آج : 23 November , 2016

اگر یہ مدارس نہ رہے تو!

اگر یہ مدارس نہ رہے تو!

ایک مسلمان کے لیے یہ بات باعثِ افتخار ہے کہ اس کو اللہ تعالی نے اسلام کی صورت میں ایک مکمل اور زندہ و جاوید دستورِ حیات مرحمت فرمایا ہے۔
مسلمانوں کا چودہ صدیوں پر محیط ایک شاندار اور درخشاں ماضی ہے، ان کے پاس ایک عظیم الشان تہذیب و ثقافت ہے، قرآن و سنت کی شکل میں ان کے پاس خدائی رہنمائی موجود ہے۔ قرنِ اول سے لے کر عصر حاضر تک علمائے اسلام کی جہد مسلسل کے نتیجہ میں فقہ اسلامی کی عظیم علمی میراث اور بے مثال دستورِ حیات کا ذخیرہ انہیں میسر ہے۔ یہ مسلمان ہی تھے اور ہیں کہ جنہوں نے دنیا کو خدائی ہدایت اور رہنمائی سے روشناس کروایا۔
انہیں شرک، کفر اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر ایمان و ایقان اور علم کی روشنیوں سے مالا مال کیا۔ دنیائے انسانیت کو دستور حیات دیا۔ انہیں تہذیب دی، امن دیا، مظلوموں اور ناداروں سمیت تمام طبقات انسانی کو حقوق دیے، غرض انسانیت کو جینے کا سلیقہ اور قرینہ عطا کیا۔
مسلمانوں کے عروج سے انسانی دنیا اور ان کی زندگیوں پر جو مثبت اور زوال سے جو منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، تاریخ انسانی سے واقف ایک ادنیٰ طالب علم بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا، لیکن انسانوں میں ہمیشہ سے ایک ایسا استعماری طبقہ چلا آرہا ہے جو اپنے سینوں میں موجود کینہ، بغض اور حسد کی بنا پر انسانیت کو آسمانی ہدایت و رہنمائی سے محروم کرکے ان کا استحصال کرنا چاہتا ہے۔ اسی غرض سے اس استعماری طبقہ نے ہر دور میں خدائی ہدایت و رہنمائی کے علم بردار مسلمانوں سے مختلف میدانوں میں جنگیں لڑیں، مسلمانوں کی اجتماعیت جب تک وحی الہی کی رہنمائی میں زندگی گزارتی رہی، نصرتِ خداوندی ان کے شامل حال رہی، لیکن جب مسلمانوں کی اجتماعیت اور معاشرہ خدائی تعلیمات کو چھوڑ کر نفس پرستی اور اپنی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہوگیا تو اس استعماری طبقہ کو اپنی سازشوں میں کامیاب ہونے کا موقع ملا، جس کے بڑے مظاہر اندلس ، برصغیر اور ترکی سے مسلمانوں کے اجتماعی نظم کو ایک نئے استعماری اور استحصالی نظام سے بدلنے کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ چناں چہ مذہبی بنیادوں پر استوار مغربی استعمار کو جب دنیا میں غلبہ حاصل ہوا تو اس نے باقاعدہ استعماری و تبشیری مشن کے تحت مسلمانوں کی عظیم الشان تاریخ، تہذیب و تمدن اور بے مثال علمی ورثہ اور سرمایہ پر قدغن لگانے اور اس کی حقیقت کو مسخ کرنے کی خاطر ایک استشراقی تحریک چلائی، جس کے پس پردہ متعدد سیاسی، دینی، تبشیری اور استعماری محرکات تھے، جن کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کو اسلام و مسلمانوں کے پاس موجود لاریب خدائی وحی کی رہنمائی سے محروم کرنا تھا۔
ان مخصوص اہداف کی تکمیل کے لیے ان کی تمام تر دلچسپی اور کوشش یہ رہی کہ اسلام اور اس کے محاسن میں عیب جوئی کی جائے۔ نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر زبانِ طعن دراز کی جائے۔ مغرب و یورپ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی میں گستاخی کرتے ہوئے خاکے شائع کرنا ہرگز بھی اتفاقی بات نہیں، بلکہ یہ اسی حقد و کینہ کا اظہار ہے جو زمانۂ قدیم سے ان کے سینوں کو جلائے ہوئے ہے۔ غرض اسلام اور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کا یہ مذموم گستاخانہ رویہ اس لیے ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین و تہذیب سے ہٹا کر فکری، اعتقادی اور عملی ارتداد کا شکار کیا جاسکے اور باقی تمام انسانیت کو یہ باور کروایا جاسکے کہ اسلام ماننے والے مسلمان ایک وحشی، سفاک، خون ریز اور دہشت گرد قوم ہیں۔ اہل مغرب نے ’’دہشت گردی‘‘ کی مخصوص اصطلاح انہی مقاصد کی تکمیل کے لیے ایجا دکی ہے۔
یہ بات پورے شرح صدر کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مغربی استعماری تسلط سے پہلے دنیا میں اس اصطلاح کا کوئی وجود نہ تھا، بلکہ نائن الیون سے قبل دنیا کی اکثریت کے لیے یہ اصطلاح نامانوس تھی، ان لوگوں نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ اپنے ان استعماری و تبشیری مقاصد کے حصول کے لیے کچھ نام کے مسلمان بھی تیار کیے، جن کی باقاعدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ انہی استعماری خطوط پر پرورش اور تعلیم و تربیت کرکے ان کے دل و دماغ میں ایسا زہر بھردیا کہ وہ اپنے مغربی آقاؤں سے بھی دو ہاتھ آگے نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں نے اس ذہن سازی کے نتیجہ میں اب اسلام کے خلاف فکری و قلمی ہتھیار خود تلاشنے شروع کردیے ہیں۔ تبشیری مستشرقین کے تربیت یافتہ و فیض یافتہ ان نام نہاد مسلم مفکرین، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابست اینکر پرسن اور قلم کاروں نے اپنی ہی نسل نو کے سامنے اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی اقدار کے امین ’’مدارس‘‘ کی ایسی جھوٹی منظر کشی کی ہے کہ جس کا حقیقت کے ساتھ ذرہ برابر بھی تعلق نہیں۔ پھر کچھ مسلمان ایسے بھی ہیں جو دیدہ دانستہ یا انجانے میں اپنی سادگی یا ان کے پروپیگنڈہ کی شدت سے متاثر ہو کر انہیں کی ہاں میں ملاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
عصر حاضر میں انہیں اسلام پر اپنے ناپاک حملہ میں مزید شدت لانے کی اس لیے بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ تہذیب جدید نے اہل مغرب کے عقائد سے لے کر معاشرتی نظام تک کی بنیادوں کو ہلا ڈالا ہے اور وہ اب اپنے اندر کی بے چینی سے مجبور ہوکر اسلام کی حقانیت میں سکون تلاش کرنے لگے ہیں تو اس استعماری و تبشیری طبقہ نے اہل مغرب کو اپنے عقیدہ اور مقدس کتاب میں موجود تحریفات پر غور و نقد سے روکنے اور دنیا کو اسلام کی حقانیت سے دور رکھنے کے لیے اسلام اور مسلمانوں پر سیاسی، معاشی، فکری، اور استعماری و عسکری میدانوں میں ہلہ بول دیا، مغربی استعمار چوں کہ قرونِ اولیٰ کی اسلامی فتوحات، صلیبی جنگوں اور عثمانی خلفاء کی یورپ میں حاصل کی گئی فتوحات کے نتیجہ میں اہل مغرب میں پیدا ہونے والے خوف اور اسلام کی شان و شوکت سے اچھی طرح واقف ہیں، اس پر نائن الیون جیسے مجہول الحال واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، چناں چہ انہوں نے خوف و ہراس کے اس نفساتی ماحول سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور اس ماحول میں مزید اضافہ کے اقدامات کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی تشخص کو مٹانے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت متصلب مسلمانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ اور ان کی دینی، فکری اور عملی تربیت کرنے والے اداروں، خاص طور سے مدارس کو ’’دہشت گردی کے مراکز اور فکری آماجگا ہیں‘‘ قرار دینے کا ایک ناختم ہونے والا مسلسل پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے، اس زہرلیے پروپیگنڈہ میں ان کی دیسی نمک خوار بھی ان کے شانہ بشانہ مصروفِ کار دکھائی دیتے ہیں۔
مدارس دینیہ چوں کہ اسلام، اسلامی تہذیب و ثقافت اور امتِ مسلمہ کی چودہ صدیوں کے عظیم الشان دینی اور علمی ورثہ کے امین ہیں، مدارس کی شبانہ روز محنتوں سے اسلام اپنی حقیقی روح و عمل کے ساتھ روئے زمین پر موجود ہے۔ یہ مدارس ہی ہیں جن کی جہد پیہم کی وجہ سے آج برصغیر پاک و ہند استعمار کی شدیدترین کوششوں کے باوجود ’’اندلس‘‘ نہیں بن سکا ہے، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ساٹھ سے زائد مسلمان ممالک اپنے تمام تر وسائل کے باوجود بھی ان استعماری سازشوں کا شکار ہوکر ان کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ چوں کہ مغربی استعماری قوتوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ان کے منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں آخری رکاوٹ ’’دینی مدارس‘‘ ہیں، اس لیے ان کا سارا زور اس بات پر ہے کہ کسی بھی طرح سے مدارس کو موجودہ ’’دہشت گردی‘‘ کے ساتھ نتھی کرکے اُنہیں راہ سے ہٹا دیا جائے، اگر ایسا نہ ہوسکا (اور یقیناً نہیں ہوگا ان شاء اللہ!) تو ان کے نصاب میں ایسی تبدیلیاں کروائی جائیں کہ مدارس سے بھی ’’لارڈ میکالے‘‘ کے دیے ہوئے نظام تعلیم کی طرح انہی کے پروردہ لوگ نکلیں، جن میں دنیا کو حقیقی اسلام سے متعارف کروانے کی صلاحیت مفقود ہو، جو ہر طرح کے جذبۂ حریت سے خالی ہوں۔
اہل مغرب کی طرف سے ’’مدارس دینیہ‘‘ کے بارے میں آئے روز جو نت نئے پروپیگنڈے کیے اور اپنے دیسی نمک خواروں کے ذریعے کروائے جارہے ہیں، ان میں جس طرح نائن الیون کے بعد شدت لائی گئی تھی، ٹھیک اسی طرح کچھ عرصہ قبل رونما کروائے جانے والے سانحہ پشاور کے بعد بھی حکومتی سطح سے لے کر پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں بھی ایک شور و غل بپا ہے کہ ہو نہ ہو اس دہشت گردی کے پیچھے مدارس، ان کا نصابِ تعلیم اور ان کے اساتذہ کی فکری و عملی تربیت کار فرما ہے۔
اس بارے میں ہمیں مغرب سے کوئی گلہ نہیں، چوں کہ اپنی راہ کی اس آخری رکاوٹ کو ہٹانے اور اپنے استعماری و تبشیری مقاصد کی تکمیل کے لیے وہ ’’مدارس‘‘ کو دہشت گردی کے اڈے بھی باور کروائیں گے، ان کے نصاب تعلیم پر بھی قدغن لگائیں گے، اور جہاں تک ممکن ہوا ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں مشکلات سے بھی دوچار کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن ہمیں گلہ اور شکوہ ہے تو ان نام نہاد مسلم دانشوروں اور ان کے فیض یافتہ شاگردوں سے ہے جو خود کو مسلمان اور اسلام کا خیرخواہ بھی ظاہر کرتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ یہ کہہ کر مدارس کو موجودہ ’’دہشت گردی‘‘ سے نتھی کرنے پر کمر بستہ نظر آتے ہیں کہ ماؤنے کہا تھا کہ: ’’تم لوگوں کو ذہنی طور سے مسلح کردو، ہتھیار وہ خود تلاش کرلیں گے۔‘‘
ان بے چاروں کا قصور نہیں، یہ در حقیقت سیکولرازم کے داعی اساتذہ کی طرف سے ان کی ذہن سازی ہی کا نتیجہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے تمام تیروں کا رُ خ دینی مدارس کی طرف کردیا ہے، ہم ان سے اور مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے دیگر تمام حضرات سے بصد احترام یہ کہیں گے کہ یہ بات ہر ذی شعور پاکستانی اچھی طرح جانتا ہے کہ موجودہ عسکریت پسندی اَسّی (۸۰) کی دہائی میں عالمی امن کے ٹھیکیدار، صاحب بہادر امریکہ کی آشیرباد پر بنائی جانے والی ہماری اپنی حکومتوں کی خارجی اور داخلی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ دینی مدارس، ان کا نصاب تعلیم اور ان کے اساتذ ہ کی تربیت؛ اس لیے کہ دینی مدارس کم و بیش اپنے اسی نصاب تعلیم اور اساتذہ کے اِسی اندازِ فکر و تربیت کے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے اس خطے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، بقول کسے کہ: ’’مدارس کا تعلیمی ماحول اور تربیتی فضا ہی عسکریت کا باعث ہیں‘‘ تو انہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے، جیسا آپ باور کروانا چاہتے ہیں تو پھر قیام پاکستان کے ساتھ ہی عسکریت پسندی کیوں شروع نہ ہوئی؟ اس نے اَسّی (۸۰) کی دہائی کا ہی کیوں انتظار کیا؟!
یہ کسے معلوم نہیں کہ جب صاحب بہادر کی ضرورت تھی تو اس وقت ’’سرخ عفریت‘‘ کو شکست دینے کے لیے ہمارے حکمرانوں نے خود اُن کی ہمنوائی میں سویلینز کو عسکریت کے فضائل سنائے، انہیں مسلح کیا اور انہیں ہر طرح سے پروموٹ کرکے ان کے تمام تر اقدامات کو ریاستی سطح پر جہاد کا درجہ دیا۔ آج جب سوویت یونین کو شکست و ریخت سے دوچار ہوئے عرصہ گزر گیا اور صاحب بہادر امیرکہ اپنے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے سرخ انقلاب کی طرح زوال پذیر ہونے جارہا ہے تو وہ اور ان کے ہم نواکل جنہیں خود مجاہدین باور کروا رہے تھے آج خود ہی انہیں خوارج قرار دینا چاہتے ہیں ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ یہ کوئی سوچ ہے یا بازیچۂ اطفال؟!
قطع نظر اس سے کہ ہمیں یا کسی کو بھی کل اور آج کی پالیسیوں سے اتفاق رہا یا نہیں، اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ آج خون ریزی اور عسکریت پسندی کی شکل میں پوری قوم جس فصل کو کاٹ رہی ہے وہ گزشتہ دہائیوں ہی کی کاشت کردہ ایک زمینی حقیقت ہے، خروج و عدم خروج کی فکری بحث کے لیے صرف اخباری کالم نہیں ، علمی وسعتوں، حزم و احتیاط اور زمینی حقائق کے ساتھ اس کا واویلا کرنے والوں کے کل اور آج کے کردار و گفتار کو بھی ضرور پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ کیا یہ بات قرینِ انصاف ہوگی کہ خود اسلام سے عملی روگردانی کرکے دوسروں پر خروج کے فتوے لگائے جائیں؟ دل چاہتا ہے کہ ان سے یہ پوچھا جائے کہ کیا زبردستی اور من مانی کرکے کسی پر خروج کے فتوے چسپاں کرنے سے وطن عزیز کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے؟ کوئی بھی صاحب عقل و شعور اُسے موجودہ تمام مسائل کا حلِ وحید ہرگز بھی قرار نہیں دے گا، تو پھر کیوں بعض ناعاقبت اندیش ان ’’امپورٹڈ فتووں‘‘ سے ملک کو مزید آگ و خون ریزی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں؟
طرفہ تماشہ دیکھیے کہ یہ لوگ اسی پر بس نہیں کرتے، بلکہ استعماری مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے مدارس کو بھی عسکریت پسندی سے نتھی کرکے ان کو اور عسکریت پسندوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتے ہیں۔ مزید برآں مدارس کے خلاف زہر اگلنے والوں کو بھی اعتراف ہے کہ مدارس والے عسکریت پسندوں کے اس طرزِ عمل سے متفق نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اہل مدارس اس طریقہ کار سے اختلاف کرتے ہیں اور آپ کو بھی اس کا اعتراف ہے تو پھر کیوں مدارس کو زبردستی عسکریت سے جوڑنے کی سعی نامسعود کی جارہی ہے؟
سستی شہرت کے حصول کے لیے آپ کسی اور میدان کا انتخاب کیجیے، دنیا میں ریٹ بڑھانے کے تو اور بھی ذرائع ہیں، کیا اس کے لیے مدارس کو ہی دوش دینا ضروری ہے، خدا را! اس مذموم پروپیگنڈہ سے باز آجائیں، وگرنہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، جس دن خدا کی لاٹھی حرکت میں آگئی تو پھر ان بوریہ نشینوں اور مدارس کے خلاف زہر اگلنے والی یہ زبانیں گنگ اور قلم کی سیاہی خشک ہوجائے گی۔
کوئی اور اگر آپ کی پیش کی ہوئی ’’ماؤ‘‘ والی اس ’’نرالی منطق‘‘ کا سہارا لے گا تو یقیناًیہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گزشتہ ستر سالوں سے وطن عزیز میں جتنی بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، کرپشن، حقوق کی پامالی، منتخب حکومتوں پر آمریت کے شب خون، ملک کو دو لخت کرے، ملک و قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر سوئس بینکوں میں بھرنے، علاقائیت، صوبائیت، قومیت اور لسانیت کے نام پر کشت و خون اور دہشت گردی، پولیس گردی کے ذریعہ سینکڑوں معصوم شہریوں کو جان سے مارنے، لاپتہ افراد کیس کے مطابق متعدد قوم کے فرزندوں کو تا حال غائب کرنے اور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ڈالروں کے عوض فروخت کرنے کے پیچھے کالجز اور یونیورسٹیوں میں رائج لارڈ میکالے کا نظام تعلیم، وہاں کا نصاب اور وہاں پڑھانے والوں کی فکری اور ذہنی تربیت اور ماحول کار فرما ہے، یا پھر ملک کا اجتماعی نظام، اس لیے کہ مذکورہ کاموں میں یقیناً کوئی ایک بھی مدارس کا فیض یافتہ یا وہاں کے اساتذہ سے فکری تربیت پانے والا نہیں۔ کچھ عرصہ قبل کے اخبار میں یہ خبر کہ لاہور میں اغوا برائے تاوان اور بردہ فروشی کی وارداتیں کرنے والے مرد و عورت دونوں یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، لہذا مدارس سے زیادہ ان اداروں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
میں اپنی تحریر کو ختم کرنے سے پہلے وطن عزیز کے حکمرانوں، قومی اداروں کے پالیسی ساز ذمہ داروں اور پرنٹ و الیکٹرانیک میڈیا سے وابستہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی خدمت میں مدارس کے بارے میں شاعر مشرق، مفکر و محسن پاکستان جناب علامہ ڈاکٹر محمداقبال مرحوم کے اس قول کو پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہوں، جو یقیناً آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے، تم ہماری نہ مناتے ہو تو نہ مانو، اگر تم اس ملک و قوم کے خیرخواہ اور وفادار ہوتو اپنے محسن اور مفکر وطن کی تو مانو، علامہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ان مکتبوں کو اسی حال میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان (اور اب پاکستانی مسلمان بھی) ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، بر صغیر پاک و ہند میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ (لاہور کے شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد) کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔‘‘

تحریر: مفتی ابوالخیر عارف محمود
اشاعت: ماہنامہ بینات۔ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ
جامعہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں