آج : 6 February , 2017

دوراندیشی و فراخدلی کے بغیر اتحاد حاصل نہیں ہوسکتا

دوراندیشی و فراخدلی کے بغیر اتحاد حاصل نہیں ہوسکتا

ممتاز سنی عالم مولانا عبدالحمید نے اپنے تین فروری دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں ایرانی قومیتوں اور اکائیوں کے اتحاد و یکجہتی کو ’اناسی کے انقلاب‘ کی کامیابی کا راز یاد کرتے ہوئے ’دوراندیشی‘ اور ’فراخدلی‘ کو اتحاد بین المسلمین کے لیے ضروری قرار دیا۔


’سنی آن لائن‘ نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت زاہدان نے ہزاروں فرزاندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے اناسی کے عوامی اسلامی انقلاب کی اڑتیسویں برسی کے موقع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوںنے کہا: انقلاب کی کامیابی اللہ تعالی کی طرف سے ایک نعمت تھی جو اس کے فضل و کرم اور قوم کے عزم و اتحاد کی برکت سے میسر ہوگئی۔ 
انہوں نے مزید کہا: شاہ کی حکومت کو وقت کی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی، اس کے باوجود ایک قوم کے عزم کے سامنے وہ سرنڈر کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اب بھی انقلاب کا دوام جو قوم کی تمنا بھی ہے، صرف اتحاد، ہم دلی اور یکجہتی ہی سے ممکن ہے۔ 
مولانا عبدالحمید نے ایرانی سرحدوں کے امن کو اتحاد کا نتیجہ یاد کرتے ہوئے کہا: دشمن کی تمام تر کوششوں کے باوجود ہماری سرحدیں محفوظ ہیں؛ اس کی وجہ قوم کی وحدت ہے اور شیعہ و سنی دونوں اپنے ملک میں امن چاہتے ہیں۔ ایران کی شیعہ و سنی برادریوں کے مفادات و نقصانات مشترک ہیں، لہذا ہم سب کو مشترکہ باتوں پر اتفاق کرکے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، ایک دوسرے کے خلاف نہیں!
صدر دارالعلوم زاہدان نے لسانی و مذہبی تعصب کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ہماری نگاہ قومیتی و مسلکی نہیں ہونی چاہیے؛ ہمارے لیے فارسی، بلوچ، کرد، ترکمن و۔۔۔ یا شیعہ و سنی کی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم سب ایرانی قوم کے افراد ہیںاور ہمارے اتحاد ہی سے ملک و قوم کی عزت بچ جائے گی۔ اسی لیے ہمیں اپنی قوت برداشت بڑھاکر فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی قوم کی شامت اور بدبختی اس وقت ہوگی جب وہ مختلف ٹولوں اور گروہوں میں بٹ جائے اور ان کی برداشت ختم ہوجائے۔ 

ایران کی سنی برادری کی آبادی سے خوف و ہراس بلاوجہ ہے
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے اپنے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں ایران کے بڑے شہروں میں ’اہل سنت کی بڑھتی آبادی‘ پر بعض افراد کی’ اظہارِ تشویش‘پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: یہ بندے کے لیے انتہائی حیرت انگیز بات تھی کہ کچھ علمائے کرام اور حضرات نے پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ بعض بڑے شہروں مثلا مشہد میں اہل سنت کی آبادی بڑھ رہی ہے! جو لوگ اتحاد کا راگ الاپتے ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد کا نعرہ لگاتے ہیں، ان کی زبان پر ایسی باتیں نہیں آنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر اہل سنت کی آبادی بڑھ رہی ہے، یہ ایران کے لیے باعثِ فخر ہونا چاہیے، چونکہ یہ بھی ایرانی قوم کے حصے ہیں۔ جب ہمارے شہروں اور صوبوں میں اہل تشیع کی آبادی بڑھتی ہے، یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ایران کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ بعض بڑے شہروں کے امن اور بہتر معاشی صورتحال کی خاطر وہاں ہجرت کرتے ہیں یا آس پاس کی بستیاں اب شہر کا حصہ بن چکی ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: جس طرح ایران عراق کی جنگ کے دوران شیعہ سنی کا کوئی فرق نہیں تھا اور پوری قوم نے ملک کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اب بھی جب عہدے تقسیم ہوتے ہیں اور روزگار فراہم کیا جاتاہے، تو شیعہ سنی کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ 
اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے علما، حکام اور اداروں کو نصیحت کی اپنی قوت برداشت میں اضافہ کریں۔

علما کو دیگر صوبوں کے دورے سے منع کرنا غیرقانونی ہے
صدر اسلامی فقہ اکیڈمی اہل سنت ایران نے صوبہ خراسان کے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا شہاب الدین شہیدی کے جنازے میں بعض علما کو شرکت سے منع کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: کسی صوبے میں نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ہم سب ایرانی ہیں اور قانون کے مطابق ہمیں آزادی حاصل ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا: یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وہ افراد جن کی سوچ اور آرا و افکار واضح ہیں اور وہ اپنے ملک کی عزت چاہتے ہیں، انہیں بین الصوبائی دوروں اور اسفار کے لیے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اگر مختلف ادارے اپنی قوت برداشت بڑھادیتے، یقینا عوام کے سامنے ان کی مزید عزت ہوتی اور ان کا مقام بڑھ جاتا۔ اس صورت میں ایرانی قوم کے علاوہ دنیا کے آزاد اور مستقل افراد بھی ہمیں گلے لگاتے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے ایرانی قوم کے افراد، علما اور حکام کو مخاطب کرکے کہا: اگر ہم دنیا کے سامنے مثال پیش کرنا چاہتے ہیں، ہمیں میانہ روی کی راہ اختیار کرکے انصاف کی فراہمی سے مثالی کردار پیش کرنا چاہیے۔ 
یاد رہے گذشتہ ہفتے کو شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کو مرحوم مولانا شہاب الدین شہیدی کے جنازے میں شرکت سے روک دیا گیا تھا جس پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

ٹرمپ اپنی غلط پالیسی بدل دے
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ٹرمپ نے آتے ہی سات مسلم ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا کے دروازے بند رکھنے کا حکم جاری کیا۔ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ وہ ممالک جو ترقی و تہذیب کا دعوی کرتے ہیں ، اپنے دروازے بند رکھ کر قوموں کے درمیان دیواریں کھڑی کرتے ہیں۔ حالانکہ اب دنیا کی دیگر قومیں دیواریں ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں، مگر امریکیوں نے تنگ نظری کا مظاہرہ کرکے الگ راستہ اختیار کیا ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا: معلوم نہیں ٹرمپ کہاں سے اور کیسے امریکا کا صدر بن چکاہے جو اب اقوام عالم کے درمیان دیواریں تعمیر کرنے کی کوشش میں ہے۔ ٹرمپ اور اس کے پیشرو سیاستدانوں کو چاہیے اپنی سابقہ غلط پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ 
خطیب اہل سنت زاہدان نے دنیا کی طاقتوں کو مخاطب کرکے کہا: مسٹر ٹرمپ، امریکیوں اور یورپیوں کو چاہیے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے نئی پالیسیاں اپنائیں۔ فلسطینی قوم کو آزاد کراکے مکالمے کی منطق کو نافذ کرنا چاہیے۔ انصاف اور میانہ روی کی راہ اپنانے سے دنیا میں امن قائم ہوگا۔ 
صدر دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: دہشت گردی و انتہاپسندی کا خاتمہ بمباری، تخریب کاری اور جنگ سے ممکن نہیں؛ جنگ سے جنگ جنم لیتی ہے۔ عسکری حملہ مناسب علاج نہیں ہے۔ اس حوالے سے باریک بینی سے تمام جوانب کو دیکھنا چاہیے اور مخالف کی بات بھی سن کر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ 
انہوں نے مزید کہا: تجربے سے ثابت ہوگیا امریکہ و روس سمیت تمام طاقتوں کی پالیسیاں غلط تھیں اور انہیں اپنی اسٹریٹجیز میں نظر ثانی کرنی چاہیے۔ صہیونی ریاست اور انتہاپسند یہودیوں کی پشت پناہی اور حمایت ان کی غلط پالسیوں کی ایک مثال ہے۔ لہذا مذاکرات اور انصاف فراہم کرنے سے امن اور استحکام امن کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ 

شیخ الحدیث مولانا شہاب الدین شہیدی کے انتقال پر افسوس کا اظہار
اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے گذشتہ ہفتے میں بلوچستان اور خراسان کے تین علمائے کرام کے انتقال پر گہرے افسوس اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: دارالعلوم احناف خواف جو صوبہ خراسان کا تاریخی اور پرانا مدرسہ ہے، مولانا شمس الدین مطہری کی یادگار ہے۔ مذکورہ مدرسے کے مفتی اور شیخ الحدیث مولانا شہاب الدین شہیدی دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق و مالک سے جا ملے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو اجر وصبر نصیب فرمائے۔ مولانا شہیدی کی علمی شخصیت سے تمام مدارس دینیہ اور مسلمان نفع اٹھاتے تھے اور ان کا وجود سب کے لیے ایک سرمایہ تھا۔ 
انہوں نے کہا: مولانا خدابخش جوہری اور مولانا خدانظر قلندرزہی بھی خطے کے خادم اور خیرخواہ علمائے کرام تھے جو مولانا شہیدی کی تدفین کے وقت وہ بھی اپنے ابدی گھر کے سپرد ہوئے۔ اللہ تعالی سب کی درجات بلند فرمائے۔ 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں