وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس منعقدہ 2,3 نومبر 2016ء بروز بدھ، جمعرات زیر صدارت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان میں موجودہ ملکی اور عالمی حالات اور دینی طبقات اور اہل مدارس کو در پیش چیلنجوں پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا اور کئی فیصلے کیے گئے۔
وفاق المدارس کے جنرل سیکرٹری مولانا حنیف جالندھری کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دینی مدارس پر چھاپوں، دینی مدارس کے خلاف امتیازی سلوک، کوائف طلبی کے نام پر مدارس کو ہراسان کرنے، ارباب مدارس کے نام بے جا طور پر فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے بہت جلد آل پارٹیز کا نفرنس بلائی جائے گی جس میں بلاتفریق بلک بھر کی تمام دینی، قومی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے گا اور مدارس کو درپیش صورت حال سے آگاہ کرکے ان سے مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے آراء لی جائیں گی جبکہ 29جنوری 2017ء کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں قومی کنونشن کا انعقاد ہوگا جس میں ملک کے ممتاز علماء کرام، تمام مکاتب فکر کی سرکردہ شخصیات، وزراء، ارکان پارلیمنٹ وسینیٹ، مختلف ممالک کے سفرائے کرام، اہل قلم، تاجر برادری اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ کے سالانہ امتحان میں ملکی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر کے دینی مدارس کو درپیش مسائل و مشکلات کے ازالے کے لیے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں اہم علماء کرام پر مشتمل صوبائی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور مدارس کی سہولت کے لیے صوبائی دفاتر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔
حرمین شریفین کے تحفظ، اسلام کی حفاظت و اشاعت، امت مسلمہ کی وحدت، عالم اسلام کے اتحاد، استحکام پاکستان، مدارس دینیہ کے تحفظ اور دینی ملک کو درپیش چیلنجوں اور بحرانوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے 16نومبر 2016ء بروز بدھ صبح 11 بجے سے دن ایک بجے تک یوم تلاوت قرآن کریم و دعا منایا جائے گا جس میں ایک دن کے لیے ملک بھر کے دینی مدارس کے طلبہ سڑکوں اور کھلے میدانوں میں تلاوت قرآن کا اہتمام کرکے ملکی استحکام، ترقی اور قیام امن کے لیے خصوصی دعائیں کریں گے۔
دینی مدارس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مہتممین، مدرسین اور امتحانی عملے کے تربیت کا نظام وضع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد ملکی سطح پر تربیتی کورسز اور ورکشاپس کا انعقاد یقینی بنائیں گی۔ علاوہ ازیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام سکول سسٹم متعارف کروایا جائے گا جبکہ دینی مدارس میں پرائمری، مڈل اور میٹرک کے تینوں مرحلوں کی تعلیم بتدریج لازم قرار دی جائے گی۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین نے دینی مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں میڈیا سینٹرز کے قیام کا بھی فیصلہ کیا۔
روزنامہ اسلام۔ 2016/11/06

آپ کی رائے