آج : 31 October , 2017

سنِ ہجری!

سنِ ہجری!

محرم الحرام سے نئے سال کا آغاز ہوتا ہے، گویا ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اب تک زمانہ گردشِ ایام کی تیرہ سو بانوے منزلیں طر کرچکا ہے، اور آج سے ٹھیک آٹھ سال بعد زمانہ صد سالہ کروٹ بدل کر چودھویں صدی میں منتقل ہوجائے گا۔ صدی کا آخری حصہ عموماً تنزل و انحطاط کا دور ہوتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں امت جن حوادث سے دوچار ہوئی، انسانی قدریں جس تیزی سے پامال ہوئیں، انسانیت کے آلام و مصائب میں جس سرعت سے اضافہ ہوا اور ملتِ اسلامیہ پر ابتلاء و آزمائش کے جو پہاڑ ٹوٹے، اگر آئندہ آٹھ سالوں میں پستی و تنزل کی یہی رفتار رہی تو نہیں کہا جاسکتا کہ چودھویں صدی کے اختتام تک دنیا انحطاط کے کس نقطہ تک جا پہنچے گی۔ بظاہر یہ آٹھ سال شدید فتنوں اور آزمائشوں کے سال ہوں گے جن کا نقشہ شاید وہ ہوگا جو صحیح مسلم کی ایک حدیث میں آتا ہے:
’’بادروا بالأعمال فتناً کقطع اللیل المظلم یصبح الرجل مؤمناً و یمسی کافراً و یسمی مؤمناً و یصبح کافراً، یبیع دینہ بعرض من الدنیا۔‘‘ (مشکوۃ، ص: ۴۶۲)
ترجمہ: ’’ان فتنوں سے پہلے جو شبِ تاریک کے تہ بہ تہ ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، اعمال میں سبقت کرو، ان میں آدمی کی یہ حالت ہوگی کہ صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر اُٹھے گا۔ دنیا کے معمولی مفاد کی خاطر اپنا ایمان بیچتا پھرے گا۔‘‘
بعض روایات کے مطابق اس امت کی طبعی عمر ایک ہزار سال تھی، اس کے بعد سے اسے ضعف پیری کا عارضہ لاحق ہوا اور وہ بتقاضائے عمر شدید امراض کا شکار ہونے لگی، تا ہم مصلحین و مجددین کی گرمیِ دل اور سوزشِ باطن اس کو بہترین غذا پہنچا رہی تھی اور خود امت کے باطن قویٰ امراض و آلام کا دم خم رکھتے تھے، مگر اب تو اس کے تمام اعضاء شل اور باطنی قویٰ ماؤف ہوچکے ہیں، اس کی قوتِ مدافعت جو اب دے چکی ہے۔ اب یہ امت فتنوں کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر کھڑا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، بلکہ ہر موقع پر طوفان کے رُخ بہنے کی خوگر ہوچکی ہے۔ ادھر اس کے اطباء و معالجین اس مریض جاں بلب کی غلط چارہ سازی میں مصروف ہیں، ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر اس کا کیا کیا جائے؟! کہیں جمہوریت کے انجکشن سے اس کی بحالیِ صحت کی امید کی جارہی ہے، کہیں یہودیت و مغربیت کے تریاق کو اس پر آزمایا جارہا ہے، کہیں سائنس اور مادیت کے کپسول اس کے حلق سے اُتارے جارہے ہیں، کہیں سوشلزم کے مارفیا سے اُسے چند لمحے تسکین دلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر صد حیف کہ یہ برخود غلط معالجین نہ اس اُمت کے ’’مزاج شناس‘‘ ہیں، نہ اس کے مرض اور اسبابِ مرض کی تشخیص کر پائے ہیں، نہ اس کے علاج کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں یہ مریض مرے گا نہیں تو اور کیا ہوگا؟! ’’و کان أمراللہ قدرا مقدورا۔
جن فتنوں کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے، ان کا آخری نقطہ دجالِ اعور (کانے دجال) کا فتنہ ہوگا۔ جب سے اللہ تعالی نے اس مخلوق کو پیدا کیا ہے دجال سے بڑا کوئی فتنہ آیا نہ آئے گا۔ یہ تمام فتنے جو آچکے ہیں یا آئیں گے گویا دجالِ اعور کے فتنۂ کبریٰ کے لیے زمین تیار کررہے ہیں۔ دجال کا فتنہ کب برپا ہوگا؟ اس کا صحیح علم تو علیم و خبیر ہی کے پاس ہے، مگر نقشہ کچھ ایسا بن رہا ہے کہ شاید اب وقت زیادہ نہیں، یہ فتنہ مومن و کافر اور خبیث و طیب کے درمیان امتیازی لکیر ثابت ہوگا۔
حدیث میں آتا ہے کہ: ’’جو شخص ہر جمعہ کو سورۂ کہف پڑھا کرے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔‘‘ (مستدرک حاکم) ہر مسلمان کو اس کی فکر کرنی چاہیے، ہر جمعہ کو سورۂ کہف پڑھنے کا خود بھی التزام کریں، گھر میں بیوی بچوں سے بھی اس کی پابندی کرائیں اور اپنے تمام متعلقین، دوست احباب اور عام مسلمانوں کو تربیت دیں۔ اس سورت کی مرکزی دعوت یہ ہے کہ ایک مسلمان میں کم از کم اصحابِ کہف کا سا جذبۂ ایمان پیدا ہونا چاہیے کہ ما سوا اللہ کی ہر دعوت کو ’’شطط‘‘ (بیہودہ بات) کہہ کر ٹھکرادے اور وقت آنے پر خویش، اقرباء اور گھربار کو تج کر اللہ کے نام پر کسی گوشۂ گمنامی کی طرف ہجرت کر جائے۔ دنیا کی رنگارنگی کا سبز باغ اس کے عقیدہ و ایمان کو متزلزل نہ کرسکے۔ اس کے نزدیک آخرت کی ’’باقیات صالحات‘‘ کے مقابلہ میں متاعِ دنیا کی تمام رعنائیاں اور دل فریبیاں ذرۂ بے مقدار سے بڑھ کر حقیر و ذلیل ہوں۔ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ آخرت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر صرف دنیا کے لیے مرنے کھپنے والے احمقوں کا ٹولہ ہیں، جن کے ہاتھ حسرت و بربادی اور خسارہ و نقصان کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
امن و امان کے عام حالات میں ایک سپاہی کو مقررہ وظیفہ دیا جاتا ہے، مگر جب چاروں طرف بغاوت اور شورش کے شعلے بھڑک اُٹھیں اور حکومتِ وقت سے سرکشی و سرتابی کی فضا عام ہوجائے، اس زمانے میں کسی سپاہی کی جانب سے وفاداری کا مظاہرہ بڑی قیمت رکھتا ہے اور اس کا باغی فوج کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجانا بڑی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے، اُسے خلعت شاہی اور گراں قدر انعامات سے نوازا جاتا ہے، اس کے منصب میں ترقی دی جاتی ہے اور اسے بیش بہا عطیات کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔
آج جب کہ بگڑی ہوئی انسانیت میں اپنے خالق سے بغاوت و برگشتگی کی فضا عام ہے، احکامِ الہیہ کو توڑا جارہا ہے، مادیت کا فتنہ اطرافِ عالم کو محیط ہے، ایسے حالات میں جو لوگ اپنے کریم آقا سے وفاداری و اطاعت شعاری کا ثبوت پیش کریں گے انہیں بیش بہا انعامات کی دولت سے نوازا جائے گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’العبادۃ فی الھرج کھجرۃ الیَّ۔‘‘ (مشکوۃ، ص: ۴۶۲، بروایت مسلم)
ترجمہ: ’’فتنہ کے زمانے میں عبادت کرنے کا درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہجرت کر کے میرے پاس آجائے۔‘‘
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ:
’’اس امت کے آخر میں کچھ لوگ ہوں گے، جن کو اُمت کے پہلے لوگوں (صحابہ کرامؓ) جیسا اجر و انعام عطا کیا جائے گا۔ یہ لوگ اللہ تعالی کی اطاعت کا حکم کریں گے، اس کی نافرمانی سے منع کریں گے، اور ان لوگوں سے جو فتنہ میں مبتلا ہیں، مقابلہ کریں گے۔‘‘ (مشکوۃ، ص: ۵۸۴)
اس پُر فتن زمانہ میں جن سعادت مندوں کو اپنے ایمان کی فکر اور اطاعت خداوندی کی لگن ہے، اور جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعہ امت کو ایمان و عمل کی لائن پر ڈالنے کی محنت میں کوشا ہیں، وہ بہت ہی مبارک باد کے مستحق ہیں، انہیں فتنوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کہ یہ ان کے لیے نہایت اعلی درجات و ترقیات کا ذریعہ ہیں، مگر خود مادیت کے گرداب سے نکل کر ایمان و یقین کی لائن پڑنا، اور بندگان خدا کو اس کی دعوت دینا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ وقفہ وقفہ کے بعد کچھ وقت نکال کر اللہ والوں کی پاکیزہ مجلسوں میں حاضری دی جائے، ہر محلہ کی مسجد کو محلہ والوں کی دینی ضروریات اور ایمان و عمل کی دعوت کا مرکز بنایا جائے، ہر گھر کو ذکر و تلاوت سے معمور کیا جائے اور اس کے لیے اتنی محنت کی جائے کہ ہر مسلمان کا رابطہ مسجد سے اُستوار ہوجائے، بس یہ ہے آج امت کی سب سے بڑی ضرورت۔
’’چونکہ احکامِ شرعیہ کا مدار حسابِ قمری پر ہے، اس لیے اس کی حفاظت فرض الکفایۃ ہے، پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنالیوے، جس سے حسابِ قمری ضائع ہوجائے، سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے (تو) دوسری حساب کا استعمال مباح ہے، لیکن خلاف سنتِ سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابد افضل و احسن ہے۔‘‘ (تفسیر بیان القرآن: حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ)
کہنے کو تو چھوٹی سی بات ہے، مگر ہے بہت بڑی، انگریزیت کے زیر اثر آج کے دیندار حلقوں میں بھی انگریزی تاریخ کا رواج ایسا عام ہے کہ اسلامی تاریخ کی سنت بہت سے حلقوں میں مٹ چکی ہے، آیئے! نئے سال کے آغاز پر اس سنت کے احیاء کا عزم کریں۔ وفقنا اللہ لکل خیر و سعادۃ، و صلی اللہ تعالی علی صفوۃ البریۃ محمد و آلہ و أصحابہ و أتباعہ أجمعین۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں