آج : 29 October , 2017
مولانا عبدالحمید نے ایرانی بلوچستان کی تقسیم کے ممکنہ پلان پر تنقید کی؛

صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم پسماندگی کا علاج نہیں، امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ کریں

صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم پسماندگی کا علاج نہیں، امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ کریں

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے اپنے ستائیس اکتوبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم کو حکومت اور عوام کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تقسیم کے بجائے امتیازی رویوں کا خاتمہ کرکے پسماندگی کی بیخ کنی کی جائے۔
سنی آن لائن اردو نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت زاہدان نے ایک انتہاپسند رکن پارلیمنٹ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ایک رکن پارلیمان نے صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم کے حوالے سے کہاہے یہ صوبہ رقبے کے لحاظ سے بڑا ہے اور اسی وجہ سے یہاں غربت و پسماندگی پائی جاتی ہے۔ اگر اس صوبے کو دو یا تین صوبوں میں تقسیم کریں، یہاں مزید بجٹ آئے گا اور مسائل حل ہوں گے۔ لیکن غربت کے خاتمے کے لیے ان کا استدلال درست نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مذکورہ رکن پارلیمان نے معلول کو صحیح سمجھا ہے، لیکن علت کی نشاندہی میں ان سے غلطی ہوئی ہے یا انہوں نے جان بوجھ کر اس پر پردہ ڈالاہے۔
صوبہ سیستان بلوچستان کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: یہاں غربت اور پسماندگی کی اصل وجہ امتیازی پالیسیاں اور نابرابری ہے۔ اگر اس صوبے کو دس صوبوں میں تقسیم کی جائے لیکن امتیازی سلوک اور نابرابری کا راج قائم رہے اور مختلف برادریوں میں تفریق ہو، پھر بھی یہاں سے غربت و پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ امتیازی سلوک کے ہوتے ہوئے مادی و ثقافتی غربت، ناخواندگی اور پسماندگی بھی باقی رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا: مسائل کا حل اس وقت ممکن ہے کہ مناسب چارہ جوئی سے مسائل و مشکلات کی جڑ کو ڈھونڈکر انہیں ختم کیا جائے، ان پر پردہ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ انصاف کی فراہمی اور تمام مذہبی و مسلکی اور لسانی برادریوں پر توجہ دینے سے ترقی حاصل ہوگی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے سیستان بلوچستان میں موجود نعمتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان کی سرحدی حدود ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ہیں جبکہ سمندری حدود تین سو ستر کلومیٹر سے زائد ہے۔ ہمارا صوبہ وسائل و معادن سے مالامال ہے، یہاں ایسے پھل اگتے ہیں جو پورے ایران میں نہیں ہیں۔ غربت و پسماندگی کے خاتمے کے لیے صرف مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جو لوگ حقیقی معنوں میں خیرخواہ ہیں، انہیں چاہیے تعصب سے پاک ہوکر مسائل کو پہچانیں پھر ان کے حل کے لیے کوشش کریں۔ ہماری نگاہیں مسلکی یا نسلی نہیں ہونی چاہییں۔ اسلام ہم سب میں مشترکہ امر ہے۔سچے خیرخواہوں کی سوچ مسلکی یا قوم پرستانہ نہیں ہوتی جو صرف ایک ہی نسلی گروہ کے ہاتھوں قوت کا انحصار چاہتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: ہمارے صوبے کی ترقی کا دارومدار اس کی تقسیم پر نہیں ہے۔ ہمارے لوگ اس تقسیم کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں اور اس کے حق میں نہیں ہیں۔ جو لوگ تقسیم کی بات کرتے ہیں ان کا مقصد ان کے ذاتی مقاصد اور مفادات ہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم اسلامی جمہوریہ ایران اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہمارے مفاد میں اتحاد و بھائی چارہ ہے اور تمام اداروں میں ساتھ ہوکر خدمت کرنا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی امتیازی رویہ یہاں نہیں ہوگا۔
ممتاز سنی رہ نما نے کہا: صدارتی انتخابات کے لیے کھڑے ہونے والے تمام امیدواروں نے لسانی برادریوں کے حقوق کی بات کی۔ لیکن ڈاکٹر روحانی نے عملی طورپر بھی کچھ مثبت اقدامات اٹھائے، لیکن یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ بہت سارے مسائل اب بھی حل نہیں ہوسکے۔ ایرانی عوام روز دعا کرتے ہیں امتیازی رویوں کا اس ملک سے خاتمہ ہوجائے۔ امتیازی سلوک ایرانی تہذیب اور ثقافت سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ اسلام اور مہذب قومیں امتیازی سلوک اور رویوں کے خلاف ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے صدر روحانی کی حکومت سے مطالبہ کیا ایران سے امتیازی رویوں کے خاتمے کے لیے محنت کریں۔ انہوں نے کہا: ایران کا تعلق تمام ایرانیوں سے ہے، چاہے مسلمان ہوں یا غیرمسلم، یہودی ہوں، یا عیسائی، پارسی ہوں یا لادین و ملحد؛ سب کے کچھ حقوق ہیں۔ انہیں امتیازی رویوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
ممتاز عالم دین نے مزید کہا: انصاف تمام ایرانیوں کے لیے یکساں نافذ ہونا چاہیے اور سب کے قابل افراد سے کام لینا چاہیے۔ حیرت کی بات ہے کہ تمام لسانی و مذہبی گروہ اکٹھے رہتے چلے آرہے ہیں، لیکن ان میں فرق ڈالا جاتاہے اور بعض کو نظرانداز کیا جاتاہے۔
انہوں نے کہا: جب مرشد اعلی نے حکم دیتے ہوئے امتیازی سلوک کے خاتمے پر زور دیا ہے، تمام حکام کی ذمہ داریاں مزید بھاری ہوگئی ہیں۔ اب ان پر واجب ہوگیا کہ برابری کا معاملہ کریں۔ جب ہمیں توقع ہے تمام ایرانی شہری ملک کی سکیورٹی اور اتحاد کے لیے کردار ادا کریں، پھر ان میں انصاف کا نفاذ بھی ہونا چاہیے۔ بے بنیاد نسلی اور مسلکی تعصب کسی بھی معاشرے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں