آج : 10 September , 2017

حضرت علی کرم الله وجہہ کی فضیلت

حضرت علی کرم الله وجہہ کی فضیلت

یوں تو الله تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کو ہر چیز عمدہ سے عمدہ عطا کی ہے، لیکن جو شاگرد رب العالمین نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو عطا کیے ہیں اس کی مثال پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کا ہر شاگرد ایک بے مثال خوش بو کی مانند ہے ، ہر صحابی ایک بہترین صراط مستقیم کی شاہ راہ ہے، ہر صحابی ایک چمکتا دمکتا ستارہ ہے، اسی بات کی جانب آپ صلی الله علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے، جس کو امام ابو عبدالله عبیدالله بن محمد (متوفی:387ھ) اپنی کتاب”الإبانة الکبری“ میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں:” عن ابن عباس  ، قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: إنما أصحابي کالنجوم، فبایھم اقتدیتم اھتدیتم․“ ( الإبانة الکبری:2/564، رقم الحدیث:702) اس لیے جس صحابی کی اقتدا کرو گے تو فلاح پا جاؤگے، ہر صحابی کی شان ، منقبت کو بیان کرنا او رہر صحابی کو خراج عقیدت پیش کرنا نہ صرف ایک کار خیر ہے، بلکہ ایمان کا ایک جزلاینفک بھی ہے، اس لیے کہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین نہ صرف عام مسلمان نہیں ، بلکہ وہ عظیم ہستیاں ہیں کہ قرآن کریم بھی جن کی تعریف وتوصیف کرتا ہے، قرآن کریم میں تقریباً سات سو مقام ایسے ہیں جن میں خلاق عالم نے صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کی فضیلت ومنقبت کو اجاگر کیا ہے۔

اس لیے بھی ان عظیم ہستیوں کی تعریف کرنا کار خیر ہے کہ قرآن کریم نے ان مقدس انسانوں کے ایمان کو بعد میں آنے والے انسانوں کے لیے معیار اور پیمانہ بنایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:﴿فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِہِ فَقَدِ اہْتَدَواْ﴾․(البقرة:137) یعنی اگر تم ایمان اس طرح لا ؤ جیسا کہ ایمان صحابہ کرام لائے ہیں تو تحقیق تم فلاح پا جاؤ گے، اس لحاظ سے بھی صحابہ کرام کا ذکر کرنا ضروری ہے، تاکہ امت محمدیہ ان کے مقام او رمرتبہ کو سمجھے او ران کے مطابق ایمان بنانے کی کوشش کرے، چوں کہ ہر صحابی کے بے شمار فضائل کتبِ حدیث میں ملتے ہیں، اب تمام کا ذکر کرنا تو یہ اس وقت ہمارا موضوع سخن نہیں ہے، بلکہ اس وقت ہم نے جس صحابی کے متعلق لکھنے کی جسارت کی ہے وہ امیر المؤمنین، داماد پیغمبر، خلیفہ چہارم، سیدنا علی المرتضی کرم الله وجہہ کی ذات گرامی ہے، جن کا مقام تمام اہل سنت کے ہاں انبیائے کرام علیہم السلام اور خلفائے ثلاثہ کے بعد تمام انسانوں سے اعلیٰ ہے اور یہ ترتیب میں اپنی طرف سے بیان نہیں کر رہا، بلکہ مشہور محقق اور مایہ ناز محدث، سالار احناف امام طحاوی اپنی کتاب”العقیدة الطحاویة“ میں یوں رقم طراز ہیں:”ونثبت الخلافة بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم أولاً لأبي بکر الصدیق رضی الله عنہ، تفضیلاً لہ وتقدیماً علی جمیع الأمة، ثم لعمر بن الخطاب رضی الله عنہ، ثم لعثمان رضی الله عنہ، ثم لعلي بن طالب رضی الله عنہ․“

سیدنا علی کرم الله وجہہ کی فضیلت او رمنقبت کے بے شمار گوشے ہیں، لیکن میں صرف ان ہی کو بیان کرنے کی کوشش کروں گا جو امام الانبیاء صلی الله علیہ وسلم کے کلام میں سے ثابت ہو یا آپ صلی الله علیہ وسلم کے جانثاروں کے کلام میں موجود ہو۔

سیدنا علی المرتضی کرم الله وجہہ کی شان او رمنقبت میں بے شمار مرفوع، موقوف او رمقطوع روایات موجود ہیں، ان تمام کااحاطہ کرنا تو ہمارے بس کی بات نہیں ہے، البتہ چند احادیث، جن سے صراحتاً سیدنا علی کرم الله وجہہ کی فضیلت عیاں ہوتی ہے، ان کو ہم ناظرین کے سامنے پیش کریں گے۔

حضرت علی کرم الله وجہہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے محبوب
ویسے تو ہر صحابی سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو پیار تھا، ہر صحابی آپ صلی الله علیہ وسلم کا محبوب تھا، لیکن بعض ایسے خوش نصیب ہیں جن سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو خاص تعلق او رمحبت تھی، ان میں حضرت علی کرم الله وجہہ کی ذات گرامی بھی ہے، حضرت علی  سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو جو تعلق تھا وہ بہت زیادہ تھا، حضرت علی  ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں، جن کے بارے میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور الله تعالیٰ ان سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ امام احمد بن حنبل اپنی کتاب”فضائل الصحابة“ میں حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی سے اسی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں:

ترجمہ: حضرت عبدالرحمن ابی لیلی فرماتے ہیں: میرے والد حضرت علی  کے ساتھ رات کو جاگتے تھے، ( وہ فرماتے ہیں کہ ) حضرت علی  سردیوں میں گرمیوں کے کپڑے پہنتے تھے او رگرمیوں میں سردیوں کے کپڑے پہنتے تھے، تو ان کے والدسے کہا گیا کہ اگر آپ حضرت علی سے پوچھ لیتے اس عمل کے بارے میں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا تھا، تو حضرت علی  نے فرمایا کہ آپ نے سچ فرمایا، ( اصل وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ) رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دن میری طرف پیغام بھیجا، اس حال میں کہ میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں نے کہا: اے الله کے رسول! میری آنکھیں دکھ رہیں ہیں، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے میری آنکھ پر اپنا لعاب ( مبارک) لگایا، پھر فرمایا: اے الله! اس سے گرمی اور سردی کو دور کر دے۔ اس کے بعد میں نے گرمی اور سردی کو محسوس نہیں کیا، فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسے آدمی کو بھیجوں گا جس سے الله اور الله کے رسول محبت کرتے ہیں اور وہ الله اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور میدان سے فرار نہیں ہو گا۔ (راوی) نے فرمایا کہ اس کے بعد لوگ دیکھنے لگے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کرم الله وجہہ کو بھیجا۔(فضائل الصحابة:565/2، رقم الحدیث:950)

سیدنا علی کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کو کتنی محبت تھی اس کو حبر الامہ سیدنا ابن عباس رضی الله عنہما کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ، امام احمد بن حنبل (متوفی:241ھ) اپنی کتاب”فضائل الصحابة“ میں ذکر کیا ہے۔

ترجمہ:حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ: آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ کو حضرت علی کے پاس بھیجا اور فرمایا: آپ ( حضرت علی) دنیااور آخرت میں سردار ہیں، جو آپ سے محبت کرے گا اس نے مجھ سے ( آپ صلی الله علیہ وسلم سے) محبت کی اور آپ کا دوست الله کا دوست ہے اور آپ کا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن الله تعالیٰ کا دشمن ہے، ہلاکت ہے اس کے لیے جو میرے بعد آپ سے ( حضرت علی) سے بغض رکھے۔(فضائل الصحابة:2/642، رقم الحدیث:1092)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو حضرت علی کرم الله وجہہ سے کتنی محبت تھی او رحضرت علی سے محبت ایمان کی دلیل ہے، حضرت عکرمہ اور حضرت ابو سعید خدری کا قول ہے جس کو امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ”فضائل الصحابة“ میں نقل کیا ہے۔
:”عن أبي سعید الخدري قال: إنما کنا نعرف منافقي الأنصار ببغضھم علیاً․“

حضرت ابو سعید الخدری فرماتے ہیں کہ ہم منافقین کو بغض علی سے پہچانتے تھے۔ یعنی جس کے دل میں حضرت علی کا بغض ہوتا تھا تو ہم یقین کر لیتے تھے کہ یہ آدمی منافق ہے، کیوں کہ محبت علی ایمان کی علامت میں سے ایک ہے۔

حضرت ابو سعید خدری نے تو صرف مدینہ کے حالات کو بیان کیا ہے، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نے مطلقاً اس بات کو بیان کیا ہے، جیسا کہ ابن ابی شیبہ رحمة الله علیہ( متوفی:235) اپنی کتاب ”المصنف“ میں حضرت خالد بن مخلد کے طریق سے روایت کرتے ہیں:”عن ام سلمة قالت: سمعتُ رسول الله صلی الله علیہ وسلم یقول:”لایبغض علیاً مؤمن، ولا یحبہ منافق․“(المصنف17/126، رقم الحدیث:32777) یعنی آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: حضرت علی کرم الله وجہہ سے ہر مومن محبت کرے گا او ران سے ہر منافق بغض رکھے گا۔

سیدنا علی المرتضیٰ کو صدیق کا لقب
لفظ صدیق کا معنی ہے سچا، اس لحاظ سے تو ہر صحابی  ہی صدیق ہے، اس لیے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کا ہر صحابی سچائی کا پیکر ہے، ہر صحابی سچائی کا علم بردار ہے، صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین میں سے بطور خاص یہ لقب تو سیدنا صدیق اکبر کی ذات گرامی کا ہے، لیکن بعض ایسے بھی خوش نصیب ہیں کہ ان کو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے صدیق کا لقب عطا کیا ہے، ان خوش نصیبوں میں سے ایک سیدنا علی المرتضیٰ کی ذات گرامی بھی ہے کہ ان کو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے صدیق کا لقب عطا کیا ہے۔ جیساکہ امام ابوالقاسم علی بن حسین المعروف بابن عساکر رحمة الله علیہ( متوفی:571) اپنی کتاب”تاریخ دمشق“ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں، جس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: صدیق تین ہیں: ایک حبیب النجار، جو کہ آل یس کا مومن تھا، دوسرا حزقیل، جو کہ آل فرعون کا مومن تھا، تیسرا حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت علی المرتضیٰ ان تینوں سے اعلیٰ ہیں۔ جیسا کہ موصوف رقم طراز ہیں:”عنعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عن أبي لیلیٰ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم:”الصدیقون ثلاثة: حبیب النجار مؤمن آل یس قال:﴿یاقوم اتبعوا المرسلین﴾، وحزقیل مؤمن آل فرعون الذي قال:﴿اتقتلون رجلاً أن یقول ربي الله﴾، وعلي بن أبي طالب․“ (تاریخ دمشق:42/43)

حضرت علی المرتضی کو جنت کی بشارت
جس انسان بھی نے ایمان کی حالت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہو اور اس کی ایمان پر موت آئی ہو اس کو صحابی کہتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے لیے خالق لم یزل نے اپنی رضا کا اعلان کیا ہے، جس سے الله تعالیٰ راضی ہو جائے ان کا جنتی ہونا متحقق ہے، لیکن ان مقدس ہستیوں میں بعض ایسے بھی خوش نصیب ہیں جن کو لسان نبوت نے صراحتاً دنیا میں ہی جنت کی خوش خبری دی ہے، ان میں عشرہ مبشرہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین ہیں، جن کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی ہے، ان میں حضرت علی المرتضی  کی ذات گرامی بھی ہے، اسی طرح اور صحابہ کرام رضوان الله علہم اجمعین بھی ہیں، جن کو فراداً فرداً آپ صلی الله علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی ہے اور حضرت علی المرتضیٰ جس طرح عشرہ مبشرہ میں ہیں اسی طرح ان کو فرداً فرداً بھی جنت کی خوش خبری دی گئی او ران کو جوانعام ملنے تھے، ان میں سے ایک کا ، امام ابن ابی شیبہ رحمة الله علیہ کتاب”المصنف“ میں ذکر کرتے ہیں:

حضرت انس فرماتے ہیں کہ : میں اور علی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغات کی طرف نکلے، پس ہم ایک باغ کے پاس سے گزرے تو حضرت علی  نے فرمایا: یا رسول الله! یہ باغ کتنا اچھا ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! جنت میں تمہارا باغ اس سے بھی اچھا ہے، یہاں تک کہ سات باغات پر سے گزر ہوا او رحضرت علی  ہر باغ کے متعلق فرماتے تھے کہ : یا رسول الله! یہ باغ کتنا اچھا ہے! اور آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے کہ جنت میں آپ کاباغ اس سے بھی اچھا ہے۔(المصنف: 17/125، رقم الحدیث:32774)

بلکہ ایک اور حدیث میں صراحتاً صرف آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ کو جنت کی خو ش خبری دی ہے ،جس کو امام ابوشیبہ نے ”المصنف“ میں حضرت سعید بن زید سے روایت کیا ہے:”عن سعید بن زید قال: سمعتُ رسول الله صلی الله علیہ وسلم یقول:”علي في الجنة“․ (المصنف:17/135، رقم الحدیث:32793)

حضرت علی المرتضی کا اہل بیت میں سے ہونا
اہل بیت میں ہونا یہ ایک شرف کی بات ہے، اس لیے کہ قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے اہل بیت کی فضیلت بیان کی ہے، جیساکہ سورہ احزاب میں ارشاد خداوندی ہے:﴿إِنَّمَا یُرِیْدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْراً﴾․(سورة الأحزاب:33) اس آیت میں الله تعالیٰ نے اہل بیت کے لیے فرمایا کہ ہم ان کو پاک کر دیں گے، اس کی تشریح میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ الله تعالیٰ لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ماقبل میں چوں کہ سارا ذکر ازواج مطہرات کا چل رہا ہے، اس لیے وہ تو اہل بیت میں براہ راست داخل ہیں۔ (آسان ترجمة القرآن،ص:424) لیکن بعض ایسے خوش نصیب بھی ہیں کہ جن کو الله تعالیٰ کے پیغمبر صلی الله علیہ وسلم نے اہل بیت میں سے ہونے کا شرف عطا کیا ہے، ا س میں جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی صاحب زادیاں داخل ہیں وہیں حضرت علی المرتضیٰ بھی شامل ہیں، چناں ں چہ امام ابوجعفر محمد بن یزید طبری (متوفی:310) اپنی کتاب”تفسیر الطبری“ میں حضرت ام سلمہ سے حدیث روایت کرتے ہیں: ”عن أم سلمة، قالت: لما نزلت ھذہ الآیة: (إنما یرید الله لیذھب عنکم الرجس الخ) دعا رسول الله صلی الله علیہ وسلم علیاً، وفاطمة، وحسناً، حسیناً، فجلل علیہم کساء خیبریاً، فقال: ”اللھم ھؤلآء أھل بیتي، اللھم أذھب عنھم الرجس وطھِرھم تطھیراً“ قالت أم سلمة: ألست منھم؟ قال: أنت إلی خیر“․ (تفسیر البطری:19/94)

اس حدیث سے ایک یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت علی المرتضیٰ  اہل بیت میں سے ہیں اور دوسری یہ بات معلوم ہوئی کہ ازواج مطہرات رضی الله عنہن اجمعین بھی اہل بیت میں شامل ہیں، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمة کو منع نہیں کیا کہ یہ آیت تو صرف ان پانچ کے لیے اتری ہے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ انت إلی خیر یعنی آپ خیرکی طرف ہیں۔ لہٰذا ازواج مطہرات او ربنات پیغمبر دونوں ہی اہل بیت میں شامل ہیں، اسی بات کی جانب حضرت مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ الله تعالی نے آسان ترجمہ القرآن میں سورة الاحزاب کی مندرجہ بالا آیت کی تشریح میں اشارہ فرمایا ہے۔

اسی طرح کے دیگر بے شمار فضائل ومناقب کتبِ احادیث میں بکھرے پڑے ہیں، ان میں سے چند ہم نے آپ کے سامنے رکھے ہیں، اب ہم حضرت علی رضی الله عنہ کا مقام اساطین امت کے نزدیک کیا تھا، اس کے چند شواہد ہم قارئین کے سامنے سپرد قلم کرتے ہیں۔

حضرت مسروق رحمة الله علیہ حضرت علی المرتضیٰ  کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : انتھی علم أصحاب رسول الله ا إلی عمر وعلی وعبدالله․ کہ اصحاب محمد صلی الله علیہ کا علم ان تین پر ختم ہے، ایک حضرت عمر، دوسرے حضرت علی المرتضیٰ اور تیسرے حضرت ابن مسعود ۔ امام احمد بن حنبل حضرت علی المرتضیٰ کے فضائل کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”ما ورد لأحد من أصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم من الفضائل ما ورد لعلي ص“ یعنی اصحاب رسول میں سے جتنے فضائل حضرت علی المرتضی کے بارے میں وارد ہوئے اتنے کسی اورکے بارے میں وارد نہیں ہوئے۔

حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے زہاد کا تذکرہ کیا گیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ لوگوں میں سے سب سے بڑے زاہد حضرت علی المرتضی تھے۔

یہ چند اقوال آپ کے سامنے پیش کیے گئے ہیں، ورنہ اگر ان تمام اقوال کا احاطہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے، ان تمام باتوں کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے دل میں سیدنا علی المرتضی کی محبت پیدا ہو جائے او رہم ان کی طرح زندگی گزارنے والے بن جائیں۔

الله تعالیٰ مجھے اور آپ کو سیدنا علی المرتضیٰ سے محبت کی اور ان کی طرح اتباع سنت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں