آج : 18 April , 2017

’انتہاپسند عناصر کو چینل سے نکالیں‘

’انتہاپسند عناصر کو چینل سے نکالیں‘

اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے قم شہر سے چلنے والے ایک نجی ٹی وی چینل کی جانب سے توہین آمیز بیانات سامنے آنے کے بعد چینل کے ذمہ داروں کو تجویز دی ’انتہاپسندعناصر‘ کو اپنی صفوں سے نکالیں۔

’سنی آن لائن‘ ویب سائٹ نے مولانا عبدالحمید کے دفتر کی ویب سائٹ کے حوالے سے لکھاہے خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چودہ اپریل دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں کہا: حال ہی میں ’ولایت‘ نامی ٹی وی چینل میں میرے حوالے سے سخت توہین آمیز الفاظ استعمال ہوچکے ہیں اور اس چینل کے ایک ملازم نے جو پتہ نہیں کس حال میں تھے، سنگین الزامات لگاکر مجھ پر بہتان باندھا۔
ممتاز عالم دین نے اس گستاخی پر عوامی حلقوں اور بعض حکام کے مناسب موقف اختیار کرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: شیعہ و سنی حلقوں نے اس حوالے سے مناسب موقف اپنایا جس پر مجھے خوشی ہوئی۔ ولایت ٹی وی کے ڈائریکٹر نے بھی ٹیلی فون پر اور ایک پروگرام میں بندے سے معافی مانگی۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: یہ سب اس بات کی نشانی ہے کہ ہماری قوم بیدار ہے؛ اگر شیعہ یا سنی کے انتہاپسند فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کریں، عوام ان کے خلاف ہوں گے۔ اگرچہ مناسب یہی تھا کہ شیعہ و سنی عوام سے معافی مانگی جاتی، لیکن میں اتحاد بین المسالک کی خاطر اس معافی کو قبول کرتاہوں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: ولایت ٹی وی کے ذمہ داروں کو میری تجویز ہے کہ انتہاپسندوں کو اپنی صفوں سے نکالیں۔ نیز دیگر ٹی وی چینلز جو ملک کے اندر یا باہر کام کرتے ہیں اور میری بات سنتے ہیں، ان سب سے درخواست ہے خطے کے حساس حالات کا خیال رکھیں، برداشت کا مظاہرہ کریں اور توہین و الزام تراشی سے پرہیز کریں۔ ہمیں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے بطور خاص آیت اللہ مکارم شیرازی اور ’حوزہ علمیہ قم‘ سے تعلق رکھنے والے ٹی وی چینلز اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ سختگیر، انتہاپسند اور جذباتی لوگ جو غیرسنجیدہ باتیں زبان پر لاکر مسائل کھڑے کرتے ہیں، انہیں خود سے دور رکھیں۔ ان کی جگہ معتدل اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی ذہنیت رکھنے والوں کی خدمات لی جائے۔
اپنے بیان کے ایک حصے میں نامور سنی عالم دین نے عالم اسلام میں بڑھتے اختلافات و تنازعات پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: قابض اسرائیلی ریاست اور دیگر مطلب پرست اور جرائم پیشہ طاقتوں کی سازش یہی ہے کہ مسلمانوں کو باہمی لڑائیوں میں مصروف رکھیں اور تنازعات کی آگ پر تیل چھڑک کر اپنے ناجائز مفادات حاصل کریں۔ ان کا ایک مقصد مسلم ممالک میں اپنی غلط ثقافت پھیلانا ہے۔
خطیب اہل سنت نے یاددہانی کرتے ہوئے کہا: سامراجی طاقتیں پہلے مسلمانوں کو آپس میں دست و گریباں کرتے ہیں، پھر خود میدان میں کود کر ان سب کا قتل عام کرتے ہیں۔ لہذا مسلم اقوام کو چوکس و بیدار رہنا چاہیے اور اسلام دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے۔
انہوں نے ایران کے شیعہ و سنی مسلمانوں کی بیداری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: الحمدللہ ایران میں شیعہ و سنی برادریاں اس بات پر متفق ہیں کہ مذاہب و مسالک کی مقدس ہستیوں کا احترام پامال نہیں ہونا چاہیے اور انہیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے بات چیت اور باہمی گفت و شنید سے اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: آج اگر کوئی شیعہ یا سنی انتہاپسندی کی طرف جائے اور فرقہ واریت کے فروغ کی کوشش کرے، سب سے پہلے عوام ہی اس کے سامنے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جو لوگ اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں، برادری میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے اور یہ بیداری و ترقی کی نشانی ہے۔

مسلح افواج بے گناہ شہریوں کی جانوں کا محافظ بن جائیں
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ میں گذشتہ ہفتہ زاہدان کے ایک نواحی علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’کورین‘ کے علاقے میں ایک غلطی کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے جن میں ایک بسیج فورسز کا کمانڈر تھا۔ پہلے خبررساں اداروں نے خبر دی کہ ’تکفیری دہشت گردوں‘ نے بسیج کمانڈر کو مارا ہے۔ لیکن متعلقہ اداروں کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔ حکام نے تینوں مارے جانے والے افراد کو ’شہید‘ اعلان کرکے اہل خانہ کو تسلی دی۔
انہوں نے مزید کہا: اس حادثے سے ایک اور درس ہمارے مسلح اداروں اور فورسز کو ملا کہ عوام کی جان کا بہت خیال رکھیں ۔ ان کی غفلت کی وجہ سے کہیں کسی نہتے اور معصوم شہری کا خون نہ بہہ جائے۔ حتی کہ اگر کوئی سمگلر بھاگنے میں کامیاب ہوجائے بہتر ہے اس سے کہ کوئی معصوم شہری کی جان چلی جائے۔ اس راہ میں اگر خود سپاہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے بہتر ہے جو اس کی قربانی اور ایثار کا ثبوت ہے۔
یاد رہے اس واقعے میں دو عام شہری ڈاکووں کا تعاقب کررہے تھے کہ بسیج فورسز نے ان پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کیا۔

صوبائی عدلیہ کے سربراہوں کی محنتوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے آخر میں زاہدان اٹارنی جنرل کی محنتوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا: حجت الاسلام موحدی راد نے کہا ان کا تعلق کسی بھی خاص محکمے یا جماعت سے نہیں ہے۔ یہ بات مجھے پسند آئی، چونکہ ہم بھی مستقل و آزاد ہیں اور ہمارا تعلق بھی کسی خاص پارٹی یا گروہ سے نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے بعد جیلوں میں مثبت تبدیلیاں آچکی ہیں؛ بہت سارے قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ دوہزار سے زائد قیدی نئے سال کے موقع پر چھٹی حاصل کرچکے ہیں۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے عدلیہ کے صوبائی ڈائریکٹر کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی محنتوں کے نتیجے میں ڈرگ کیسز میں پھانسی کی سزا پانے والے بیالیس افراد کی سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا: ملک کے بعض جزائی قوانین بشمول ڈرگ ٹریفکنگ کے لیے پھانسی کی سزا کسی مخصوص دوران کے لیے تھے، اب ان میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔ نظرثانی کی منظوری تک جج حضرات اور اٹارنی کے ذمہ داروں کو چاہیے اپنی حد تک اس سزا کے احکامات روکیں؛ اس سے اللہ تعالی کی رضامندی حاصل ہوگی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں