آج : 11 December , 2016
مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک مصلح، ایک مربی

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

اس بات میں کسی اختلاف کی گنجایش نہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ صدیوں میں جن علمااور بزرگوں کی علمی و تصنیفی خدمات، دعوتی وتبلیغی مساعی اور ان سے وابستہ اشخاص و رجال نے برِّصغیرکے دینی و علمی ماحول کو متاثر کیااور انسانوںکے ایک بڑے طبقے کارشتہ ان کے حقیقی خالق ومالک سے جوڑا، اُن میں حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی فاروقی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ ﴿۳۶۸۱-۵۴۹۱﴾ کا اسمِ گرامی بہت ممتاز اور نمایاں ہے۔ انھیں ایک بڑے حلقے میںحکیم الامت کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لقب ان کے اسمِ گرامی کے ساتھ نہایت مناسب اور موزوں ہے۔ ایسا لگتاہے کہ حکیم الامت کی یہ ترکیب اُنھی کے لیے وضع ہوئی ہے۔

مجھے بچپن میں اپنے مربی و سرپرست جدّ محترم حضرت میاں ثابت علی رحمتہ اللہ علیہ ﴿متوفّٰی:۱۹۶۲﴾ اور بعض دوسرے بزرگوں کی زبانی جن قدسی صفات علما اور بزرگوں کے نام اور کارنامے سننے کو ملے تھے، ان میں حضرت سیداحمد شہیدرحمتہ اللہ علیہ کے خانوادے کے معروف عالم ومجاہد حضرت مولانا سید محمد امین نصیرآبادی رحمتہ اللہ علیہ اور حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی فاروقی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے اسماے گرامی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکرہیں۔ ایسا شاید ہی کوئی دن گزرتا رہاہو، جس میں کسی نہ کسی کام یا شرعی حکم کے ذیل میں ان کا ذکر سننے میں نہ آیا ہو۔ میرے نانا محترم شرفِ ارادت تو حضرت مولانا سید محمدامین نصیرآبادی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے، لیکن حضرت تھانویؒ سے بھی اُنھیں بے پناہ عقیدت تھی۔ دینی و فقہی مسائل کے سلسلے میں سب سے پہلے ان کی نگاہ حضرت تھانوی ہی کی طرف اٹھتی تھی۔ اپنے حلقہ بگوشوں کو بھی وہ ہمیشہ اُنھی کی کتابوں کی طرف متوجہ فرماتے تھے۔ شاید اسی خاص ماحول، ان بزرگوں کے احوال و کوائف سننے اور بچپن کی مخصوص ذہنی و فکری تربیت کاہی نتیجہ ہے کہ میں گرچہ زندگی کے مختلف نشیب وفراز سے گزراہوں، بہ وجوہ بارہ برس کی عمر میں میں نے گھر چھوڑدیا، وطن کی رنگینیوں اور رعنائیوں سے دور ہی رہا، اس دوران میں کیسے کیسے لوگوں سے سابقہ پیش آیا، کیسے کیسے افکار ونظریات کے لوگوں میں میں رہا اور کیسی کیسی جماعتوں اور تنظیموں سے اور ان کے افراد و زعما سے دور ونزدیک کے تعلقات رہے، لیکن ان بزرگوں کے روحانی سحر سے میں نے خود کو کبھی آزاد محسوس نہیں کیا۔ کتاب و سنت اور عقائدِ صحیحہ سے ہمیشہ رشتہ استوار رہا۔ الحمدللہ کسی غلط نظریہ وفکر کااثر میں نے کبھی قبول نہیںکیا۔ ہمارے مرحوم دوست والی آسی کا بہت مشہور شعر ہے :
میں چلتا رہا سر اٹھاے ہوے
مرا قتل ہر روز ہوتا رہا
یہ شعر میری اس خانہ بدوشانہ زندگی پر پوری طرح صادق آتا ہے۔

حضرت مولانا تھانویؒ کی ذاتِ ستودہ صفات دین پسند حلقوں کے لیے آج بھی باعث فیض و برکت ہے۔ ان کی دینی و روحانی خدمات کے نور سے ایک دنیا منور ہے۔ انھوںنے زبان وقلم کے ذریعے رسولِ کائنات کے نقوشِ حیات کو اجاگرکرنے کا ایساکارنامہ انجام دیاکہ ایمان ویقین سے تعلق رکھنے والا انسانوں کا ایک بڑا طبقہ اس سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکا۔ وہ اپنے اندر علم و معرفت کا ایک جہاں سمیٹے ہوئے تھے۔ وہ بہ یک وقت قرآنی علوم کے عالم بھی تھے اور احادیث و سیرت کے رمز شناس بھی، حقیقی تصوف ﴿جس کامناسب نام اِحسان ہے﴾ کے سمندر کے غوطہ زن بھی تھے اور علم فقہ کے ادا شناس بھی اور اپنے عہدکے بے مثل واعظ و متکلم بھی۔

ہمارے مذہبی حلقوں میں ‘’عالم باعمل’’ کی اصطلاح بہت مقبول ہے۔ اسے ان علما کے ناموں کے ساتھ استعمال کیاجاتا ہے، جنھیں ان کی ذاتی زندگی میں نیک، متقی اور خدا ترس تصور کیاجاتا ہے۔ جہاں تک میں نے مولانا تھانویؒ کے حالات سنے ہیں اور ان کے مواعظ وملفوظات کامطالعہ کیا ہے، اسی نتیجے پر پہنچاہوں کہ یہ اصطلاح ماضی قریب یا موجودہ عہد میں سب سے زیادہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ موزوں اور مطابق حال معلوم ہوتی ہے۔ مجھے اس میں کوئی اعتراض نہیں ہوگاکہ میری اس رائے کو ‘’پسنداپنی اپنی خیال اپنااپنا’’ سے تعبیر کردیاجائے۔ لیکن جو لوگ خالی الذہن ہوکر اِس پر غورکریں گے اور ان کی دعوتی،اصلاحی اور تربیتی زندگی کامطالعہ کریں گے اِن شائ اللہ وہ میری بات کی تصویب کریں گے۔
گزشتہ صدی کی مذہبی شخصیتوں کی تاریخ اوران کی سیرت کامطالعہ کریں تو ایسی شخصیتیں بہت کم ملیںگی، جنھوںنے عوامی زندگی اور اصلاح و تربیت کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے اتنی بااصول اور منظم و منضبط زندگی گزاری ہو۔ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ شاید ہی بے اصول اور قول وعمل کے تضاد سے داغ دار ہو۔ ان کی پوری زندگی عامتہ المسلمین کی دینی، اصلاحی اور علمی رہ نمائی سے عبارت ہے۔ انھوں نے اپنے مشاغل شب و روز کے لیے جو اصول اور ضوابط بنائے تھے، تمام عمر اس کی پابندی کی اور ایسی پابندی کی کہ کبھی اس کے سامنے کسی بڑی سے بڑی شخصیت یا عہدہ و منصب کی رعایت نہیں فرمائی۔اس سلسلے میں ان کے بے شمار واقعات کتابوں میں موجود ہیں اور اہل علم کی زبانوں سے بھی سننے کو ملتے ہیں۔

مولاناتھانویؒ پوری عمر تصنیف وتالیف، دعوت تبلیغ اوراصلاح و تربیت کے مشغلے سے وابستہ رہے۔ ان کی کتابوں کی تعداد سیکڑوں سے متجاوز ہے۔ منتسبین و وابستگان ہزاروں کی تعداد میں ہیں، جن کو ایک بڑی جماعت کی حیثیت حاصل ہے۔ مولانا کے اندر شخصیت سازی اور تعمیر سیرت کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ ان کے فیض تربیت سے ایسے ایسے آفتاب و ماہ تاب پیداہوئے، جنھوںنے اپنے مرشد کی وفات کے بعد ان کے مشن کو آگے بڑھایا اور دعوت واصلاح کے میدان میں بڑی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان میں حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری ثم الٰہ آبادی، حکیم الاسلام مولاناقاری محمد طیب قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مسیح اللہ خاں شیروانی، حضرت مولانا شاہ ابرارُ الحق حقی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحی عارفی،خواجہ عزیزالحسن مجذوب، حضرت مولانا سراج احمد خاں امروہوی، حضرت مولانا سیدحامدحسین امروہوی اور حضرت مولانا اسعد اللہ رام پوری رحمہم اللہ تعالیٰ کے اسماے گرامی نہایت روشن و تاب ناک ہیں۔ یہ سب حضرت تھانویؒ کی غیرمعمولی جدوجہد ، اصولوں اور ضابطوں کی بے رو رعایت پاس داری، اوقات کی مناسب تقسیم اور طے شدہ معمولات پر سختی سے پابندی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے اپنے اصول و ضوابط اور معمولات پرکاربند رہ کر تنِ تنہا وہ کام انجام دیا، جو کسی بڑے ادارے کا متقاضی تھا۔

حضرت ِ تھانویؒ قرآن و حدیث، فقہ وتفسیر اور معرفت و سلوک میں غیرمعمولی امتیاز و تفوق کے علاوہ نفسیات شناس بھی تھے۔ انسانوں کی نفسیات میں انھیں گہرا درک حاصل تھا۔ کس انسان سے کب اور کیا برتائو کیاجاے، اس سے وہ بہ خوبی واقف تھے۔ یہ وہ خوبی ہے، جو اصلاح و تربیت اور دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔ اس صلاحیت کے بغیر اس راہ میں کوئی مفید خدمت نہیں انجام دی جاسکتی۔ اس کے بغیر جو بھی کام ہوگا، وہ اطمینان بخش نہیں ہوگا۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتاہے کہ اب تک جتنے بھی داعی، مبلغ اور مصلح ہوئے ہیں ، انھوں نے اپنی اسی نفسیات شناسی اور مزاج رسی کی بہ دولت کام یابی حاصل کی ہے۔ مولانا عبدالماجددریابادی کی کتاب ‘’حکیم الامت’’ مولانا تھانوی کی زندگی کے اسی رخ کو پیش کرتی ہے۔

حفیظ جون پوری انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے ایک مشہور وباکمال شاعر گزرے ہیں۔ یہ حضرت امیر مینائی کے ارشد تلامذہ میںشمار ہوتے تھے۔ اس عہد کے بڑے بڑے اساتذۂ فن نے ان کے شعری کمالات کااعتراف کیاہے۔ یہ شعر وسخن میں یکتائی کے ساتھ جون پور کے بڑے زمین داروں میں بھی تھے۔ اس وقت کے زمین داروں میں بالعموم جو اخلاقی اور سماجی خرابیاں ہوتی تھیں، وہ ان میں بھی موجود تھیں۔ شراب و شباب ان کا خاص مشغلہ تھا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو جون پور سے پٹنہ تک مشہور تھا۔ ایک بار انھوں نے جون پور میں حضرت ِ تھانوی کا وعظ سنا۔ انھیں اپنی زندگی پر شدیدپشیمانی ہوئی۔ وہیں مجلس میں بیٹھے بیٹھے ایک عریضہ لکھ کر مولانا تھانویؒ کی خدمت میں پیش کیا، جس میں انھوں نے اپنی اب تک کی زندگی پر اظہار تاسف و پشیمانی کیاتھا اور توبہ و بیعت کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔

مولانا نے حفیظ صاحب کا خط پڑھااور قریب بلاکر فرمایا: سفر میں یک سوئی نہیں ہوتی۔ آپ تھانہ بھون آئیے۔ وہیں تفصیل سے گفتگو ہوگی۔

حفیظ جون پوری کچھ دنوں کے بعد تھانہ بھون ضلع مظفرنگر پہنچے۔ وہاں پتا چلاکہ مولانا کسی جلسے میں شرکت کے لیے دیوبند تشریف لے گئے ہیں۔ وہ فوراً وہاں سے دیوبند کے لیے روانہ ہوگئے۔ دیوبندپہنچے تو حضرت مولانا تھانہ بھون کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ وہ پھر وہاں سے تھانہ بھون پہنچے اور حضرت تھانوی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جون پور کی ملاقات کا حوالہ دیا،اپنی ماضی کی زندگی پر اظہار تاسّف کیا اور بیعت کی خواہش کااِعادہ کیا۔
حفیظ صاحب کے چہرے پر ڈاڑھی کے معمولی بال تھے، جنھیں دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ یہ محض سفر میں شیوکرنے کا موقع نہ ہونے کی وجہ سے اُگ آئے ہیں۔ مونچھیں البتہ لمبی تھیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا تھانوی بیعت کے معاملے میں بہت محتاط واقع ہوئے تھے۔ کافی دن دیکھنے اور پرکھنے کے بعد ہی بیعت کا فیصلہ فرماتے تھے۔ البتہ اصلاح کا سلسلہ جاری رہتاتھا۔ لیکن چوں کہ وہ ایک عارف تھے اور انسانی مزاج و طبائع کی شناخت رکھتے تھے، اس لیے انھوںنے پہلی ہی نطر میں پہچان لیاکہ حفیظ طلبِ صادق لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ انھوںنے بیعت کے لیے جمعہ کی نماز کے بعد کا وقت مقرر کردیا۔ مولانا کا یہ رویہ خانقاہ میں موجودلوگوںکے لیے حیرت ناک تھا۔ ایک نووارد اور بہ ظاہر بے دین شخص کی طرف مولاناکا یہ التفات ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ لیکن کہاکسی نے کچھ نہیں۔ وقتِ مقرر پر حفیظ جون پوری بیعت کے لیے حاضر ہوئے تو ان کا چہرہ بالکل صاف تھا۔ ڈاڑھی کے نام سے ایک بال بھی چہرے پر نہیں تھا۔ مولانا تھانوی نے انھیں دیکھا، کچھ دیر دیکھتے ہی رہے۔ حفیظ سمجھ گئے کہ حضرت بہ زبان خاموشی مجھ سے فرمارہے ہیں کہ ‘‘اللہ کے بندے اگر تو نے اسے بڑھایا نہیں تو منڈاتے بھی نہ’’۔ قبل اس کے کہ مولانا کچھ فرماتے حفیظ صاحب خود ہی گویا ہوئے : حضرت! میں بیعت کے لیے حاضر ہوا ہوں، اب تو مجھے ہر بات آپ ہی کی ماننی ہے۔ چوں کہ میں ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہوں، طویل سفر میں موقع نہ ملنے کی وجہ سے شیو بڑھاہواتھا ، اس لیے میں نے اسے صاف کرانا ضروری سمجھا۔ تاکہ آپ سے میری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے۔ مولانا کے ہاں صاف گوئی کی بڑی قدر تھی۔ انھوںنے بغیر کسی ڈانٹ پھٹکار کے انھیں اپنے حلقۂ ارادت میں شامل کرلیا۔ چند روز قیام کے بعد حفیظ صاحب اپنے وطن آگئے، خط و کتابت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اپنے حالات اپنے مرشد کو لکھ کر بھیجتے اور رہ نمائی حاصل کرتے رہے۔ اس کے بعد حفیظ جون پوری میں ایسی تبدیلی آئی کہ اس عہد کے بڑے بڑے علما اور زہاد کو ان پر رشک آنے لگا۔ انھوںنے اپنی شاعری کے سلسلے میں بھی مولاناکی مرضی دریافت کی تھی کہ حکم دیں تو شاعری ترک کردوں۔ مولانانے فرمایا: ترک سخن مناسب نہیں۔ البتہ حکمت و موعظت کی باتوں کو موضوعِ سخن بنانے کا التزام کیاجائے۔ اس سلسلے کا حفیظ جون پوری کا یہ شعر اپنے زمانے میں بہت مشہور ہواتھا :

کرے بیعت حفیظ اشرف علی سے
بہ ایں غفلت یہ ہشیاری تو دیکھو
بات آگئی ہے تو اسی ذیل کا ایک واقعہ اور سنتے چلیے۔

جگر مرادآبادی سے اردو دنیا کاہر فردِبشر واقف ہے۔ یہ اپنے زمانے کے نہایت مقبول اور ہر دل عزیز شاعر تھے۔ غزل سے ان کے مزاج کو خصوصی مناسبت تھی۔ اسی وجہ سے انھیں اردو دنیا میں رئیس المتغزلین یا سلطانِ تغزل کے لقب سے یاد کیاجاتاتھا۔ آج بھی ان کے اشعار ذوق وشوق کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ جتنی شہرت ان کی غزلوں کو حاصل تھی، اتنی ہی یا اس سے کچھ کم و بیش ان کی رندی و سرشاری کو بھی حاصل تھی۔ ہر وقت نشے میں رہتے تھے۔ بلانوشی کی اصطلاح شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے وضع ہوئی ہو۔ ان کی رندی، سرشاری اور بادہ خواری کے سیکڑوں واقعات مشہور ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ وصف بھی تھا کہ خواہ وہ کتنی بھی پیے ہوے ہوں، کبھی آپے سے باہر نہیں ہوے۔ ہمیشہ سنجیدگی کے دائرے میں رہتے تھے۔ علما اور بزرگوں کا ہرحال میں اور بے حد احترام کرتے تھے۔ جگرصاحب ایک روز مظفرنگر یا سہارن پور کے کسی مشاعرے میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ اسٹیشن پر ان کی ملاقات حضرت مولانا تھانویؒ کے مشہور خلیفہ خواجہ عزیزالحسن مجذوبؒ سے ہوگئی۔خواجہ صاحب بھی بلند پایہ شاعر تھے۔ دونوں بڑے تپاک سے ملے۔ پوچھاکہاں جارہے ہو؟ حضرت مجذوب نے بتایاکہ تھانہ بھون جارہاہوں، حضرتِ مرشد سے ملاقات کے لیے ۔ جگر صاحب بے چین ہوگئے اور کہا: ‘’میری بھی دیرینہ خواہش ہے کہ میں بھی حضرت مولانا کی خدمت میں حاضری دوں ۔ لیکن کیا کروں، اپنی بلانوشی کی وجہ سے ہمت نہیں کرپاتا’’۔ مجذوب صاحب نے فرمایا: ہاں یہ بات تو درست ہے۔ حضرت کے ہاں اس سلسلے میں بڑی سختی ہے۔ اس حال میں کبھی مت آجانا۔ کچھ دیر میں دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ عصر بعد کی مجلس میں مجذوب صاحب نے حضرت مولانا تھانوی کے سامنے جگر صاحب سے ہونے والی گفتگو نقل کی۔ مولاناتھانوی مجذوب صاحب پر بہت ناراض ہوئے۔ کہاتم نے انھیں آنے سے کیوں روک دیا۔ یہ تو درست ہے کہ میرے ہاں سختی و پابندی زیادہ ہے۔ لیکن یہ پابندیاں یا سختیاںشخصیتوں کو دیکھ کر عائد ہوتی ہیں۔ جگر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ تمھیںانھیں آنے دینا چاہیے تھا۔ کیا عجب کہ یہاں آنا ہی ان کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا۔
کچھ دنوں کے بعد پھر اسی جگہ پر جگر اور مجذوب کی ملاقات ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد مجذوب صاحب نے بتایاکہ میں نے آپ سے اُس دن کی ملاقات کا تذکرہ حضرت سے کیاتھا۔ جگر صاحب نے نہایت اضطراب اور بے چینی کے ساتھ حضرت تھانوی کا تاثر معلوم کرنا چاہا۔ مجذوب صاحب نے بتایاکہ حضرت مجھ پر بہت ناراض ہوے اور فرمایاکہ تمہیں انھیں آنے دینا چاہیے تھا۔ تم نے یہاں کی سختی اور پابندی کا تذکرہ کرکے ناحق انھیں روک دیا۔ جگر صاحب اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ بس۔ یہ سننے کے بعد جگر مرادآبادی کہیں اور جانے کا ارادہ ملتوی کرکے مجذوب صاحب کے ہم راہ تھانہ بھون کے لیے چل پڑے۔ قصبے میں پہنچ کر کسی مسجد کے غسل خانے میں غسل کیااور خانقاہِ اشرفی میں حاضر ہوئے۔ حضرت تھانوی بڑے تپاک سے ملے۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد ان سے کلام کی فرمایش کی۔ جگرصاحب نے وہ غزل سب سے پہلے اسی مجلس میں پڑھی تھی، جس کامطلع یہ ہے :

جان کر من جملۂ ارباب مے خانہ مجھے
مدّتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے
جب یہ شعر پڑھاتو جگر کی ہچکیاں بندھ گئیں :
ننگِ مے خانہ تھا میں، ساقی نے یہ کیاکردیا
پینے والے کہہ اٹھے یا پیرِ مے خانہ مجھے

جگرنے دو تین روزوہیں قیام کیا۔ اس کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی اور ہمیشہ وہ مصلیٰ دربغل رہنے لگے۔

یہ دونوں واقعات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ حضرت تھانوی واقعتہً حکیم الامت تھے۔ افرادِ امت کے حالات و کوائف باریک بینی سے دیکھتے اور ان کے امراض کاعلاج کرتے تھے۔ ان کی اِسی حکمت و دانائی اور فہم وتدبر کے باعث سیکڑوں گم گشتگانِ راہ کومنزل نصیب ہوئی۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ گروہی ومسلکی تعصبات سے بلندہوکر سوچنے کے عادی تھے۔ ہر بات میں حکمت واصلاح کے پہلو نکالنا، دین کے وسیع مقصد کو سامنے رکھ کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا اور اپنے وابستگان ومنتسبین کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنا ان کا خاص مزاج تھا۔ اس سلسلے کے ان کے متعدد واقعات آج بھی اہل ِ علم و دانش کی مجلسوں میں سننے کو ملتے ہیں۔
مولانا احمد رضاخاں فاضل بریلوی ﴿۱۹۲۱-۱۸۵۶﴾ کے مسلک و مشرب کاتعارف کرانے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کے اظہار میں بڑے سخت واقع ہوئے تھے۔ ان کے مزاج کی یہ سختی اس درجے کو پہنچ چکی تھی کہ بعض علما کے بارے میں انھوںنے کفر کا فتویٰ دے ڈالاتھا۔ جب ان کا اِنتقال ہوا تو مولانا تھانوی کی مجلس میں کسی نے اطلاع دی کہ احمد رضاخاں کا انتقال ہوگیا۔ مولانا کو یہ بات پسند نہ آئی کہ اتنے بڑے عالم کا نام بس یوں ہی جناب اورصاحب کے بغیر لے لیاجائے۔ فرمایا: کون؟ مولانااحمد رضاخاں بریلوی؟ اطلاع دینے والے نے کہا: جی ہاں- فرمایا: اناللہ واناالیہ راجعون- آئیے ان کے لیے دعاے مغفرت کریں۔ ہاتھ اٹھاکر کافی دیر تک ان کے حق میں دعا فرماتے رہے۔ حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھاکر دعا کی۔ لیکن ان میں بعض لوگ ایسے تھے، جنھیں یہ بات ناگوار خاطرہوئی۔ جب مولانا دعا فرماچکے تو ایک نے کہا: حضرت ! حیرت ہے کہ آپ نے ایک بدعتی کانام تعظیم کے ساتھ لیا۔ مولانا نے فرمایا: وہ بدعتی نہیں تھے، محبتی تھے۔ جب کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس میں غلو کے بھی امکان ہوتے ہیں۔ ابھی مولانا نے اپنی بات پوری کی ہی تھی کہ ایک دوسرے صاحب بول پڑے کہ حضرت! وہ تو آپ کو کافر کہتے تھے۔ پھر بھی آپ نے ان کے لیے دعاے مغفرت فرمائی۔ مولانا نے بڑے ٹھیرے ہوے لہجے میں فرمایا:‘‘میاں!مجھے وہ کافر اس لیے کہتے تھے کہ وہ مجھے کافر سمجھتے تھے۔ میری کسی بات سے انھوںنے یہی نتیجہ نکالاہوگاکہ میں کافر ہوں۔ اگر وہ مجھے کافر سمجھتے ہوے بھی ‘’کافر’’ نہ کہتے تو وہ خود کافر ہوجاتے۔ یہ فقہ کامسلمہ مسئلہ ہے’’۔

اعظم گڑھ کے کسی گائوں سے ایک صاحب نے مولانا کو خط لکھا۔ اس کامتن کچھ اس طرح تھا :

‘‘میں آپ کے خلیفہ مولانا عبدالغنی پھول پوریؒ کامرید ہوں۔ میں نے گزشتہ برس مدرستہ الاصلاح میں اپنے بیٹے کا داخلہ کرایاہے۔ الحمدللہ! داخلے کے بعد سے میرے بیٹے میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ نمازیں پڑھتا ہے، گائوں کے خراب بچّوں سے الگ رہتا ہے اور جی لگاکر تعلیم بھی حاصل کررہاہے۔ میرے بعض اعزّہ کے بچے بھی اسی میں پڑھتے ہیں۔ وہاں پڑھانے میں مجھے بڑی سہولت ہے۔ لیکن میرے مرشد مولانا عبدالغنی صاحب کو یہ بات پسند نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بچے کو اس مدرسے سے اٹھالو، وہاں کی فکر صحیح نہیں ہے ۔ بچّہ آزاد خیال ہوجائے گا اور قرآن کو حدیث و تفسیر سے سمجھنے کی بہ جاے اپنی عقل سے سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ میرے مرشد نے یہاں تک فرمادیاکہ بچے کو وہاں سے ہٹالو ورنہ میں بد دعا کردوںگا۔ جب کہ میرا بیٹا بھی اسی مدرسے میں پڑھنا چاہتا ہے۔ اب آپ فرمائیں میں ایسی صورت میں کیا کروں؟ ’’

مولانا نے خط کامختصر جواب دیتے ہوے فرمایا: اگر آپ اس بات سے مطمئن ہیں کہ آپ کے بیٹے کی وہاں صحیح تعلیم ہورہی ہے اور آپ کا بیٹا بھی وہیں پڑھناچاہتا ہے تو آپ اسے وہیں پڑھنے دیجیے۔ مولوی عبدالغنی کی بددعا کی فکر مت کیجیے۔ اگر وہ بددعا کریں گے تو میں یہاں سے دعا کردوںگا۔

قارئین ان دو واقعات سے اس بات کا پورا اندازہ کرسکتے ہیں کہ اصلاح وتربیت کے سلسلے میں مولانا کی کیاسوچ تھی اور ہر بات سے وہ کس طرح مفید اور مثبت پہلو نکالتے تھے۔

مولاناتھانوی بے حد منظم اور بااصول شخص تھے۔ انھوںنے اِسی نظم وضبط اور اصول وضوابط کی روایت کو اپنے مریدوں اور قریب رہنے والوں میں بھی پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے ان کی غرض صرف یہی تھی کہ لوگوں کو سکون اور راحت حاصل ہو۔ ان کا احساس تھا کہ نظم و ضبط اور اصول پسندی کے بغیر کوئی دعوت یا تبلیغ موثر نہیں ہوگی۔ یہ مولانا تھانویؒ کی زندگی کاایک ایسا وصف ہے، جو ہمارے آج کے داعیوں ، مربّیوںاور مبلغوںکی زندگیوں میں مفقود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اشرف علی تھانوی کسی شخص یا فرد کانام نہیں، بل کہ ایک علمی، روحانی اور تربیتی ادارے کا نام ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک ایسی دانش گاہ تھے، جس نے اصلاح و تربیت کے لاتعداد پیاسوں کی پیاس بجھائی۔ وہ سلسلہ بالواسطہ طورپر آج بھی جاری رہے۔ آج کے دور میں دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تربیت کاکام کرنے کے لیے ان کی تعلیمات مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

کاند هلویز ڈاٹ کام


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں