آج : 11 March , 2017

کام یابی وکام رانی کا راستہ

کام یابی وکام رانی کا راستہ

یہاں سیدنا حضرت علی کرم الله وجہہ کا مشہور ارشاد، جسے محب طبری رحمة الله علیہ نے ”الریاض النضرة“ میں نقل کیا ہے، یاد آتا ہے:
”لن یصلح آخر ھذہ الأمة إلا ما صلح بہ أولھا․“ (الریاض النضرة مناقب العشرة، الباب الثانی مناقب امیر المؤمنین ابی حفص عمر بن الخطاب، ج:2،ص:402،ط: دارالکتب العلمیة، بیروت)
”اس امت کے آخری حصے کی اصلاح بھی بس اسی چیز سے ہو سکتی ہے جس سے اس کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی۔“

ربع صدی سے یہاں سب کچھ آزمایا جا چکا ہے، آئیے! اس جدید نظریہ کو بھی آزما لیجیے #
فلک را سقف بشگافیم وطرح نو دراندازیم

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے فرائض منصبی
قرآن حکیم نے چار مقامات پر حضرت خاتم الانبیاء، جناب رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم کے چار منصب بیان فرمائے ہیں:
1..آیات پڑھ کر سنانا۔
2..تزکیہ کرنا، یعنی کفروشرک، بدعملی وبد اخلاقی اور امورِ جاہلیت سے ان کو پاک وصاف کرنا۔
3..کتاب الله کے احکام کی تعلیم دینا اور اس کے مضامین کی تشریح کرنا۔
4..حکمت ودانائی، احکام کے علل وغایات اور شریعت کے اصول ومقاصد کی تعلیم دینا۔

تزکیہ سے مراد عقائد ونظریات اوراعمال واخلاق کی پاکیزگی ہے، قرآن کریم نے تین مقامات پر تزکیہ کو ”تعلیم“ سے مقدم ذکر فرمایا، جس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بقدر ضرورت تزکیہ تعلیم سے پہلے ہونا چاہیے، تعلیم اسی وقت مفید اور بار آور ہوسکتی ہے جب کہ قلوب میں اس کے قبول کرنے کی اہلیت اور جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہو، زمین کو پہلے کاشت کے قابل بنایا جائے، پھر تخم ریزی کی جائے، ورنہ وہی کیفیت ہو گی جو عارف شیرازی رحمة الله علیہ نے فرمائی #
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید ودر شورہ بوم خس

یہ تزکیہ حضرت خاتم الانبیاء صلی الله علیہ وسلم کے فیضانِ صحبت اور مکارم اخلاق سے حاصل ہوتا تھا اور اب بھی بقدرِ استعداد الله تعالیٰ کے مقبول بندوں سے ربط وتعلق او ران کی صحبت او رمجالست سے حاصل ہو سکتا ہے۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ تعلیم کتاب وحکمت سے بھی اصل مقصود تزکیہ ہے، یہ نہ ہو تو ساری تعلیم بیکار ہے، اعمال واخلاق کے بغیر نرے علوم ومعارف کی حق تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر نہیں، آدمی ساری دنیا کی کتابیں چاٹ لے، لیکن اگر انسانی اخلاق او رایمانی اعمال نہیں تو پڑھا لکھا جانور تو ہو سکتا ہے، مگر انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔

تزکیہ کے بغیر نہ ایمان میں رسوخ کی کیفیت اور یقین واطمینان کی قوت پیدا ہو گی، نہ اخلاق درست ہو سکیں گے، نہ اخلاص کی دولت ملے گی، نہ اعمال پر مداومت نصیب ہو گی، نہ اندر کافرعون (مکار نفس) ہلاک ہو گا، نہ مخلوق سے لڑائی بند ہو گی #
نفسِ ما ہم کم تر از فرعون نیست

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم فرماتے ہیں:”تعلمنا الإیمان، ثم تعلمنا القرآن․“ (سنن ابن ماجہ، المقدمة، باب فی الایمان،ص:7،ط:قدیمی) کہ:”ہم نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا۔“ یہ ایمان کا سیکھنا ہی تزکیہ کہلاتا ہے کہ قلب غیر الله کے بتوں سے پاک ہو، اعمال ریا وغیرہ سے پاک ہوں اور نفس کمینے اخلاق سے پاک ہو، معاشرہ امور جاہلیت سے پاک ہو، کمائی حرام اور مکروہ ذرائع سے پاک ہو، وغیرہ ذلک۔

یہی تزکیہ تھا، جس کی وجہ سے حضرات صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کو الله تعالیٰ نے بہت سی بشارتوں سے نوازا اور انہیں آسمانی وحی کی شہادت اور سند ملی۔ سورہٴ فتح میں ان کے امتیازی اوصاف ذکر کرتے ہوئے ایک وصف باہمی رحمت وشفقت ذکر کیا گیا ہے :”رحماء بینھم․“ یہ وصف کامل تزکیہ کے بعد ہی حاصل ہوسکتاہے او راسی کو نہ سمجھنے کی خرابی ہے کہ صحابہ رضی الله عنہم سے بد گمانی پیدا ہوتی ہے، حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کا پہلا وصف یہی بیان فرمایا:”أبرھم قلباً“ کہ ان کے دل پاک صاف تھے، دوسرا وصف بیان فرمایا:”وأعمقھم علماً“ ان کا علم بڑا گہرا تھا، تیسرا وصف بیان فرمایا: ”وأقلھم تکلفا“ ان کی زندگی تکلفات اور تصنع سے پاک تھی۔ (مشکوٰة، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الثالث،ج:1،ص:32،ط:قدیمی)

حضراتِ صوفیاء او راشاعتِ دین
حضرات صوفیائے کرام رحمة الله علیہم، جن کے ذریعہ دین کی تبلیغ واشاعت سلاطین کی تلوار اور علماء کے قلم سے بھی زیادہ ہوتی ہے، ان کا خا ص موضوع یہی ہے کہ نفوس کی تربیت او راخلاق کا تزکیہ کیا جائے، ان کے یہاں بھی تربیت کاایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے جذب ہو، پھر سلوک، اسی کا نام مجذوب سالک رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ طریقہ اقرب الی القرآن ہو گا، البتہ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ جہاں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نقل فرمائی ہے، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے ان چار مناصب میں سے تزکیہ کو کتاب وحکمت کی تعلیم کے بعد سب سے آخر میں رکھا ہے، اس سے ایک تو اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کااول وآخر مقصد تزکیہ ہے، دوسرے اس طرف اشارہ ہے کہ تزکیہ بقدر ضرورت تو تعلیم سے پہلے ہونا چاہیے، مگر کامل تزکیہ کی نوبت علم کے بعد ہی آسکتی ہے، یعنی علم کے بعد ہو گا او رعلم ہی ذریعہ بنے گا عمل کا، گویا اس آیت میں تربیت کا دوسرا طریقہ بیان فرمایا ہے، جو حضرات صوفیاء کے یہاں سالک مجذوب کہلاتا ہے، لوگوں کی استعدادیں مختلف ہوتی ہیں ، کسی کو تعلیم کے بعد بھی تزکیہ کی ضرورت رہتی ہے اور کسی کو تزکیہ کے بعد تعلیم کی حاجت ہوتی ہے۔ نہ تزکیہ کے مراتب ختم ہوتے ہیں، نہ تعلیم کی انتہا ہے۔

خلاصہ یہ کہ حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا منصب صرف تعلیم اور سمجھانا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کی تعمیل کرانا اور قوم کو ایک باعمل امت بنانا بھی تھا، جب تک آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے دیے ہوئے نقشہ کے مطابق تعلیم وتربیت پر محنت نہیں ہوتی اور افراد کی اصلاح کے ذریعہ ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں نہیں آتا سیاسی محنت صحیح طریق پر بار آور نہیں ہو گی اورتمام قوتیں شروفساد کی نذر ہو جائیں گی۔

اسلامی سیاست او رموجودہ سیاست
دینی تربیت کے فقدان ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ باوجودیکہ تمام زعماء اور سیاسی لیڈر اسلامی خدمت کا اعلان فرمارہے ہیں او رملک وملت کی صحیح نمائندگی کا دم بھرتے ہیں، یقینا ان میں سے بعض حضرات مخلص بھی ہوں گے اور وہ اسلام کے نام کو محض اقتدار طلبی کے لیے استعمال نہیں کرتے ہوں گے، لیکن ان اسلامی نمائندوں کی اکثریت اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جس اسلام کا ہم نام لیتے ہیں، اسی اسلام نے سیاست کے بھی کچھ آداب تجویز کیے ہیں اور بے ہنگم سیاست بازی پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں، مثلاً موجودہ سیاست کی بنیاد ہی اس بات پر قائم ہے کہ ایک شخص اقتدار طلبی کے لیے کھڑا ہو، اپنی پارٹی بنائے، اپنا پروگرام قوم کے سامنے رکھے اور قوم سے اپیل کرے کہ اس کو ووٹ دے کر کرسی اقتدار پر فائز کیا جائے، اس کے بعد وہ جانے اور قوم کے مسائل۔

اب دیکھیے کہ اسلام اقتدار طلبی کے مزاج ہی کی جڑ کاٹ دیتا ہے، اسلام اقتدار کی خواہش کو پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ ذمہ داری معاشرہ پر ڈالتا ہے کہ وہ ایسے افراد کو آگے لائے جو﴿لَا یُرِیْدُونَ عُلُوّاً فِیْ الْأَرْضِ وَلَا فَسَاداً﴾․(القصص:83) ”جو نہیں چاہتے زمین میں اونچا ہونا اور نہ فساد۔“کے معیار پر پورے اتریں۔ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کسی ایسے شخص کو جو عہدہ کی درخواست لے کر آئے عہدہ نہیں دیتے تھے۔ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کو عہدہٴ قضا کی پیش کش کی، انہوں نے انکار کیا، امیرالمؤمنین رضی الله عنہ نے فرمایا: تمہارے باپ نے بھی تو قبول کیاتھا، عرض کیا:ان میں ہمت ہو گی، مجھ میں نہیں، امیر المؤمنین نے منت وسماجت کی، مگر ان کی معذرت غالب آگئی، حضرت عثمان رضی الله عنہ نے فرمایا: بہت اچھا،مگر کسی اور کونہ بتانا، ورنہ کوئی بھی اس کے لیے آمادہ نہ ہو گا۔ حضرت تھانوی رحمة الله علیہ کے ملفوظات میں ہے کہ شاہ عبدالعزیز رحمة الله علیہ کا جامع مسجد دہلی میں وعظ تھا، جس میں ایک انگریز بہادر بھی موجو دتھا، تقریر کے بعد اس نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے سلطنت کیوں جاتی رہی؟ کسی نے کچھ جواب دیا، کسی نے کچھ، اس نے کہا: میں بتاتا ہوں کہ اصلی وجہ یہ تھی کہ اس منصب کے اہل لوگوں نے اس سے گریز کیا اورناہل لوگ اوپر آگئے اور یہی نااہلی زوالِ سلطنت کا باعث بنی۔

مسلمانوں کی نمائندگی
ہم جانتے ہیں کہ اس زمانہ قحط الرجال میں، جس میں انسانوں کی تو افراط ہے، مگر آدمی بہت کم ہیں، نہ اسلام کا معیاری معاشرہ ہے، نہ معیاری نمائندے مل سکتے ہیں، لیکن کم از کم اتنا تو ہو کہ جو لوگ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ لے کر اٹھیں، ان میں صوم وصلوٰة کی پابندی، دینی شعائر کا احترام، اسلام کے ضابطہ حیات پر کامل اذعان اور اسلامی اخلاق واعمال پائے جائیں، وہ قول کے سچے اور بات کے پکے ہوں، انہیں غریب مسلمانوں کے مسائل کی سمجھ بوجھ اور دینی احکام کا شعور ہو، ملت کے تمام افراد کے یکساں ہم درد ہوں، وہ اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا نہ بنیں۔

مولاناسید محمد یوسف بنوریؒ
ماہنامہ الفاروق جمادی الاول 1438ھ (جامعہ فاروقیہ کراچی)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں