آج : 24 October , 2017

صنف نازک اور ہراسیت

صنف نازک اور ہراسیت

وائن سٹین کے جنسی سکینڈل سے لے کر ٹویٹر پر #MeToo جیسی آگاہی مہم چلانے تک،خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی خبریں گزشتہ کئی دنوں سے اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں ۔ یہ کوئی نئی جنگ نہیں ہے کہ خواتین اب ایسے واقعات کو معاشرے کے سامنے لا رہی ہیں بلکہ تاریخ میں ایسی عورتوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے ان مظالم پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے انہیں معاشرے کے سامنے بے نقاب کیا ۔ لیکن موجودہ دور میں کچھ مختلف اور نئے انداز اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات دنیا بھر میں مسلسل بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔
جنسی ہراساں کرنے کی تاریخ رومن دور سے ملتی ہے جب غلاموں کی شکل میں لائی گئی خواتین کو رومی تمام انسانی حقوق سے مبرا سمجھتے تھے اور ان پر ہر طرح کے مظالم ڈھاتے تھے جن میں ان کا جنسی استحصال بھی شامل تھا ۔ اس کے علاوہ قدیم آئرلینڈ کے علاقوں میں بھی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات ملتے ہیں اور اسی وجہ سے وہاں کچھ قوانین بھی متعارف کروائے گئے تھے تاکہ خواتین محفوظ رہ سکیں ۔
جدید زمانے کی بات کریں تو 1979 اور 1980 کے ٹائم میگزین کے مطابق سالانہ 18 ملین امریکی خواتین کو دفتروں اور دیگر کام کرنے کی جگہوں پر جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح 1993 کے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے مطابق ہاؤس جاب کے دوران تقریباً تین تہائی خواتین جنسی طور پر ہراساں ہوتی ہیں ۔ 2014 کے ڈیلی بیسٹ کے مطابق سائینس ،ٹیکنالوجی،انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں نہایت تیزی دیکھنے میں آئی ہے ۔ امریکہ جیسے آزاد معاشرے میں کھیل کے میدان سے لے کر میڈیا ہاؤسز، سلیکان ویلی تک اور تعلیمی اداروں سے سرکاری دفتروں تک ہر جگہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات آئے دن بڑھ رہے ہیں ۔ حتیٰ کے امریکی فوج میں بھی ساتھی خواتین فوجیوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات میں زیادتی دیکھنے کو ملی ہے ۔
ایک امریکی تاریخ دان ہاورڈ زن اپنی کتاب A people’s History of United States میں لکھتے ہیں کہ قدیم امریکی قبائل اپنے خاندان کے ساتھ جن میں دادا، دادی، چچا وغیرہ موجود ہوتے تھے، ایک ہی مشترکہ جگہ پر رہا کرتے تھے ۔ اور اس جوائنٹ فیملی سسٹم میں عورتوں سے آج کے تہذیب یافتہ اور الگ رہنے والے امریکی معاشرے کے مقابلے میں زیادہ عزت اور مہذب برتاؤ رکھا جاتا تھا ۔ سوچنے کا مقام ہے کہ آزاد اور مہذب معاشرے میں بھی خواتین پر ایسے مظالم کا ہونا اس معاشرے کی ذہنی تربیت کی عکاسی کرتا ہے اور یقیناً مذہب بیزاری ہی اس معاشرے کو اس حد تک لے جانے کا سبب بن رہی ہے ۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں روزانہ تقریباً 80فیصد خواتین کومختلف طریقوں سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے ۔ ہراساں کرنے کے یہ واقعات ہمارے معاشرے کا مستقل مسئلہ بن چکے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عورتوں کی روایتی کمزوری سے فائدہ اٹھانا ہے ۔ چونکہ عورتوں کو ایسے معاملات پر زیادہ آگاہ کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا اور ایسے واقعات پر صرف خاموش رہنا ہی بتایا جاتا ہے، جس وجہ سے خواتین بہت کم ہی منظر عام پر آ کر ایسے لوگوں کیخلاف مقدمات درج کروا پاتی ہیں ۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک جیسے انڈیا اور فلپائن میں قانونی طور پر جنسی ہراساں کرنے کی مکمل تشریح موجود ہے ۔ اس کے مطابق کسی کی مرضی کے خلاف کوئی بھی ایسا عمل اور رویہ چاہے وہ زبانی ہو، جسمانی ہو یا اشارتاً جس کا تعلق جنس سے ہو ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔ ان میں فحش لطائف، ہوٹلنگ وغیرہ کے لیے زور ڈالنا، اور بلیک میل کرنے جیسے عوامل بھی شامل ہیں ۔
پاکستان میں بھی خواتین کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں لیکن پیچیدہ تھانوں کے نظام اورمعاشرے میں عزت کو داؤ پر لگ جانے کے خطرات کی وجہ سے بیشتر خواتین منظر عام پر آتی ہی نہیں جس وجہ سے ان واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔
ایک مشہور ہیومن رائٹس وکیل کے مطابق ہر ادارے کو ایک ایسی کمیٹی بنانی چاہیے جو اس طرح کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیق کرے اور متاثرہ لوگ ان سے کھل کر بات بھی کر سکیں ۔ جنسی طور ہراساں کرنے کے واقعات کو کسی بھی ادارے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ چند ملٹی نیشنل اور نیشنل کمپنیاں جن میں برٹش پٹرولیم پاکستان، شیل، یونی لیور پاکستان اور پاکستان سٹیٹ آئل شامل ہیں نے باقاعدہ خواتین کو ہراساں کرنے پر مؤثر پالیسیاں بنا رکھی ہیں جن پر مکمل عمل درآمد کیا جاتا ہے ۔ اور کسی بھی ایسے واقعے پر فوری ایکشن لے کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جاتی ہیں ۔
جنسی ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی اسی صورت ممکن ہے جب خواتین کو ایسے معاملات سے مکمل آگاہ کیا جائے ۔ انکو اعتماد میں لے کر ہمت اور حوصلہ دلایا جائے اور باور کروایا جائے کہ ان کے واقعات رپورٹ کرنے سے مزید ایسے حادثات میں کمی آئے گی اور خصوصاً ان کی عزت اور مستقبل پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ بصورت دیگر متاثرہ خواتین کی خاموشی دن بدن ایسے شیطان صفت افراد کو مزید حوصلہ فراہم کر کے ان واقعات میں اضافے کا باعث بنے گی ۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں