آج : 1 November , 2016
علماء اور مشائخ کی نظر میں

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ

اپنی کم علمی، لکھنے کے ہنر سے ناواقفیت اور الفاظ کے چناؤ سے نابلد ہونے کے باوجود آج جس شخصیت کے لیے قلم اٹھایا ہے وہ تاریخ اسلامی کا کوہِ بلند و بالا پہاڑ ہے، جس نے کم سے کم برصغیر پاک و ہند میں اسلام کو اس کی اصل صورت میں قائم رکھا۔ جس طرح اللہ رب العزت نے پہاڑ اس لیے بنائے ہیں کہ وہ زمین کو تھامے رہیں، اسی طرح اللہ رب العزت نے حجۃ الاسلام بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمدقاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ کو بھی اسلام کو اس خطے میں جمانے کے لیے بھیجا تھا۔
اپنی زندگی کے پچاس سال پورے کرنے سے پہلے ہی اللہ رب العزت نے حجۃ الاسلام سے کتنے ہی اہم کام لیے، جن میں انگریز سامراج کے خلاف جہاد، اسلام پر اعتراضات کرنے والے ہندو پنڈتوں اور عیسائی پادریوں سے مناظرے، دارالعلوم دیوبند جیسی عظیم و عالی شان درس گاہ کا قیام، اس کے علاوہ حضرت رحمہ اللہ کی قیمتی تصانیف جو ردِّ بدعات، ردّ غیرمقلدیت کے علاوہ قرآن و حدیث کے بے شمار اسرار و رموز کو کھولنے والی تحریرات بھی آپ کی خدمات کا حصہ ہیں۔
اتنی کم عمر میں دین اسلام کی اتنی خدمات پر علامہ اقبال مرحوم کے یہ اشعار ذہن میں آجاتے ہیں:
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی خدمات اور ان کی بلند پایہ شخصیت کے بارے میں اپنے اور پرائے جن علماء و مشایخ نے جو کچھ کہا، جو میرے بہت ہی محدود مطالعے میں ہے، وہ ان سطور میں درج کررہا ہوں کہ یہ خراجِ عقیدت ہے حجۃ الاسلام، قاسم العلوم و الخیرات، الامام محمدقاسم النانوتوی رحمہ اللہ کو۔

حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ
۱۔ شیخ المشایخ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ جو حضرت مولانا محمدقاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ کے بھی شیخ ہیں، اپنے مرید حضرت حجۃ الاسلام رحمہ اللہ کے بارے میں اپنے متعلقین سے فرماتے ہیں:
’’اور جو شخص اس فقیر سے محبت و عقیدت و ارادت رکھے، مولوی رشید احمد سلمہ گنگوہی اور مولوی محمدقاسم سلمہ نانوتوی کو کہ تمام کمالات ظاہری و باطنی ان میں موجود ہیں، راقم (حضرت حاجی امداداللہ رحمہ اللہ) کی جگہ سمجھے، بلکہ مجھ سے فائق المدارج جانے، اگرچہ ظاہری معاملہ برعکس ہوگیا کہ میں ان کی جگہ اور وہ میری جگہ ہوگئے، اور ان کی صحبت کو غنیمت سمجھے کہ اس زمانے میں ایسے آدمی نایاب ہیں‘‘۔ (ضیاء القلوب، ص: ۱۰۰)
ایک شیخ کا اپنے مرید کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں میری جگہ ہونا چاہیے تھا، یعنی وہ میرے شیخ ہوتے اور اس زمانے میں ایسے آدمی نایاب ہیں، یہ حضرت حجۃ الاسلام رحمہ اللہ کے مرتبے اور مقام کو واضح کرتا ہے۔

۲۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ:
’’اگر حق تعالی مجھ سے دریافت کرے گا کہ امداداللہ کیا لائے؟ تو میں قاسم اور رشید کو پیش کردوں گا کہ یہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔‘‘ (معارف الاکابر، ص: ۲۳۵)

۳۔ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ نے اپنے مرید حضرت حجۃ الاسلام رحمہ اللہ کے بارے میں فرمایا کہ:
’’حق تعالی اپنے بندوں کو جو اصطلاحی عالم نہیں ہوتے ایک لسان عطا فرماتے ہیں، چناں چہ حضرت شمس تبریزی رحمہ اللہ کو مولانا رومی رحمہ اللہ لسان عطا ہوئے تھے، جنہوں نے حضرت شمس تبریزی رحمہ اللہ کے علوم کو کھول کھول کر بیان فرمادیا، اسی طرح مجھے مولوی قاسم صاحب لسان عطا ہوئے ہیں۔‘‘ (قصص الاکابر، ص: ۷۵، امداد المشتاق، ص: ۱۶)

۴۔ ایک بار حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کی مجلس میں شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا تذکرہ ہورہا تھا اور ان کے مناقب بیان ہورہے تھے، حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ نے حضرت حجۃ الاسلام رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ:
’’مولانا اسماعیل رحمہ اللہ تو تھے ہی، کوئی ہمارے اسماعیل کو بھی دیکھے۔‘‘ (ارواحِ ثلاثہ، ص: ۲۰۴)

۵۔ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ نے حضرت حجۃ الاسلام رحمہ اللہ کے والد کے خط کے جواب میں جو جملہ لکھا تھا وہ بھی پڑھنے والوں کی نظر!
’’اور شکر کریں کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں ایک ولی کامل بیٹا عطا فرمایا ہے۔‘‘ (انوار قاسمی، ص: ۲۰۱)
۶۔ حضرت مولانا محمدیعقوب نانوتوی رحمہ اللہ جب پہلی بار حج پر گئے تھے اور وہاں حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تھی تو حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ نے حجۃ الاسلام مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے بارے میں فرمایا تھا:
’’ایسے لوگ کبھی پہلے زمانے میں ہوا کرتے تھے۔‘‘ (انوار قاسمی، ص: ۵۵۰)
ایک شیخ کا اپنے مرید کے بارے میں ایسے کلمات ادا کرنا، اس مرید کی قدر و منزلت کو واضح کرتا ہے۔

حضرت مولانا مہتاب علی صاحب رحمہ اللہ
۷۔ یہ حجۃ الاسلام مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے استاذ تھے اور حضرت کے پڑھنے کے زمانے میں ہی انہوں نے اپنے شاگرد کا نام ’’علم کی بکری‘‘ رکھ دیا تھا۔ (سوانح قاسمی، جلد: ۱، ص: ۱۹۲)

حضرت مفتی صدرالدین صاحب رحمہ اللہ
۸۔ ان کا شمار بھی حضرت کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ایک موقع پر مفتی صدرالدین رحمہ اللہ نے حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے بارے میں فرمایا تھا:
’’قاسم بہت ذہین آدمی ہے، اپنی ذہانت سے قابو میں نہیں آتا‘‘۔ (سوانح قاسم، جلد: ۱، ص: ۲۶۶)
اساتذہ کا اپنے شاگرد کے بارے میں یہ بیان بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

مولانا محمدامین احسن گیلانی رحمہ اللہ
۹۔ یہ غالباً حضرت کے ہم عصر علما میں سے تھے اور مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کے جدِّ امجد تھے، وہ حضرت حجۃ الاسلام رحمہ اللہ کی تقریر کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ:
’’مولانا محمدقاسم رحمہ اللہ کی زبان مبارک پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روح القدس کی تقریر ہو رہی ہے۔‘‘ (سوانح قاسمی، جلد: ۱، ص: ۳۹۲)

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ
۱۰۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اپنے استاذ حجۃ الاسلام کے درس سے متعلق فرماتے ہیں کہ:
’’جب استاذ رحمہ اللہ (حضرت نانوتوی رحمہ اللہ) سے کوئی بات پوچھی جاتی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس مسئلے کے تمام دلائل اکرام سے ہاتھ جوڑے ہوئے حضرت رحمہ اللہ کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں۔‘‘ (سوانح قاسمی، جلد: ۱، ص: ۳۴۳)

مولوی نقی علی والد احمد رضا خان بریلوی
۱۱۔ مولوی احمد رضا بریلوی جو حضرت نانوتوی رحمہ اللہ سے بغض، نفرت، حسد، عداوت، کینہ رکھنے میں سب سے اول ہیں، جنہوں نے دھوکہ، فریب اور مکاری سے علمائے عرب سے حضرت کے خلاف کفر کا فتویٰ لیا اور اس کی تشہیر کی، انہی کے والد مولوی نقی علی صاحب لکھتے ہیں:
’’مولوی رشید احمد صاحب محدث گنگوہی اور مولوی محمدقاسم صاحب نانوتوی علمائے دین اور مؤمنین صادقین میں سے ہیں۔‘‘ (ملخصاً تحفۃ المقلدین، ص: ۱۵، مطبوعہ: صبح صادق پریس، سیتاپور)

حکیم برکات احمد خیرآبادی
۱۲۔ حکیم برکات احمد خیرآبادی اپنے صاحب زادے حکیم محمد احمد برکاتی سے فرماتے ہیں:
’’مجھے ان (حضرت اقدس نانوتوی رحمہ اللہ) سے ملانے کے لیے (والد صاحب حکیم دائم علی خیرآبادی) دیوبند لے گئے، جب ہم پہنچے تو (مولانا نانوتوی رحمہ اللہ) چھتہ کی مسجد میں سو رہے تھے، مگر اس حالت میں بھی ان کا دل ذاکر تھا اور ذکر بھی بالجہر کررہا تھا۔‘‘ (سوانح حیات حکیم سید برکات احمد، ص: ۱۸۵)

مولانا معین الدین اجمیری
۱۳۔ جب مولانا معین الدین اجمیری سے ۱: حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ، ۲: مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ، ۳: مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ، ۴: مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور ۵: شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ:
’’یہ حضرات مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔‘‘ (براء ۃ الابرار، ص: ۲۰۹)
جب مولوی احمد رضا صاحب بریلوی نے علمائے دیوبند خصوصاً مندرجہ بالا پانچ بزرگوں پر کفر کا فتویٰ لگایا تو مولانا محمد عبدالرؤف خان جگن پوری نے ۱۹۳۱ء میں پورے ہندوستان میں علماء اور مشایخ سے فتویٰ طلب کیا کہ کیا حقیقتاً یہ پانچ بزرگ کافر ہیں؟ تو اس کے جواب میں علمائے دیوبند کے حق میں ۱۴۰؍فتاویٰ اور ان پر ۶۱۶؍ علماء اور مشایخ کی تصدیقات کے ساتھ ان تمام فتاویٰ جات کو ۱۹۳۴ء میں ’’براء ۃ الابرار عن مکائد الاشرار‘‘ ملقب بہ ’’قہر آسمانی بر فرقہ رضاخانی‘‘ کے نام سے چھاپ دیا تھا۔ یہ تمام فتاویٰ جات کو ۲۰۱۲ء میں تحفظ نظریات دیوبند اکادمی دوبارہ چھاپ کر اس نایاب کتاب کو منظر عام پر لے آئی ہے۔

خواجہ قمرالدین سیالوی
۱۴۔ خواجہ قمرالدین سیالوی فرماتے ہیں:
’’میں نے تحذیر الناس کو دیکھا ہے، مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کو اعلیٰ درجے کا مسلمان سمجھتا ہوں، مجھے فخر ہے کہ میری حدیث کی سند میں ان (مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ) کا نام موجود ہے، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے معنی بیان کرتے ہوئے جہاں مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا دماغ پہنچا ہے، وہاں تک معترضین کی سمجھ نہیں گئی، قضیہ فرضیہ کو قضیہ واقعیہ حقیقیہ سمجھ لیا گیا ہے۔‘‘ (ڈھول کی آواز، ص: ۱۱۷)

مولوی دیدار علی شاہ
۱۵۔ مولوی دیدار علی شاہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مولانا و استاذنا رئیس المحدثین مولانا محمدقاسم صاحب مغفور حضرت مولانا احمد علی صاحب مرحوم و مغفور محدث سہارن پوری کے فتویٰ اجوبہ سوالات خمسہ کی نقل زمانِ طالب علمی میں کی ہوئی احقر کے پاس موجود ہے۔‘‘ (رسالہ تحقیق المسائل ، ص: ۳۱)

سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمہ اللہ
۱۶۔ مولانا محمد سعید صاحب مری والے بیان فرماتے ہیں کہ:
’’میں حضرت پیر صاحب گولڑوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر تھا، ایک شخص آیا اور اس نے دریافت کیا: آپ مولوی قاسم صاحب کے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں؟ حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ نے جواباً فرمایا: تم حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق پوچھتے ہو؟ سائل نے عرض کیا: جی ہاں، انہی کے متعلق۔ حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ وہ حق کی صفت، علم کے مظہر اتم تھے۔‘‘ (اسوۂ اکابر، ص: ۲۸۔۲۷)

حافظ محمدحسین مرادآبادی
۱۷۔ حافظ محمدحسین مرادآبادی حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے ہم عصر تھے اور آپ نے حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے، وہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
حضرت حاجی (مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ) خانۂ خدا اور زائر روضۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ قصبۂ نانوتہ کے اکابر صدیقی شیوخ سے ہیں۔ عالم، متقی و ربانی و حقانی اور واقفِ اسرار، شریعت و طریقت ہیں۔‘‘ (انوار العارفین، ص: ۵۲۴)

حضرت مولانا سیدعبدالحی رحمہ اللہ
۱۸۔ حضرت مولانا سیدعبدالحی والد ماجد مولانا سیدابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’آپ (مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ) بہت ہی زیادہ زاہد اور عبادت گزار تھے، ذکر اور مراقبہ کا بھی بہت ہی کثرت سے اہتمام کرتے تھے اور علماء و فقہاء کے علامتی لباس یعنی عمامہ اور جبہ و غیرہ سے پرہیز کرتے، تا کہ آپ لوگوں پر مخفی رہیں۔ اس زمانے میں آپ نہ کوئی فتویٰ دیتے، نہ ہی کوئی وعظ کہتے ، بلکہ صرف اللہ سبحانہ و تعالی کے ذکر اور مراقبے میں زیادہ سے زیادہ مشغول رہتے، یہاں تک کہ ان کی برکت سے آپ پر حقایق و معارف کے دروازے کھل گئے‘‘۔ (اقتباس الاعلام [نزھۃ الخواطر])

مولانا فقیرمحمد صاحب جہلمی
۱۹۔ مولانا فقیر محمد جہلمی نے ۱۸۸۰ء میں ’’حدائق الحنفیہ‘‘ نامی کتاب لکھی، جس میں انہیں نے حنفی علماء اور فقہاء کا تذکرہ کیا ہے، انہی علماء کی فہرست میں آپ نے حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا ذکر نہایت حقیقت پسندانہ کیا ہے، حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے وقت یہ الفاظ بھی آپ کے مضمون کا حصہ تھے کہ:
’’علامۂ عصر، فہامۂ دہر، فاضل متبحر، مناظر، مباحث، حسن التقریر، ذہین، معقولات کے گویا پتلے تھے۔ آپ لڑکپن ہی سے ذہین، طباع، بلند ہمت، تیز، وسیع حوصلہ، جفاکش، جری تھے۔‘‘ (حدائق الحنفیہ، ص: ۴۹۲)

حافظ عبدالرحمن حیرت
۲۰۔ حافظ عبدالرحمن حیرت اپنی کتاب ’’سفینۂ رحمانی‘‘ ۱۸۸۴ء سن طباعت میں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’بیشۂ فضل و کمال کے شیر، گل زارِ عشق الہی کی خوش بو، شبستان طریقت و شریعت کی شمع، آسمان حقیقت و معرفت کے خورشید، عالم کامل اور جود و سخا میں رشک حاتم، جناب حضرت مولوی محمدقاسم صاحب (اللہ تعالی ان کی قبر کو منور فرمائے) قصبہ نانوتہ کے برگزیدہ علماء و فضلاء میں سے تھے، طرح طرح کے علوم کی منزلیں اور قسم قسم فنون کے رموز اور ان کے نشیب و فراز انہوں نے اپنی خداداد ہمت و استعداد سے کامل طور پر طے کیے تھے، انہیں کانِ علوم اور مخزنِ فنون کہنا چاہیے، ان کی توصیف میں منشی فکر و خیال جو بھی لکھے بجا ہے اور ان کی تعریف جس قدر بھی کی جائے زیبا ہے۔‘‘ (سفینۂ رحمانی، ص: ۱۱۹)

مرزا آفتاب بیگ
۲۱۔ مرزا آفتاب بیگ دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’تحفۃ الابرار‘‘ سن طباعت ۷ ۱۹۵ء میں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’آپ (مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ) رؤسائے شیوخ صدیقی قصبہ نانوتہ کے ہیں۔ آپ کو اجازت ہر چہار طریقہ معروف کی حضرت حاجی امداد اللہ رحمہ اللہ سے تھی اور سند حدیث کی حضرت شاہ عبدالغنی مجددی رحمہ اللہ سے تھی۔ محققانہ و عارفانہ کلام حقایق و معارف آپ کا تھا۔ اثباتِ وجودی سے رطب اللسان تھے، توحید شہودی سے بھی انکار نہیں رکھتے تھے‘‘۔

مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی
۲۲۔ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی اپنی کتاب ’’انوارالعاشقین‘‘ میں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مولانا محمدقاسم صاحب رحمہ اللہ نے اپنی تمام عمر میں جہاں تک ہمیں معلوم ہے، بوجہ کسر نفی اور کمال تواضع کے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا۔ بیعت بھی حضرت قبلۂ عالم حاجی صاحب رحمہ اللہ کی طرف نیابۃً کرتے تھے، حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کے عشق اور محبت میں فنا تھے۔‘‘ (انوار العاشقین، ص: ۸۸)

مولانا حافظ شاہ محمدسراج الیقین
۲۳۔ اپنی کتاب ’’شمس العارفین‘‘ سنہ طباعت ۱۳۳۳ھ میں حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’جس شخص نے حضرت مولانا محمدقاسم صاحب کی تقریر سنی ہوگی یا تحریر دیکھی ہوگی وہ سمجھ سکتا ہے کہ کس معدن سے یہ علوم اور اسرار و حقایق آرہے ہیں، آپ صاحبِ تصانیف عالیہ ہیں اور آپ کے مناظروں کی تقریریں بھی چھپی ہیں، جن میں عجیب و غریب تحقیقات علمیہ اور نکات عجیبہ اور مضامین رفیعہ پائے جاتے ہیں، در حقیقت ایسا فاضل متبحر اور عالم محقق اس زمانے میں کوئی نہیں گزرا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس پایہ کے لوگ کہیں صدیوں کے بعد ہوتے ہیں۔ آپ نہایت پاکیزہ اخلاق اور منکسر المزاج تھے اور لباس نہایت سادہ اور معمولی موٹا استعمال فرماتے تھے۔ صفت قناعت بھی بہ درجۂ کمال آپ میں موجود تھی، ہمیشہ معمولی تنخواہ پر بسر فرمائی اور بڑی بڑی تنخواہوں کی نوکریوں کو پسند نہیں فرمایا۔ مدرسہ عالیہ دیوبند میں عرصہ تک آپ کا درس و تدریس اور بے انتہا فیض جاری رہا۔ اکابر علماء آپ کے شاگرد ہیں۔‘‘
(شمس المعارفین، ص: ۴۷۔۴۶)

سر سید احمد خان
۲۴۔ حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی وفات پر سرسید احمد خان نے ایک طویل تعزیتی مضمون لکھا، جن میں الفاظ بھی شامل تھے:
’’اس زمانے میں سب لوگ تسلیم کرتے ہیں اور شاید وہ لوگ بھی جو اُن سے بعض مسائل میں اختلاف کرتے تھے، تسلیم کرتے ہوں گے کہ مولوی محمدقاسم رحمہ اللہ اس دنیا میں بے مثل شخص تھے، ان کا پایہ اس زمانے میں شاید معلوماتِ علمی میں شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کچھ کم ہو اِلّا اور تمام باتوں میں ان سے بڑھ کر تھا۔ مسکینی اور نیکی اور سادہ مزاجی میں اگر ان کا پایہ مولوی اسحاق صاحب رحمہ اللہ سے بڑھ کر نہ تھا تو کم بھی نہ تھا، در حقیقت فرشتہ سیرت اور ملکوتی خصلت کے شخص تھے اور ایسے شخص کے وجود سے زمانے کا خالی ہوجانا، ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد زندہ ہیں، نہایت رنج اور افسوس کا باعث ہے‘‘۔ (علی گڑھ گزٹ، ۲۴؍اپریل ۱۸۸۰ء)

مولوی رحمٰن علی
۲۵۔ مولوی رحمن علی اپنی کتاب ’’تذکرہ علمائے ہند‘‘ جو انہوں نے ۱۸۹۱ء میں لکھی، حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’مولوی محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ بن شیخ اسد علی بن غلام شاہ بن محمد بخش بن علاء الدین بن محمد فتح بن محمدمفتی بن عبدالسمیع بن مولوی محمدہاشم نانوتوی، ۱۲۴۸ھ/ ۱۸۳۲ء میں پیدا ہوئے، ان کا تاریخی نام خورشید حسین ہے۔ اللہ تعالی نے جدتِ طبع اور جودتِ ذہن (ذکاوت، ذہانت، لیاقت) فطری طور سے ودیعت (سپرد کرنا، حوالے کرنا) فرمایا تھا۔‘‘ (تذکرہ علمائے ہند)

علامہ شاہ محمدجمیل الرحمن حنفی قادری چشتی نظامی
۲۶۔ آپ اپنی کتاب ’’تذکرہ وصال الجمیل‘‘ جو آپ نے ۱۳۴۳ھ میں تالیف فرمائی، اس کتاب میں آپ نے حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’مولانائے موصوف عالم، فاضل اور مشہور مناظر ہونے کے علاوہ نہایت عابد، زاہد، قانع، متوکل، نہایت خلیق واقع ہوئے تھے۔ عربی، فارسی نظم و نثر بے تکان لکھتے بولتے تھے، سیدھے سادے اتنے تھے کہ آپ کی وضع طرح پر علمیت کا گمان بھی نہ ہوتا تھا۔‘‘

حضرت شاہ عبدالرحیم سہارن پوری رحمہ اللہ
۲۷۔ مولانا محمدامیر بازخان رحمہ اللہ ’’شہادات امیریہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’خبر حسرتِ اثر مولانا و استاذنا مولوی محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ صاحب کی آئی تو حضرت (شاہ عبدالرحیم سہارن پوری رحمہ اللہ) نے آب دیدہ ہوکر فرمایا کہ: آج میری پشت دو صدموں سے ٹوٹی ہے: ایک انتقال مولوی محمدقاسم کی ہے، دوم رحلت مولوی احمد علی صاحب (سہارن پوری) سے۔ یہ دونوں بزرگوار بے ریا، متبع شریعت، مفیض اکمل تھے، مجھ کو ان کے باعث بڑی تقویت تھی، اب میں تنہا رہ گیا۔‘‘ (شہادات امیریہ علیٰ مکشوفات رحیمیہ، ص: ۱۴)

حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی رحمہ اللہ
۲۸۔ حضرت گنج مراد آبادی رحمہ اللہ کے خلیفہ مولانا شاہ تجمل حسین بہاری رحمہ اللہ اپنی تالیف ’’کمالاتِ رحمانی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اب بیعت کا جو عزم ہوا مجھ (مولانا شاہ تجمل حسین بہاری رحمہ اللہ) کو عقیدت اور غلامی حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ سے تھی۔ آپ (حضرت گنج مراد آبادی رحمہ اللہ) کو کشف سے معلوم ہوا، آپ نے حضرت مولانا کی تعریف کی کہ اس کم سنی میں ان کو ولایت حاصل ہوگئی۔‘‘

مولانا محبوب الرسول صاحب، الٰہ شریف ضلع جہلم
۲۹۔ حضرت مولانا محمدقاسم صاحب کو میں اولیاء سے سمجھتا ہوں، وہ اللہ تعالی کی آیت تھے، اسلام اور علم کی جو اُن سے اللہ تعالی نے خدمت لی ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔‘‘ (ڈھول کی آواز، ص: ۱۱۷)

پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ (بھیرہ شریف)
۳۰۔ ’’حضرت قاسم العلوم رحمہ اللہ کی تصنیف لطیف مسمی بہ تحذیر الناس کو متعدد بار غور و تامل سے پڑھا اور ہر بار نیا لطف اور سرور حاصل ہوا۔ علماء حق کے نزدیک حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ و سلام متشابہات میں سے ہے اور اس کی صحیح معرفت انسانی حیطۂ امکان سے خارج ہے، لیکن جہاں تک فکر انسانی کا تعلق ہے حضرت مولانا قدس سرہ کی یہ نادر تحقیق کئی شپرہ چشموں کے لیے سرمۂ بصیرت کا کام دے سکتی ہے۔ رہے فریفتہ گانِ حسن مصطفوی تو ان بے قرار دلوں اور بے تاب نگاہوں کی وارفتگیوں میں اضافہ کا ہزار سامان اس تحذیر الناس میں موجود ہے۔ آپ نے اپنے علمی، دقیق اور محققانہ انداز میں یہ واضح کرنے کے سعی فرمائی ہے کہ ہر قسم کا کمال علمی ہو یو عملی، حسی ہو یا معنوی، ظاہری ہو یا باطنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی کمال ہے۔‘‘ (ڈھول کی آواز، ص: ۱۲۸۔۱۳۰)

علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ
۳۱۔ علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے ندوۃ العلماء کے ایک سالانہ جلسے میں کہا تھا:
’’عربی کے بیسیوں مدرسے کانپور میں قائم ہیں وہ کس نے قائم کیے ہیں؟ سوداگروں نے، دنیا داروں نے۔۔۔۔۔۔کسی عالم نے نہیں قائم کیے، سوائے مدرسہ دیوبند کے، جس پر ہم فخر کرتے ہیں جس کو مولانا قاسم مرحوم نے قائم کیا تھا، علاوہ اس کے مدرسہ کسی عالم نے قائم نہیں کیا۔‘‘ (رپوٹ سالانہ ندوۃ العلماء، ۱۹۱۲ء، ص: ۱۰۹۔۱۱۰)

مولانا غلام رسول مہر رحمہ اللہ
۳۲۔ مولانا غلام رسول مہر حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں:
’’بزرگان دیوبند میں سے جن مقدس ہستیوں کو اولین درجہ احترام و اعزاز حاصل ہے، وہ حضرت حاجی امداداللہ تھانوی، حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہم ہیں۔ ان کے اسماء گرامی اس سرزمین کے آسمانوں پر ان درخشان ستاروں کی طرح روشن ہیں، جو تاریکی کے وقت صحراؤں میں مسافروں اور سمندر میں ملاحوں کو راستہ بتاتے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں علم و ہدایت کے مشعل بردار تھے، جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اپنے پیچھے پاکیزہ عملی نمونے چھوڑ گئے۔ خصوصاً حضرت مولانا محمدقاسم اور حضرت مولانا رشید احمد کی تو ایک یادگار دارالعلوم دیوبند ایسی ہے جو تقریباً ایک صدی سے اس وسیع سرزمین میں دینی علوم کے قیام و بقا کا ایک بہت بڑا سرچشمہ رہی ہے۔ اس کی آغوش میں سینکڑوں ایسی مقدس ہستیوں نے تربیت پائی جن کے کارنامے دین و سیاست دونوں کے دوائر میں قابل فخر ہیں۔‘‘ (۱۸۵۷ء کے مجاہد، ص: ۱۶۳، سنہ اشاعت ۱۹۵۷ء)

سائیں توکل شاہ انبالوی
۳۳۔ مولانا مشتاق احمد چشتی انبیٹھوی مؤلف ’’انوار العاشقین‘‘ فرماتے ہیں:
’’حضرت عارف باللہ شیخی توکل شاہ صاحب مجددی نے عاجز سے فرمایا تھا کہ میں نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جارہے ہیں، مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ تو جہاں پائے مبارک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑتا ہے وہاں دیکھ کر پاؤں رکھتے ہیں، میں بے اختیار بھاگا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچوں، چناں چہ میں آگے ہوگیا‘‘۔ (انوار العاشقین، ص: ۸۸)

یہ چند بات حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے متعلق ان کے ہم عصر اور بعد کے علماء اور مشایخ کی ہیں، جن میں ان حضرات کے بھی نام شامل ہیں، جن کے عقیدت مند آج حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے خلاف زہر اُگلتے نہیں تھکتے۔ آخر میں اپنی بات حدیث قدسی پر ختم کرنا چاہوں گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرئیل علیہ السلام کو اور یہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے فلاں کو دوست رکھا ہے، سو تو بھی اس کو دوست رکھ، تو جبرئیل علیہ السلام اس سے محبت رکھتے ہیں، پھر جبرئیل علیہ السلام آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، سو تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس محبوب بندے کی قبولیت زمین پر اُتاری جاتی ہے، یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی سے ناراض ہوتا ہے تو بھی اس طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ۔‘‘ (مؤطا امام مالک رحمہ اللہ، جلد: ۱، حدیث نمبر: ۱۶۴۱)
اپنے بہت ہی محدود مطالعے سے چند حوالے حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ سے محبت کرنے والے اور مقبول جاننے والے علما و مشایخ کے نقل کردیئے ہیں، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ حجۃ الاسلام مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے چاہنے والوں کی تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اپنے اس محبوب بندے کے چاہنے والوں میں ہمارا شمار کرکے ہماری بخشش کا پروانہ جاری کردے۔ آمین

تحریر: جناب نعمان محمدامین
اشاعت: ماہنامہ بینات۔ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ۱۴۳۷ھ
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں