آج : 23 September , 2017

’اسلامی معیشت‘ کے چند نظریاتی و عملی پہلو

’اسلامی معیشت‘ کے چند نظریاتی و عملی پہلو

تقدیرِ معاش
خالق کائنات نے انسانیت کی پیدائش سے ہزارہا برس قبل انسان کے گزر بسر کے معاشی سامان کا بند و بست فرمایا۔ ذریعۂ معاش اور وسائل معاش کی تقدیر و تقسیم بھی قبل از تخلیق ہوچکی ہے۔
کار و بارِ زندگی میں مختلف لوگوں کا مختلف شعبوں سے وابستہ ہونا اور اپنے رجحان و میلان کے نتیجہ میں معیشت کے مختلف وسائل و مواقع سے استفادہ میں لگن اسی قبل از پیدائش تقدیر و تقسیم کا نتیجہ ہے:
«وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا» (الفرقان: ۲)
«كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ» (بنی اسرائیل: ۲۰)
«وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا» (حم السجدہ: ۱۰)
«خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا» (البقرہ: ۲9)
«قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» (طہ: ۵۰)
بایں معنیٰ قدرتی و طبعی میلان کے تحت اسبابِ معیشت کو اختیار کرنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے، مگر یہ حقیقت ناقابل فراموش ہے، یہ کائنات انسان کے لیے بنی ہے، انسان کائنات کے لیے نہیں بنا۔ جس معاشی فکر میں انسان خادم اور وسائلِ معاش مخدوم ٹھہریں، وہ اسلامی معیشت نہیں ہوگی۔

معاش اور معاد
اسلامی معیشت کی دوسری نظریاتی بنیادی خصوصیت کے طور پر فکر معاد کو فکرِ معاش پر غالب نظر آنا لازمی ہے، انسان اس دنیا میں مسافر کی مانند ہے، اس کی منزل آخرت ہے۔ اسبابِ معیشت میں ایسی مصروفیت جو مسلمان کو آخرت سے غافل کردے یا آخرت کی فکر کمزور اور دنیا کی فکر غالب ہوجائے، ایسا ’’معاشی انسان‘‘ اپنی عاقبت سے غافل اور مقصدِ حیات میں ناکام کہلائے گا، وہ انسانیت کی بجائے حیوانیت اور اس سے بھی بدتر درجہ میں شمار ہونے کا حق دار ہوگا: ’’ أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ‘‘
حضرت بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
’’ہم دینی مدارس کے ذریعہ معاشی انسان کی بجائے ’’معادی‘‘ پیدا کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔‘‘ (اشاعت خاص)
اگر انسان اپنے مقصد حیات سے لاتعلق رہ کر فکرِ آخرت سے غفلت برتے ہوئے دنیا کی لذتوں، آرائشوں اور سہولتوں کے حصول ہی کو اپنا ہدف بنالے تو اسے انسان کی بجائے چراہ گاہِ عالم کا ایسا چرندہ کہا جانا چاہیے جس کا ہدف بہر صورت ہری بھری گھاس سے شکم سیری کے بجز کچھ نہیں ہوتا۔ (نجات اللہ صدیقی)

آسمانی و اخلاقی قواعد کی پابندی
اسلامی معیشت کی عملی بنیاد ’’ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا‘‘ اور ’’ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ‘‘ پر استوار ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے اموال سے استفادہ کا جائز راستہ ’’بیع‘‘ ہے۔ ’’بیع‘‘ مبادلاتی عمل کے جائز راستوں کا عنوان ہے اور ’’ربا‘‘ ناجائز حربوں کا عنوان ہے۔
اسلامی اور غیر اسلامی معیشت کا باہمی تناؤ، تصادم اور ٹکراؤ انہی دو عنوانات کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ اسلامی معیشت کا بنیادی زور ’’بیع‘‘ کے فروغ پر ہوتا ہے اور غیراسلامی معیشت کا پورا زور ’’رِبا‘‘ پر ہوتا ہے اور ’’معاشی انسان‘‘ بیع کے مقابلے میں ’’ربا‘‘ میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے، اس لیے ’’ربا‘‘ کے پیچھے آسانی کے ساتھ نفع اندوزی کا عمل کارفرما ہے، جب کہ ’’بیع‘‘ کے پیچھے محنت و مشقت چھپی ہوئی ہے۔ دوسرا ’’بیع‘‘ میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال رہتا ہے، جب کہ ’’ربا‘‘ میں نفع یقینی اور نقصان کا گزر تک نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام شریعتوں میں ’’ربا‘‘ کے حرام ہونے کا باوجود ’’معاشی انسان‘‘ نے ’’ربا‘‘ کو تحفظ و رواج بخشا اور نفع اندوزی کے سہل تر اس طریق کا اس نے بھرپور دفاع بھی کیا اور اس حوالے سے کسی قسم کی آسمانی ہدایات، اخلاقی اقدار سے نہ صرف یہ کہ بے پروائی برتی، بلکہ ان ہدایات و اقدار سے محاذ آرائی بھی کرتا رہا، چنانچہ جب قرآن کریم نے سود ترک کرنے کا حکم دیا اور ترک نہ کرنے پر اعلان جنگ کیا تو اس کے باوجود مشرکین مکہ نے ’’ربا‘‘ کے حکم میں زبردست تزویر و تاویل سے کام لیتے ہوئے ’’انما البیع مثل الربوا‘‘ کا نعرہ بلند کیا اور اپنے ربوی عمل کے تحفظ کے لیے ’’بیع‘‘ کو ڈھال بنانے میں مبالغہ سے کام لیا۔ (مولانا ادریس کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ)

ربا کی ادارتی شکل (بینک)
موجودہ دور میں ’’ربا‘‘ کے تحفظ، ترویج اور بالادستی کا علمبردار ادارہ بینک ہے، بینک کے انٹرسٹ کا ربا ہونا تمام تاویلات کو ٹھکرا کر ربا طے پاچکا ہے۔
بینک بنیادی طور پر زر کے لین دین کا ادارہ ہے، بینک ایسے ادارہ کو کہا جاتا ہے جو قرضوں کا لین دین کرتا ہے او رقرضوں ہی کا کاروبار کرتا ہے۔ (محمود غازی)
ماہرین کے بقول بینک کا ادارہ جس کی روح اور اسپرٹ یہ ہے کہ رہتی دنیا کے وسائل کو مغرب میں منتقل کرنا، کم زور اور بے اثر افراد و اقوام کے سرمائے کو کھینچ کر طاقت ور اور بااثر قوموں تک منتقل کرنا ہے۔ بینکاری کا عالمی نظام یہی کام کرتا ہے کہ دنیا بھر کے سرمائے کو بڑے مغربی تالاب میں جمع کرتا ہے، ا س بڑے تالاب سے سرمایہ کی نکاسی کا چابیاں بڑے بڑے مغربی سرمایہ داروں اور ان کے اداروں کے ہاتھ میں رہتی ہیں۔ بینک کاری کے اسی نظام پر دنیا کا معاشی نظام چل رہا ہے اور یہ معاشی نظام‘ سود، بینک کاری اور آزاد منڈی کی سہ گانہ بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ مغربی دنیا کے لیے اصول ایمان کا درجہ رکھتی ہیں، ان بنیادوں کے بارے میں وہ کسی نرمی یا مصالحت کے لیے تیار نہیں، اس نظام کے تحفظ کی خاطر وہ سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہیں۔ ڈاکٹر محمود غازی رحمہ اللہ اس حقیقت کو مختصر انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں:
’’اس وقت مغربی دنیا کے لیے جو بات سب سے زیادہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے، جو گویا اب ان کا دین و ایمان بن گئی ہے وہ دو چیزوں کا تحفظ ہے: سیکولر ڈیموکریسی یعنی لامذہبیت پر مبنی اور دین و دنیا کی تفریق و تقسیم کے تصور پر استوار جمہوری نظام اور آزاد منڈی کی معیشت پر کار بند سودی نظام۔۔۔۔ اس معاشی قوت کو حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے بڑے بڑے وسائل دو ہیں: ایک تو بینک کاری اور مالیات کا یہ عالمی نظام جس نے پوری دنیا کو ایک مضبوط نظام میں جکڑ رکھا۔ دوسرے وہ بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں (ملٹی نیشنلز)۔ جب تک اس نظام سے مکمل چھٹکارا حاصل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک دنیائے اسلام کی مکمل آزادی اور اس کی تہذیب کے نمود و اظہار کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے گا۔‘‘ (اسلامی بینکاری، ایک تعارف، ص: ۱۶)
اس سرگزشت کی روشنی میں بینکنگ کا عالمی نظام اپنی وضع اور روح کے اعتبار سے سرمایہ کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں گھمانے کا ادارہ ہے۔
یہ ادارہ اتنا مربوط اور مضبوط ہوچکا ہے کہ کسی بڑے عالمی انقلاب کے بغیر اس کی اُکھاڑ پچھاڑ یا ترمیم و اصلاح ناممکن ہے۔
مغربی دنیا آسمانی ہدایات اور اخلاقی اقدار سے تہی دامن ہوکر اس نظام کو برقرار رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے، اس سلسلے میں ہر حد سے گزرنا سیکولرزم کا بنیادی عقلی حق سمجھا جاتا ہے۔
جب ہم اسلامی معیشت کے نفاذ یا بینک کاری کی اصلاح یا اسلام کاری کی بات کریں تو کسی خوش فہمی کا شکار بننے سے پہلے ان حقائق کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے اور یہ کہ جس نظام کی اصلاح یا ترمیم کی جاتی ہے اس کے کل کی اصلاح کے بغیر جزء کی اصلاح کا دعویٰ ایسا ہی ہے جیسے شراب کے مٹکے کی ٹونٹی تبدیل کرکے شراب کے حلت و طہارت کا دعویٰ کرنا۔ ہماری اس بات کو جذباتیت کی نذر کرنے کی بجائے ماضی میں بینکوں کی اسلام کاری کی تاریخ کو دیکھ لیا جائے، ان کوششوں کی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے اور مروجہ غیرسودی بینک کاری کی حالیہ اُٹھان کا جائزہ بھی لیا جائے تو امید ہے کہ ہماری گزارشات قابل غور محسوس ہوں گی۔

عالمی بینک کاری نظام اور اس کے اسلامی متبادل کی کوششیں
عالمی بینک کاری نظام اسلامی معیشت کے نفاذ و فروغ میں رکاوٹ کیوں بنتا ہے؟! اس کی ایک بنیادی وجہ تو اوپر معلوم ہوئی کہ وہ اپنی معاشی بالادستی پر کسی قسم کی رواداری کا قائل نہیں۔ اس نظام کے رکاوٹ بننے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں بینک کاری نظام کا حقیقی متبادل ’’بیع‘‘ ہے اور بیع کی مختلف صورتوں میں سے مشترکہ کار و بار کی عملی شکل شرکت اور مضاربت ہے۔ بینک کاری نظام اور شرکت و مضاربت کے درمیان نظری، عملی اور فقہی اعتبار سے ایسا تناؤ، تصادم اور تضاد ہے کہ دونوں کا جمع ہونا ناممکن ہے، اب اس تصادم کے نتیجہ میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار ہوسکتی ہے، اس کے لیے بینک کاری نظام کے مندرجہ بالا اصول اور بینکوں کی اسلام کاری کی تاریخ کی روشنی میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ بینکنگ کو دنیا کے معاشی نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ تسلیم کرلینے کے بعد تقریباً ۶۰ء کی دہائی میں بعض اسلامی مفکرین نے بینکوں کی اسلام کاری کو مستقل موضوع کی حیثیت دی۔
سب سے پہلے مصر کے بعض علماء نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ: بینکوں کے نفع بخش معاملات‘ زمانہ جاہلیت کے ربوی معاملات سے صورت اور حکم میں مماثلت نہیں رکھتے، لہذا بینکوں کے منافع بخش معاملات بالکل جائز اور حلال ہیں۔ یہ رائے مصر سے نکل کر پاک و ہند تک بھی پھیلی اور یہاں کے بعض نامی گرامی لوگ بھی بینک انٹرسٹ کو ’’ربا‘‘ سے خارج قرار دینے پر اصرار کرتے رکھائی دیئے اور بعض نے اس پر زور دار تحریریں بھی لکھیں۔ جعفرشاہ پھلواری، یعقوب شاہ اور مولانا ظفرعلی خان مرحوم بلکہ اس عنوان سے خود سرکار کی نگرانی میں ادارہ تحقیقات اسلامی نے بڑی زور دار کوششیں کیں، مگر علماء امت نے اس رائے کو یکسر رد کردیا۔ پھر علماء سے متبادل کا مطالبہ ہوا تو علماء نے بینک کاری نظام کے متبادل بیع و شراء کی اسلامی شکلوں شرکت و مضاربت پر مبنی تجارتی کمپنیوں کی تجویز دہرائی، جسے بینک کاری کے وضعی مقاصد کے منافی ہونے کی بنیاد پر ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ بینک والوں کا اصرار ہمیشہ یہ رہا ہے کہ بینک اپنے روایتی طریقہ کار کے مطابق رقم کا لین دین کرتا رہے، کسی قسم کی تجارتی مشقت اور ذمہ داری سے محفوظ رہتے ہوئے اصل سرمایہ بمع نفع کے واپسی کی یقین دہانی اور ضمانت کے فارمولے پر کام کرتا رہے۔ علماء بینک کی اس روح کے ساتھ کوئی جوازی خدمت کریں تو وہ بینکنگ کی دنیا میں قابل عمل اور قابل قبول ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں یکطرفہ اسلامی متبادل قابل قبول اور لائق عمل نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ ۸۱۔۱۹۸۰ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے چند حیلوں حوالوں کے ذریعہ روایتی بینک کے من پسند جواز کے کچھ راستے بنائے، مگر انہیں وقتی، عبوری، عارضی، غیرمثالی اور محض دوسرا متبادل حل جیسے الفاظ کے ساتھ محدود عرصہ اور مخصوصورتوں کے لیے قابل عمل کہہ کر تحریر کیا تھا، نیز ان متبادل عارضی شکلوں کو بینکوں میں اختیار کرانے کا جواز انتہائی بے دلی، ناگواری کے ساتھ بتایا تھا، بلکہ صراحت بھی کی تھی کہ:
’’مبادا یہ دوسرے طریقے سودی لین دین کے از سرے نو رواج کے لیے چور دروازے کے طور پر استعمال ہوں، اس امر پر زور دیا تھا کہ یہ فیصلہ پالیسی کے طور پر ہوجانا چاہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نفع نقصان میں شرکت یا قرضِ حسنہ کے صورت میں سرمایہ کاری کے رواج کو بتدریج وسعت دی جائے گی اور یہ تمام دوسرے متبادل طریقے بالآخر ختم کردیئے جائیں گے۔‘‘ (نظریاتی کونسل کی رپورٹ)
یہ متبادل طریقے جو سودی قرضے کے متبادل کے طور پر بکثرت استعمال ہوتے تھے، جن کے بارے سود کو چور دروازے سے داخل کرنے کی غلطی کی نشاندہی فرمائی گئی تھی، وہ ۱۹۸۰ء والی رپورٹ میں ’’بیع مؤجل‘‘ اور پٹہ داری کے نام سے اختیار کردہ حیلے تھے جو ۱۹۸۴ء میں بیع مؤجل ؍بیع مرابحہ اور ۱۹۹۲ء میں مرابحۂ مؤجلہ کے نام سے مختلف علماء نے متعارف کروائے۔ اور پٹہ داری ؍ لیزنگ کو اجارہ کے نام سے جائز قرار دیا اور بینکوں کے ساتھ زبردست اسلامی سمجھوتی کیا گیا، جس کی بدولت بینکنگ سسٹم اپنے بنیادی اغراض اور روح سے متصادم ہونے کے بناپر اسلامی تجارت کو اپنا حریف قرار دینے سے دست بردار ہوگیا اور اس نے اسلامی تجارت کی بالادستی کو قبول کرلیا، اس لیے کہ مرابحۂ مؤجلہ اور اجارۂ منتہیہ بالتملیک کے نام سے مروجہ غیرسودی بینکوں میں جو کارروائی ہورہی ہے، یہ روایتی بینک کے مال کاری مقاصد کو اسلامی عطر سے معطر کرکے پیش کرنے کی خدمت ہورہی ہے۔
یہ وہی طریقے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان کے تحت اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں۔ بیع مؤجل اور پٹہ داری کا ’’ناخوب‘‘ اب ایسا ’’خوب‘‘ ہوچکا ہے کہ اس سے ناجائز ناگواری اور ’’ناخوب‘‘ کا ’’نا‘‘ بالکلیہ ہمیشہ کے لیے حذف ہوچکا ہے، اس لیے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ موجودہ اسلامی بینک کاری‘ روایتی بینک کاری کی اسلامی ڈھال ہے، مغربی سرمایہ داری معیشت کی گرتی ہوئی نیم جان نعش کے بے ساکھی ہے، اس لیے موجودہ اسلامی بینک کاری کو اسلامی کہنے کی بجائے اسلامی معیشت کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ کہنا زیادہ مناسب ہے۔
و صلی اللہ تعالی علی خیرخلقہ محمد و علی آلہٖ و صحبہ أجمعین

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں