آج : 17 November , 2016

قانون کا بنیادی مقصد!

قانون کا بنیادی مقصد!

اہم ترین مقصد عدل و انصاف کو بروئے کار لانا اور انسانیت کو ظلم و جور اور بہیمیت و درندگی کے چنگل سے نجات دلانا ہوتا ہے، لیکن اگر خود قانون کجروی اور درندگی کی آماجگاہ بن جائے، قانون ساز اداروں پر ظلم پیشہ درندوں کا تسلط ہوجائے اور وہ اپنی پست اور گھٹیا خواہشات کے مطابق اندھادھند قانون سازی کرنے لگیں تو ظاہر ہے کہ قانون‘ حفاظتِ عدل کے بجائے ظلم و عدوان کا پشتیبان اور پاسبان بن کر رہ جائے گا۔ اس خطرہ سے بچنے کے لیے ضرورت ہوگی کہ ’’عدل‘‘ کا مفہوم متعین کیا جائے اور اُسے ’’ظلم و عدوان‘‘ سے ممتاز کیا جائے۔
’’عدل‘‘ کیا ہے؟ اور ’’ظلم‘‘ کسے کہتے ہیں؟ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس کے بغیر قانون کا سارا دفتر لغویت و ہذیان کا پلندہ بن کر رہ جاتا ہے اور ہمیں یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ترین مفکر اور ماہرینِ قانون ’’عدل‘‘ کا ایسا مفہوم متعین کرنے سے عاجز ہیں، جو تمام انسانیت کے لیے یکساں قابل قبول ہو۔
اور جو شخص یہ نہیں جان سکتا کہ ’’عدل‘‘ کیا ہے؟ آخر کس قانون سے اُسے قانون سازی کا حق حاصل ہے؟ ایک حق تعالیٰ ہی کی ذات ایسی ہے جس کا علم کائنات کے ذرہ ذرہ کو محیط ہے اور جس کی رحمت ساری انسانیت بلکہ کائنات کے لیے عام ہے، انسانوں کے کسی خاص گروہ سے اس کا مفاد وابستہ نہیں، وہی انسانیت کے لیے ’’عدل‘‘ کا ٹھیک ٹھیک مفہوم متعین کرسکتا ہے اور اسی کا نازل کردہ قانون ’’قانونِ عدل‘‘ کہلانے کا مستحق ہے۔ قانون الہی کے سوا دنیا کے خود تراشیدہ قانون نہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں، نہ انسانیت کو ظلم و ستم کے آہنی پنجے سے نجات دلا سکتے ہیں، حق تعالی کا ارشاد ہے:
«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ» (الحدید: ۲۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور انصاف کے ترازو کو نازل کیا، تا کہ لوگ اعتدال پر قائم رہیں‘‘۔
جرم اور سزا کے درمیان وہی رشتہ ہے جو مرض اور دوا کے درمیان ہے۔ ایک ماہر طبیب مرض کی نوعیت، اس کے اسباب و عوارض اور اس کے آثار و نتائج کو سمجھتا ہے، مریض کی عادات و نفسیات کا بغور مطالعہ کرتا ہے، اس کے محلِ بود و باش اور تقاضائے سن و سال کو سوچ سمجھ کر اس کے لیے نسخہ تجویز کرتا ہے، طریقۂ استعمال بتاتا ہے، غذا و پرہیز کی بابت ہدایات دیتا ہے۔ لیکن ایک عطائی کو ان چیزوں سے سروکار ہے نہ اہلیت، اس نے کہیں سے سن لیا کہ فلاں مرض کے لیے فلاں دوا مفید ہے، بس! وہ دوا اٹھائی اور لوگوں کو دینا شروع کردی، اس کے بعد مریض کی قسمت کہ وہ جیے یا مرے۔

انسانیت کے سب سے بڑے امراض و جرائم اور اُن کا علاج
جرائم انسانیت کے سب سے بڑے امراض ہیں اور قانون کے ذریعہ ان امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ قانون کا سب سے مشکل مرحلہ جرم اور سزا کے درمیان توازن کا قائم کرنا ہے اور ایسی ترازو دنیا کے کسی کارخانے میں تیار نہیں ہوتی، جس سے جرم کے آثار و نتائج کا وزن کرکے اس کے ہم وزن سزا تجویز کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی قانون کی تمام تر دراز دستیوں کے باوجود ’’مہذب ممالک‘‘ میں گھناؤ نے جرائم کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے اور جب تک دنیا اس ’’انبیائی میزان‘‘ کے مطابق جرم و سزا کا موازنہ نہیں کرتی، اس وقت تک انسانیت پر جنگل کا قانون نافذ رہے گا اور انسانیت ظلم و عدوان کے پنجے میں سسکتی بلکتی رہے گی۔
یہی میزانِ نبوت ہمیں بتاتی ہے کہ ’’زنا‘‘ اپنے اندر تعفن اور گندگی کی کتنی مقدار رکھتا ہے اور اس کا علاج کتنے پتھروں یا کوڑوں سے ہونا چاہیے اور کسی کے مال پر ناجائز ہاتھ ڈالنا کتنا بڑا معاشرتی روگ ہے اور اس کا علاج صرف ’’ہاتھ کاٹنے‘‘ سے ہوسکتا ہے۔ جو شخص فالج کا علاج کونین سے اور موتیا بند کی تدبیر ’’اسپرو‘‘ سے کرنا چاہتا ہے، وہ جاہل‘ مریض کا دوست نہیں دشمن ہے اور جو شخص قتل کا علاج اتنے سال کی قید سے اور ڈکیتی کا علاج اتنے ماہ کی قید سے کرنا چاہتا ہے، وہ قانون ساز نہیں، انسانیت کا قاتل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مہذب ممالک کے جیل خانے جرائم کی تربیت گاہ بن کر رہ گئے ہیں۔ مجرم جب سزا کاٹ کر واپس آتے ہیں تو مرضِ جرم سے شفایاب ہوکر نہیں نکلتے، بلکہ عادی مجرم بن کر آتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ!

اللہ تعالی جل شانہ کا کامل و مکمل آخری قانون
خدائے برتر کا آخری قانون اپنی جامع اور کامل ترین صورت میں حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، اس نے انسانیت کے لیے عدل و انصاف، مودت و رحمت، ہمدردی و خیرخواہی، اُخوت و مواسات اور سکون و اطمینان کی وہ فضا پیدا کی، جس کی مثال چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ یہ ایک ایسا خودکار نظام تھا جس کی بدولت اول تو جرائم کی تعداد گھٹتے گھٹتے صفر کے نقطہ تک پہنچ گئی تھی اور کبھی سہو یا بشریت کی بنا پر کوئی جرم کسی سے صادر ہو ہی جاتا تو مجرم خود ہی ’’طَھِّرنِی یَا رَسُولَ اللہِ!‘‘ (یا رسول اللہ! مجھے سزا دے کر پاک کردیجئے!) کا نعرہ لگاتے ہوئے عدالت کے کٹہرے میں حاضر ہوتا، اور جب تک عدالتِ نبوت اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کردیتی، اس کے ضمیر کی خلش، ایمان کی حرارت اور محاسبۂ آخرت کی فکر اُسے مسلسل بے چین کیے رکھتی۔ نہ کسی کو کسی سے شکایت، نہ کوئی طبقاتی مسئلہ، نہ کوئی اقتصادی الجھن، نہ کوئی سیاسی آویزش۔ کیا آج کا ترقی یافتہ، لیکن بے حد مظلوم انسان اس کا تصور بھی کرسکتا ہے؟ یہ تھی اسلامی شریعت! جس نے دنیا کو عدل و انصاف سے بھردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’قَد جِئتُکُم بِالسَّمحَۃِ البیضاء لیلھا و نھارھا سواء‘‘ (ابن ماجہ، ص: ۲، ط: قدیمی)
ترجمہ: ’’میں تمہارے پاس ایسی آسان اور روشن شریعت لایا ہوں، جس کے رات دن یکساں روشن ہیں۔‘‘
پاکستان اس مقصد کے لیے معرض وجود میں آیا تھا کہ اُسے ’’دار الامن و الایمان و مھد السلامۃ و الاسلام‘‘ ایمان و اسلام کا گھر اور امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا واسطہ دے کر ہم نے خدا و رسول سے، نیز دس کروڑ مسلمانوں سے عہد کیا تھا کہ اس ’’مملکت خداداد‘‘ کا آئین اسلام ہوگا، ہماری اجتماعی زندگی کا ایک ایک شعبہ اسلام کے زیرنگیں ہوگا، ہم اپنے سفر حیات کی ایک ایک لائن کو شریعت محمدیہ کے صراط مستقیم پر لائیں گے اور آج کی دُکھ بھری دنیا کو بتائیں گے کہ تم جس متاعِ گم گشتہ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہو، وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم کی پیروی سے آج بھی مل سکتی ہے۔
اگر ہمارے اربابِ اقتدار نفاق ورزی سے کام نہ لیتے اور امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ خدا و رسول کو بھی صرف وعدوں اور لیکچروں سے نہ بہلاتے تو یہ ملک واقعۃً اسلام اور سلامتی کا گہوارہ اور پوری دنیا کے لیے مثالی نمونہ ہوتا، پاکستان کی اعلیٰ قیادت ایک نئی دنیا کی معمار ہوتی اور آج عالم اسلام کا نقشہ یقیناًکچھ اور ہوتا۔ مگر یہاں بائیس سال سے جو کچھ ہوا اور اس کی جو قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑی اور ہم اس کے نتیجہ میں جو خود غرضی، افراتفری، افتراق و انتشار اور ذلت و نکبت کا شکار ہوئے، اس کا تذکرہ رنج و الم اور ندامت و خجالت کا موجب ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے اور اسلامی مملکت کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے، جبکہ یہاں اسلامی آئین نافذ ہو اور اسلامی شریعت اور خدائی قانون کو زندگی کے تمام شعبوں میں جاری کیا جائے، عدلیہ میں قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کے مطابق فیصلے کیے جائیں، حدود اللہ کا اجراء کیا جائے۔ اسلامی قانون، کتاب و سنت اور فقہ اسلامی میں مدون و مرتب موجود ہے، صدیوں اس پر عمل ہوتا رہا ہے، وہ آج بھی نافذ کیا جاسکتا ہے۔

کسی ملک کے دارالاسلام بننے کا مدار کسی چیز پر ہے؟
تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ کسی خطۂ زمین کے دارالاسلام بننے کا مدار اس بات پر نہیں کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کیا ہے، بلکہ اس کا مدار قانونِ اسلام کے نفاذ پر ہے۔ جس ملک میں بر سرِ اقتدار طبقہ کی جانب سے عام کو اسلامی قانون کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کا موقع نہ دیا جائے، جہاں کفر اور جاہلیت کا آئین و قانون مسلط ہو اور جہاں کے بے بس عوام مسلسل احتجاج کے باوجود خدائی قانون کے بجائے طاغوتی قانون کے مطابق اپنے مقدمات فیصل کرانے پر مجبور ہوں، اُسے ہزار بار مسلمانوں کا ملک کہہ لیجئے، لیکن اُسے حقیقی معنی میں اسلامی مملکت اور دارالاسلام کہتے ہوئے حیا آتی ہے۔ ’’اسلام کے گھر‘‘ میں بھی اگر اسلام کو قدم ٹکانے کی اجازت نہ ہو تو وہ مسلمانوں کا گھر تو ہوسکتا ہے، لیکن کیا دنیا کا کوئی عقلمند اُسے ’’اسلام کا گھر‘‘ مان لے گا؟ پاکستان اگر واقعی ’’دارالاسلام‘‘ اسلام کا گھر ہے تو یہاں کے دس گیارہ کروڑ فرزندان اسلام اور اس کے قائدین سے اپیل بے جا نہ ہوگی کہ خدا کے لیے اس گھر میں اسلام کو قدم رکھنے کی جگہ دیجیے اور اُسے اپنے گھر کی اصلاح کرنے دیجیے۔

اسلام کیا ہے؟
بعض حضرات کی زبانِ فیض ترجمان سے ’’اسلامی اقدار‘‘، ’’اسلامی اصول‘‘، ’’اسلامی نظریۂ حیات‘‘ اور ’’اسلامی مساوات‘‘ جیسے مبہم الفاظ وقتاً فوقتاً سننے میں آتے ہیں۔ یہ تعبیر بڑی غلط فہمی اور تلبیس کا موجب ہوسکتی ہے۔ اسلام صرف چند مبہم اصولوں یا اعلیٰ اخلاقی قدروں کا نام نہیں، بلکہ وہ عقائد، عبادات، معاملات، تعزیرات اور اخلاق کے تفصیلی قوانین کا مجموعہ ہے۔ اسلام اگر زنا، چوری، ڈکیتی، قتل، شراب نوشی جیسی گھناؤنی حرکات کو جرائم قرار دیتا ہے تو ان کے انسداد کے لیے ایک مفصل تعزیراتی نظام بھی دیتا ہے۔ وہ جہاں معاشی تحفظ کا وعدہ دیتا ہے، وہاں اقتصاد و معاش کی جائز اور ناجائز صورتیں بھی بتاتا ہے۔ اگر وہ معاملات میں عدلِ اجتماعی پر زور دیتا ہے تو اس کے لیے ایک دیوانی قانون بھی رکھتا ہے۔ اگر وہ اصلاحِ معاشرہ کی ذمہ داری لیتا ہے تو اس کے لیے ایک کامل نظامِ ہدایت بھی دیتا ہے۔ الغرض زندگی کا کون سا گوشہ ہے، جس کے لیے اسلام نے تفصیلی قوانین وضع نہ کیے ہوں۔ ’’دارالاسلام‘‘ وہی ہوسکتا ہے اور اسلامی مملکت وہی ہوسکتی ہے جہاں اسلام کہ ہمہ گیر فرماں روائی ہو اور جہاں اسلام کے وہ تمام احکام و قوانین جاری ہوں جن کی تفصیلات کتاب و سنت اور فقہ اسلامی میں موجود ہیں اور جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے لے کر زوالِ خلافت کے آخری دور تک عمل ہوتا رہا ہے۔ جو لوگ ’’اسلام‘‘ کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں اور صرف اسلامی اصول اور اسلامی مساوات جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں یہ اندیشہ غلط نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر ’’جاہلیت جدیدہ‘‘ لانا چاہتے ہیں۔
یکم جنوری سے شروع ہونے والا نیا سال ملک میں نئے انقلاب اور نئی تبدیلیوں کا پیغام لارہا ہے۔ پردۂ غیب سے کیا کچھ طلوع ہوگا؟ اس کا ٹھیک علم اللہ تعالی ہی کے پاس ہے، تا ہم حالات کی نزاکت بتاتی ہے کہ اس موقع پر ادنیٰ غفلت اور معمولی لغزش بے حد تباہ کن اور سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوم کا ایک ایک فرد یہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے کہ مجھے کل اللہ تعالی کے حضور میں اس کی جواب دہی کرنا ہوگی۔ اگر خدانخواستہ وقت کی نزاکت کا صحیح احساس نہ کیا گیا اور جس مقصد کی خاطر پاکستان بنا تھا، اُسے پس منظر میں ڈال دیا گیا تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو دنیا و آخرت میں بھگتنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی ذمہ داری مارشل لاء حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ اس نے قوم کے تمام طبقات کے لیے اطمینان بخش پالیسی اختیار کی ہے، اسے اس سے آگے بڑھ کر ایسی پالیسی بھی اختیار کرنی چاہیے، جس سے اللہ اور رسول خوش ہوجائیں اور ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئیں جس سے اسلامی نظام کے قیام کے امکانات روشن ہوں اور حکومت کو رضائے خداوندی کا تمغہ ملے۔ دوسری ذمہ داری طبقۂ علماء پر عائد ہوتی ہے کہ تمام نزاعات کو بالائے طاق رکھ کر کامل یکسوئی، جانفشانی اور للہیت کے ساتھ قوم کا ذہن اسلام کے سایۂ رحمت کے لیے تیار کریں۔ تیسری ذمہ داری قوم کے قائدین اور سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فروعی اور علاقائی نعروں کو چھوڑ کر صرف اسلام کے لیے کام کریں۔ سب سے آخری اور عظیم ذمہ داری مسلم عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف اسلام کے لیے اپنا ’’حق رائے دہی‘‘ استعمال کریں۔ یہ گزارشات نہایت اختصار کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔ اے اللہ! ہماری حالت زار پر رحم فرما اور ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا فرما جس سے تو راضی ہو اور ہمیں ایسی حرکات سے بچائیو، جو دنیا و آخرت میں تیرے غضب کا موجب ہیں۔
و صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ صفوۃ البریۃ محمد و آلہ و صحبہ اجمعین

تحریر: محدث العصر حضرت علامہ سیدمحمدیوسف بنوری رحمہ اللہ
اشاعت: ماہنامہ بینات، محرم الحرام ۱۴۳۸ھ
جامعہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں