عظیم محدث شیخ محمد یونس جونپوری کا سانحہ ارتحال

عظیم محدث شیخ محمد یونس جونپوری کا سانحہ ارتحال

جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث ،عظیم محدث اور احادیث کے حافظ مولانا محمد یونس جونپوری نے آج یہاں 83؍ برس کی عمر میں آخری سانس لی ،ان انتقال کی خبر ملک اور بیرون ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی۔
نما ز جنازہ بعد نماز عصر ادا کی گئی۔نماز جنازہ شیخ زکریا کے صاحبزادے مولانا طلحہ صاحب نے پڑھائی۔ بعد ازیںتدفین ہزاروں سوگواروں کے درمیان قبرستان حاجی شاہ کمال میں ہوئی۔ آج صبح بعد نماز فجر شیخ الحدیث مولانا شیخ یونس کی طبیعت بہت نازک ہوگئی تھی،ارباب مدرسہ نے سہارنپور کے مشہور اسپتال میڈی گرام میں داخل کرایا ،جہاں شیخ صاحب نے صبح ساڑھے نو بجے آخری سانس لی۔ شیخ مرحوم کے انتقال کی خبر ملتے ہی حضرت کے آخری دیدار کے لئے ہزاروں افراد کچھ ہی دیر بعد دارجدید پہنچ گئے،آخری دیدار کرنے والوں کی تھوڑی ہی دیر میں تقریباً 2؍کلو میٹر لمبی قطار لگ گئی۔ ملک و بیرون ملک سے نامور علماء اور اکابرین کے تعزیتی پیغامات موصول ہونا شروع ہوگئے۔ جامعہ مظاہر علوم کے امین مولانا سید شاہد الحسنی نے گجرات سے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ مرحوم کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیااور کہاکہ مرحوم کے دل کی ہر دھڑکن مظاہر علوم کی تھی، ان کا ہر سانس ادارہ کا تحفظ اور تشخص تھا،عشق رسول میں مدینہ منورہ جانے کو بے قرار رہتے تھے اور دربار الٰہی میں حاضری کے لئے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔تقریباً نصف صدی تک حدیث نبوی کی خدمت کرنے والے شیخ مرحوم حافظ حدیث تھے،ان کے ہزاروں تلامذہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور علم دین کی خدمت کررہے ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا شیخ محمد زکریامہاجر مدنی ؒ کے صاحبزادے مولانا محمد طلحہ شیخ مرحوم کے انتقال کی خبر ملتے ہی دارجدید پہنچے ،جہاں انہوںنے حضرت کا آخری دیدار کیا۔ انہوںنے فرمایا حضرت شیخ مولانا محمد یونس جونپوری نے شوال 1377ھ میں مظاہر علوم میں داخلہ لیا ،1380ھ میں دورہ سے فراغت یہیں سے حاصل کی،1381ھ مظاہرعلوم میں معین مدرس مقرر ہوئے اور شوال1388ھ میں مظاہرعلوم میں شیخ الحدیث کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ آپ کی پیدائش 2؍ اکتوبر 1937ء کو کھیتا سرائے ضلع جونپور میں ہوئی تھی،پانچ سال دس ماہ میں والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا،ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی، عربی تعلیم کی ابتدا13؍ سال کی عمر میں مدرسہ ضیاء العلوم مانی کلاں ضلع جونپور میں ہوئی ،فارسی سے لے کر نورالانوار تک کی کتابیں وہیں پڑھیں۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ سے بیعت و خلافت سے سرفرازتھے، مناظر اسلام ناظم مدرسہ مظاہر علوم مولانا شاہ اسعداللہ کی جانب سے بھی اجازت بیعت حاصل تھی۔ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے قرب و جوار کے اضلاع کے علاوہ ملک کے مختلف گوشوں سے لوگوں کی کثیر تعداد سہارنپور پہنچی،پہلے دارجدید میں نماز جنازہ کی بات ہوئی تھی لیکن دوپہر تک پہنچنے والی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے حاجی کمال شاہ قبرستان میں ہی تدفین سے قبل نماز جنازہ ادا کی گئی۔محدث عظیم شیخ محمد یونس جونپوری کے انتقال پر دارالعلوم وقف دیوبند کے صدر مہتمم خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی، جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی، جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر قاری سید محمد عثمان منصور پوری،جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانامحمد سفیان قاسمی، دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی، دارالعلوم دیوبند کے رکی شوریٰ و رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل،آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا عبداللہ مغیثی ،جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے امین عام مولانا سید شاہد الحسنی جیسے ملک کے نامور علماء کرام نے گہرے رنج و غم کااظہارکرتے ہوئے مرحوم کے انتقال کو عظیم علمی خسارہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ شیخ یونس جیسی شخصیات صدیوں میں پیداہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی پرنسپل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ یہ اندوہناک خبر دارالعلوم ندوۃ العلماء اور اس کے اساتذہ وطلبا کے لیے سخت صدمہ کا باعث ہے اللہ شیخ کو غریق رحمت کرے۔ ندوۃ العلماء کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی حادثہ فاجعہ پر سخت رنج وغم کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں مسلم فنڈ دیوبند کے جنرل منیجر مولاناحسیب صدیقی،دارالعلوم زکریادیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی، نائب مہتمم مولانا ابوالکلام قاسمی ،جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی،ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی، جامعۃ الشیخ حسین احمد مدنی کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی،جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر مولانا متین الحق اسامہ قاسمی، عالمی روحانی تحریک کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی،نامور قلمکار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،صدائے حق گنگوہ کے ایڈیٹر مفتی ساجد کھجناوری نے بھی شیخ محمد یونس مرحوم کے انتقال پر اپنے رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم کے انتقال سے جو علمی خلا پیدا ہوا ہے اسے جلد پُر نہیں کیا جاسکتا،اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور امت کو ان کانعم البدل عطا فرمائے۔ وہیں ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم وقف دیوبند میںحضرت کی وفات کی اطلاع ملتے ہی تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر موجود تمام اساتذہ اور ذمہ داران ادارہ نے ایصالِ ثواب اور دعاء کا اہتمام کیا۔اس موقع پر دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے کہا کہ حضرت شیخ الحدیث کی رحلت خصوصاً علمی حلقوں کے لئے ایک بڑا سانحہ ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف علمی حلقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے وہیں دوسری طرف ہم اپنے مشفق و مربی اور کرم فرما سرپرست سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ حضرت شیخ کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست دفتر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں منعقد ہوئی ، جس میں ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں فرمایا کہ حضرت شیخ یونس علم حدیث میں درجہ کمال پر فائز تھے ، اللہ نے انہیں علم حدیث شریف پر بڑا ملکہ عطا فرما دیا تھا ، جس کی وجہ سے ان کو پورے ملک میں فن حدیث کے تعلق سے بڑی شہرت حاصل ہوئی۔قحط الرجال کے اس دور میں ایسے نابغۂ روزگار محدث کا اٹھ جانا یقینا ایک بڑا علمی سانحہ ہے۔نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے فرمایا کہ شیخ یونس صاحب نور اللہ مرقدہ اس وقت دنیا کے گنے چنے محدثین میں سے تھے ، شیخ مصطفی اعظمی کے بعد محدثین میں ان کا نام لیا جاتا تھا ، حضرت شیخ یونس صاحب متن اور سند حدیث دونوں پر عبور رکھتے تھے ۔ مفتی صاحب نے حضرت شیخ کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ۱۳۸۸؁ھ سے بخاری شریف کا درس دے رہے تھے، جس سے ان کی مقبولیت اور محبوبیت کا اندازہ ہو تا ہے ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدرمولانا مستقیم احسن اعظمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ ابھی دارالعلوم دیوبند کے شیخ ثانی حضرت مولانا عبد الحق اعظمی ؒ ،استاد حدیث مولانا ریاست علی بجنوری ؒ اور جامع مسجد مرادآباد کے شیخ الحدیث مولانا نسیم رحمہم اللہ کا غم تازہ ہی تھاکہ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث مولانا محمد یونس صاحب جونپوری کی رحلت ملت کے لئے عموماً اور مدارس عربیہ کے لئے خصوصاً حد درجہ باعث رنج و غم ہے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی نے حضرت شیخ ؒ کے سانحہ ارتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کی تمام یونٹوں کے ذمہ داران،معاونین اور ائمہ مساجد سے مولانامرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور بلندی درجات کی درخواست کی ہے۔ جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حا فظ محمد ندیم صدیقی اور مولانا ذاکر قاسمی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حضرت کی رحلت موت العالم موت العالم کے مترادف ہے حضرت شیخ کے وصال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے ، اس کا پر ہو نا مشکل ہے ۔جمعیۃ علماء پوئی کے صدر مولانا زبیر احمد قاسمی نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں