رمضان المبارک کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں

رمضان المبارک کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے رمضان المبارک میں اس مہینے کی مخصوص عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر زور دیتے ہوئے رمضان کو اصلاح نفس کے لیے سنہری موقع قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے دو جون دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں قرآنی آیت: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: رمضان المبارک اور تمام احکام الہی انسان ہی کی اصلاح و فلاح کے لیے ہیں۔ اللہ تعالی کے یہ جامع اور آسان احکام انسانی طاقت کے مطابق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالی چاہتے ہیں ان احکام کی بدولت انسان کو ظاہری و باطنی پلیدیوں اور آلودگیوں سے پاک و صاف رکھیں۔ ان میں روزہ کوئی مثال نہیں رکھتا اور اس کے مثبت ثمرات افراد، خاندانوں اور معاشروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ روزہ روح و جسم کی تربیت میں انتہائی موثر ہے۔
اس مبارک مہینے میں زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: رمضان قرآن پاک کے نزول کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں غریبوں اور یتیموں سے ہمدردی کرنی چاہیے۔ زکات کے علاوہ، نفلی صدقات کا اہتمام کریں۔ یہ اصلاح نفس کا بہترین اور سنہری موقع ہے۔
انہوں نے کہا: روزے کی تکمیل اور مثبت اثرات اس وقت حاصل ہوسکتے ہیں جب گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ عبادت کرنے اور گناہوں سے دوری اختیار کرنے سے اللہ تعالی کی محبت دلوں میں آتی ہے۔ جس دل میں شرک، کفر، بخل اور ریا جیسے گناہ ہوں، وہاں اللہ کی محبت نہیں آتی ہے۔

نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت ہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے نماز تراویح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: رمضان المبارک کے انتہائی خوبصورت اور موثر اعمال میں ایک تراویح اور قیام اللیل (تہجد) ہے۔ تراویح سنت ہے اور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ حدیث شریف ’من قام رمضان ایمانا و احتسابا‘ سے مقصود تراویح ہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: کچھ لوگ سمجھتے ہیں نماز تراویح خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایجاد کردہ ہے، حالانکہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور آپ کا معمول بھی۔ شریعت آپﷺ سے ثابت ہوتی ہے صحابہ کرام سے نہیں۔ تراویح اور تہجد روزے کے تکملہ ہیں جن سے اس مبارک عمل کے ثمرات پوری طرح حاصل ہوتے ہیں۔
صدر شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے کہا: سننے میں آتاہے کہ بعض اضلاع میں کچھ لوگ کہتے ہیں نماز تراویح ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں، حالاں کہ تراویح اہل سنت کے عقائد میں شامل ہے اور نبی کریم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے قانون اور آئین کی رو سے اہل سنت اپنے اعتقادی مسائل میں آزاد ہیں۔ لہذا نماز تراویح سے منع کرنا آزادی کے خلاف اور دوسروں کے مذہبی امور میں مداخلت ہے جو اختلاف و تفرق کا باعث بنتاہے۔

بجلی کی قلت کو سخت گرمیوں میں دور کیا جائے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں بلوچستان کے بعض علاقوں میں رمضان اور گرمی کے باوجود بجلی کی شدید قلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا: لوگ رمضان میں سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور بجلی کے باربار لوڈشیڈنگ اور کم ولٹیج سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
انہوں نے مزید کہا: متعلقہ ذمہ داران جلد از جلد اس مسئلے کا مناسب حل نکالیں اور عوام کے صبر و برداشت کو نہ آزمائیں۔ ہمارے لوگ برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ علما و عمائدین اور حکام سب عوام کے ساتھ ہوں اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ ان کا مطالبہ چاہے زبان پر ہو یا وہ اپنی بات زبان پر بھی نہ لائیں، ہر حال میں انہیں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مطالبہ کیا بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی لائی جائے تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ ہو۔

اپنے خطاب کے آخر میں صدر دارالعلوم زاہدان نے مولانا رعایت اللہ روانبد کے سانحہ انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ ، ساتھیوں اور تلامذہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
جامعة الحرمین الشریفین چابہار کے سینئر استاذ مولانا رعایت اللہ رحمہ اللہ جمعہ کی صبح اس فانی سے کوچ کرگئے۔ آپ کینسر کی بیماری میں مبتلا تھے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں