اسلامی تہوار

اسلامی تہوار

فلسفہ، اثرات، امتیازات
اللہ تعالی نے انسانی نفسیات کا خاص خیال رکھا ہے، انسان کی طبعی تفریح پسندی کے ناطے مخصوص حدود و قیود کے ساتھ اسے خوشی کے مواقع عنایت کیے گئے ہیں۔ ان حدود و قیود کی پاس داری ہر مسلمان پر لازمی اور ضروری ہے۔ اسلام میں ان خوشی کے مواقع کو ’’عید‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، اور ان کو آداب و شرائط کے ساتھ منانا باعثِ ثواب اور مستحسن ہے، لیکن آداب و شرائط کی پامالی سے یہی خوشی روزِ قیامت غم و اندوہ کا باعث بنے گی۔

اسلامی تہوار
تہذیبِ اسلامی میں دو تہوار ہیں: ایک عید الفطر اور دوسرا عیدالاضحی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’ان لکل قوم عیداً و ھذا عیدنا۔‘‘ (صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۳۹۳۱)
’’بے شک ہر قوم کی عید ہے اور یہ (عیدالفطر اور عیدالاضحی) ہماری عیدیں ہیں‘‘۔
اس حدیث مبارک میں جہاں مسلمانوں کے لیے ’’عید‘ ‘ کی تعیین کردی گئی ہے، وہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقوام کے تہواروں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ اگر یہ فرق ملحوظ نہ ہوتا تو الگ طور پر عیدین کے ایام مقرر کرنے کی بجائے سابقہ اقوام و ملل کی عیدوں میں سے کسی ایک دن کو مسلمانوں کے لیے بطورِ تہوار منتخب کرلیا جاتا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ سال کے دو دنوں میں کھیل کود کرتے اور خوشی مناتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں کے بارے میں دریافت فرمایاکہ: یہ کیا ہیں؟ اہل مدینہ نے عرض کیا کہ: ان ایام میں ہم زمانۂ جاہلیت سے کھیل کود کرتے چلے آرہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں اللہ تعالی نے ان دو دنوں کے بدلے میں ان سے اچھے دو دن عطا فرمائے ہیں، عید البقر کا دن اور عید الفطر کا دن۔ (ابو داؤد)
اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ اسلامی تہواروں کی تعداد اور ایام متعین ہوگئے۔ غرض اسلامی تہذیب کے نمائندہ تہوار یہی دو ہیں اور ان کے علاوہ کوئی بھی تہوار اسلامی تہذیب کا خاصہ نہیں اور نہ ہی شریعت کی جانب سے مقرر ہے۔

اسلامی تہواروں کا فلسفہ
اسلامی تعلیمات کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عید منانا اور خوشی کا اظہار در اصل اس لیے ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ بیش بہا نعمتوں کا استحضار کیا جائے اور ان پر شکر ادا کیا جائے۔
جب سورۂ مائدہ کی آیت ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ نازل ہوئی تو بعض یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یومِ نزول کو بطور عید مناتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ جس روز ہم پر یہ آیت نازل کی گئی، مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔ یہ آیت دس ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر ’’عرفہ‘‘ کے دن یعنی نویں ذوالحجہ کو بروزِ جمعہ عصر کے وقت نازل ہوئی، جبکہ میدانِ عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اتقیاء و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمع تھا۔ (تفسیر عثمانی)
حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ’’فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا جواب اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ دن ہمار ے لیے دوہری عید کا تھا، ایک عرفہ اور دوسرا جمعہ (یعنی جس طرح عرفہ اور جمعہ کے دن عبادت، قبولیتِ دعا اور منقبت کے ہیں، اسی طرح عید الفطر اور عیدالاضحی ہیں)۔‘‘ (معارف القرآن، ج:۳، ص: ۳۴)
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی عید کا فلسفہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر، مناجات و دعا، ایثار و قربانی اور باہمی اتحاد و یکجہتی ہے، نہ کہ محض خوشی و طرب جو روحانیت سے خالی ہو۔
مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’(فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے) اس جواب سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہود و نصاریٰ کی طرح ہماری عیدیں، تاریخی واقعات کے تابع نہیں کہ جس تاریخ کو کوئی اہم واقعہ پیش آگیا ہو، اس کو عید منانا شروع کردیا، جیسا کہ جاہلیتِ اُولیٰ کی رسم تھی۔‘‘ (معارف القرآن، ج: ۳، ص: ۳۴)
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں: ’’جن ایام کو اسلام نے تہوار کے لیے مقرر فرمایا، ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ وابستہ نہیں جو ماضی میں ایک مرتبہ پیش آکر ختم ہوچکا ہو، بلکہ اس کے بجائے ایسے خوشی کے واقعات کو تہوار کی بنیاد قرار دیا، جو ہر سال پیش آتے ہیں اور ان کی خوشی میں عید منائی جاتی ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے دونوں عیدیں ایسے موقع پر مقرر فرمائی ہیں، جب مسلمان کسی عبادت کی تکمیل سے فارغ ہوتے ہیں، چنانچہ عیدالفطر رمضان کے گزرنے کے بعد رکھی ہے کہ میرے بندے پورے مہینے عبادت کے اندر مشغول رہے، اس کی خوشی اور انعام میں یہ عیدالفطر مقرر فرمائی اور عیدالاضحی ایسے موقع پر مقرر فرمائی جب مسلمان ایک دوسری عظیم عبادت یعنی حج کی تکمیل کرتے ہیں، اس لیے کہ حج کا سب سے بڑا رکن وقوفِ عرفہ ۹؍ذوالحجہ کو ادا کیا جاتا ہے، اس تاریخ کو پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات میں جمع ہو کر اللہ تعالی کی عظیم عبادت کی تکمیل کرتے ہیں، اس عبادت کی تکمیل کے اگلے دن یعنی دس ذوالحجہ کو اللہ تعالی نے دوسری عید یعنی عیدالاضحی مقرر فرمائی۔‘‘ (اصلاحی خطبات، ج: ۱۲، ص: ۹۰)

اسلامی معاشرے پر تہواروں کے اثرات اور ان کے امتیازات
اسلامی معاشرے پر تہواروں کے بڑے دور رس اور دیر پا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور انہی اثرات کی وجہ سے وہ اقوام عالم کے تہواروں سے ممتاز ہیں، ان میں سے چند ایک کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔

روحانیت
اسلام نے تہواروں کو عیش و طرب کا نمونہ نہیں رکھا جو اخلاقی قدروں کو بہالے جائے اور انسان کے روحانی تقاضوں سے متصادم ہو، بلکہ ان میں عبادت کے ایسے پر جوش مظاہر رکھے ہیں، جو روحانیت وللہیت اور صدق و خلوص کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسلامی حدود و قیود کے ساتھ منائی جانے والی پاپی طبیعتوں میں تدین و خداپرستی کے جذبات پیدا کرتی ہیں اور انسان کے جذبۂ عمل صالح کو مہیمز بخشتی ہیں۔ جب تک اسلامی معاشرہ اور تہذیب اپنے طمطراق سے قائم تھی، اسلامی تہواروں اُن پر اپنا روحانی اثر ثبت کرتی رہیں اور مسلمانوں کی روحانی غذا کا سامان بنتی رہیں۔ باطنی صفائی کے ساتھ تہواروں میں ظاہری طہارت و نظافت کا درجہ بھی ’’عبادت‘‘ ہے۔ وضو، غسل، صاف ستھرا لباس، خوشبو، مسواک اور دیگر نظافتیں انسان کے ظاہر کو نکھارتی ہیں۔ اسلامی تہواروں میں طہارت و نظافت کے حصول کو باعث اجر و ثواب بتایا گیا ہے، جس کے حصول میں ایک طرف ظاہر کی آراستگی ہے اور دوسری طرف اس کے باطن پر پڑنے والے اثرات ہیں، کیونکہ ظاہر کی صفائی کا تزکیۂ باطن پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔

اتحاد و یگانگت
اسلامی تہواروں میں اجتماع و مجامع کے مظاہر وجوبی حیثیت رکھتے ہیں، دونوں تہواروں میں نماز عید کو ’’بڑے مجمع‘‘ کے ساتھ ادا کرنا واجب رکھا گیا ہے، ایک طرف یہ اجتماعی عبادت رحمتِ الہی کی توجہ کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اسلامی معاشرے کے تمام طبقات کو اکٹھا ہونے اور اتحاد و یگانگت کے مظاہرہ کا سنہری موقع بھی بہم پہنچاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں تہواروں سے پہلے جن عبادات کی تکمیل ہوتی ہے، ان میں بھی اجتماع کی شان نمایاں ہے۔ عیدالفطر سے قبل تراویح کی اضافی عبادت کو سنت مؤکدہ رکھا گیا ہے، اس کی ادائیگی اجتماعی ہیئت کے ساتھ ہوتی ہے اور چونکہ سال بھر میں صرف ایک مہینہ ہوتی ہے، اس لیے اجتماع کا جوش و خروش اور باہمی الفت و یگانگت ممتاز دکھائی دیتی ہے، جبکہ عیدالاضحی سے قبل حج کی تکمیل ہوتی ہے، جو دنیا میں رائج تمام تہذیبوں اور ملتوں میں کسی ملت کا سب سے بڑا، منظم اور عالمگیر اجتماع ہے، دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان بلاتفریق رنگ و نسل اور زبان و وطن ایک ہی معمول پر، ایک ہی مکان میں اور ایک ہی وقت پر اکٹھے ہوکر جہاں عظیم دینی عبادت کی تکمیل کرتے ہیں، وہاں نظم و ضبط، تربیت و نسق اور اتحاد و یگانگت کی وہ مثال پیش کرتے ہیں، جس کا مظاہرہ اسلامی تہذیب کے سوا کہیں نہیں ملتا۔ ان مجامع کے اتحاد کا اثر اسلامی معاشرے پر انتہائی دیرپا اور مؤثر انداز میں مرتب ہوتا ہے اور اسلامی معاشرہ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ بھائی چارے، یکجہتی اور محبت و مودّت کا شعور اُجا گر ہوتا ہے۔

ایثار و قربانی
اسلامی تہوار محض انفرادی خوشی منانے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے ان کے انجام دہی میں ایسی عبادتیں رکھ دی ہیں، جو ایثار و قربانی کا درس دیتی ہیں اور اسلامی معاشرہ میں اجتماعی خوشی منانے کے جذبہ کو مہیمز بخشتی ہیں، مثلاً عیدالفطر کی نماز سے پہلے پہلے اللہ تعالی نے ہر مسلمان چھوٹے بڑے پر صدقہ فطر واجب قرار دیا ہے، جو اسلامی معاشرہ کے ان غریب طبقات پر خرچ کیا جائے گا جن کے پاس ایسے مواقع پر خوشی کے اسباب اختیار کرنے کی وسعت و گنجائش یا تو ہوتی نہیں یا بہت محدود ہوتی ہے، تا کہ یہ طبقات احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور ان مقدس ایام میں اپنے اور اپنے بچوں کے واسطے کھانے پینے اور لباس کا مناسب بند و بست کرسکیں۔ اسی طرح عیدالاضحی میں صاحب استطاعت مسلمانوں پر جانور کی قربانی واجب قرار دی گئی، چونکہ یہ تہوار اللہ تعالی کی جانب سے مہمانی ہوتی ہے، تا کہ اس کے بندے اس خوشی میں اعلی ترین غذا ’’گوشت‘‘ کا لطف اٹھائیں، اس لیے اللہ تعالی نے معاشرے کے صاحب ثروت طبقات کو جانور کی ’’قربانی‘‘ پیش کرنے کا حکم دیا۔ یہ قربانی جہاں عمل ابراہیمی کی یادگار، حب مال کے رذیلہ کا حکیمانہ علاج، دین کے لیے مال و جان کی قربانی پیش کرنے کے جذبے کا حصول اور اللہ تعالی کے دربار سے بے پایاں اجر و ثواب کمانے کا ذریعہ ہے ، وہاں معاشرے کے غریب طبقات کو اپنے ساتھ اس خوشی اور پر لطف غذا میں شریک کرنا ہے۔ اسلامی تہوار کا یہ پہلو مسلمانوں کے دلوں میں ’’ایثار و قربانی‘‘ کا لازوال جذبہ پیدا کرتا ہے اور انہیں یہ شعور بخشتا ہے کہ دولت و ثروت چند ہاتھوں میں سمیٹ کر رکھنے کی شے نہیں، بلکہ اسلام کا مزاج معاشرے کے تمام طبقات میں اس کی مناسب ’’گردش‘‘ پر مبنی ہے، تا کہ کوئی طبقہ اس قدر ذلت و کہتری کا شکار نہ ہو کہ مایوسی کے پاتال میں پڑا رہے اور اُسے زندگی کی جائز خوشیاں بھی نصیب نہ ہوں۔

ذوق عبادت کی فراوانی
اسلامی تہوار عبادت ہی کی تکمیل کا انعام ہیں اور خود ان تہواروں میں بھی جانی و مالی عبادات کے مختلف مظاہر رکھے گئے ہیں، جو لوگ عام حالات کے اندر ذوقِ عبادت میں کوتاہ سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی ایسے اجتماعی مواقع پر ’’عبادت‘‘ میں جوش و خروش دکھاتے ہیں اور اس کا کافی اہتمام کرتے ہیں۔ان مواقع میں عبادات کا جوش و اہتمام معاشرے میں دعا و عبادت کا ذوق پیدا کرتا ہے۔ یہ اسلامی تہواروں کا ہی امتیاز ہے کہ خوشی و تفریح کے یہ مواقع دینی بیداری اور مذہبی میلان کا باعث بنتے ہیں اور معاشرے میں مذہبی و دینی رجحانات کو جلا بخشتے ہیں، ورنہ اقوام عالم کے تہواروں نے تو ان کی مذہبی تعلیمات کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

سادگی و زہد و قناعت
اسلامی تہواروں میں دیگر مذاہب کے تہواروں کی طرح عیش و طرب اور لہو و لعب کی ممانعت ہے، خوشی کی آڑ میں اسراف و تبذیر اور تضییع و تعیش کی ہرگز اجازت نہیں، کیونکہ ان چیزوں کا التزام و رواج مالاً خوشی کو وبال میں بدل دیتا ہے اور معاشرے کے لاچار اور غریب طبقات میں احساس کمتری و کہتری کا باعث بنتا ہے۔ اسلام نے خوشی کے ان مواقع میں سادگی وزہد و قناعت کا بنیادی اُصول برقرار رکھا ہے، نئے لباس یا عمدہ و مہنگے کھانوں کا کوئی التزام نہیں، بس صاف ستھرا لباس پہننا مسنون ہے، اگرچہ پرانا ہو۔ اسلام کی تعلیم ہے کہ کھانے پینے میں بھی اپنی وسعت و گنجائش کو مدِ نظر رکھا جائے اور ان مادی اشیاء سے نفس کو طراوت بخشنے کی بجائے اللہ تعالی کی نعمتوں کے استحضار اور ذکر عبادت سے جی خوش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اللہ تعالی کی نعمتوں کا استعمال اور اظہار کوئی امرِ ممنوع نہیں، مقصود یہ ہے کہ سادگی و قناعت کا جوہر ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے، ضروری راحت و آرام اور تسکین و تفریح کے سامان سے شرعی حدود میں رہ کر مستفید ہوا جائے اور اغیار کی طرح آرام و آسائش اور تفریح و تسکین کے لیے اسراف و تبذیر کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ تہواروں میں سادگی اور قناعت کے یہ مظاہر اسلامی معاشرے میں نجی اور انفرادی خوشی کے مواقع پر گہرا اثر مرتب کرتے ہیں اور یہ شعور اُجاگر کرتے ہیں کہ خوشی منانے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کی نعمتوں کو بے دریغ لٹایا اور ضائع کیا جائے، بلکہ ان کا شکر ہی خوشی کی اصل روح ہے۔

غیر و حمیت کی بڑھوتری
اسلامی تہواروں میں ایسے نشاطات کا اہتمام جو اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہوں، مباح ہے، مثلاً غیرت و حمیت کا جذبہ موجزن کرنے کے لیے نظمیں اور ترانے پڑھنا، یا جہادی مظاہروں اور کھلیوں کا انعقاد کرنا۔ اس سے معاشرے میں جذبۂ حریت، قومی و ملی غیرت اور اسلامی حمیت روز افزون ہوتی ہے اور تفریح کا مناسب سامان بھی مہیا ہوتا ہے۔ ان مثبت تفریحی سرگرمیوں کا اسلامی معاشرے پر گہرا اثر مرتب ہوتا ہے اور من حیث القوم ایک نشیط، بیدار مغز اور پر حمیت نسل پروان چڑھتی ہے۔
اسلامی تہواروں کے ان اثرات و مقاصد کے پیش نظر اب قابل غور امیر یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں رواج پانے والے اغیار کے رسوم و تہوار اور ان میں نسل نو کی دلچسپی سے کیا معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟ ہرگز نہیں! بلکہ مسلمانوں کے اپنے تہوار بھی ان اثرات و مقاصد کو کھودیں گے، جیسا کہ مشاہد ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں