آج : 6 August , 2017

مدرسہ اور جدید عصری تعلیم

مدرسہ اور جدید عصری تعلیم

اس سے قبل گذارش کی تھی کہ برصغیر کے مسلمانوں کی خیر و بھلائی اسی میں ہے کہ مدرسہ کو مدرسہ رہنے دیا جائے.
مدرسہ یہاں کی بنیادی دینی ضرورتوں کو پورا کرتاہے، یہاں مسلمانوں کے بچے قرآن پڑھتے، مسنون دعائیں اور نماز سیکھتے ہیں، رموز بندگی پاتے ہیں، اسلامی علوم پڑھ کر عالم اور مفتی بنتے ہیں، قرآن پڑھنا پڑھانا ، نماز سیکھنا اور سکھانا ، ماثور دعائیں یاد کرانا ، اسلامی علوم کے لئے رجال کار پیدا کرنا اور دین کی بنیادی تعلیمات کی تعلیم و تربیت کے لئے زندگی وقف کر دینا، کسی کے نزدیک ، کارگاہ حیات کا کوئی اہم دائرہ کار نہیں، تونہ ہو لیکن در حقیقت اسی کا م سے بت کدہ ہند میں، دین کے دیئے آج روشن ہیں…..یہ مدرسہ علمائے کرام کی قربانیوں اور عام مسلمانوں کے تعاون سے گذشتہ ڈیڑھ صدی سے یہاں کے مسلم معاشرے میں فعال ہے اور اس کے کردار و خدمات کی ایک دنیا معترف اور ایک تاریخ گواہ ہے۔
جہاں تک عصری علوم کا تعلق ہے، علماء کرام اس سے بے خبر نہیں، ایک طبقہ عصری علوم کی اہمیت سے علماء کی بے خبری کا مستقل رونا روتا ہے، کبھی طنز کرتا ہے، کبھی طعنے دیتا ہے، کبھی افسوس کرتا ہے اور کبھی نفرت …..حالانکہ علماء بھی ان ہی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں جہاں آج کی جدید دنیا بستی ہے…..علماء نے جدید عصری علوم کے حوالہ سے بھی کافی کام کیا ہے، مجھے ہندوستان کا تو علم نہیں ، لیکن اس وقت پاکستان میں علمائے کرام کے قائم کردہ اسکولوں اور عصری علوم کے اداروں میں ہزاروں بچے پڑھ رہے ہیں اور اب تک لاکھوں بچے ان سے فیض یاب ہو چکے ہیں…..دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاون کراچی ، جامعہ احسن العلوم کراچی، ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، دارالعلوم الاسلامیہ لاہور ، جامعہ خیر المدارس ملتان، جامعہ خالد بن ولید وھاڑی ، جامعہ امدادیہ فیصل آباد ، جامعہ دارالقرآن فیصل آباد ، جامعہ فریدیہ اسلام آباد ، جامعہ محمدیہ اسلام آباد ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ عثمانیہ پشاور….. اس طرح کے سینکڑوں جامعات اور مدارس کی ایک فہرست ہے جن کے ہاں عصری تعلیم دی جارہی ہے اور ان کی نگرانی میں اسکول اور عصری تعلیم کے ادارے قائم ہیں۔
پاکستان کے دینی مدارس میں آج کل سب سے زیادہ طلبہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ ہورہے ہیں، دارالعلوم حقانیہ کی بنیاد ۱۹۴۷میں رکھی گئی ہے لیکن دارالعلوم حقانیہ کے بانی حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ نےحقانیہ کی بنیاد رکھنے سے گیارہ سال پھلے 1936 میں ایک اسکول بنایا جس کی بنیاد شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے رکھی، اب تک اس اسکول سے ہزاروں طلبہ نے استفادہ کیا، مشہور پشتو شاعر و سیاسی رہنما اجمل خٹک اور پروفیسر افضل رضا جیسی شخصیات نے اسی اسکول سے پڑھا، دارالعلوم کراچی نے تقریباً کوئی چالیس سال قبل ایک اسکول قائم کیا، سالہا سال تک اس کا ریکارڈ تھا کہ اس کا کوئی طالب علم میٹرک میں فیل نہیں تھا….. ۱۹۸۰کی دہائی میں امام اہل سنت مفتی احمد الرحمان صاحب رحمہ اللہ کی سرپرستی میں ، تین علماء مفتی جمیل خان شہید ، مولانا خالد محمود صاحب اور مولانا مزمل حسین صاحب نے ’’ اقراء روضۃ الاطفال‘‘ کے نام سے قرآن کریم کی تحفیظ اور اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کے لئے ایک تعلیمی نظام بنایا ، آج اس تعلیمی سسٹم کے تحت گلگت سے کراچی تک ہزاروں بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں، ابھی حال ہی میں ایک سرکاری تعلیمی بورڈ کی پہلی تینوں پوزیشنیں ان ہی کے ادارے کی طالبات نے حاصل کی ہیں…..اقراء نام سے کئی دوسرے علماء نے بھی اسکول قائم کئے ہیں….. ۔گزشتہ تعلیمی سال1438 میں وفاق المدارس سے فارغ ہونے والے فضلاء کی تعداد آٹھ ھزار نو سو سینتیس ہے، ان میں پانچ ھزار پانچ سو باون ایسے ہیں جنہوں نے مدرسہ میں درس نظامی شروع کرنے سے قبل میٹرک، مڈل کیا ہے…..
کہنے کا حاصل یہ ہے کہ علمائے کرام نے عصری علوم کے ادارے قائم کئے ہیں اور آج ملک بھر میں لاکھوں بچے بچیاں ان میں عصری علوم پڑھ رہی ہیں…..یقینا اس میں مزید اضافہ ہونا چاہئیے اور برق رفتاری کے ساتھ ہونا چاہئیے ، جوان حوصلہ فضلاء اس کام کے لئے آگے بڑھیں…. ،لیکن مدرسہ کا نظام ختم کرنے، اس کی قدر کم کرنے یا اس نظام مدرسہ کے مکسچر بنانے کی قیمت پر نہیں…..وہ جہاں ابتدائیہ کے بچوں کی ایمان افروز صدائیں اٹھتی ہیں:…..پہلاکلمہ طیب، طیب معنی: پاک: لاالہ الا الله محمد رسول اللہ…..‘‘وہ جہاں درجہ عالمیہ کے طالبان علوم نبوت کی روح پرور آوازیں گونجتی ہیں:…..’’قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم‘‘…. بس اس فرش نشین نظام مدرسہ کو قائم رھناچاہییے کہ ھمارے پاس اس کا بدل نہیں!


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں