضا قائم کی۔ بلاشبہ مسٹر ہاشمی انقلاب کے بعد کے گورنروں میں سب سے کامیاب گورنروں میں شمار ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا: نئے گورنر بھی اس صوبے کے لوگوں اور حالات سے واقف ہیں اور پہلے بھی نائب گورنر کی حیثیت سے یہاں رہ چکے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: سیستان بلوچستان میں متعدد قومیتوں اور مسالک کے پیروکار رہتے ہیں جن میں تاریخی بھائی چارہ اور دوستی پائی جاتی ہے۔ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تمام پلیٹ فارمز پر بھی اکٹھا رکھا جائے اور امتیازی پالیسی نہ اپنائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہے، کوئی بھی دشمن اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکتا اور سب کی سازشیں ناکام ہوجائیں گی۔ لیکن اختلاف کی صورت میں ان کی سازشیں کامیاب ہوں گی۔
خطیب اہل سنت نے کہا: انصاف کی فراہمی اور برابری ہی سے تمام اکائیوں پر توجہ دینا ممکن ہے اور صوبہ اتحاد و یکجہتی کی مثال بن جائے گا۔ لہذا تمام حکام انصاف و مساوات قائم کرنے کے لیے محنت کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں