مقام نبوت

مقام نبوت

’’نبوت‘‘ کی اصل حقیقت تو اسی رب العزت قدوس و سبوح جل ذکرہ کو معلوم ہے جس نے نظام عالم کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے اس ربانی عطیہ کی سنت عالم میں جاری کردی تھی، یا پھر اس کو جو اس عطیہ الہی سے سرفراز کیا گیا ہو، کسی اور پر اس کی پوری حقیقت کا روشن ہونا حقیقت سے بعید ہے، اس لیے کہ انسان کے پاس حقائق اشیاء کے معلوم کرنے کے لیے عقل ہے اور ’’نبوت‘‘ ایک ایسی حقیقت ہے جو عقل سے وراء الوراء ہے۔
عقل و عقلیات کی سرحد جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے ’’نبوت کی سرحد شروع ہوتی ہے، لیکن محققین اسلام اور اکابر امت نے قرآن کریم کی روشنی میں اور امام الانبیاء حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کے آثار و احوال کے مشاہدہ و علم کے بعد جو تحقیقات پیش کی ہیں وہ یقیناًایک حد تک اس حقیقت کبریٰ کی جلوہ نمائی کے لیے کافی ہیں اور ان کی عقول سلیمہ نے اس حقیقت کی تفہیم میں جو عقلی پیرائے اختیار کیے ہیں اور نظائر و شواہد سے اس کو سمجھایا ہے وہ ہمارے ’’علم کلام‘‘ کا اہم ترین جز ء ہیں۔
امام ابوالحسن اشعری، ابن حزم ظاہری، قاضی ابوبکر باقلانی، ابواسحاق اسفرائینی، ابویعلی، ابو المعالی، امام الحرمین، عبدالکریم شہرستانی، امام غزالی، فخر الدین رازی، سیف الدین آمدی، ابن خلدون، عز الدین بن عبدالسلام، ابن تیمیہ رحمہم اللہ و غیرہ و غیرہ، محققین اسلام نے تیسری صدی ہجری کے وسط سے لے کر آٹھویں صدی کے وسط تک اس موضوع پر گرانبہا علمی جواہرات کا ایک نادرترین ذخیرہ چھوڑا ہے۔ (۱)
محققین ہند اور متاخرین علماء اسلام میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی دیوبندی رحمہ اللہ کے اسمائے گرامی اس سلسلہ کی صف اول میں درج ہونے چاہئیں، اور سچ تو یہ ہے کہ اس موضوع پر جو جواہر پارے شاہ دہلی رحمہ اللہ نے پیش کیے ہیں، اس کی ہمسری کرنے کے لیے قدماء میں سوائے حجۃ الاسلام غزالی رحمہ اللہ کوئی دوسری ہستی زیادہ نمایاں نظر نہیں آتی، یا تو یہ واقعہ ہے یا ہماری نظر کا قصور ہوگا۔ یہ دوسری بات ہے کہ ایک ہزار برس کی تحقیقات کا عطر اُن کے سامنے موجود تھا اور ان کی تحقیقات کی تیز شعاعوں میں منزل مقصود کی رہنمائی آسان ہوگئی۔ تا ہم حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے حقائق کی تفہیم و افہام کے لیے جس سرچشمہ کی ضرورت تھی شاہِ دہلی خود اس سے سرشار تھے۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی کتابوں میں یہ بحث ’’المنقذ من الضلال‘‘ و ’’معارج القدس‘‘ میں سب سے عمدہ شکل میں موجود ہے۔ امام رازی رحمہ اللہ کی ’’تفسیر کبیر‘‘ و ’’مطالب عالیہ‘‘ میں کافی سامان ہے۔ شاہ دہلی نے چند کتابوں میں اس کی پوری تحلیل اور کامل تجزیہ کیا ہے، بالخصوص اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی پہلی جلد کے مختلف ابواب میں نبوت کی حقیقت، منصبِ نبوت کی تشریح، نبوت کے خواص و لوازم، انبیاء و مصلحین کے فروق و غیرہ کو خوب واضح کیا ہے۔ (۲)
امیر یمانی رحمہ اللہ کی ’’ایثار الحق علی الخلق‘‘ میں اس موضوع میں کافی لمبی بحث موجود ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس موضوع پر ’’کتاب النبوات‘‘ تقریباً تین سو صفحات میں موجود ہے، لیکن حق یہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے باوجود علمی تبحر و تدقیق اور باوجود جلیل القدر محقق ہونے کے اس موضوع کا حق نہیں ادا کیا۔ غزالی رحمہ اللہ کے چند صفحے اور شاہ دہلی رحمہ اللہ کے چند ورق کو میں اس ساری کتاب پر ترجیح دیتا ہوں، چند ضمنی فوائد و نکات کے سوا اس میں کوئی اہم بات یا علمی تحقیق اس موضوع پر نہیں جس کے ان سے توقع تھی۔ مجھے اس وقت نبوت کی عقلی تشریح کرنی منظور نہیں، کیونکہ اس کی تشریح سے پہلے ’’روح‘‘ کی حقیقت سمجھانی ہوگی جو بجائے خود ایک مستقل دقیق و غامض علمی مضمون ہے، جس میں ارسطو نے ’’کتاب النفس‘‘ لکھی ہے اور اس کی تلخیص و تراجم و شروح ثامسطیوس، لامقیدوروس، استیلقوس، اسکندر افردوسی، ابن بطریق و غیرہ و غیرہ نے کی ہیں۔ (۳)
اسلامی دور میں ابوالعباس احمد سرخسی، صدقۃ بن منجا الدمشقی، مؤرخ مشہور مسعودی، امام غزالی، امام رازی، ابن القیم، برہان الدین بقاعی و غیرہ رحمہم اللہ متکلمین اسلام اور علماء امت نے ’’روح‘‘ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ’’معارج القدس‘‘ غزالی کی اور ’’کتاب الروح‘‘ ابن القیم کی اور ’’سر الروح‘‘ بقاعی کی اور ’’کتاب الفتوح لمعرفۃ أحوال الروح‘‘ بعض علماء عصر کی اور ’’الطاف القدس‘‘ شاہ ولی اللہ کی ہمارے سامنے مطبوعہ موجود ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ حقیقت نبوت کی تشریح کے لیے ’’حقیقتِ روح‘‘ بیان کرنا ضروری ہوگی۔ اس وقت ان غامض و دقیق علمی موضوعات کی طرف جانا نہیں اور نہ فیصلہ کرنا ہے۔ صرف اپنے سلف صالحین کے چند علمی کارناموں سے طلبہ کو واقف کرانا تھا، کوئی مشکل سے مشکل، دقیق سے دقیق علمی موضوع اور خصوصا جس کا تعلق دین اسلام سے ہو ایسا نہیں ہوگا جس پر کہ ہمارے اکابر نے اپنی بیش بہا تحقیقات کا ذخیرہ جمع نہ کیا ہو۔
اس وقت مقصود صرف اتنا ہے کہ یہ بتلایا جائے کہ ’’نبی‘‘ (پیغمبر) کسے کہتے ہیں؟ اور قرآن کریم میں ’’انبیاء‘‘ اور ’’نبوت‘‘ کے کیا کیا خواص بتلائے گئے ہیں؟ تا کہ آیات بینات کی روشنی میں ایک مسلمان صحیح عقیدہ کو سمجھ سکے، اور جب کسی کی نبوت ثابت ہوجائے مسلمان کے لیے ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوگا اور جب ایمان لایا گیا اس وقت ’’نبی‘‘ ایک امتی کے لیے ایک برگزیدہ مقدس واجب الاطاعت ہستی ہوگی۔ اس کے احکام، اس کی مرضیات، اس کے اوضاع و اطوار، اس کے اخلاق و عادات، غرض کل نظام حیات میں اس کی سنت افرادِ امت میں سے ہر فرد کے لیے دلیل راہ ہوگی۔ پھر وہاں کیوں؟ اور کیوں کر؟ کا سلسلہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ سوائے تسلیم و انقیاد و اطاعت و فرمانبرداری کے کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ اس کی اطاعت اللہ تعالی کی اطاعت ہوتی ہے۔ اس کی رضامندی خدائے تعالیٰ کی رضامندی ہوتی ہے، اس لیے کہ خود حق تعالی یوں ہی فرماچکے ہیں، جیسا کہ آئندہ ان شاء اللہ تعالی! واضح ہوجائے گا۔
ہاں! عبادت بہر حال اللہ تعالی کی ہوگی، رسول کی اطاعت سے اس کی عبادت لازم نہیں آتی، عبادت و بندگی اور چیز ہے، اطاعت و تسلیم اور چیز ہے، دونوں میں خلط نہ کرنا چاہیے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ رسول کی رہنمائی میں اللہ تعالی شانہ کی عبادت و بندگی کی جائے۔ اب وہ رہنمائی مختلف صورتوں میں ہوگی، کبھی اللہ تعالی کی طرف صاف طور پر نسبت کرکے ارشاد فرمایا جائے گا، کبھی اپنی طرف سے کچھ ارشاد فرمائیں گے، گو وہ بھی اللہ تعالی کی جانب سے ہوگا۔ لیکن لفظوں میں اللہ تعالی کی نسبت نہیں ہوگی، کبھی ان کے اتباع، ان کے طرز و طریقہ کو دیکھ کر رہنمائی حاصل کریں گے۔ غرض کہ رہنمائی حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہوں گے۔

نبی و رسول یا پیغمبر
لغت عرب میں ’’نبأ‘‘ اس خبر کو کہتے ہیں جس میں فائدہ ہو اور فائدہ بھی عظیم اور اس خبر سے سننے والے کو علم و اطمینان بھی حاصل ہو۔ (۴) غرض کہ تین چیزیں اس میں ضروری ہوں: ۱: خبر فائدے کی ہو، ۲: فائدہ بھی عظیم الشان ہو، ۳: سننے والے کو یقین کامل یا اطمینان قلب حاصل ہوجائے۔ قرآن کریم نے اسی لغت سے ’’نبی‘‘ کا لفظ ایک ایسے انسان کے لیے استعمال کیا جس نے اللہ تعالی کے بندوں کو اللہ تعالی کی جانب سے فائدے اور نفع کی ایسی عظیم الشان خبریں سنائیں جن سے ان کی عقول قاصر ہیں، صرف اپنی عقل نارسا سے وہاں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتیں وہی ہوں گی جو اللہ تعالی شانہ کی طرف سے ہوں گی اور پھر ان خبروں پر اطمینان یا علم جب حاصل ہوسکتا ہے کہ خبردینے والا اس پر اللہ تعالی کی طرف سے کوئی دلیل بھی پیش کرے یا صرف اس کی زندگی ہی اتنی پاکیزہ، اتنی اعلی و مقدس ہو کہ اس پر چھوٹ کا وہم و گمان بھی نہ ہوسکے، اس کی بات سنتے ہی لوگوں کو یقین آجائے۔ اب صرف ’’نبی‘‘ کا لفظ ہی لغت عرب کے مطابق ان سب حقائق پر روشنی ڈالتا ہے، جس کی تفصیل و تحقیق کے لیے صفحات بھی ناکافی ہیں۔ شیطانی وساوس یا طبعی جحود و عناد اگر قبول سے مانع آجائے یہ دوسری بات ہے۔

’’رسالت‘‘
لغت عرب میں ’رسالت‘ کے معنی ایک پیغام کے ہیں اور ’رسول‘ کہتے ہیں پیغام پہنچانے والے کو۔قرآن کریم نے اس لفظ کو اس پیغام پہنچانے والے کے لیے استعمال کیا جو اللہ تعالی شانہ کی جانب سے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں پیغامات اس کے بندوں تک پہنچائے۔
اب خلاصہ یہ ہوا کہ اسلام کی زبان میں ’’نبی و رسول‘‘ وہ سفیر ہے جس کا خود اللہ تعالی نے انتخاب فرمایا ہو۔ خدائے تعالی کے پیغامات اس کے بندوں تک پہنچاتا ہو، دین و دنیا کے مصالح و منافع کے لیے ایک ’’قانون حیات‘‘ ایک ’’نظام العمل‘‘ ایک ’’دستور اساسی‘‘ پیش کرتا ہو۔ ایسے احکام، ایسے حقائق، ایسے امور ان کے ارشاد کرتا ہو جن سے ان کی عقول قاصر ہوں۔ ایسی دقیق و غامض باتوں کی اطلاع دیتا ہو جہاں ان کا طائرِ عقل پرواز نہ کرسکتا ہو، ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہو، نہ کرنے پر اللہ تعالی کی ناراضگی و عذاب سے ڈراتا ہو۔ جو حکم دیتا ہو وہ خود کرتا ہو، خود اُن کے لیے مجسم پیکر عمل ہو، اس قانون حیات و نظام عمل کے لیے اس کا وجود آئینہ ہو۔ یہ ہیں اسلام کی زبان میں، شریعت کی لغت میں ’’رسول و نبی‘‘ کے معنی، اسی کو ہم اپنی زبان میں ’’پیغمبر‘‘ کہتے ہیں۔ ’’رسول ‘‘ و ’’نبی‘‘ میں کیا فرق ہے؟ یہ ایک محض علمی چیز ہے۔ ہمارے موضوع سے خارج ہے، لیکن اجمالاً اتنا واضح رہے کہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’کتاب النبوات‘‘ میں جو فرق بیان کیا وہ ہمیں سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ: ’’جو اللہ تعالی کی جانب سے صرف غیب کی خبروں سے قوم کو اطلاع دیتا ہو، ان کو نصیحت کرتا ہو، ان کی اصلاح کرتا ہو اور اللہ تعالی کی جانب سے اس کو ’’وحی‘‘ ہوتی ہو، وہ ’’نبی‘‘ کہلاتا ہے۔ اگر ان اوصاف کے ساتھ وہ کفار کی طرف اور نافرمان قوم کو تبلیغ پر مامور بھی کیا جائے تو وہ ’’رسول‘‘ بھی ہوگا۔ (۵)
اب ہم قرآن کریم کی روشنی میں ’’انبیاء و رسل‘‘ کے خواص و لوازم پیش کرتے ہیں، لیکن معلوم رہے کہ ’’انبیاء و رسل علیہم السلام‘‘ کے عام خصائص بحیثیت نبوت و رسالت سب مشترک ہیں، قرآن کریم نے جتنے کمالات اور اوصاف انبیاء و رسل کے بیان کردیئے ہیں وہ سب حضرت خاتم الانبیاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بوجہ کمال موجود ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء و رسل علیہم السلام سے افضل ہیں۔ آپﷺ سید الانبیاء ہیں، خاتم الانبیاء ہیں۔ یہ نصوص قطعیہ کا مفاد ہے اور امت مرحومہ کا ’’اجتماعی عقیدہ‘‘ ہے اور تاریخ عالم کی ’’حیثیت ثابتہ‘‘ ہے اور اسلامی دور کے حیرت انگیز کارنامے اس کے شاہدِ عدل ہیں۔ قرآن کریم نے بہت سے انبیاء و رسل علیہم السلام کے خصائص و کمالات بیان کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا اور فرمایا:
“أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ” (الانعام: ۹۰)
’’یہ حضرات ہیں جن کو اللہ تعالی نے ہدایت کی ہے، آپ بھی انہیں کے طریقہ پر چلئے۔‘‘
اس سے یہ صاف معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے جتنے عملی و علمی کمالات تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مالا مال تھے۔ اس لیے ہم جتنی آیات کریمہ مختلف انبیاء و رسل علیہم السلام کے خصائص و اوصاف میں پیش کریں گے۔ مقصود ان سے صرف نبوت کے کمالات و خصائص ہوں گے جو اصل نبوت کی وجہ سے قدرِ مشترک سب میں موجود ہیں۔

منصب نبوت و رسالت
نبوت ایک عطیۂ ربانی ہے جس کی حقیقت تک رسائی غیر نبی کو نہیں ہوسکتی، اس کی حقیقت کو یا تو حق تعالی جانتا ہے جو نبوت عطا کرنے والا ہے یا پھر وہ ہستی جو اس عطیہ سے سرفراز ہوئی۔ مخلوق بس اتنا جانتی ہے کہ اس اعلی و ارفع منصب کے لیے جس شخص کا انتخاب کیا گیا ہے وہ:
۱: معصوم ہے، یعنی نفس کی ناپسندیدہ خواہشات سے پاک صاف پیدا کیا گیا ہے اور شیطان کی دسترس سے بالاتر۔ عصمت کے یہی معنی ہیں کہ ان سے حق تعالی کی نافرمانی کا صدور ناممکن ہے۔
۲: آسمانی وحی سے ان کا رابطہ قائم رہتا ہے اور وحی الہی کے ذریعہ ان کے غیب کی خبریں پہنچتی ہیں۔ کبھی جبریل امین کے واسطہ سے اور کبھی بلاواسطہ، جس کے مختلف طریقے ہیں۔
۳: غیب کی وہ خبریں عظیم فائدہ والی ہوتی ہیں اور عقل کے دائرے سے بالاتر ہوتی ہیں، یعنی انبیاء علیہم السلام بذریعہ وحی جو خبریں دیتے ہیں ان کو انسان نہ عقل و فہم کے ذریعہ معلوم کرسکتا ہے نہ مادی آلات و حواس کے ذریعہ ان کا علم ہوسکتا ہے۔
ان تین صفات کی حامل ہستی کو مخلوق کی ہدایت کے لیے مبعوث و مامور کیا جاتا ہے، گویا حق تعالی اس منصب کے لیے ایسی شخصیت کا انتخاب فرماتا ہے جو افراد بشر میں اعلی ترین صفات کی حامل ہوتی ہے، اس انتخاب کو قرآن کریم کہیں ’’اجتباء‘‘ سے، کہیں ’’اصطفاء‘‘ سے اور کبھی لفظ ’’اختیار‘‘ سے تعبیر فرماتا ہے، یہ عام صفات و خصوصیات تو ہر نبی و رسول میں ہوتی ہیں، پھر حق تعالی ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرما کر وہ درجات عطا کرتا ہے جن کے تصور سے بھی بشر قاصر ہے، گویا نبوت، انسانیت کی وہ معراج کمال ہے جس سے کوئی بالاتر منصب اور کمال عالمِ مکان میں نہیں، ان صفات عالیہ سے متصف ہستی کو ہدایت و اصلاح کے لیے مبعوث کرکے انہیں تمام انسانیت کا مطاعِ مطلق ٹھہرایا جاتا ہے، ارشاد ہے: ’’ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ‘‘ (النساء: ۶۴) یعنی ’’ ہم نے ہر رسول کو اسی لیے بھیجا کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے۔‘‘ پس حکمِ خداوندی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، وہ مطاع اور واجب الاطاعت متبوع ہے، اور امت اس کی ہدایت کے تابع اور مطیع فرمان۔

نبی ہر نقص و کوتاہی سے بالاتر ہوتا ہے
جب نبوت و رسالت کے بارے میں یہ صحیح تصور قائم ہوگیا کہ وہ ایک عطیہ ربانی ہے، کسب و محنت اور مجاہدہ و ریاضت سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ حق تعالی اپنے علم محیط، قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے پاک اور معصوم و مقدس ہستی کو پیدا فرما کر اس کو وحی آسمانی سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کی ہدایت و ارشاد کے منصب پر اُسے کھڑا کرتا ہے تو اس سے عقلی طور پر خود بخود یہ بات واضح ہوگئی کہ نبی و رسول کی شخصیت ہر نقص سے، ہر کوتا ہی سے اور ہر انسانی کمزوری سے بالاتر ہوتی ہے، کیونکہ اگر خود اس کی شخصیت انسانی کمزوریوں میں ملوث ہو تو وہ ہدایت و اصلاح کی خدمت کیسے انجام دے سکے گا:
آنکہ خود گم است کرا رہبری کند
چنانچہ سنت اللہ یہی ہے کہ نبی کا حسب و نسب، اخلاق و کردار، صورت و سیرت، خلوت و جلوت اور ظاہر و باطن ایسا پاک اور مقدس و مطہر ہوتا ہے جس سے ہر شخص کا دل و دماغ مطمئن ہو اور کسی کو انگشت نمائی کا بال برابر بھی موقع نہ مل سکے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص شقاوت ازلی کی وجہ سے اس کی دعوت پر لبیک نہ کہے اور جحود و انکار میں مبتلا ہو کر ہدایت سے محروم رہ جائے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ بدتر سے بدتر دشمن بھی نبی میں کسی ’’انسانی کمزوری‘‘ کی نشاندہی کرسکے۔

حواشی:
(۱) بعض قدماء معتزلہ اور قدماء شیعہ کی بھی اس موضوع پر مستقل تصانیف ہیں، چونکہ جمہور امت محمدیہ کے مسلک کے وہ خلاف ہیں اور زیادہ تر ان کا طرز اس موضوع میں محض فلسفیانہ ہے، اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔
(۲) ملاحظہ ہو: ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے حسب ذیل ابواب، ذکر الملا الأعلی، ص: ۱۲، باب التکلیف، ص: ۱۵، انشقاق التکلیف من التقدیر، ص: ۱۶، اقتضاد التکلیف من المجازاۃ، ص؛ ۱۹، اختلاف الناس فی جبلتھم، ص: ۲۰، حقیقۃ السعادۃ، ص: ۳۹، اختلاف الناس فی السعادۃ، ص:۴۰، الحاجۃ الی ھداۃ السبل، ص: ۶۵، حقیقۃ النبوۃ، ص: ۶۶، کیفیۃ الاستنباط، ص: ۳۰۔۳۱، باب الارتفاق الاول، ص: ۳۰)
(۳) ملاحظہ ہو تفصیل کے لیے: کشف الظنون، ج: ۲، ص: ۲۴۸، ۳۰۴)
(۴) ملاحظہ ہو ’’مفردات راغب‘‘ ص: ۴۹۹۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’النبوات‘‘ میں اسی کو دوسرے عنوان سے بیان کیا اور کسی قدر اور لطیف کردیا۔ دیکھو ’’النبوات‘‘، ص: ۲۲۲۔
(۵) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’کتاب النبوات‘‘ ص: ۲۷۲ تا ۲۷۴۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں