آج : 13 August , 2017

لعل بدخشاں! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز

لعل بدخشاں! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز

قرآن کریم اللہ تعالی کی طرف سے ابدی پیغام ہدایت ہے اور ذریعۂ شفاء ہے۔
امت کی ذلت و ادبار کے موجودہ دور میں بھی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا یہ ایک پہلو موجود ہے کہ اس امت کے پاس اللہ کا کلام آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے، جس کی طرف کسی بھی لمحے رجوع کرکے ہم دوبارہ رفعتوں اور بلندیوں کی طرف سفر شروع کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم کو پڑھنے، یاد کرنے، اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے، اس کے معانی و معارف کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے میں ہر دور ہر زمانے میں کام ہوا ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ امت کے افراد اور علماء میں سے جس نے بھی جتنے جذبے، لگن اور محنت کے ساتھ قرآن کریم کی خدمت کی ’’ان اللہ یرفع بھذا الکتاب أقواما‘‘ کی بشارت کے عین مطابق قرآن کریم نے اس کے مقام اور مرتبے کو اتنا ہی بلند کردیا۔ اگر ہم ہندوستان کی ہی مثال سامنے رکھیں تو یہاں قرآن کریم کی سب سے زیادہ خدمت حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اور ان کے خاندان نے کی اور اللہ نے اس خدمت کے عوض اس خاندان کو پورے برصغیر کے لیے علمی و روحانی سند کا درجہ عطا فرمایا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک شہ پارہ ہے، تا ہم حضرت کی دیگر تمام تصانیف کو اگر ایک طرف اور ’’بیان القرآن‘‘ کو دوسری طرف رکھا جائے تو ان کی قرآن دانی کا یہ شاہکار سب پر بھاری نظر آتا ہے۔
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ کا اصل شعبہ افتاء تھا، اس شعبے میں مفتی صاحب کا کام ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان کے لیے کافی ہے، لیکن آج حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کا زیادہ تعارف ’’معارف القرآن‘‘ کے مؤلف کی حیثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ مفتی صاحب کے قابل فخر صاحب زادے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیفات سے آج ایک دنیا استفادہ کررہی ہے اور مفتی صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا ہے، اس کا حق ادا کیا ہے، لیکن ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جو تاریخ میں ان کے نام کو اَمر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔
ہمارے استاذ گرامی حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ (استاذ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کو بھی اللہ تعالی نے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان خدمت کرنے کی سعادت بخشی اور ان کی زندگی میں ہی اس خدمت کو ایسی پذیرائی عطا فرمائی کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز بن گیا۔ مولانا کا فارسی ترجمۂ قرآن مدینہ منورہ میں قائم ’’مجمع الملک فھد لطباعۃ القرآن الکریم‘‘۔ جو کہ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں طباعت و اشاعت کا سرکاری ادارہ ہے۔ نے فارسی زبان میں لکھے گئے تمام تراجم میں سے منتخب کرکے شائع کیا اور یہ ترجمہ اب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر سعودی حکومت کی جانب سے پوری دنیائے فارسی میں مفت تقسیم ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کی قومی زبان فارسی ہے اور وہاں بڑے بڑے علماء موجود ہیں، اس کے باوجود پاکستان کے ایک عالم کا ترجمۂ قرآن طباعت کے لیے منظور ہونا پاکستان کے لیے اور پاکستان کے دینی مدارس کے لیے اور بالخصوص مادرِ علمی جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے افغانستان کی وزارت مذہبی امور سمیت متعدد فارسی زبان بولنے والے ممالک کے حکام سے اس سلسلے میں تجاویز مانگیں تو سب سے زیادہ آراء مولانا بدخشانی کے ترجمے کے حق میں آئیں اور کچھ لوگوں نے مخصوص وجوہ کی بناپر اس رائے سے اختلاف کیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ اس پائے کا دوسرا ترجمہ لے کر آئیں، مگر وہ اس کی مثال نہ لاسکے۔
یہ فخر اور اعزاز حاصل کرنے سے پہلے استاذ گرامی مولانا محمدانور بدخشانی مدظلہٗ العالی نے بہت طویل علمی سفر طے کیا۔ قرآن کریم کو سمجھنے، سمجھانے کے لیے جتنے علوم اور معاون فنون (بیس کے قریب) بر صغیر پاک و ہند میں پڑھائے جاتے رہے ہیں، ان میں سے ہر علم اور فن کو مولانا نے پڑھا، پڑھایا اور ان میں سے تقریباً ہر ایک علم پر ایک یاایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ اگر میری اس بات کو تلمیذانہ عقیدت پر محمول نہ کیا جائے تو میری نظر میں (جو کہ یقیناً محدود ہے) اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا عالم موجود نہیں ہے جو تقریبا تمام مروجہ منقولات و معقولات پر مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ جیسا مجتہدانہ عبور رکھتا ہو۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، بلاغت، منطق، فلسفہ اور صرف و نحو و غیرہ کی وہ کتابیں جو موجودہ نصاب میں شامل ہیں، وہ تو آپ نصف صدی سے پڑھا رہے ہیں اور ان میں سے ہر موضوع پر آپ کی کتابیں بہت سے اداروں میں شامل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ معقولات کی وہ اعلیٰ پائے کی کتابیں جن کے صرف نام لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے ہیں، مثلاً: صدرا، شمس بازغہ، خیالی، مطول، مسلم الثبوت، سلم، ملاحسن، قاضی مبارک، حمد اللہ، شرح مواقف، شرح چغمینی و غیرہ، یہ سب کتابیں مولانا نے اپنے زمانے کے جیدترین معقولی علماء سے باقاعدہ پڑھیں۔
مولانا محمدانور بدخشانی کا مختصر خاندانی و تعلیمی پس منظر یہ ہے کہ آپ ۱۹۴۳ء کو افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گاؤں زردہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا مولانا محمدشریف افغانستان کے نامور عالم دین تھے، جو جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمدکفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے ممتاز شاگرد تھے۔ اس طرح مولانا نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور قرآن کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا سے ہی حاصل کی۔ اس زمانے میں تخار افغانستان میں علم و ادب کا ایک بڑا مرکز تھا، اس لیے آپ نے درجاتِ ثانویہ میں صرف و نحو، ادب، بلاغت، فقہ، تفسیر اور منطق بیسیوں کتابیں پڑھیں اور ان موضوعات پر بڑی کتابوں کی تعلیم کے لیے دوبارہ اپنے چچا مولانا محمدشریف کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشکوۃ اور مطول تک کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر آپ ۱۹۶۵ء میں پاکستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ کوہاٹ کے دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن میں رہے اور منقولات میں بیضاوی شریف اور معقولات میں میبذی و قاضی مبارک تک کی کتابیں وہاں پڑھیں۔ ۱۹۶۶ء میں آپ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخل ہوئے اور فرید العصر مفتی محمد فرید رحمہ اللہ و دیگر مشایخ سے تفسیر ، عقائد اور فقہ کی کتابوں کی تکمیل کی اور پھر معقولات کی تکمیل کے لیے سوات کا قصد کیا اور دارالعلوم سید و شریف و دیگر مدارس میں وقت کے ممتاز معقولی علماء مارتونگ باباجی رحمہ اللہ و دیگر سے منطق، فلسفہ، فلکیات، ہندسہ، حساب و غیرہ کی بیشتر مشہور کتابیں پڑھیں۔
اس کے بعد آپ کراچی تشریف لائے اور محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ و دیگر مشایخ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ کراچی کے بزرگوں نے بدخشان کے اس ہیرے کی خوب قدر دانی کی، حضرت مولانا سید محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ نے اپنی صاحبزادی آپ کے عقد میں دی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی نواسی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم اول مولانا نور احمد صاحب کی صاحبزادی آپ کی رفیقۂ حیات بنیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ فاروقیہ میں تدریس کے لیے منتخب فرمایا اور دو تین سال بعد حضور بنوری رحمہ اللہ نے آپ کو ان سے واپس مانگ لیا۔ ۱۹۷۲ء سے تا ایں دم آپ اپنے شیخ کے ادارے سے وابستہ ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ نے نصف صدی سے زائد عرصہ کراچی میں گزارا، مگر ان کی زبان، لہجے اور تلفظ پر فارسی کا اثر آج بھی غالب ہے، ہم کبھی سوچا کرتے تھے کہ اگر استاذ جی اردو زبان و ادب پر توجہ دیتے تو شاید عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی آپ کی علمی خدمات کا فیض عام ہوتا، مگر اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے شاید فارسی زبان میں آپ سے اتنا بڑا کام لینا تھا، اس لیے فارسی کے ساتھ آپ کا رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ واللہ غالب علی أمرہٖ و لکن أکثر الناس لایعلمون!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں