آج : 21 January , 2017

پیر طریقت مولانا عبدالحفیظ مکی کا سانحہ ارتحال

پیر طریقت مولانا عبدالحفیظ مکی کا سانحہ ارتحال

انٹرنیشنل ختم نبوت کے مرکزی امیر اور عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی ساؤتھ افریقہ کے تبلیغی و خانقاہی دورہ کے دوران اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، اُن کی نماز جنازہ آج (19 جنوری) مسجد نبوی میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین جنت البقیع میں کی جائے گی۔ آپ شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز تھے۔
مولانا عبدالحفیظ مکی نے پسماندگان میں ۴ بیٹے اور بیوہ سمیت لاکھوں عقیدت مند، مریدین اور کارکن سوگ وار چھوڑے، مولانا عبدالحفیظ مکی پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی قابل احترام شخصیت تھے، ان کی تمام زندگی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ تحریر و تصنیف، دعوت و تبلیغ مدارس اور خانقاہوں کو قائم کرنے میں گزری۔ ملک بھر کے جید علمائے کرام سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے مرحوم کے روحانی و خانقاہی اور تحریک ختم نبوت کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شیخ عبدالحفیظ مکی کے مریدین کا حلقہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور وہ طویل عرصے سے تحریک ختم نبوت کے عالمی سطح پر صفِ اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے انتقال سے پوری دنیا میں تحریک ختم نبوت سے وابستہ لوگ سخت صدمہ کا شکار ہوئے ہیں۔
قطب الاقطاب مجدد وقت حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا کاندھلوی رحمہ اللہ مہاجر مدنی قدس سرہ کے شاگرد رشید اور خلیفہ اجل مولانا عبدالحفیظ مکی 1946ء میں پنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان تقریباً نصف صدی پہلے کشمیر سے آکر آباد ہوا تھا۔ آپ کا نسب کشمیر میں اسلام آباد کی تحصیل کو لگام کے حاکم عبدالسلام ملک سے جاملتا ہے جو ساتویں صدی ہجری میں امیرکبیر سیدعلی ہمدانی قدس سرہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ تحریک آزادی میں آپ کو پورے خاندان نے سیاسی اور عسکری طور پر بھر پور حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد بھی سارے خاندان نے سیاسی اور عسکری طور پر بھرپور حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد سارا خاندان امرتسر سے فیصل آباد (لائلپور) منتقل ہوگیا۔ ابتدائی ناظرہ قرآن اپنی دادی مرحومہ سے پڑھا جو باقاعدہ قرآن کی تعلیم دیا کرتی تھیں۔ مسلمانوں کی بربادی جو تقسیم کے وقت ہوئی اس سے دلبرداشتہ ہوکر آپ کے والد ماجد نے 1973ء میں مکہ مکرمہ ہجرت فرمائی اور مستقل حرمین میں قیام کیا اور 1380ھ میں سعودی شہریت مل گئی۔ مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ محترم قاری عبدالرؤف صاحب سے حضرت نے قرآن کو دوبارہ تجوید سے پڑھا اور محرم الحرام 1384ھ مطابق 1964ء میں باقاعدہ المدرسہ السعدیہ میں داخلہ لیا اور مختلف مدارس میں عصری اور دینی علوم حاصل کیے۔ اسی دوران تبلیغی جماعت میں وقت بھی لگاتے رہے۔ 1374ھ مطابق 1954ء میں ثانویہ کی تکمیل کی اور والد ماجد ملک عبدالحق صاحب رحمہ اللہ (جو مکہ مکرمہ کے معروف صنعت کار اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے مجاز بیعت بھی تھے اور ان کا شمار تبلیغی کے عمائدین میں ہوتا تھا) کے ارشاد پر ایک سال حضرت جی ثانی حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی نور اللہ مرقدہ کی معیت خاص میں تبلیغ میں گزارا اور حضرت جی مولانا انعام الحسن نوراللہ مرقدہ کی صحبت میں بھی رہے۔ 1385ھ مطابق 1965ء کو اباجان کی اجازت اور حضرت جی مولانا انعام الحسن رحمہ اللہ کے مشورے سے حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ سے بیعت ہوئے۔
مکہ مکرمہ واپسی پر مختلف مشایخ سے درس نظامی کی متوسط کتب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اندرون ملک تبلیغ میں مشغولیت رہی اور 1387ھ مطابق 1967ء میں سہارنپور میں مشایخ مظاہر العلوم سے موقوف علیہ کی کتابیں پڑھیں اور مکہ معظمہ میں مزید کچھ کتابیں پڑھیں پھر 1388ھ مطابق 1968ء باقاعدہ دورہ حدیث سے فراغت ہوئی، حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تدریس حدیث کا یہ آخری سال تھا۔ 1388ھ بمطابق 1968ء میں دورہ حدیث کے امتحان میں مدرسہ مظاہر العلوم میں اول آئے۔
1386ھ مطابق 1966ء 27 رمضان المبارک کی رات حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے مدرسہ مظاہرالعلوم دار جدید کی مسجد میں اپنے اعتکاف میں چاروں سلسلوں میں اجازت بیعت مرحمت فرما کر اپنے سر سے بندھا عمامہ اتار کر حضرت کے سر پر رکھا اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
1402ھ مطابق 1982ء حضرت شیخ الحدیث کے وصال تک طویل عرصہ حضرت نے اپنے شیخ کے زیردست اور مکمل نگرانی میں گزارا، کسی قسم کی عائلی، تجارتی اور تعلیمی و تدریسی مصروفیات کو شیخ کی صحبت اور خدمت میں خارج نہ بننے دیا۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے مہینوں کو اور عموماً تمام وقت مکمل انقطاع کے ساتھ شیخ کی صحبت میں گزارا۔ مدرسہ صولتیہ کی تدریس حدیث ہو یا دعوت و تبلیغ امریکا، جاپان، ہند و پاک یا خلیج کے چلے سب حضرت کے حکم اور سرپرستی میں انجام دیے۔
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف کو فروغ دینے کے لیے مکہ مکرمہ میں المکتبۃ الامدادیہ اور مدینہ منورہ میں مطابع الرشید کو حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی اجازت و رغبت سے قائم فرمایا نیز حضرت کی معرکۃ الآراء تصنیف ’’اوجز المسالک‘‘ اور ’’بذل المجھود‘‘ کی اشاعت کے واسطے مصر میں بار بار طویل قیام کیا، جس سے حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ کا مکمل اعتماد خصوصی توجہ اور دعائیں حضرت کو نصیب ہوئیں۔ جن کا تذکرہ مفکر اسلام شیخ ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے سوانح حضرت شیخ میں بھی کیا اور خود حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے آپ بیتی میں جگہ جگہ اپنی شفقتوں اور اعتماد کا برملا اظہار فرمایا۔ حضرت شیخ کے وصال کے بعد حضرت کے تعلیمی اور اصلاحی سلسلے کو قائم رکھتے ہوئے آپ نے کئی عربی اور اردو کتب و رسائل تصنیف فرمائے، جن کی تعداد 50 کے قریب ہے۔
نیز حضرت شیخ حضرت گنگوہی اور دیگر اکابر علماء دیوبند کی تقاریر بخاری کو الکنز المتواری شرح بخاری کے نام سے 24 جلدوں میں اور اس کے علاوہ اکابر علماء دیوبند کی کئی خصوصیات اور علمی کاوشوں اور صحیح نہج پر شرعی تصوف کو عالم عرب پر آشکارا فرمایا۔ حجاز مقدس کے علاوہ، پاک و ہند، بنگلہ دیش، یورپ، امریکا اور افریقہ میں اصلاحی سلسلہ کو قائم کیا۔ اعلاء کلمۃ اللہ اور باطل کی سرکوبی کے واسطے آپ نے سعی جمیل کی اور اپنی قیمتی آراء اور روحانی سرپرستی سے کئی ایک جماعتوں کی بنیاد رکھی اور کئی ایک رجال تیار فرمائے۔ جو مدارس، مساجد، خانقاہوں کے علاوہ سیاسی، تبلیغی، رد فرق باطلہ اور دین کی سربلندی کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حضرت سے اجازت حدیث لینے والے اور شرف تلمُّذ رکھنے والے طلبہ و علماء کرام سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں ہیں جو پورے عالم عرب و عجم میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کو حضرت نے اجازت بیعت عطا کی، ان میں 82 کا تعلق پاکستان، 39 کا جنوبی افریقہ، 10 کا برطانیہ، 7 کا ہندوستان، 17 کا حجاز مقدس اور 34 کا بنگلہ دیش سے ہے، جب کہ نیپال اور ویسٹ انڈیز میں ایک ایک موجود ہیں۔ حضرت کا سالانہ اصلاحی دورہ پاکستان، افریقہ و غیرہ میں پابندی اور باقاعدگی سے ہوتا تھا جس میں تشنگان علوم و معرفت ہزاروں کی تعداد میں استفادہ حاصل کرتے تھے۔

بقلم: خالد محمود
اشاعت: روزنامہ اسلام ۔19/jan/2017


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں