آج : 23 March , 2017
اور عہد تابعین میں اس کے نتائج و ثمرات

عہد رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فقہی تربیت(گیارہویں قسط)

عہد رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فقہی تربیت(گیارہویں قسط)

کوفے میں مجتہدین فقہاء کی فراوانی
خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے جب قاضی محمد بن عبداللہ النہروانی رحمہ اللہ کے معاصرین کا حسب ذیل نقل کیا:
’’لم یکن بالکوفۃ من زمن عبداللہ بن مسعود الی وقتہ أفقہ منہ۔‘‘ (۱)
’’کوفے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے سے ان کے زمانے تک ان سے بڑھ کر فقیہ نہیں گزرا۔‘‘
اس خلافِ واقعہ بات پر مؤرخ ذہبی رحمہ اللہ فقہیان کوفہ کو نام بنام گناتے ہیں، وہ کہتے ہیں:
“قلت: بل کان بالکوفة و بین ابن مسعود جماعة أفقه منه، کعلقمة و عبیدة السلمانی و جماعة، ثم کالشعبی و إبراهیم النخعی، ثم کحماد و الحکم و مغیرة و عدة ثم کابن شبرمة و أبی حنیفة و ابن أبی لیلی و حجاج بن أرطاة، ثم کسفیان الثوری و مسعر و الحسن بن صالح و شریک، ثم وکیع و حفص بن غیاث و ابن ادریس و خلقٌ.”(۲)
’’میں کہتا ہوں : ایسا نہیں ہے، بلکہ کوفے میں اس (قاضی ابوعبداللہ محمدبن عبداللہ النہروانی رحمہ اللہ) کے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیانی زمانے میں ایک جماعت اس سے بڑھ کر فقیہ گزری ہے، جیسے حضرت علقمہ، عبیدہ سلمانی اور ایک جماعت، پھر جیسے شعبی، ابراہیم نخعی، پھر حماد، حکم، مغیرہ ابن عبدالرحمن المخزومی رحمہم اللہ اور کئی اور پھر ابوشُبر عبداللہ بن شبرمہ کوفی، ابوحنیفہ، احمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی، حجاج بن ارطاۃ، پھر سفیان ثوری، مسعر، حسن بن صالح ہمدانی، شریک بن عبداللہ کوفی، پھر وکیع، حفص بن غیاث، عبداللہ بن ادریس الکوفی رحمہم اللہ اور ایک خلق کثیر ہے۔‘‘

اصحاب الرائے چوتھی صدی ہجری تک
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چوتھی صدی ہجری تک فقہ حدیث سے آراستہ دقیق النظر اہل الرائے کا سلسلہ برابر قائم رہا، انہیں حدیث میں بصیرت حاصل رہی، وہ اس کی طلب میں سفر کرتے اور معرفت حدیث میں اپنے ہم عصروں میں نمایاں رہے جو کہ حدیث و اثر اور فقہ و نظر دونوں میں ممتاز و ماہر ہوتے تھے۔ حافظ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ، حافظ علامہ علی بن موسی القمی النیسابوری رحمہ اللہ کے تذکرے میں رقم طراز ہیں:
’’اہل الرائے حدیث میں صاحب بصیرت ہوتے تھے، وہ حدیث کی طلب میں سفر کرتے اور حدیث کی معرفت میں آگے رہتے تھے، لیکن اس زمانے (آٹھویں صدی ہجری) میں محدث نے درہم اور خطبے پر قناعت کی ہے، نہ وہ فقہ حدیث کو سمجھتا اور نہ حدیث کو یاد کرتا ہے، جیسے فقیہ، فقہ سے چمٹا ہو، لیکن اسے اچھی طرح نہیں سمجھتا، حدیث وہ جانتا ہی نہیں کہ وہ کیا ہے، بلکہ اس کی نظر میں موضوع اور صحیح حدیث دونوں برابر ہیں (وہ گھڑی ہوئی اور صحیح حدیث میں فرق کرنے سے قاصر ہے) اور وہ کبھی پایۂ اعتبار سے ساقط حدیث کا معارضہ صحیح حدیث سے کر بیٹھتا ہے اور ہٹ دھرمی سے کہتا ہے کہ ناقابل اعتبار حدیث زیادہ صحیح اور قوی ہے۔‘‘ (۳)

مجتہدین اربعہ کی تصحیح احادیث کا حکم
یہاں یہ نکتہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ مجتہد جس حدیث سے دلیل و حجت پکڑتا اور استدلال کرتا ہے وہ حدیث اس کے نزدیک صحیح ہوتی ہے، جیسے ہماری نظر میں صحیح البخاری کی حدیث صحیح ہوتی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ’’تعجیل المنفعۃ‘‘ میں حافظ محمد بن علی بن حمزہ دمشقی رحمہ اللہ کی ’’کتاب التذکرۃ‘‘ سے نقل کرتے ہیں کہ موصوف کا بیان ہے:
“ذکرت رجال الائمة الأربعة اقتدی بهم لأن عمدتهم في استدلالهم لمذاهبهم فی الغالب علی مارووه فی مسانیدهم “و الموطا” لمالک هو مذهبه الذی یدمن الله به أتباعه و یقلدون مع أن لم یرو فیه إلا الصحیح عنده، و کذلک “مسند الشافعی” موضوع لأدلته علی ما صحّ عنده من مرویاته و کذلک “مسند أبی حنیفة” و “مسند أحمد” فإنه أعم من ذلک کله و أشمل.” (۴)
’’میں نے ’کتاب التذکرۃ‘ میں چاروں مذاہب کے پیشواؤں (امام ابوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد رحمہم اللہ) کے راویانِ سند کا تذکرہ قلمبند کیا ہے، اس لیے کہ ان ائمہ اربعہ کے بیان مذاہب میں ان کے قابل استدلال اکثر و بیشتر وہ حدیثیں ہیں جو ان کی سندوں سے ان کی اسانید میں منقول ہیں۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ کی ’’الموطا‘‘ مالکی مذہب کی ایسی کتاب ہے جو اللہ کی فرمانبرداری اور شرعی احکام میں مالکی مذہب کے پیروؤں کی رہنمائی کرتی ہے اور ’’الموطا‘‘ میں جو آثار اور حدیثیں مروی ہیں وہ امام کی نظر میں صحیح ہیں۔ اسی طرح ’’مسند الشافعی‘‘ ہے کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے دلائل کی جامع ہے، اس میں ان کی صحیح مرویات کو پیش کیا گیا ہے۔ یہی حال ’’مسند أبی حنیفۃ‘‘ کا ہے اور یہی خصوصیت ’’مسند احمد‘‘ کی ہے، یہ سب سے زیادہ جامع اور سب سے زیادہ عام ہے۔‘‘
مذکورہ بالا تصریح سے معلوم ہوا کہ حفاظ حدیث میں حافظ محمد بن علی بن حمزہ الحسینی رحمہ اللہ اور حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ دونوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ امام مجتہد کا کسی حدیث سے استدلال کرنا اس کے یہاں صحیح ہونے کی دلیل ہے، ظاہری بات ہے بھلا مجتہد غیرصحیح حدیث سے بھلا کیونکر استدلال کرسکتا ہے۔

عہد تابعین میں فقہی ابواب پر سنن و آثار کا اولین ذخیرہ
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ’’کتاب الآثار‘‘ مجتہدین صحابہ و خیار تابعین اور فقہائے امصار سے مروی سنن و آثار کا مجموعہ، ابوابِ فقہ پر سب سے پہلا مرتب، قدیم ترین و معتبرترین ذخیرہ ہے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ مسلم امہ کے دوسرے مجتہد امام مالک رحمہ اللہ نے ’’الموطا‘‘ کی تالیف میں اس سے استفادہ اور اس کا تتبع اور پیروہ کی ہے۔ چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ان خصوصی مناقب میں سے جن میں وہ منفرد و یکتا ہیں، ایک یہ امر بھی ہے کہ وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے علم شریعت کو مرتب و مدون کیا اور اس کی (فقہی) ابواب پر ترتیب کی، پھر امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ’’موطا‘‘ کی ترتیب میں انہی کی پیروی کی اور اس امر میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر کسی کو سبقت حاصل نہیں ہے۔‘‘ (۵)
اور نامور محدث ابن حجر مکی رحمہ اللہ کے بقول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ’’کتاب الآثار‘‘ کا انتخاب چالیس ہزار احادیث میں سے کیا ہے۔ (۶)

مسانید میں ’’مسند ابی حنیفۃ‘‘ کا مقام
امام اعظم رحمہ اللہ کی احادیث و روایات کو بعض ایسے ائمہ فن حفاظ نے جمع کیا جنہیں اپنی تالیفات میں موصوف کا تذکرہ کرنا بھی گوارا نہ ہوا، چنانچہ حافظ ابونعیم اصفہانی شافعی رحمہ اللہ نے ’’کتاب حلیۃ الأولیاء‘‘ میں امام موصوف کا تذکرہ نہیں کیا اور اگر اپنی تصانیف میں ان کے متعلق کچھ لکھا بھی تو خلاف ہی لکھا، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مسند ترتیب دی اور ان کی احادیث و روایات کی خوب چھان بین کی، مگر انہیں کوئی قابل گرفت بات نہیں مل سکی، حافظ ابن عدی جرجانی رحمہ اللہ نے امام اعظم کی مسند مرتب کی۔ اول الذکر کی مسند زیور طبع سے آراستہ ہوکر بازار میں آگئی ہے، اس میں ابونعیم اصفہانی کو کوئی ایسی حدیث نہیں ملی جسے وہ ضعیف یا موضوع قرار دیتے، ثانی الذکر کی مسند ابھی طبع نہیں ہوسکی۔ یہ بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی احادیث و آثار، روایات و مرویات کو بارگاہِ الہی میں شرفِ قبول حاصل ہونے کی ایک دلیل ہے۔
مسانید کی تاریخ میں یہ خصوصیت و امتیاز بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مسند کو حاصل ہے کہ اسے بہت سے حفاظ نت مرتب کیا ہے، چنانچہ حافظ ابن نقطہ حنبلی رحمہ اللہ ’’کتاب التقیید لمعرفۃ الرواۃ و السنن و المسانید‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’و أما المسانید فمسند احمد بن حنبل و مسند الشافعی و مسند ابی حنیفة جمعه غیر واحد من الحفاظ۔‘‘ (۷)
’’اور البتہ مسانید تو مسند احمد بن حنبل اور مسند شافعی اور مسند ابی حنیفہ ہیں، مسند ابی حنیفہ کو بہت سے حفاظ حدیث نے جمع کیا ہے۔‘‘
یہ امر بھی امام اعظم رحمہ اللہ کی احادیث و آثار کے متداول و مقبول ہونے کی روشن دلیل ہے۔
روایات امام ابوحنیفہ سے ان کے تلامذہ اور ائمہ حفاظ کا اعتناء امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے تلامذہ کا ان سے بکثرت حدیثوں کا سماع کرنا اور اپنی سند سے روایتیں بیان کرنا بھی تاریخ و سیرت کی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حافظ محمد بن مطری رحمہ اللہ کے متعلق حاکم نیشابوری رحمہ اللہ ’’تاریخ نیسابور‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’شیخ العدالۃ و معدن الورع و المعروف بالسماع و الرحلۃ و الطلب علی الصدق و الضبط و الاتقان‘‘ (۸)
’’موصوف صفتِ عدالت میں ممتاز اور کانِ ورع و تقویٰ تھے، سماعِ حدیث و طلب حدیث کی خاطر سفر کرتے، راست گوئی اور ضبط و اتقان کی صفت سے آراستہ تھے۔‘‘
موصوف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مرویات کو اپنی سند سے بیان کرتے تھے، چنانچہ ان کے شاگرد حافظ ابوالعباس احمد عقدۃ رحمہ اللہ کے متعلق علامہ سمعانی رحمہ اللہ نے ’’کتاب الأنساب‘‘ میں تصریح کی ہے کہ انہوں نے ’’احادیث ابی حنیفہ‘‘ اور دوسرے محدثین کو حدیثوں کو موصوف کی سند سے بیان کیا ہے۔ (۹)
چوتھی صدی ہجری تک محدثین میں ائمہ فن کی حدیثوں کو یاد کرنے اور ان کا مذاکرہ کرنے کا سلسلہ قائم تھا، چنانچہ ان میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حدیثوں کو یاد کرنے، ان کا مذاکرہ کرنے اور ان سے برکت حاصل کرنے کا چلن بھی موجود تھا، چنانچہ حاکم نیشابوری رحمہ اللہ کی کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ کی انچاسویں نوع میں اہل کوفہ کے تذکرے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نام کی صراحت موجود ہے۔
مذکورہ بالا عنوان کے تحت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کی سند سے مروی سنن و آثار کے متعلق گیارہ باتیں آشکارا ہوتی ہیں:
۱: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تابعی ہیں۔
۲: معتبر و ثقہ راوی ہیں۔
۳: ائمہ فن حدیث میں سے ہیں۔
۴: غیرمعروف نہیں، مشہور امام ہیں۔
۵: ان کی حدیثوں سے اعتناء کیا جاتا رہا ہے۔
۶: انہیں سنا جاتا تھا۔
۷: یاد کیا جاتا تھا۔
۸: جمع کیا جاتا تھا۔
۹: ان کا مذاکرہ کیا جاتا تھا۔
۱۰: ان سے برکت حاصل کی جاتی تھی۔
۱۱: چوتھی صدی ہجری (۱۰۰۹ء) تک اسلامی قلمرو کے مشرق و مغرب کے محدثین و حفاظ کا ان باتوں پر عمل جاری تھا۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب الآثار اور مسانید میں منقولہ احادیث و آثار کو یاد کیا جاتا اور ان کا مذاکرہ کیا جاتا تھا، اس لئے کہ کتاب الآثار ان کے تلامذہ میں متداول و معمول بہازہی ہے، اس کی احادیث و آثار سے محدثین و حفاظ کے یہاں اعتناء پایا جاتا ہے اور ائمہ فن کے یہاں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کی کتاب کو قبول عام حاصل تھا۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روایات کی وجوہِ ترجیح
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روایات کی وجوہِ ترجیح امورِ بالا کی روشنی میں حسب ذیل ہیں:
۱: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی فہم و فراست اور ان کی اصابتِ رائے پر کم و بیش تمام علماء کا اتفاق ہے۔
۲: حفاظِ حدیث میں ان کا شمار ہے۔
۳: وہ نہایت ثقہ و معتبر راوی ہیں۔
۴: ائمہ فن سے انہیں احادیث کا بکثرت سماع حاصل ہے۔
۵: ان کی راویانِ حدیث کے مراتب پر گہری نظر ہے۔
۶: وہ خیار تابعین سے روایت کرتے ہیں۔
۷: ان کی سند میں زیادہ تر فقہائے امصار ہیں، جن کا مرتبہ ہر اعتبار سے نہایت بلند ہے۔
۸: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے کی خیر و برکت اور بہتر ہونے کی مہر صداقت زبان رسالت سے ثابت ہے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے: ’’خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم۔۔۔ الخ‘‘ (۱۰)
’’زمانوں میں سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان کا ہے جو میرے بعد آئیں گے۔‘‘
۹: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے شیوخ و اساتذہ کو تقدم زمانی حاصل ہے، کیونکہ ان کا تعلق خیرالقرون سے ہے۔
۱۰: اور انہیں تقدم علمی بھی حاصل ہے، اس لیے کہ ان کی سند بھی عالی ہے۔
۱۱: ان کے شیوخ و اساتذہ سیادت و قیادت علمی سے ممتاز ہیں۔
۱۲: صحاح کی زیادہ تر حدیثوں کا دار و مدار ان کے شیوخ کی اسانید پر ہے۔
۱۳: شیوخ حدیث کی سند اور فقہا کی سند سے مروی حدیث کی ترجیح کا مسئلہ اصول حدیث کی کتابوں میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد وکیع بن الجراح کی سند سے آیا ہے (۱۱) اور شیوخ کے مقابلہ میں فقہاء کی سند والی حدیث کو ترجیح حاصل ہوتی ہے، اس لیے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مروی حدیث کو ترجیح حاصل ہونا چاہیے۔
۱۴: ائمہ فن جرح و تعدیل کا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے سند پیش کرنا اس فن میں ان کی مہارت اور دقت نظر کی روشن دلیل ہے۔
۱۵: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ذخیرۂ سنن و آثار کا شرقاً و غرباً حفظ و مذاکرہ۔
۱۶: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حدیث بیان کرنے کی شرائط سخت ہیں:
الف: معرفت حدیث
ب: حفظ
ج: حدیث کی سماعت درست ہو
د: فراست و فہم بھی صحیح ہو
ہ: اداء بھی سماعت کے مطابق ہو۔(۱۲)
یہی وجوہ و اسباب ہیں جن کی بنا پر امام موصوف سے زیادہ حدیثیں مروی نہیں ہیں، چنانچہ سید الحفاظ یحیی بن معین رحمہ اللہ کا بیان ہے:
’’کان أبوحنیفۃ ثقۃ لا یحدث الّا بما یحفظ و یا یحدث بما لا یحفظ۔‘‘ (۱۳)
’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ثقہ تھے، جو حدیث انہیں حفظ ہوتی صرف وہی بیان کرتے اور جو حفظ نہ ہوتی اُسے بیان نہیں کرتے تھے۔‘‘
۱۷: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام فن اور کتاب الآثار کے مصنف ہیں، حدیث کی کتاب کی تصنیف‘ تقربِ الہی کا وسیلہ ہے۔
۱۸: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ مقبول امام ہیں، ان کی پیروی اور تقلید کی جاتی ہے، ایسے امام سے روایت تقرب الہی کا ذریعہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی و حوالہ جات:
۱: تاریخ بغداد، ج:۵، ص: ۴۷۲۔
۲: سیر اعلام النبلاء، ج:۱۷، ص: ۱۰۲۔
۳: ایضاً، ص: ۲۳۶۔
۴: تعجیل المنفعہ بزوائد رجال الائمۃ الاربعہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۶ھ، ص: ۱۰۸۔
۵: تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ، ص: ۳۶۔
۶: مناقب الامام الاعظم، ج:۱، ص: ۹۵، محمد عبدالرشید نعمانی، امام ابن ماجہ اور علم حدیث، ص: ۱۶۴۔
۷: رفع الاعلام عن الائمۃ الأعلام، دمشق، ۱۹۴۰ء، ص: ۱۲۔
۸: الأنساب، ج: ۵، ص: ۳۲۵۔
۹: ایضاً۔
۱۰: معرفۃ علوم الحدیث، ص: ۲۲۵، (ذکر النوع التاسع و الاربعین من علوم الحدیث)
۱۱: ترمذی، رقم الحدیث، ۲۳۰۲۔
۱۲: معرفۃ علوم الحدیث، ص: ۱۱۔
۱۳: سیر اعلام النبلاء، ج: ۶، ص: ۴۰۱۔

جاری ہے۔۔۔

دسویں قسط

تحریر: مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی
اشاعت: ماہنامہ بینات۔ جمادی الأخری ۱۴۳۶ھ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں