ایران: سنی برادری صدارتی انتخابات میں کس کو ووٹ دے گی؟

ایران: سنی برادری صدارتی انتخابات میں کس کو ووٹ دے گی؟

سنی آن لائن: ایران کے طول و عرض میں پھیلے سنی شہریوں کی تعداد کم نہیں؛ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم پندرہ ملین ایرانی اہل سنت برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ قومی انتخابات کے موقع پر ان کے ووٹ سمیٹنے کے لیے امیدوار حضرات کی کوششیں شروع ہوتی ہیں۔ موجودہ صدر کی جیت اہل سنت کے ووٹوں سے ممکن ہوئی جن کی واضح اکثریت نے روحانی ہی کو ووٹ دیا۔

اطلاعات کے مطابق سنی برادری کے سات ملین افراد ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں جو اس حوالے سے اپنی سماجی و دینی قیادت کے مشوروں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔عام طورپر انتخابات کے موقع پر مختلف صوبوں کی سرکردہ سنی شخصیات جن میں علمائے کرام، جامعات کے اساتذہ اور ممتاز دانشور حضرات شامل ہیں اکٹھے ہوکر باہمی مشورت سے طے کرتی ہیں کس امیدوار کو اپنا ووٹ دیں۔

اہل سنت ایران کی کوئی باقاعدہ سیاسی پارٹی نہیں ہے اور قانونی طورپر وہ صدر نہیں بن سکتے ہیں۔

اب تک کے صدارتی انتخابات میں اہل سنت کی اکثریت نے اصلاح پسند اور معتدل سوچ رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دی ہے۔ سنی رہ نماوں کا کہنا ہے اسی وجہ سے قدامت پسند احمدی نژاد کے دور صدارت میں آٹھ سالوں تک انہیں سخت دباو اور مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جمعہ انیس مئی کو ایک بار پھر ایرانی قوم اپنے نئے صدر کے انتخاب کے لیے باہر نکلے گی۔ موجودہ صدر ڈاکٹر روحانی سمیت پانچ امیدوار اب تک میدان میں کھڑے ہیں۔ لیکن اہل سنت کی سرکردہ شخصیات نے ڈاکٹر روحانی کو ووٹ دینے کا وعدہ دیا ہے۔

صدر دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے تہران کے ایک اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ اور ڈاکٹر روحانی کی انتخابی مہم چلانے والوں کی موجودی میں کہاہے اہل سنت کی اکثریت صدر روحانی کو ووٹ دینا چاہتی ہے۔

اس بیان کے بعد، اہل سنت کی سٹریٹجک کونسل نے بھی باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے روحانی سے حمایت کا اعلان کیا۔ اس بیان میں صدر روحانی کی موجودہ حکومت پر بھی تنقید کی گئی ہے اور ’مزید اقدامات‘ کی امید ظاہر کی جاچکی ہے۔

اسلامی مجلس شورا (پارلیمنٹ) میں اہل سنت کی نمائندگی کرنے والے بیس ارکان نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے روحانی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

علاوہ از ایں، شمالی صوبہ گلستان کے ممتاز عالم دین مولانا محمدحسین گورگیج اور بلوچستان کی ممتاز علمی شخصیت مولانا محمدیوسف حسین پور سمیت متعدد علمائے کرام اور دانشوروں نے بھی مولانا عبدالحمید کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سنی عوام سے درخواست کی ہے صدارتی انتخابات میںاعتدال پسند ڈاکٹر روحانی کو ووٹ دیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں