آج : 24 August , 2017

مکافات عمل سے بچئے!

مکافات عمل سے بچئے!

ایک عرصہ ہوا کہ ہمارا پیرا ملک پاکستان صدمات کی زد میں ہے، چند دن وقفہ ہوتا ہے، پھر کوئی نہ کوئی بلاء اور مصیبت نازل ہوجاتی ہے۔ اس سے بچاؤ کی کوئی مد ہم سی صورت نمودار ہونے لگتی ہے تو پھر اچانک ایک نئی آزمائش سامنے آجاتی ہے، آخر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
راقم الحروف کی دانست میں اس پر نہ علمائے کرام نے سوچا اور نہ ہی اربابِ اقتدار اور عوام الناس نے، اس کی وجہ صرف اور صرف یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک طبقہ کے لوگ اپنی من پسند زندگی گزارنے کو اپنا لازمی حق سمجھتے ہیں۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ مجھے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو، آجر چاہتا ہے کہ میں اپنی مرضی کروں اور اجیر چاہتا ہے کہ میں اپنی من مانی کروں۔ حاکم چاہتا ہے کہ میں جو کچھ کروں کوئی اس کو روکنے اور ٹوکنے والا نہ ہو اور رعایا یہ چاہتی ہے کہ ہماری خود روی میں کوئی مداخلت نہ کرے۔ جب سب کا یہ حال ہے تو حالات میں کیسے سدھار آئے گا اور معاشرہ پر امن و پر سکون کیسے ہوگا؟! ایک زمانہ تھا کہ رمضان المبارک آتے ہی مسلمان تو مسلمان ایک ہندو، سکھ، یہودی اور عیسائی بھی اس کا احترام کرتا تھا، لیکن آج ایسا زمانہ آگیا ہے کہ جتنا ہمارے مسلمان بھائی اور بہنیں رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ اتنا کوئی کافر بھی نہیں کرتا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ رمضان المبارک آتے ہی رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے ہمارے ہاں بے حیائی، عریانی، فحاشی، جوا، سٹہ اور سود جیسی مخرب اخلاق اسکیمیں جگہ جگہ اپنے پنجے گاڑ دیتی ہیں، سحری کا مبارک وقت ہو یا افطاری کا جو دعا کی قبولیت کا وقت ہے، ہمارے پاکستانی بھائی ان اسکیموں کا حصہ بننے والے ہوتے ہیں یا ان کو دیکھنے والے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے عمل اور رویہ سے جہاں یہ روزہ دار اپنا روزہ خراب کررہے ہوتے ہیں‘ وہاں وہ روزے کے اجر و ثواب سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے غضب کو بھی دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کا غضب جوش میں آیا اور رمضان المبارک کی آخری ساعتوں میں جمعۃ المبارک کے روز ملک کے کئی ایک مقامات پر دہشت گردی کے واقعات ہوگئے، جس میں درجنوں افراد کو دہشت گردی کا عفریت نگل گیا۔
اسی طرح رمضان المبارک کے بالکل آخری دن احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں ایک آئل ٹینکر اُلٹنے سے تیل بہنے لگا، عین اس وقت جب لوگ ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ کا معاملہ کررہے تھے کہ اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور سینکڑوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے، آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ کسی نے اس پر سوچاہے؟
اہل علم اور اربابِ قلوب اپنی چشم بصیرت سے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ سب ہمارے گناہوں کی سزا ہے جو مختلف شکلوں میں ہمیں مل رہی ہے۔ اس لیے کہ علماء کرام جو انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث اور منبر و محراب سے کلمۂ حق کہنے پر مامور ہیں، ان کے بیانوں میں بھی ان منکرات و فواحش اور کبیرہ گناہوں کی سنگینی اس طرح بیان نہیں کی جارہی، جس طرح بیان کرنے کا حق ہے۔ اسی طرح ہمارے حکمران ہیں کہ ان تمام لغویات و خرافات سے بالکل آنکھیں بند کیے ہوئے نظر آتے ہیں، حالانکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرنے والوں کے بارہ میں سخت و عیدات ارشاد فرمائی ہیں، ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
۱: ’’قال: و الذی نفسی بیدہ لتأمرنَّ بالمعروف و لتنھوُنَّ عن المنکر أو لیوشکن اللہ أن یبعث علیکم عذابا من عندہ ثم لتدعُنّہ فلایستجاب لکم۔‘‘ (مشکوۃ)
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میرا نفس ہے، البتہ یا تو تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تم پر کوئی اپنا عذاب بھیج دے، پھر تم دعائیں کرتے رہ جاؤ اور تمہاری دعائیں قبول نہ کی جائیں۔‘‘
۲: ’’قال: انی سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ان الناس اذا ررؤا منکرا فلم یغیروہ یوشک أن یمعھم اللہ بعقابہ۔‘‘
ترجمہ: ’’فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ: لوگ جب کسی منکر کو دیکھیں پھر اس کو بدل نہ دیں تو قریب ہے کہ اللہ ان پر بھی اپنے عذاب کو عام کردے۔‘‘
۳: ’’عن جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ما من رجل یکون فی قوم یعمل فیھم بالمعاصی یقدروں علی أن یغیروا علیہ و لا یغیرون الا أصابہ اللہ من بعقابہ قبل أن یموتوا۔‘‘
ترجمہ: ’’حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایسا کوئی نہیں ہے کہ وہ ایسی قوم میں ہو جن میں معاصی پر عمل کیا جائے اور وہ اس پر قادر ہوں کہ اسے بدل دیں اور پھر نہ بدلیں، تو اللہ تعالی ان کے مرنے سے پہلے اس پر عذاب نازل فرمادیں گے۔‘‘
۴: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أوحی اللہ عزوجل الی جبرئیل علیہ السلام أن أقلب مدینۃ کذا و کذا بأھلھا فقال: یا رب! ان فیھم عبدک فلاناً لم یعصک طرفۃ عین فقال: أقلبھا علیہ و علیھم فان وجھہ لم یتعمر فی ساعۃ قط۔‘‘
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالی عزوجل نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم کیا کہ فلاں شہر کو مع ان کے مکان اُلٹ دیں، جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ: اے میرے رب! ان میں تو ایک تیرا فلاں بندہ بھی ہے، جس نے ایک لحظہ بھی تیرا گناہ نہیں کیا، فرمایا: (کچھ پروا نہ کر) اس پر بھی اور جمیع (سارے) شہر والوں پر شہر کو اُلٹ دو، اس لیے کہ میرے معاملے میں کبھی اس کا چہرہ ایک گھڑی کو متغیر نہیں ہوا۔‘‘
۵: عن العرس ابن عمیرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: اذا علمت الخطیءۃ فی الأرض من شھدھا فکرھھا کان کمن غاب عنھا و من غاب عنھا فرضیھا کان کمن شھدھا۔‘‘
ترجمہ: ’’حضرت عرس ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب زمین پر گناہ کیا جاتا ہے تو جو شخص اس گناہ میں حاضر ہوکر اس کو مکروہ سمجھتا رہے، وہ حکماً مثل غائب کے ہے، اور جو غائب اس پر راضی ہو‘ وہ حاضر کے حکم میں ہے۔‘‘
اس لیے میڈیا کے مالکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ آپ میڈیا کے ذریعہ فحاشی اور عریانی پھیلا کر اور وہ بھی مقدس اوقات اور مقدس مہینہ میں جہاں اپنے پاکستانی معاشرہ کے لیے عذاب کا سبب بن رہے ہیں، وہاں آپ اپنے لیے بہت زیادہ مشکلات کھڑی کررہے ہیں۔ جوا، سٹہ اور سود جیسی اسکیموں کے ذریعہ جو پیسہ کمایا جارہا ہے، یہ جہاں آپ کے لیے آخرت میں عذاب کا وبال بنے گا‘ وہاں دنیا میں بھی آپ کو سکوں اور اطمینان کی دولت سے محروم کرکے رکھ دے گا، بلکہ جب کسی کبیرہ گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھا جائے تو اس کی نحوست یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے دل سے رفتہ رفتہ ایمان رخصت ہوتا جاتا ہے، حالانکہ ہم مسلمانوں کے پاس صرف یہی ایک پونجی ہے، جس سے آخرت میں کامیابی مل سکتی ہے۔
خدا را! ان آفات اور مصائب سے اپنے آپ کو بھی بچایئے اور اللہ تعالی کی دوسری مخلوق پر بھی رحم فرمائیے، اور اس کے بار بار سوچیے کہ کل یوم آخرت اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟ اسی طرح وہ اینکر حضرات جو اس طرح کے پروگرام منعقد کرتے ہیں، کبھی اکیلے بیٹھ کر اور اپنے اللہ کو حاضر و ناظر سمجھ کر یہ تصور کریں کہ میں اپنے رب کے سامنے ہوں اور میرا رب مجھ سے ان مخلوط اور فحش پروگراموں کے بارہ میں پوچھ رہا ہے تو سوچئے کہ کیا میں جواب دے سکوں گا؟
میرے بھائی! یوم حساب کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، ہر فرد بشر کو اپنا اپنا حساب دینا ہوگا، قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
«وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» (الأنعام: 164)
ترجمہ: ’’اور کسی پر نہیں پڑتا بوجھ دوسرے کا۔‘‘
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے:
«يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ﴿٣٤﴾ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ﴿٣٥﴾ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ﴿٣٦﴾ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ﴿٣٧﴾»(عبس: ۳۴۔۳۷)
ترجمہ: ’’جس دن کے بھاگے مرد اپنے بھائی سے اور اپنی ماں اور باپ سے اور اپنے ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے، ہر مرد کو ان میں سے اس دن ایک فکر لگا ہوا ہے جو اس کے لیے کافی ہے۔‘‘
ارباب اقتدار سے بھی التماس ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ورنہ ان کے لیے بھی آخرت کی جواب دہی مشکل ہوجائے گی۔ اللہ تعالی تبارک و تعالی ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کی تمام مشکلات اور مصائب سے محفوظ فرمائے۔ آمین
و صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد و علی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں