آج : 8 February , 2017

شام کی جیل میں 13 ہزار خفیہ پھانسیاں دینے کا انکشاف

شام کی جیل میں 13 ہزار خفیہ پھانسیاں دینے کا انکشاف

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ شام کی صرف ایک جیل میں گزشتہ 4 سال کے دوران 13 ہزار سے زائد شہریوں کو پھانسی دی گئی جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف تک نہیں کیا تھا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شام کی صرف ایک جیل میں 4 سال کے دوران 13 ہزار سے زائد عام شہریوں کو پھانسی دی گئی ہے اور یہ پھانسیاں 2011 سے لے کر 2015 تک شامی دارالحکومت دمشق سے 30 کلو میٹر دور واقع صیدنایا جیل میں دی گئیں جب کہ یہ جیل انسانی ذبح خانہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 48 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کی تیاری میں صیدنایا جیل کے سابق محافظوں، حکام، قیدیوں، ججوں اور وکلا کے علاوہ شام میں قید خانوں سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی ماہرین سمیت 84 عینی شاہدین کی معاونت حاصل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو پھانسی دینے سے پہلے دمشق کے ضلع القابون‎‎ میں قائم فوجی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا جہاں ایک سے 3 منٹ کی مختصر سماعت ہوتی تھی اورزیر حراست افراد کی جانب سے اقبال جرم کرنے یا نہ کرنے پر بھی انہیں مجرم قرار دیا جاتا تھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فوجی عدالت میں بیان لینے کے بعد زیرحراست افراد کو سویلین جیل میں منتقل کیا جاتا جہاں ایک سیل میں ان پر2 سے 3 گھنٹے تشدد کیا جاتا تھا اس کے بعد درمیانی شب میں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انہیں جیل کے ایک دوسرے حصے میں منتقل کیا جاتا تھا جہاں ایک کمرے میں ان کی گردن میں پھندا ڈالنے سے چند منٹ پہلے انہیں پھانسی دینے کے بارے میں بتایا جاتا۔ رپورٹ کے مطابق پھانسی کے بعد لاشوں کو ٹرکوں کے ذریعے دمشق کے ایک فوجی اسپتال میں بھیجا جاتا جہاں کاغذی کارروائی کے بعد فوج کی زمین پر قائم قبرستان میں اجتماعی قبر میں دفنا دیا جاتا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صیدنایا کی جیل میں ہفتے میں ایک بار اور کئی بار ہفتے میں 2 بار 20 سے 50 لوگوں کو پھانسی دی جاتی تھی اورگزشتہ سالوں کے دوران ہزاروں افراد کی موت کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے محققین کے مطابق پھانسیوں کی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل میں ڈاکٹر، وکیل، انجینیئرز اور انسانی حقوق کے کارکنان بھی قیدیوں میں شامل ہیں اس جیل میں قیدیوں کو سزائے موت دیئے جانے کا سلسلہ معمول بن چکا ہے جب کہ مبینہ طور پر حکام کی طرف سے تشدد، قیدیوں کو بھوکا پیاسا رکھنے اور طبی امداد نہ دینے کی وجہ سے بھی بڑی تعداد میں قیدی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ شام کی جیل کی صورتحال سے متعلق تنظیم کی یہ دوسری رپورٹ ہے جب کہ اس سے قبل اگست 2016 میں یونیورسٹی آف لندن کے اشتراک سے تیار کی گئی رپورٹ میں بھی شامی حکومت کا مبینہ ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہونے کا بتایا گیا تھا۔

ایکسپریس نیوز


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں