آج : 4 October , 2016

محرم الحرام کا مہینہ

محرم الحرام کا مہینہ

شرعی حیثیت، احکامات، سوگ کا حکم اور شادی کا حکم
نئے ہجری سال کی ابتداء
”زمانہ “مدینہ منورہ کے طرف ہجرت ِ نبوی صلی الله علیہ وسلم سے لے کر اب تک ایک ہزار اور چار سوچھتیس سال کا سفر طے کر چکا ہے، چودہ سوسینتیسواں سال شروع ہو چکا ہے، محرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کاپہلا مہینہ ہے ،کتنے ہی پڑھے لکھے ،دین دار لوگ ایسے ہیں، جنہیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں، ان سے اسلامی مہینوں کے نام معلوم کر لیں وہ آپ کو نہیں سنا سکیں گے، ان سے روزانہ کی اسلامی تاریخ معلوم کی جائے تو وہ نہیں بتلا پائیں گے، جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم، اس کے مہینوں کے نام اور تاریخ ہرکسی کومعلوم ہوتی ہے۔ کسی بھی دن کسی سے بھی پوچھ لیں کہ آج کیا تاریخ ہے تو فورا بتا دیں گے، جب شمسی سال کے پہلے مہینے جنوری کی ابتدا ہوتی ہے تو ”نیوائیرنائٹ “پر وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں، خوب ہلّہگلّہ کرتے ہیں، گویا اس طریقے سے وہ نئے سال کاآغاز کرتے ہیں؛ اس مقام پر ہم نے غور وفکر یہ کرنا ہے کہ ”نیو ائیر“کی اس طرز پر ابتدا ہم نے کہاں سے لی؟! ہمارے لیے تو ”نیوائیر“ کی ابتدا محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے اور چوں کہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں،اس لیے ہمارا اپنی زندگی کی راہ ورسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے، ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم تو خود ساری دنیاکوتہذیب وشائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔

نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ
تو ”نئے سال “کی ابتدا ہو یا ”نئے مہینے “کی، شریعت میں جب بھی یہ (”نئے سال “ یا ”نئے مہینے “کا) لفظ بولا جائے گا اس سے مراد اسلامی مہینہ ہی ہوگا، نہ کہ شمسی مہینہ، چناں چہ اس مہینے کی ابتدا کا مسنون طریقہ شریعت کی طرف سے صرف یہ سامنے آتا ہے کہ مہینے کے اختتام پر نئے مہینے کے چاندکو دیکھنے کا اہتمام کیا جائے، یہ عمل مسنون ہے اور جب چاند نظر آجائے تو نیاچاند دیکھنے کی دعا بھی پڑھی جائے، یہ بھی مسنون ہے، اس مسنون طریقے کے ہی اپنانے میں اور دعاوٴں کا اہتمام کرنے میں برکت، حفاظت اورثواب ہے، ہمیں فضول قسم کی رسومات اور خرافات سے بچتے ہوئے اسی کااہتمام کرکے سچے مسلمان اور محب النبی صلی الله علیہ وسلم ہونے کاثبوت دیناچاہیے ؛امام ابن السنی نے مہینہ کی ابتدا کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وعادت شریفہ کایوں ذکرفرمایاہے :

”إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان إذا رأی الھلال قال:”اللھم اجعلہ ھلال یمنٍ و برکةٍ“․ (عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص:596، رقم الحدیث:641، مکتبة الشیخ، کراتشي)
ترجمہ:حضرت رسول صلى الله عليه وسلم جب پہلی رات کے چاند کو دیکھتے تو یوں دعا مانگتے: اے اللہ! ہمارے لیے اس چاند کوخیرو برکت والا بنادے ۔

نیا چاند دیکھتے وقت کی مسنون دعا
ایک دوسری روایت میں اس وقت یہ دعا پڑھنے کاذکر ہے :
”اللھم أَھِلَّہ علینا بالیُمْنِ والإِیْمَانِ والسَّلامَةِ والإِسلامِ، ربِّيْ ورَبُّکَ اللّٰہ“․(مسند أحمد بن حنبل، مسند أبي محمد طلحہ بن عبید اللہ، رقم الحدیث: 1397، 2/179، دارالحدیث، القاھرة)
ترجمہ: اے اللہ! اس پہلی رات کے چاند کو امن وسلامتی اورایمان واسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، (اے چاند !) میرا اور تمہارا رب اللہ تعالی ہی ہے۔

ہمیں بھی مہینے کی ابتدا اُسی طرح کرنی چاہیے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا ؛ تاکہ برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوں ؛ چہ جائیکہ! ہم رسوم و بدعات اور نوحہ خوانی سے ابتدا کریں ۔

اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت
دوسری بات یہ کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی تقویم ہجری کے استعمال کی عادت ڈالیں، اپنے روز مرہ کے استعمال میں اس تقویم کو سامنے رکھیں، اگرچہ! دوسری تقویمات ، تاریخوں اورکلینڈروں کااستعمال گناہ نہیں ہے، شرعاً اس کے اختیار کرنے میں بھی ممانعت نہیں ہے، لیکن شمسی تقویم کا ایسا استعمال کہ ہم اسلامی تقویم کو بالکلیہ بھلا ہی بیٹھیں، یہ کسی طرح درست نہیں ، اس لیے کہ اسلامی تقویم ہجری کی حفاظت بھی مسلمانوں کافرض ہے اوراس کے استعمال میں ثواب ہے، جس سے محروم نہیں ہوناچاہیے، نیز! اپنی شناخت اور اپنے امتیاز کو باقی رکھنابھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے بڑی اہمیت رکھتاہے، اس معاملے میں اس کی بہترشکل یہ ہے کہ ہم قمری تاریخ کے استعمال کوترجیحی بنیادوں پر دوسری تقویم کے مقابلے میں استعمال کریں، خدا نخواستہ اگر سب مسلمان اسلامی تقویم ہجری کو چھوڑ بیٹھیں اور بھلا دیں تو سب کے سب اللہ کے مجرم ٹھہریں گے، اس لیے کہ اسلام کی بہت ساری عبادات کا تعلق وربط اسی تقویم کے ساتھ ہے، حضرت حکیم الأمت رحمہ اللہ اپنی تفسیر”بیان القرآن “ میں ر قمطرازہیں:

”… البتہ چوں کہ احکام شرعیہ کامدار حساب ِقمری پرہے،اس لیے اس کی حفاظت ”فرض علی الکفایہ“ ہے، پس اگرساری امت دوسری اصطلاح کواپنا معمول بنالیوے، جس سے حساب ِقمری ضائع ہوجاوے ؛ (تو)سب گنہگار ہوں گے اوراگر وہ محفوظ رہے تودوسرے حساب کااستعمال بھی مباح ہے؛ لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ہے اورحساب ِقمری کابرتنا بوجہ اُس کے فرض کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے “۔(بیان القرآن،سورة التوبة:36، 3/131، مکتبہ رحمانیہ، لاہور)

اسلامی سال کے اس پہلے مہینے کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہے، یہ عظمت والے مہینوں میں سے ہے، تاریخی روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت سے عظیم الشان واقعات پیش آئے،احکامات کے اعتبار سے صحیح اور مستند احادیث سے جو امور سامنے آتے ہیں وہ صرف دو ہیں:

ماہِ محرم الحرام میں پہلا حکم
اس ماہِ مبارک میں مطلقاً کسی بھی دن روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ شمار ہوتا ہے، نیز!نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا اور بھی زیادہ فضیلت کی چیز ہے، چناں چہ صحیح مسلم کی حدیث میں واردہے :
”افضل الصّیام بعد رمضان، شہر اللہ المحرم، وافضل الصّلاة بعد الفریضة صلوة اللیل“․ (صحیح مسلم،کتاب الصوم، باب فضل صوم المحرم، رقم الحدیث: 202 )
ترجمہ:رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل رات کی نماز(تہجد)ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
”حین صام رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم یوم عاشوراء، وأمر بصیامہ، قالوا: یا رسول اللہ! إنہ یوم تُعظِّمہ الیہود والنصاری؟ فقال رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم: ”فإذا کان العام المقبل إن شاء اللہ صُمنا الیوم التاسع، قال: فلم یأت العام المقبل، حتی توٴفي رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم“ْ․ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: أيّ یوم یصام في عاشوراء؟، رقم الحدیث:1134، 2/797، دارالکتب العلمیة)
ّّّّ ترجمہ:جب حضرت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن خود روزہ رکھا اورحضرات صحابہ کوروزہ رکھنے کاحکم فرمایا؛ تواِس پرحضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا، کہ اے اللہ کے رسول ! اس دن کی تویہود ونصاری بھی تعظیم کرتے ہیں؟ (غالباً یہ عرض کرنا مقصود ہو گا کہ روزہ رکھ کر تو ہم نے بھی اس دن کی تعظیم کی ، گویا ہم ایک عمل میں ان کی مشابہت اختیار کرنے لگے )، تواِس پرآ پ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو اگلے سال ہم نویں تاریخ کوبھی روزہ رکھیں گے“۔ (اس طرح سے مشابہت کاشبہ باقی نہیں رہے گا)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اگلاسال آنے سے پہلے ہی آ پ صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔

اسی وجہ سے فقہا کرام فرماتے ہیں کہ صرف عاشوراء کا روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے ساتھ 9 یا 11 محرم کاروزہ بھی ملا لیا جائے؛ تاکہ یہود کے ساتھ مشابہت سے بچ سکیں، اس نبوی تعلیم سے یہ بات سمجھ لینا چنداں مشکل نہیں کہ کسی کارِخیر میں بھی یہود سے مشابہت یا موافقت کو حضرت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا؛ چہ جائیکہ ! دوسری عادات یا معاملات میں ان سے مشابہت کوقبول کرلیاجائے !

صحیح مسلم کی ہی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش بھی زمانہ جاہلیت میں عاشورا کا روزہ رکھتے تھے،
”عن عائشة رضي اللہ عنہا قالت: کانت قریش تصوم عاشوراء في الجاہلیة، وکان رسول اللہ ا یصومہ، فلما ھاجر إلی المدینة صامہ، وأمر بصیامہ، فلما فرض شھر رمضان، قال: من شاء صامہ، ومن شاء ترکہ“․ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صوم عاشوراء، رقم الحدیث:1125، 2/792، دارالکتب العلمیة)
ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھتے تھے اور جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم بھی روزہ رکھتے تھے، جب آپ علیہ الصلاة والسلام نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، تو وہاں بھی عاشوراء کاروزہ رکھا اورحضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوبھی روزہ رکھنے کاحکم فرمایا، پھر جب ماہ ِرمضان میں روزہ رکھنے کی فرضیت کاحکم آیا، توآپ صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کو اختیار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جوچاہے عاشوراء کاروزہ رکھے، جوچاہے نہ رکھے “۔

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہواکہ ہجرت سے قبل بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی اپنی عادت شریفہ روزہ رکھنے کی تھی اورہجرت کے بعد دوسروں کوبھی تاکید فرمائی تھی۔

ماہِ محرم الحرام میں دوسراحکم
عاشورا کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے یا کسی بھی اعتبار سے وسعت کرنا،اس کی خاص فضیلت واردہے ؛ چناں چہ حضرت ابن مسعود،حضرت ابوسعید الخدری،حضرت ابوہریرہ اورحضرت جابر رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ جناب ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”من وسَّع علی عیالہ في یوم عاشوراء، وسع اللہ علیہ السنة کلہا“․( شعب الإیمان للبیہقي، کتاب الصیام، صوم التاسع والعاشر: 3/365)
ترجمہ:جوشخص عاشوراء کے دن اپنے گھروالوں پرخرچ کرنے میں وسعت وفراخی کرے گا، اللہ تعالی ساراسال اس پر(رزق) میں وسعت فرمائے گا۔

اگرچہ اس حدیث کی اسنادی حیثیت پرکلام ہے ؛ مگرمحدثین کی تصریحات کے مطابق ایسی روایات جو مختلف طرق سے مروی ہوں ، ان کی مختلف اسناد کی وجہ سے ان میں قوت پیداہوجاتی ہے ؛ اس لیے اس کو فضائل میں بیان کرنے پر کوئی بڑا اشکال باقی نہیں رہتا۔امام بیہقی رحمہ اللہ اس مضمون کی روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”ھذہ الأسانید وإن کانت ضعیفة، فہي إذا ضم بعضہا إلی بعض، اخذت قوة․ واللہ أعلم“․(شعب الإیمان للبیہقي، کتاب الصیام، صوم التاسع والعاشر: 3/365)
یعنی :اگرچہ ان روایات کی سندوں میں ضعف ہے، لیکن ان میں مجموعی طورپراتنی بات ضرور پائی جاتی ہے کہ ان اسانید کو ملا لیا جائے تو قوّت کی شکل بن جاتی ہے ۔

علامہ سخاوی نے اپنی کتاب” المقاصد الحسنة“ میں اسی بات کو اختیار کیا ہے۔ (المقاصد الحسنة في بیان کثیر من الأحادیث المشتہرة علی الألسنة، حرف المیم، رقم الحدیث: 1191، ص: 494)

ماہِ محرم سے متعلق دو موضوع احادیث
اس ماہِ مبارک میں کچھ موضوع اور منگھڑت روایات بھی علی الاعلان بیان کی جاتی ہیں اور ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے، حالاں کہ احادیث نبویہ صاحبہا الف تحیہ میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو آپصلی الله علیہ وسلمنے بیان نہیں فرمائی، بہت بڑا جرم ہے، ایسے شخص کے لیے جہنم کی وعید ہے، جیسا کہ آپ صلی الله علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:

”من کذب عليّ متعمدًا فلیتبوأ مقعدہ من النار“․ (المقاصد الحسنة في بیان کثیر من الاحادیث المشتہرة علی الألسنة، باب: تغلیظ الکذب علی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم، رقم الحدیث:3، 1/10، دارالکتب العلمیة)
ترجمہ: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔

اس لیے اس ”جرم“ کے ارتکاب سے باز رہنابہت ضروری ہے، ان منگھڑت روایات میں سے ایک یہ ہے:
”ما من عبد یبکي یوم قتل الحسین، إلا کان یوم القیامة مع أولی العزم من الرسل“․(عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص: 596، رقم الحدیث:641،مکتبة الشیخ،کراتشي)
ترجمہ: ”جو شخص بھی شہادت حسین کے دن (ان کے غم میں) روئے گا، قیامت کے دن وہ اولو العزم رسولوں کے ساتھ ہو گا“۔

اورایک دوسری روایت یہ ہے :
”من صام تسعة أیام من أول المحرم بنی اللہ لہ قبة في الھواء، میلا في میل، لھا أربعة أبواب“․(عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص: 596، رقم الحدیث: 641،مکتبة الشیخ،کراتشي)
ترجمہ: ”جس نے پہلی محرم سے نو دن کے روزے رکھے،اللہ اس کے لیے ہوا میں ایک خیمہ بنائیں گے، جو ایک میل چوڑا اور ایک میل لمبا ہوگااور اس کے چار دروازے ہوں گے“۔

واضح رہے کہ ان جیسی روایات کو بیان کرنا یا ان پر یقین کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے، اس لیے ان اور ان جیسی بہت سی روا یات اور باتیں جو محرم الحرام کے آتے ہی عام کی جاتی ہیں جن کی کوئی فنی شہادت اور ثبوت نہیں ہوتا، ان سے پورے اہتمام سے بچا جائے۔

محرم الحرام میں سوگ کرنے کا حکم
ایک اور چیز جس کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے، اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیے، کیوں؟! اس لیے کہ اس مہینے میں نواسہٴ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہایت بے دردی سے شہید کر دیا گیا، ان کے ساتھ اظہار ہم دردی کے لیے غم منانا، سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ہے، سوچنا تو یہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں شریعت کی طرف سے کیا راہ نمائی ملتی ہے؟؟!! اور ”شہادت “کا مرتبہ خوشی کا ہے یا غم اور سوگ کا؟!!تعلیماتِ نبویہ علی صاحبہا الف تحیہ سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہا سعادت کی بات ہے۔

حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت
یہی وجہ تھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مستقل حصولِ شہادت کی دعا مانگا کرتے تھے، (صحیح البخاری، کتاب فضائل مدینہ، باب کراہیة النبيصلی الله علیہ وسلم أن تعری المدینة، رقم الحدیث: 1890، 3/23، دارطوق النجاة)

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنہیں بارگاہِ رسالت سے سیف اللہ کا خطاب ملا تھا، وہ ساری زندگی شہادت کے حصول کی تڑپ لیے ہوئے قتال فی سبیل اللہ میں مصروف رہے، لیکن اللہ کی شان انہیں شہادت نہ مل سکی، تو جب ان کی وفات کا وقت آیا تو پھوٹ پھوٹ کے رو پڑے کہ میں آج بستر پر پڑا ہوا اونٹ کے مرنے کی طرح اپنی موت کا منتظر ہوں۔ (البدایہ والنھایہ، سنة احدی وعشرین، ذکر من توفی احدی وعشرین: 7/114، مکتبة المعارف، بیروت)

جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا شوق شہادت
شہادت تو ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے، جس کی تمنا خود جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے لیے کی اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جس میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں، پھر شہید کر دیا جاوٴں، (پھر مجھے زندہ کر دیا جائے) پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کر دیا جاوٴں،(پھر مجھے زندہ کر دیا جائے) پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اورپھر شہید کر دیا جاوٴں“۔(صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب: فضل الجھاد والخروج في سبیل اللہ، رقم الحدیث: 4967)

الغرض یہاں تو صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ شہادت تو ایسی نعمت ہے جس کے حصول کی شدت سے تمنا کی جاتی تھی، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر افسوس اور غم منایا جائے، اگر اس عمل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے توپھر ہمیں بتلایا جائے کہ پورے سال کا ایسا کون سا دن ہے جس میں کسی نہ کسی صحابیٴ رسول کی شہادت نہ ہوئی ہو، کتب تاریخ اور سیر کو دیکھ لیا جائے، ہر دن میں کسی نہ کسی کی شہادت مل جائے گی، جس کا مقتضی یہ ہے کہ اس دن کو اظہارِ غم اور افسوس بنایا جائے، نیز! اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں بھی تو کئی عظیم اور نبی صلی الله علیہ وسلم کی محبوب شخصیات کو شہادت ملی، لیکن کیا ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے بھی ان کی شہادت کے دن کو بطور یادگار کے منایا؟!! نہیں ؛بالکل نہیں، تو پھر کیا ہم اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ غم محسوس کرنے والے ہیں؟؟!!خدا را! ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس قسم کی رسومات واعمال سے بچنے کی مکمل کوشش کریں۔

شرعاً سوگ کرنے کا حکم
شرعاً سوگ کرنے کی صرف چند صورتیں ہیں اور وہ بھی عورتوں کے لیے: مطلقہ بائنہ کے لیے صرف زمانہ عدت میں۔جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کے لیے صرف زمانہ عدت میں۔کسی قریبی رشتے دار کی وفات پر صرف تین دن۔ اس کے علاوہ کسی بھی موقعہ پر عورت کے لیے سوگ کرنا جائز نہیں ہے اور سوگ کا مطلب یا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس عرصہ میں زیب وزینت اور بناوٴ سنگھار نہ کرے، زینت کی کسی بھی صورت کو اختیار نہ کرے، مثلا: خوش بو لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا اور رنگ برنگے خوش نما کپڑے وغیرہ پہننا، اس کے علاوہ کوئی صورت اپنانا، مثلاً: اظہارِ غم کے لیے سیاہ لباس پہننا یا بلند آواز سے آہ وبکا اور سیاہ لباس وغیرہ پہنناجائز نہیں۔نیز! مرد وں کے لیے تو کسی صورت میں سوگ کی اجازت نہیں ہے تو پھر محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی سوگ اور ماتم کیا معنی رکھتا ہے؟!!

محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم
اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکلیہ بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے، جس کا ترک لازم ہے، لہٰذا جب سوگ جائز نہیں ہے تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ امیر الموٴمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی، (ملاحظہ ہو: تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلاة والسلام وأزواجہ: 3/128، دار الفکر،، تاریخ الرسل والملوک للطبري، ذکر ما کان من الأمور في السنة الثانیة، غزوة ذات العشیرة، 2/410، دار المعارف بمصر)

اس مہینے میں شادی نہ ہونے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس مہینے میں نحوست ہے، جب کہ شرعاً یہ بات بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے، اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی دن یا زمانے میں کسی قسم کی نحوست نہیں رکھی گئی۔ اکابرین مفتیانِ عظام کے فتاوی میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ذیل میں فتاوی رحیمیہ سے اسی مسئلے کا جواب نقل کیا جاتا ہے:

(الجواب): ماہ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں، حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش واقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے، دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں، حرام ہے، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے:

”لا یحل لامرأة توٴمن باللہ والیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلٰث لیال إلا علٰی زوج أربعة أشھر وعشراً“․
ترجمہ: ”جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے“۔ (بخاري، باب: تحد المتوفی عنھا أربعة أشھر وعشراً إلخ، ص:803، ج:2، پ:22)، (صحیح مسلم، باب: وجوب الإحداد في عدة الوفات، إلخ، ص: 496، ج:1)، (مشکوٰة، باب العدة، الفصل الأول، ص: 288)

ماہ مبارک محرم میں شادی وغیرہ کرنے کو نامبارک اور ناجائز سمجھنا اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے، اسلام میں جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا گیا ہو، اعتقادا یاعملا ان کو ناجائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کا خطرہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ پوری احتیاط برتیں، ان رسومات سے علیحدہ رہیں، ان میں شرکت نہ کریں۔

”مالابد منہ“ میں ہے: ”مسلم راشبہ بہ کفار وفساق حرام است“ یعنی: مسلمانوں کو کفار وفساق کی مشابہت اختیار کرنی حرام ہے۔ (ص:131)

ماہ مبارک میں شادی وغیرہ کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی علماء میں اختلاف بھی نہیں ہے۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا فتویٰ پڑھیے:

(سوال) بعض سنی جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر میں روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے۔ماہِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے، اس کا کیا حکم ہے؟

(الجواب) تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ (احکام شریعت، ص: 90، ج:1) فقط واللہ اعلم بالصواب

(فتاوی رحیمیہ، کتاب البدعة والسنة، ماہ محرم میں شادی کرے یا نہیں؟2/115، دارالاشاعت، کراچی )

اسی طرح فتاوی حقانیہ (کتاب البدعة والرسوم،محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم؟ 2/96، جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک)میں بھی موجود ہے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے صراط مستقیم پر گام زن رکھے۔ آمین !

مفتی محمد راشد ڈسکوی
رفیق شعبہ تصنیف و تالیف واستاذ جامعہ فاروقیہ کراچی

ماہنامه الفاروق (جامعہ دارالعلوم فاروقیہ کراچی)
محرم الحرام 1437


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں