فضلائے دارالعلوم زاہدان کا تیسرا اجتماع منعقد ہوگیا

فضلائے دارالعلوم زاہدان کا تیسرا اجتماع منعقد ہوگیا

زاہدان (سنی آن لائن) ملک کے سب سے بڑے دینی ادارہ، دارالعلوم زاہدان کے فضلا کا دو روزہ اجتماع جامع مسجد مکی میں سینئر اساتذہ کی موجودی میں منعقد ہوگیا۔

اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (sunnionline.us) کے نامہ نگاروں کے مطابق، فضلائے دارالعلوم زاہدان کے تیسرے اجتماع کی افتتاحی نشست بدھ چھبیس جولائی کو منعقد ہوگئی۔ اس نشست میں دورہ حدیث کے تمام اساتذہ نے حصہ لیا۔

اجتماع کے سیکریٹری، مولانا عبدالغنی بدری نے اسٹیج سنبھالتے ہوئے اجتماع کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا: ہمارا اصلی مقصد اللہ تعالی کی رضامندی کا حصول ہے۔ نیز جو کچھ ہمارے اردگرد معاشرے میں ہورہاہے اور لوگوں کے حالات ہمارے سامنے ہیں، اس حوالے سے علمائے کرام کی ذمہ داریوں کے حوالے سے انہیں یاددہانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

فضلائے دارالعلوم زاہدان کے تیسرے اجتماع میں سینئر اساتذہ کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف حسین پور (صدر و شیخ الحدیث عین العلوم گشت، سراوان) نے بھی پیرانہ سالی و بیماری کے باوجود شرکت کرکے اپنے قیمتی نصائح سے فضلا کو نوازا۔

اس اجتماع میں خطابات کے علاوہ کالجوں سے تعلق رکھنے والے فضلا، دینی مدارس کے مہتممین و منتظمین، مدرس حضرات اور خطبا و ائمہ مساجد، نیز کاروبار سے منسلک فضلا کے لیے خصوصی لیکچرز کا انتظام کیا گیا۔

علاقائی سطح پر فضلا اکٹھے ہوکر اپنے اساتذہ کو کارگزاریاں سنائیں جبکہ آخری خطاب کے بعد ہم جماعت فضلا علیحدہ حلقوں میں بیٹھ کر ملاقاتوں میں مصروف ہوگئے۔

اجتماع کے منتظمین نے اطلاع دی دوہزار کے قریب فضلا نے اس اجتماع میں شرکت کی ہے جبکہ سینکڑوں فضلا اور دیگر علمائے کرام نے انٹرنیٹ کے ذریعے براہ راست اجتماع کے مختلف آئٹمز سے مستفید ہوتے رہے۔

دارالعلوم زاہدان ایرانی اہل سنت کا سب سے بڑا دینی تعلیمی ادارہ ہے جو گزشتہ اٹھائیس سالوں سے ہزاروں فرزندان توحید کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے عالم دین کی حیثیت سے معاشرے کا حصہ بناچکاہے۔

اس عظیم دینی ادارہ کی بنیاد 1974ء میں رکھی گئی۔ جامعہ کے اکثر فضلا کا تعلق ایران کے مشرقی صوبوں سے ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں، افغانستان اور تاجکستان میں بھی دارالعلوم زاہدان کے فضلا کی بڑی تعداد موجود ہے۔ افغانستان کے موجودہ وزیر برائے حج و مذہبی امور دارالعلوم زاہدان ہی کے فاضل ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں