آج : 3 September , 2017
مولانا عبدالحمید نے عید الاضحی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا:

مسلم ممالک انصاف کی فراہمی اور امتیازی رویوں کے خاتمے سے اپنی ترقی وامن یقینی بنائیں

مسلم ممالک انصاف کی فراہمی اور امتیازی رویوں کے خاتمے سے اپنی ترقی وامن یقینی بنائیں

عید الاضحی کے موقع پر زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے انصاف کے نفاذ اور تمام اقوام اور اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے اسے دنیا میں نفاذ امن کا بہترین راستہ قرار دیا۔
سنی آن لائن نے خطیب اہل سنت زاہدان کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما نے عید کی نماز سے پہلے برمہ مسلمانوں کی حالت زار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: برمہ حکومت کا رویہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ و سفاکانہ ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ میانمار کا مسئلہ چونکا دینے والا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف تین دنوں میں تین ہزار سے زائد برمی مسلمان جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بستیوں کو محاصرہ کرکے چھوٹے بچوں سے لے کر خواتین و عمررسیدہ افراد تک کو بے دردی سے قتل عام کیا جاتاہے۔ ان کا واحد جرم مسلمان ہونا ہے۔
عالمی اداروں کی بے حسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: نہتے شہریوں کا قتل عام جن کی حکومت سے کوئی لڑائی بھی نہیں ہے، ایک نسل کشی، جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس جرمِ عظیم پر خاموش ہیں اور ایک میٹنگ تک منعقد نہیں کرتیں۔
انہوں نے مزید کہا: سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیوں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ہے؟ روس و امریکا جو اس کونسل کے مستقل ارکان ہیں، اس مسئلے پر کیوں خاموش ہیں؟ بعض طاقتیں مختلف حیلے بہانوں سے دیگر ممالک پر حملہ آور ہوتی ہیں جہاں ان کے کچھ مفادات ہیں، لیکن میانمار میں ان کے کوئی مفادات نہیں ہیں، اسی لیے کسی مداخلت کی نوبت نہیں آتی اور نہ ہی اس حکومت پر کوئی پابندی لگ جاتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: میانمار حکومت کو عالمی اداروں کے ذریعے دباو میں لانا چاہیے اور مسلمان ممالک بھی انسدادی پالیسیوں سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
انہوں نے مزید کہا: برمہ کے مسلمانوں کے قتل عام سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کوئی ملک برمی پناہ گزینوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے پر تیار بھی نہیں ہے۔

انتہاپسندی و ’تکفیر‘ سنت سے کوسوں دور ہیں
نامور سنی عالم دین نے عید الاضحی کے موقع پر اکٹھے ہونے والے دو لاکھ کے قریب نمازیوں سے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: دنیا میں آج کے حالات بالکل ماضی سے مختلف ہیں اور مسلمانوں کے درمیان کبھی بھی اس قدر فرقہ وارانہ اور قومی اختلافات موجود نہ تھے۔
مسلمانوں کے سامنے چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا: افسوس کی بات ہے کہ اسلام دشمن عناصر موجودہ حالات کا فائدہ اپنے مفادات یقینی بنانے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ مسلمانوں میں انتہاپسندی اور تکفیر کا فتنہ شائع ہوچکاہے۔ کچھ لوگ جو قرآن و سنت اور شریعت سے ناواقف ہیں، ایک دوسرے کی تکفیر میں مصروف ہیں۔ سنی و شیعہ علما کے کفر کے فتوے دیتے ہیں اور عام لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ سے غافل ہیں اور اپنی آخرت تباہ کرتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ سنت کی راہ پر ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی راہ سنت و شریعت سے بہت دور ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: قوموں، اور لسانی، مذہبی اور مسلکی اقلیتوں کے مطالبات اور باتوں پر توجہ نہ دینے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ مشرق وسطی میں عوام سمیت ان برادریوں کو نظرانداز کرنے، انہیں جیلوں میں ڈال کر قتل کرنے سے انتہاپسندی کو فروغ ملا اور عالم اسلام میں اختلافات اور بدامنی کی لہر پھیل گئی۔
انہوں نے مزید کہا: مسئلہ فلسطین میں جب قابض اسرائیل انصاف اور منطق کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور طاقتور ممالک بھی مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں، ایسے میں فلسطینی عوام مسلح جدوجہد اور خودکش حملوں ہی کی طرف جائیں گے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: دنیا میں بدامنی پھیلنے کی ایک بڑی وجہ اسرائیل سے مغرب کی غلط اور ناعاقبت اندیشانہ حمایت و پشت پناہی ہے۔
انہوں نے کہا: انتہاپسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نفاذِ عدل اور مختلف اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی اور عوام کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے علاوہ کوئی مفید راستہ نہیں ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا: انتہاپسندی، بدامنی اور تشدد کے خاتمے کے لیے امتیازی رویوں اور پالیسیوں کا خاتمہ اور نفاذ عدل ضروری ہے۔ اگر قوموں کے جائز مطالبات پر توجہ دے کر عدل نافذ کیاجائے، مسلم ممالک کی ترقی اور امن کی ضمانت ہوگی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں