عقیدہ حیاتُ الانبیاء علیہم السلام اور ادلہ اربعہ

عقیدہ حیاتُ الانبیاء علیہم السلام اور ادلہ اربعہ

عقیدہ حیات الانبیاء علیہم السلام شریعت مطہرہ کے چاروں دلائل یعنی کتاب، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اجماعِ امت اور قیاس شرعی سے ثابت ہے۔
جہاں تک تعلق ہے کتاب اللہ کا تو قرآن مجید کی پچاس سے زائد آیاتِ بینات سے یہ عقیدہ ثابت ہے کہ موت کے بعد ہر انسان کو عالم قبر و برزخ میں ایک خاص قسم کی حیات حاصل ہوتی ہے، جس سے مردہ انسان منکر نکیر کے سوال و جواب کو سمجھتا ہے اور پھر اس پر جزاء و سزا کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ مردہ انسان کا سوال و جواب کو سمجھنا اور ثواب و عقاب کو محسوس کرنا اس کی حیاتِ قبر کی دلیل ہے تو جب ہر مردہ کو عالم قبر و برزخ میں حیات حاصل ہے تو یہ حیات‘ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام کو بطریق اولیٰ حاصل ہے، بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی یہ حیات عام موتیٰ سے اعلیٰ، ارفع اور برتر ہے، اس حیات کو ہم امتیازی اور خصوصی بھی کہہ سکتے ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ وہ آیات کہاں ہیں؟ تو گزارش ہے کہ بندہ عاجز نے پچاس کے قریب آیات اپنی تالیف ’’قبر کی زندگی‘‘ میں لکھ دی ہیں، مطالعہ کے شائقین اس کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہ کتاب عام اور متداول ہے۔ امید ہے کہ انہی آیات کے مطالعہ سے شرح صدر ہوجائے گا۔ اور جہاں تک تعلق ہے سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو عقیدہ حیات الانبیاء احادیث متواترہ سے ثابت ہے، جن کا درجہ (باعتبار ثبوت کے) قرآن کے برابر ہے۔
کچھ تو وہ حدیثیں ہیں، جن میں حیات الانبیاء کی تصریح ہے، مثلاً: ’’الانبیاء أحیاء فی قبورھم یصلون‘‘ و غیرہ اور دوسری وہ حدیثیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ عام قبر و برزخ میں مردہ انسان سے سوال و جواب ہوتا ہے اور پھر جزاء و سزا ہوتی ہے تو یہ سب سینکڑوں حدیثیں حیات قبر پر دلالت کرتی ہیں اور قبر کی یہ حدیثیں متواتر ہیں۔ بندہ عاجز نے سو سے زائد یہ حدیثیں ’’قبر کی زندگی‘‘ میں لکھ دی ہیں۔ اگر اہل علم تتبع کریں تو مزید حدیثیں بھی مل سکتی ہیں، نیز ’’نظم المتناثر من الحدیث المتواتر‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’ان من جملۃ ما تواتر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حیاۃ الانبیاء فی قبورھم۔‘‘ یعنی ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے جو حدیثیں تواتر کے ساتھ ثابت ہیں، ان میں سے ’’حیاۃ الانبیاء فی قبورھم‘‘ کی حدیثیں بھی ہیں۔‘‘
(بحوالہ مجموعہ رسائل حیات الانبیاء للبیہقی، للسبکی، للسیوطی، ص:۸)
اور امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’نباء الاذکیا، فی حیاۃ الانبیاء‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فأقول: حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قبرہ ھو و سائر الانبیاء معلومۃ عندنا علما قطعیا، لما قام عندنا من الادلۃ فی ذلک و تواترت بہ الأخبار الدالۃ علی ذلک، و قد ألف الامام البیھقی رحمہ اللہ جزا فی حیاۃ الأنبیاء علیھم السلام فی قبورھم۔‘‘
(بحوالہ مجموعہ رسائل کتاب حیاۃ الانبیاء، ص: ۴۵)
’’پس میں کہتا ہوں: حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں اور اسی طرح تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہمارے نزدیک علم قطعی کے ساتھ معلوم ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک اس پر دلائل قائل ہیں اور حیات الانبیاء پر دلالت کرنے والی روایات درجۂ تواتر کو پہنچتی ہیں اور تحقیق امام بیہقی رحمہ اللہ نے حیات الانبیاء کے عقیدہ میں ایک رسالہ بھی تالیف کیا ہے، جس میں انہوں نے حیات قبر کو ثابت کیا ہے۔‘‘
اور یہی بات امام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے فتویٰ ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں بھی ذکر کی ہے۔
(الحاوی للفتاوی، ج: ۷، ص: ۱۴۷)
اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’نزد احمد و نسائی ہر آئینہ خدای را فرشتگانند میرکنندگان در زمین می رسانند مرا از اُمت من سلام را و بتواتر رسیدہ این معنی۔‘‘
(فتویٰ عزیزیہ ج: ۲، ص: ۲۷)
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مقدس میں فرشتوں کا درود و سلام پہنچانا درجۂ تواتر رکھتا ہے۔‘‘
نیز شریعت کی اصطلاح میں عقیدہ عذاب قبر مشہور ہے، لیکن قبروں میں صرف عذاب نہیں ہوتا، بلکہ راحت بھی ہوتی ہے، چونکہ اکثر مردوں کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے تو تغلیباً اس کو عذاب قبر ہی کہا جاتا ہے، تو قبر کی یہ جزا و سزا حیات کو مستلزم ہے، کیونکہ اگر قبر میں جزاء و سزا، ہے اور عذاب و راحت ہے اور مردہ انسان کو اس کا ادراک اور شعور نہیں ہے تو عذاب اور راحت کا کیا فائدہ ؟ چنانچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’و عذاب و تنعیم بغیر ادراک و شعور نمی تواند شد۔‘‘
’’عذاب اور تنعیم قبر بغیر ادراک اور شعور کے نہیں ہوسکتے۔‘‘
(فتاویٰ عزیزی، ج:۱، ص: ۸۸)
جمہور علماء اسلام نے عذاب قبر کی حدیثوں کو متواتر کہا ہے، تو جب ہر میت کی حیات پر دلالت کرنے والی حدیثیں متواتر ہیں تو حضرت انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات قبر کی حدیثیں بطریق اولیٰ تواتر سے ثابت ہیں۔
اور جہاں تک تعلق ہے اجماعِ امت کا تو بہت سے علماء نے اپنی کتابوں میں تصریح فرمائی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات قبر پر اجماع امت ہے اور بکثرت حوالہ جات میں سے چند ایک حوالے آپ کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں، چنانچہ علامہ داؤد بن سلیمان البغدادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’الحاصل أن حیاۃ الأنبیاء ثابتۃ بالاجماع۔‘‘ (المحنۃ الوہبیۃ، ص: ۶، طبع استنبول، بحوالہ تسکین الصدور)
’’حاصل یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات باجماع ثابت ہے۔‘‘
اور شیخ عبدالحق دہلوی رحمہ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’ حیات متفق علیہ است، ہیچ کس را در وے خلافے نیست۔‘‘ (اشعۃ اللمعات، ج: ۱، ص: ۶۱۳)
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات قبر متفق علیہ ہے، کسی کا اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔‘‘
نواب قطب الدین خان صاحب رحمہ اللہ شارح مشکوۃ لکھتے ہیں:
’’انبیاء علیہم السلام کو اسی وجہ سے مستثنی کیا کہ ان کے سماع میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘
(فتاویٰ رشیدیہ، ملحق تالیفات رشیدیہ، ص: ۲۳۴۔۶۹)
اور جہاں تک تعلق ہے قیاس صحیح کا تو یہ عقیدہ اس سے بھی ثابت ہے، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روح اور جسد اطہر کا مجموعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہوا اور چالیس سال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو بحیثیت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) متعارف ہوئے، پس جب ثابت ہوگیا کہ روح اور جسد کا مجموعہ اللہ کا رسول ہے اور روح اور جسد دونوں نے مل کر دین اسلام کی خوب خدمت کی، تبلیغ فرمائی، تبلیغی سفر کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں شریک ہوئے، مکہ سے مدینہ منورہ تک ہجرت فرمائی، تین دن تک غار ثور میں رہے، جنگ بدر، جنگ احد میں شرکت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں و غیرہ کی سیر فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ، حج، عمرہ و غیرہ عبادات ادا فرمائیں تو مناسب امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر روح کے ساتھ شریک تھا، دین کا ہر کام روح اور جسد دونوں نے مل کر ادا کیا اور وفات کے بعد جب جزاء اور انعام کا وقت آیا تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عالم قبر و برزخ کی جزاء اور انعامات روح اور جسد کے مجموعہ کو دی جائیں۔
انصاف خداوندی کا یہی تقاضا ہے کہ موت کے بعد حیات ملی ہے تو ان دونوں کو، اور جنت کا مقام ملا ہے تو ان دونوں کو، جنت کا رزق ملا ہے تو ان دونوں کو، الغرض جنت میں جتنی نعمتیں اللہ تعالی روح کو عطا فرماتے ہیں، ان سب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر شریک اور حاضر ہے۔ عالم قبر و برزخ کی سب نعمتیں روح کے ساتھ مختص کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد کو حیات اور جنت کی نعمتوں سے محروم کردینا انصاف خداوندی سے کوسوں دور ہے، جس کا اللہ تبارک و تعالی سے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا قیاس صحیح سے بھی عقیدہ حیات الانبیاء ثابت ہوگیا۔
البتہ علماء فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اقدس اپنے مقام پر ہے، اور اسی طرح جسد اطہر اپنے مقام میں ہے اور ان دونوں کے مابین ایک ایسا تعلق اورجوڑ ہے جس کی حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں۔ پس عالم قبر و برزخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اقدس پر جو انعامات اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر برابر محظوظ ہوتا ہے، جیسا کہ خواب دیکھنے والا شخص خواب میں مختلف مقامات کو دیکھتا ہے اور مختلف حالات سے گزرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ خواب میں آدمی کی روح نکل جاتی ہے، لیکن خواب میں روح جسد کو اپنے ہمراہ محسوس کرتی ہے اور دُکھ اور سُکھ کے حالات جو روح پر طاری ہوتے ہیں، جسد بھی ان سے برابر متأثر ہوتا ہے۔
الحمدللہ! کہ عقیدہ حیات الانبیاء (علیہم الصلوۃ والسلام) ادلہ اربعہ سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیا، لیکن چند وضاحتیں آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں، تا کہ کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے:

وضاحت نمبر۱:
جن دلائل سے عقیدہ حیات الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ثابت ہے، انہی دلائل سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ عالم قبر و برزخ میں روح کے ساتھ دنیا والا جسد اطہر بھی تعلق کی وجہ سے ہر نعمت اور راحت میں شریک ہوتا ہے، اس کے لیے کسی دوسرے دلائل کی ضرورت قطعاً نہیں ہے۔

وضاحت نمبر ۲:
ہمارے جن اکابر نے یہ لکھا ہے کہ: ’’ موت کے بعد انسان کو جسد مثالی دیا جاتا ہے‘‘ تو جسدِ مثالی کی تجویز کرنے والے یہ سب حضرات جسد مثالی کی تجویز کے باوجود جسد عنصری حقیقی اور اصل سے بھی روح کا تعلق مانتے ہیں۔ دنیا میں کوئی ایک ایسا عالم دین نہیں گزرا جس نے جسد عنصری کا انکار کرکے جسد مثالی کی تجویز کی ہو۔ جسد حقیقی کے تعلق کا کوئی منکر نہیں ہے اور ہمارا اختلاف صرف ان لوگوں سے ہے جو جسد حقیقی اصلی سے تعلق کا انکار کرتے ہیں۔ اگر کوئی عالم جسد حقیقی اصلی سے تعلق مان کر ایک نہیں‘ ہزار جسد مثالی تجویز کرے، ہمارا اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔
پس میں اپنے تمام طالب علم بھائیوں اور علماء کرام کو ہوشیار کرتا ہوں کہ ’’بعض لوگ‘‘ سادہ لوح عوام کو قائلینِ جسد مثالی کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں، لہذا ان کے دھوکہ سے بچئے اور ایمان کی حفاظت کیجیے، کیونکہ مذکورہ طریق پر جسدِ مثالی کے قائلین بھی ہمارے اکابر ہیں، بدعقیدہ لوگوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، صرف ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ بندہ عاجز کا ایک مضمون جو کہ مجموعہ سوالات میں چھپا ہوا ہے، جس کا عنوان ’’قائلین جسد مثالی سے اسّی سوال‘‘ ہے، مطالعہ کے لائق ہے۔

وضاحت نمبر ۳:
حیات قبر اور حیات برزخ کوئی دو متضاد چیزیں نہیں ہیں، کیونکہ قبر‘ مردہ انسان کے لیے ظرف مکان اور برزخ اس کے لیے ظرف زمان ہے۔ زمان اور مکان میں کوئی تضاد نہیں ہے، اطلاق کے اعتبار سے دونوں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔
وضاحت نمبر ۴:
قرآن مجید میں جو قانون الہی لکھا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان ایک دفعہ موت پاکر عالم قبر و برزخ میں چلا جاتا ہے، وہ دوبارہ عالم دنیا میں واپس نہیں آتا اور یہی مطلب ہے: ’’فیُمسِکُ الَّتی قضی عَلیھا الموت‘‘ کا، یعنی مسئلہ ’’عود انسان الی الدنیا‘‘ کا ہے، یہی قانون الہی ہے اور یہی قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے کہ ایک دفعہ جو آدمی مرجاتا ہے تو وہ دوبارہ دنیا میں واپس نہیں آتا، الا بخرق العادات۔ تو اس قسم کی آیات کو ’’اعادۂ روح الی البدن فی القبر‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میں روح عالم قبر و برزخ میں رہتے ہوئے جسم کی طرف واپس آتی ہے اور یہ عقیدہ تو قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں