آج : 13 February , 2017

شریعت کے دائرے میں امت کیلئے آسانیاں پیدا کریں، علماء کرام

شریعت کے دائرے میں امت کیلئے آسانیاں پیدا کریں، علماء کرام

علماء اور فضلاء معاشرے میں فعال کردار ادا کریں، سماج کے تمام طبقات تک دین کو پہنچانا ان کا مشن ہونا چاہیے، شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے امت کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں، بغیر تحقیق کے فتوے نہ لگائے جائیں، جب تک دل کی اصلاح نہیں ہوتی ظاہری اصلاح بھی ناممکن ہے۔
اتباع میں افراط و تفریط الحاد کا موجب بنتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار رئیس جامعۃ الرشید، ٹائم مینجمنٹ کے ماہر سلیمان احمر، شیخ الحدیث جامعۃ الرشید مفتی محمد اور مفتی حسین خلیل خیل نے جامعۃ الرشید میں سالانہ فضلاء اجتماع کے تیسرے دن مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
رئیس جامعۃ الرشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعۃ الرشید کے طلبہ اور فضلاء معاشرے میں فعال کردار ادا کریں، ان کا مشن معاشرے کے تمام طبقات تک دین کو پہنچانا ہو، یہاں ایک پیچیدگی پیدا ہوتی ہے کہ معاشرے میں برائیاں پھیلی ہوئی ہیں، مختلف اداروں میں منکرات اور فتنے پھیلے ہوئے ہیں، ان کے درمیان رہ کر دین کی دعوت کیسے دی جائے، اس پیچیدگی کی وجہ یہ ہے کہ ہم مال اور حبِ مال، جاہ اور حب جاہ میں فرق نہیں کرتے۔ ہمیں شریعت کے دائرے میں رہ کر امت کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں، بغیر تحقیق کے کفر کے فتوے نہ لگائے جائیں، اس کے لیے ہر عالم و مفتی کو دس فقہی ابواب کو خاص طور پر ذہن میں رکھنا چاہیے۔
پہلے اضطرار و اکراہ کا باب، اضطراری کی دو قسمیں ہیں: انفرادی اور اجتماعی۔ اجتماعی اضطرار و اکراہ کی بڑی اہمیت ہے۔ دوسرا ضروریات کا باب ہے ، اس کی بھی دو قسمیں ہیں، مشکل یہ ہے کہ ہم جس چاردیواری میں رہتے ہیں وہ باہر کے حالات سے متاثر نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے نئی آنی والی ضرورتوں کا پتا نہیں چلتا۔ تیسرا حاجت کا باب ہے، کن چیزوں میں اس کی اجازت ہے، کن میں نہیں۔ چوتھا باب عرف کا ہے اس کی بھی عام و خاص دو قسمیں ہیں۔ عرف کہاں معتبر ہوگا کہاں نہیں، اس کا سمجھنا ضروری ہے۔ پانچواں تامل کا باب، یہ اجماع کی ایک قسم ہے، چھٹا علت کا باب ہے، علت نکالنے کا طریقہ کیا ہے کیونکہ بغیر علت کے استنباط ممکن نہیں، مفتی کے ایک دستخط کی وجہ سے کسی کا بیڑا پار بھی ہوسکتا ہے اور کسی کا بیڑا غرق بھی ہوسکتا ہے۔ ساتواں باب عموم بلوی کا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل میں گنجائش نکل سکتی ہے۔ آٹھواں باب ضروریات کا ہے، اباحت کا درجہ بھی کہیں فرض کا ہوتا ہے، کہیں مستحب کا۔ نواں باب قول مرجوع و ضعیف پر فتویٰ دینا، بہت سے مواقع پہ قول ضعیف اور مذہب غیر پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ دسواں باب اھوان البلیتین کا ہے یعنی دو مصیبتوں میں سے آسان مصیبت کو اختیار کرنا۔ یہ دس ابواب خصوصاً فقہ المعاملات اور افتاء کے احباب و متخصصین ضرور سامنے رکھیں۔
ماہر ٹائم مینجمنٹ سلیمان احمر نے کہا آج کے مسلمان کی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ محدود دائرے تک بند ہے، آفاقی سوچ اور کوئی بڑا وژن نہ ہونے کی وجہ سے ہم کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ۷ سال کی عمر میں اسپین کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کے واقعات پر نسیم حجازی کا ناول پڑھاتھا جس کے بعد میں نے اپنا وژن بنایا کہ آج کے دور میں کہیں بھی مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہوگی تو میں ان شاء اللہ ان کی مدد کو جاؤں گا۔
مفتی محمد نے جامعۃ الرشید کے شعبہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے اوقات نماز کی پابندی اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے پریزنٹیشن پیش کی، جس میں طلبہ کی نمازوں میں غفلت کے اسباب پر غور و فکر کے حوالے سے اساتذہ کرام کی تشکیل کردہ کمیٹی کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ مفتی محمد نے سب طلبہ، فضلاء بشمول اساتذہ کو تلقین کی کہ خود بھی نمازوں کی پابندی کریں اور اپنے بچوں اور طلبہ کو بھی اس کا پابند کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دل کی اصلاح نہیں ہوتی، تب تک ظاہری اصلاح ممکن نہیں، کوئی چراغ جل رہا ہو تو اس سے لاکھوں چراغ جلائے جاسکتے ہیں، اگر چراغ ہی بجھ چکا ہو تو اس سے دیگر چراغ کیسے روشن ہوسکتے ہیں؟
مفتی حسین خلیل خیل نے کہا کہ الحاد اتباع سے جڑ پکڑتا ہے، اتباع میں افراط و تفریط الحاد کا موجب بنتا ہے، ہمیں اتباع میں توازن اور درمیانی راہ اختیار کرنی چاہیے، سوشل میڈیا کے آنے سے الحادی نظریات تیزی سے پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے سیکولر طبقے کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کے محقق و مدلل جوابات دیے۔ انہوں نے کہا کہ تصور علم کی تبدیل ہونے سے الحادی نظریات کا بنیاد پڑا، آج کا المیہ یہ ہے کہ آج جب علم کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد سائنس کا علم لیا جاتا ہے، انسانیت کی تاریخ میں ۱۶ ویں صدی میں انقلاب آیا کہ علم کا اطلاق سائنسی علم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مذہب کے تحت ہونی چاہیے، اس میں خیر و بھلائی ہے۔ سیکولر ازم کے نام پر انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا، مذہب سے زیادہ سیکولرازم کے نام پر انسانوں کا قتل عام کی اگیا۔ انہوں نے کہا کہ آج لادینی اور الحادی نظریات کا جواب دینے کے لیے اپنے اندر رسوخ فی العلم پیدا کریں۔

بشکریہ روزنامہ اسلام۔ 2017/02/12


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں