آج : 15 March , 2017

عورتوں کی میراث قرآن وسنت کی روشنی میں

عورتوں کی میراث قرآن وسنت کی روشنی میں

اسلام ایک مکمل دستور ہے، اس نے زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل راہ نمائی کی ہے ، انسان کی پیدائش سے لے کر آخری آرام گاہ تک زندگی کے جتنے موڑ آسکتے ہیں،
ہر موڑ پر اسلام نے اپنے پیروکاروں کی راہ بری کی ہے اور ایسا عادلانہ او رمنصفانہ نظام پیش کیا ہے کہ دنیا کے مفکرین ودانش ور انگشت بہ دنداں ہیں، دبے لفظوں میں اسلام کے محاسن اور اس کی خوبیوں کا اعتراف کرنے پر مجبو رہیں، اسلام نے جہاں انسان کی زندگی کے تمام مسائل کا حل بتایا ہے وہیں موت کے بعد کے مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے، انسان کی موت کے بعد ایک اہم مسئلہ اس کے املاک وجائیداد کی تقسیم کا ہے، شریعت کے دیگر احکام کے مقابلے میں میراث کو یہ خصوصیت او رامتیاز حاصل ہے کہ الله تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں بذاتِ خود اس کی تفصیلات اور جزئیات ذکر کی ہیں، احکام میراث جس کو قرآن میں مختلف مقامات پر جتنی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے نماز، روزہ کے احکام بھی اتنی تفصیل کے ساتھ ذکر نہیں کیے گئے ہیں، پھر اس کو فریضة من الله اور حدود الله سے تعبیر کیا گیا ہے ،اس سے شریعت میں قانونِ میراث کی اہمیت کااندازہ ہوتا ہے، آج نام نہاد اور خود ساختہ مفکرین ودانش ور، جو مغرب کی طرف سے آنے والی ہر چیز کو نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہیں او راس کو موضوعِ بحث بنانے کو او راس پر ایمان بالغیب لانے کو روشن خیالی کا لازمہ سمجھتے ہیں، اسلامی تعلیمات پر ہرزہ سرائیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں او راپنی محدود اور کوتاہ عقل سے جھوٹی اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اسلام کے بعض احکام کو قابل ترمیم وتنسیخ قرار دیتے ہیں، ان کا اسلام پر ایک اعتراض یہ ہے کہ اس نے صنفِ نازک کے ساتھ نا انصافی کی ہے اور اس نے ایسے اصول وقوانین تشکیل دیے ہیں جن سے عورتوں کی تذلیل اور ان کی حق تلفی ہوتی ہے او رمیراث کے معاملہ میں اس نے عورت کا حصہ مرد کے مقابلہ میں نصف رکھا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض یا پروپیگنڈہ ان لوگوں کی طرف سے کیا جارہا ہے جن کے مذہب میں عورتوں کو وراثت میں کوئی حق یا حصہ نہیں دیا جاتا ہے، بلکہ عورتوں کو مملوکہ چیزوں کی طرح منتقل کیا جاتا ہے اور اگر کوئی مرد مر جاتا ہے تو اس کے گھر کے مرد اس کی بیوی کے مالک اسی طرح بن جاتے ہیں جس طرح اس کے ترکہ کے مالک بن جاتے ہیں، عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ شادی کر لیتے ہیں او راسے کچھ بھی مہر نہیں دیتے ہیں یا اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کر دی جاتی ہے او رمہر خود کھا لیتے ہیں، یا عمر بھر اس کو بیوہ رہنے پر مجبور کرتے ہیں او رکبھی سوتیلا بیٹا بھی اس کے ساتھ جبری شادی کر لیتا ہے او راس کامالک اسی طرح بن جاتا ہے ، جس طرح اپنے باپ ے ترکہ کامالک بن جاتا ہے، لیکن دیگر مذاہب کے مقابلے میں یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے عورتوں کو میراث میں مردوں کے ساتھ حصے مقرر کیے ہیں، چنا ں چہ قرآن مجید میں باضابطہ اعلان کیا گیا:﴿ لِّلرِّجَالِ نَصیِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ نَصِیْباً مَّفْرُوضا﴾․(النساء:7)
ترجمہ:” ماں باپ او رشتے داروں کے ترکے میں مردوں کا حصہ ہے اور ان کے ترکے میں عورتوں کا بھی حصہ ہے، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اور یہ حصے(خدا کی طرف سے) مقررہ ہیں۔“

اسی طرح قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے عورت پر ہونے والے ظلم کو روکنے کے لیے فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء کَرْہاً وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَیْْتُمُوہُنَّ إِلاَّ أَن یَأْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْرا﴾․(النساء:19)
ترجمہ:” اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورثے میں لے بیٹھو، انہیں اس لیے روکے نہ رکھو کہ جو (مال) تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ لے لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں، ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو ، اگر چہ تم انہیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور الله تعالیٰ نے اس میں بہت ہی بھلائی رکھی ہو ۔“

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں حقوق نسواں کا اولین علم بردار اگر کوئی مذہب ہے تو وہ اسلام ہی ہے، جس نے عورت کو پستی سے نکال کر بلندیوں پر چڑھایا او رجس نے ہر شعبہ میں عورتوں کے حقوق کی نمائندگی کی ہے۔

علم میراث سے تھوڑی بہت جان کاری رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ وراثت سے حصہ پانے والے اصحابِ فرائض میں مرد کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد زیادہ رکھی گئی ہے، جہاں ہر چار مرد: باپ، دادا، ماں شریک بھائی، شوہر کو حصہ دیا گیا ہے تو وہی اٹھ عورتوں : بیوی،بیٹی ، پوتی، حقیقی بہن، ماں شریک بہن، باپ شریک بہن، ماں، دادی یا نانی کو حصہ دیا گیا، حقیقت یہ کہ اسلام نے عورت کو وہ مثالی حقوق دیے ہیں جو آج تک کوئی تہذیب یا کوئی مذہب اسے نہیں دے سکا، اسلام سے پہلے دنیا میں مالی نظام دولت کو جمع کرنے پر تھا، چند افراد کے پاس زیادہ سے زیادہ دولت رہا کرتی تھی، مال ودولت کو جمع کرنے کا ایک سبب قانونِ میراث بھی تھا، یہودیوں کے یہاں پوری میراث صرف بڑے لڑکے کو مل جاتی تھی، عورتوں کو اس سے محروم رکھا جاتا تھا، ہندوؤں کے یہاں میراث میں عورتوں کا کوئی حق نہیں تھا، زمانہ جاہلیت میں میراث کے حق دار وہ لوگ سمجھے جاتے تھے جو لڑنے اور دفاع کرنے کی صلاحت رکھتے ہوں، اس لیے خواتین او رنابالغ بچوں کو ترکہ میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا، اسلام نے ایک ایسے نظام معیشت کی بنیاد رکھی جس میں دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم ہو، اس اصول کو جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں میں برتا گیا، وہیں قانونِ میراث میں بھی اس کو ملحوظ رکھا گیا، مردوں اور جوانوں کے ساتھ ساتھ عورتوں او ربچوں کو بھی میراث میں حق دیا گیااور تقسیم میراث کا ایک ایسا متوازن او رمنصفانہ نظام مقرر کیا گیا کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، بلکہ آج مغرب سے مشرق تک مختلف ملکوں اور قریوں کے قانون میں اسلام کے قانونِ میراث سے خوشہ چینی کے گئی ہے، اسلام نے میراث کے حوالہ سے کیسامتوازن اور منصفانہ نظام پیش کیا ہے، آئیے ذیل میں اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں:

میراثی احکام کا مختصر جائزہ لینے پر یہ پتہ چلتا ہے کہ عورت کبھی مرد کے برابر حصہ پاتی ہے تو کبھی اس سے بھی زیادہ حصہ کی حق دار ہوتی ہے او رکچھ صورتوں میں تو عورت حصہ پاتی ہے، لیکن مرد محروم رہ جاتا ہے، جب کہ عورت صرف چار صورتوں میں مرد سے کم حصہ کی حق دار ہوتی ہے، کچھ مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے، مثلاً:

٭… وہ صورتیں جن میں عورت او رمرد برابر برابر حصہ پاتے ہیں جیسے اگر کسی شخص کے وارثین میں اولاد اور والدین ہوں تو والدین میں دونوں کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا، جیسے الله کا ارشاد ہے:﴿وَلأَبَوَیْْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِن کَانَ لَہُ وَلَدٌ﴾(النساء:11) ترجمہ:” اور اگر والدین کے ساتھ ساتھ بیٹا بھی ہو تو والد کو سدس اور والدہ کو سدس ملے گا اورباقی بیٹے ہی کوملے گا، اس صورت میں والدہ و والد کو برابر حصہ مل رہا ہے۔

کلالہ کی صورت میں اخیافی ( یعنی ماں کی جانب سے ) بہن بھائی کو برابر برابر حصہ ملے گا، کلالہ کا مطلب یہ ہے کہ جس کا باپ بیٹا نہ ہوتو اگر کسی ایسے شخص کے وارثین میں اس کی ماں کی جانب سے دو یا اس سے زیادہ بہن بھائی ہوں تو انہیں ثلث حصہ ملے گا، جس میں مرد اور عورت سب برابر شریک رہیں گے، جیسا کہ الله کا ارشاد ہے:﴿وَإِن کَانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلاَلَةً أَو امْرَأَةٌ وَلَہُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ فَإِن کَانُوَاْ أَکْثَرَ مِن ذَلِکَ فَہُمْ شُرَکَاء فِیْ الثُّلُثِ ﴾․(النساء:13)
ترجمہ:”او راگرعورت مرد یا عورت کلالہ ہو او راس کا بھائی، بہن ہو تو ان کو سدس (چھٹا حصہ) ملے گااور اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو وہ تمام ایک ثلث ( تہائی حصہ) میں برابر برابر شریک ہوں گے۔“

اس صورت میں بھائیوں او ربہنوں کو برابر برابر حصہ مل رہا ہے۔

٭… اور وہ صورتیں جس میں مرد سے زیادہ حصہ عورت کو ملتا ہے جیسے اگر کسی شخص نے اپنے وارثوں میں بیوی بیٹی، ماں اور ایک حقیقی بھائی چھوڑا تو پورے ترکہ کو چوبیس مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے تین حصے بیو ی کو، چار حصے ماں کو، پانچ حصے حقیقی بھائی کو اور بارہ حصے بیٹی کو۔ حقیقی بہن چھوڑی ہے تو اس کے ترکہ کو چار مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے شوہر کو ایک حصہ، بیٹی کو دو حصے اور حقیقی بہن کو ایک حصہ ملے گا۔ اس صورت میں بھی عورت ( یعنی بیٹی ) کو مرد ( یعنی شوہر ) سے زیادہ حصہ شریعت نے مقرر کیا ہے۔

٭… وہ صورتیں جس میں عورت کو حصہ ملتا ہے او رمرد کو نہیں ملتا، مثلاً اگر کسی مرد نے اپنے وارثین میں ماں ، دوبیٹیاں ، دو علاتی بہنیں ( یعنی باپ کی جانب کی بہنیں) او رایک اخیافی بھائی ( ماں کی جانب کا بھائی ) چھوڑا ہے تو اس کا ترکہ بارہ مساوی حصوں میں تقسیم ہو گا، جن میں ماں کو دو حصے اور بیٹیوں کو آٹھ حصے ( یعنی ہر ایک کو چار چار حصے) اور دو علاتی بہنوں کو ایک ایک حصہ ملے گا، جب کہ اخیافی بھائی کو علاتی بہنوں کی موجودگی کی وجہ سے کچھ نہیں ملے گا، اسی طرح اگر کسی عورت نے اپنے وارثین میں شوہر، بیٹی، پوتا اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو اس کا ترکہ تیرہ مساوی حصوں میں تقسیم ہو گا، جن سے میں دو حصے، باپ کو دو حصے، شوہر کو تین حصے، بیٹی کو چھ حصے، جب کہ پوتا محروم ہو جاتا ہے۔

٭… اور وہ صورتیں جن میں عورت کومرد سے کم حصہ ملتا ہے، جیسے : اگر کسی کے مرد یا عورت کے وارثین میں بیٹا او ربیٹی ہو تو مرد کو عورت کے مقابلہ میں دو گنا حصہ ملتا ہے، جیسے الله کا ارشاد ہے :﴿یُوصِیْکُمُ اللّہُ فِیْ أَوْلاَدِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیَیْْن﴾․(النساء:11)ترجمہ: الله تم کو تمہاری اولادکے بارے میں حکم دیتا ہے کہ مذکر (مرد) کے لیے مونث(عورت) کے حصہ سے دو گنا ہے۔“

یاوارثین میں اولاد بالکل نہ ہو، بلکہ بہن او ربھائی ہوں ، تو مرد کو عورت کے حصہ سے دو گنا حصہ ملے گا، جیسے الله کا ارشاد ہے:﴿وَإِن کَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاء فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیَیْْن﴾ (النساء:176)

اسی طرح زوجین(شوہر بیوی) کی میراث میں شوہر کو بیوی سے دو گناحصہ ملتا ہے، جیسے اگر کوئی عورت مر جائے اور اسے کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو اس کے ترکہ سے نصف ملے گا اور اولاد ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ ملے گا، جب کہ اگر مرد مر جائے او راسے کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کو اس کے ترکہ سے چوتھا حصہ ملے گا اور اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ ملے گا، جیسے الله کا ارشاد ہے:﴿ وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ إِن لَّمْ یَکُن لَّہُنَّ وَلَدٌ فَإِن کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِن بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصِیْنَ بِہَا أَوْ دَیْْنٍ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِن لَّمْ یَکُن لَّکُمْ وَلَدٌ فَإِن کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُم مِّن بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوصُونَ بِہَا أَوْ دَیْْنٍ﴾․(النساء:12)
ترجمہ:” اور تم شوہروں کے لیے تمہاری بیویوں کے ترکہ میں سے نصف ہے اگر کوئی اولا دنہ ہو او راگر اولاد ہو تو تمہارے لیے ربع، وصیت اور قرض کو ادا کرنے کے بعد او ربیویوں کے لیے ربع ہے تمہارے ترکہ میں سے اگر کوئی اولاد نہ ہو، اگر کوئی اولاد ہو تو بیویوں کے لیے ثمن ہے، وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد۔“

اگر کوئی مرد اپنے پیچھے ماں، باپ او رایک بیٹی چھوڑے تو اس کے ترکہ کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے اس کی بیٹی کو نصف(یعنی تین حصے) او راس کی ماں کو چھٹا( یعنی ایک حصہ) او راس کے باپ کو چھٹے حصہ کے ساتھ باقی ایک حصہ بھی عصبہ ہونے کی وجہ سے ملے گا، اس صورت میں بھی مرد ( یعنی باپ) کو عورت ( یعنی ماں) سے دو گنا حصہ ملتا ہے او ربیٹی کو باپ کے مقابلے میں زیادہ مل رہا ہے۔

یہاں پر ایک سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ مرد کو عورت سے دو گنا حصہ کیوں دیا جاتا ہے؟ اس کے کئی اسباب ہیں، جیسے: مرد پر مالی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں، مثلاً اس کے کاندھوں پر بیوی، بچوں کے اخراجات کی ذمے داریاں ڈالی گئی ہیں، اسی طرح محرم رشتہ داروں کی ذمے داری بھی اس کے سر رکھی گئی ہے جب کہ عورت کے کاندھے کو مالی ذمے داریوں سے بوجھل نہیں کیا گیا، بلکہ شادی سے پہلے اس کے اخراجات کی ذمے داری باپ پر ڈالی گئی ہے ، باپ موجود نہ ہونے کی صورت میں بھائی پر اس کے ضروری اخراجات پورا کرنے کی ذمے داری ڈالی گئی ہے، شادی کے بعد شوہر کے ذمہ اس کانان نفقہ کا انتظام کیا گیا ہے، شوہر کے انتقال کی صورت میں بیٹوں کو ماں کی ضروریات پورا کرنے کا پابند کیا گیا ہے، بلکہ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو شریعت نے نہ صرف اس کو مالی ذمے داریوں سے سبک دوش کیا ہے، بلکہ مہر کے ذریعہ ایک معتدبہ رقم شوہر کی جانب سے دے کر بھی اس پر احسان کیا ہے، لہٰذا یہ کہنا کسی بھی طرح درست نہ ہو گا کہ دین اسلام نے عورت پر تقسیم میراث کے معاملہ میں ظلم وزیادتی کی ہے، یہ سراسرنا انصافی او راسلام کے خلاف غلط پروپیگنڈہ ہے۔

مولانا محمد غیاث الدین حسامی
ماہنامہ الفاروق جمادی الاول 1438ھ (جامعہ فاروقیہ کراچی)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں