آج : 4 October , 2016

شیخ امداداللہ تھانوی مہاجر مکی

شیخ امداداللہ تھانوی مہاجر مکی

محترم عارف کبیر اجل امداد اللہ بن محمد امین العمری تھانوی مہاجر مکی رحمہ اللہ تعالی جو کہ اولیاء سالکین عارفین میں سے تھے آپ کی تعریف اور تعظیم میں ساری زبانیں متفق ہیں۔
آپ کی بروز پیر بائیسویں صفر سنہ ۱۲۳۳ھ بمقام نانوتہ جو کہ سہارنپور شہر کے مضافات میں سے ہے ولادت ہوئی، آپ نے عام دستور کے مطابق فارسی رسالے اور حصن حصین اور مثنوی معنوی مولانا قلندر بخش جلال آبادی سے پڑھی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مفتی الہی بخش کاندھلوی سے تعلیم حاصل کی ہے پھر دہلی تشریف لے گئے وہاں شیخ نصیرالدین شافعی مجاہد کی صحبت میں رہنے لگے، اور ان سے طریقت کا سبق لیا، ان کی شہادت کے بعد تھانہ بھون لوٹ آئے کافی دنوں تک وہاں قیام کیا پھر لوہاری میں آگئے وہاں نورمحمد جھنجھانویؒ کی صحبت اختیار کی اور حصول طریقت میں مشغول رہے نتیجہ میں اللہ تبارک و تعالی نے آپ پر معرفت کے دروازے کھول دیئے اور آپ علماء راسخین فی العلم میں شامل ہوگئے۔

میدان شاملی
بالآخر اپنے شیخ کے حکم سے ارشاد و تلقین کے مسند پر بیٹھ گئے اور مسلمانوں اور باشندگان علاقہ نے ۱۲۷۴ھ میں انگریز کی حکومت پر حملہ کردیا، غیور مسلمانوں نے سہارن پور اور مظفرنگر میں انگریزوں سے جہاد کا اعلان کردیا اس سلسلہ میں شیخ امداداللہ رحمہ اللہ کو اپنا امیر منتخب کرلیا اور میدان شاملی میں جوکہ مظفرنگر کے مضافات میں ایک دیہات ہے دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے لیکن اس میں حافظ محمد ضامنؒ نے شہادت پائی اور اب مسلمانوں کا الٹ ہوگیا اور انگریزوں کے قدم جم گئے اور انگریزوں کا حملہ ہر اس مسلمان پر سخت ہوگیا جس کے متعلق ذرہ برابر بھی اس بات کا شبہ ہوا کہ اس نے اس حملہ میں شرکت کی تھی۔

ہجرت مکہ
غیور عامل علماء پر دنیا تنگ ہوگئی یہاں تک کہ ان کا ہندوستان میں رک کر کچھ کام کرنا محال ہوگیا، ویسے کچھ ساتھیوں نے چھپ چھپا کر بھی اپنا عمل جاری رکھا اور لوگ اپنے علاقہ کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور شیخ امداداللہؒ نے مکہ مکرمہ ہجرت کرنے کو ترجیح دی، سنہ ۱۲۷۲ھ میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے بالآخر آپ کی سواری بلد امین میں داخل ہوگئی وہاں پہنچ کر آپ نے سب سے پہلے مقام صفاء پر قیام کیا پھر وہاں سے حارۃ الباب پر پہنچ کر آپ نے لوازمات زندگی پوری کیں اور اپنے رب سے ملاقات فرمائی۔

انوارِ خداوندی
کافی مدت تک آپ نے انتہائی تنگی اور فقر وفاقہ کی حالت میں اپنے شب و روز گذارے، آپ کے اسلاف کی شان تھی اس حالت پر مطمئن بھی تھے اور جو بھی حالت اللہ تعالی نے ان دنوں میں آپ کے لئے مقدر فرمادی تھی اس پر پوری طور سے خوش تھے بالآخر اللہ تعالی نے آپ کی تنگ حالی کو فراخی سے بدل دیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا آپ کے پاؤں میں آگئی اور آپ مکمل طور سے مجاہدات و عبادات میں مشغول ہوکر دل و جان سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوگئے یعنی ہمیشہ ذکر اور مراقبہ میں رہنے لگے اس حال میں کہ آپ کے قلب و باطن سے علوم الہیہ اور انوار خداوندی کے چشمے بہنے لگے، مکمل طور پر نفس کشی کرتے ہوئے اور عبودیہ کے چوکھٹ پر خود کو ڈالے ہوئے اور مخلوق خدا کے ساتھ انکساری و تواضع کرتے ہوئے اور بلند ہمتی اور انتہائی ہوشیاری اور احتیاط اور علم اور علماء کی عظمت پہنچانتے ہوئے، شریعت اور اس چمکدار روشن سنت کی عظمت کرتے ہوئے،
یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں میں محبت ڈال دی اور تمام بڑے بڑے علماء و مشائخ آپ کی طرف جھک گئے اور آپ سے استفادہ کنے لگے۔ دور دور سے معرفت اور یقین کے خواہشمند آپ کے گرویدہ ہوکر آپ کے پاس آنے لگے اور اللہ تبارک وتعالی نے آپ کی تربیت اور طریقت میں برکت پیدا کردی، اس طرح ان دونوں باتوں کے انوار سارے جہاں میں پھیل گئے اور طریقہ چشتیہ صابریہ کو از سر نو زندہ کیا اور بڑے بڑے علماء و فضلاء نے خود کو اس کی طرف منسوب کیا اور اس طریقہ میں داخل ہوگئے۔ بے شمار مخلوق خدا نے اس سے نفع حاصل کیا۔

چند فیض یافتہ
جن میں سے چند مشہورترین علماء کرام یہ ہیں شیخ مولانا قاسم نانوتویؒ ، شیخ رشیداحمد گنگوہیؒ ، مولانا محمدیعقوبؒ ، مولانا احمدحسنؒ ، مولانا محمدحسینؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ ، بالآخر یہ تمام حضرات اپنے زمانہ میں شیوخ ہوگئے اور بڑے تعداد میں مخلوق خدا کو ان سے نفع پہنچا۔

حلیہ اور وضع قطع
آپ قدرتی طور پر درمیانہ قد مگر کچھ لانبائی مائل تھے، دبلا بدن، گندمی رنگ، بڑے سر، چوڑی پیشانی، باریک اور لمبی آبرو، بڑی آنکھوں والے، شیرین زبان، بہت زیادہ محبت والے، ہنس مکھ، ہر وقت ہشاش بشاش رہنے والے، بہت کم سونے والے، مختصر سا کھانے والے، محبت الہیہ نے آپ کو لاغر کردیا تھا اور مجاہدات و ریاضیات نے دبلا پتلا کردیا تھا بہت ہی باوقار، وسیع القلب، مختلف لوگوں کو اکٹھا کردینے والے تھے وہ لوگ جو مختلف ذوق و مشرب کے ہوتے وہ بھی محبت کے ساتھ ملتے اور آپ سے استفادہ کرتے، لوگوں سے چشم پوشی کرنے والے، ایسے کسی مسئلہ میں تعصب اور سختی سے پیش نہ آتے، مثنوی و معنوی کے بڑے دلدادہ، ہمیشہ ہی اس میں غور و فکر کرتے رہتے اور لوگوں کو اس کا درس دیتے رہتے، خود بھی اس سے لذت حاصل کرتے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے اپنے لوگوں کو اس کے پڑھتے رہنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی نصیحت فرماتے۔

تصانیف
آپ کی بہت سی پاکیزہ تصنیفات ہیں ساری محبت الہی، معرفت اور تصوف میں ہیں ان میں سے ایک (۱) ضیاء القلوب ہے جو کہ فارسی زبان میں ہے، (۲) ارشاد مرشد، (۳) گلزار معرفت، (۴) تحفۃ العشاق، (۵) جہاد اکبر، (۶) غذاء روح، (۷) دردنامہ غم ناک۔ یہ سب کی سب اردو میں ہیں جبکہ ان میں سے اکثر اشعار میں ہیں۔
آپ نے بروز بدھ ۱۲جمادی الثانی ۱۳۱۷ھ میں وفات پائی، مقام معلاۃ میں اپنے شیخ کیروانیؒ کے قریب دفن کئے گئے۔

 

ماخوذ از: ”چودھویں صدی کے علمائے برِّ صغیر“، ”نزہة الخواطر“ کا اردو ترجمہ، 8/ 95


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں