آج : 4 September , 2016

کامیابی و کامرانی کا راستہ

کامیابی و کامرانی کا راستہ

یہاں سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مشہور ارشاد جسے محب طبری رحمہ اللہ نے ’’الریاض النضرۃ‘‘ میں نقل کیا ہے، یاد آتا ہے:
’’لن یصلح آخر ھذہ الأمۃ الا ما صلح بہ أولھا‘‘۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الباب الثانی فی مناقب امیرالمومنین ابی حفص عمر بن الخطاب، ج۲، ص۴۰۲، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت)
’’اس امت کے آخری حصے کی اصلاح بھی بس اسی چیز سے ہوسکتی ہے جس سے اس کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی۔‘‘
ربع صدی سے یہاں سب کچھ آزمایا جا چکا ہے، آئیے! اس جدید نظریہ کو بھی آزما لیجئے:
فلک را سقف بشگافیم و طرح نو وراندازیم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی
قرآن حکیم نے چار مقامات پر حضرت خاتم الانبیاء جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار منصب بیان فرمائے ہیں:
۱: آیات پڑھ کر سنانا۔
۲: تزکیہ کرنا، یعنی کفر و شرک، بدعملی و بداخلاقی اور امورِ جاہلیت سے ان کو پاک و صاف کرنا۔
۳: کتاب اللہ کے احکام کی تعلیم دینا اور اس کے مضامین کی تشریح کرنا۔
۴: حکمت و دانائی، احکام کے علل و غایات اور شریعت کے اصول و مقاصد کی تعلیم دینا۔
تزکیہ سے مراد عقائد و نظریات اور اعمال و اخلاق کی پاکیزگی ہے، قرآن کریم نے تین مقامات پر تزکیہ کا ’’تعلیم‘‘ سے مقدم ذکر فرمایا، جس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بقدر ضرورت تزکیہ تعلیم سے پہلے ہونا چاہیے، تعلیم اسی وقت مفید اور بارآور ہوسکتی ہے جبکہ قلوب میں اس کے قبول کرنے کی اہلیت اور جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہو، زمین کو پہلے کاشت کے قابل بنایا جائے، پھر تخم ریزی کی جائے، ورنہ وہی کیفیت ہوگی جو عارف شیرازی رحمہ اللہ نے فرمائی:
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس

یہ تزکیہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ صحبت اور مکارم اخلاق سے حاصل ہوتا تھا اور اب بھی بقدرِ استعداد اللہ تعالی کے مقبول بندوں سے ربط و تعلق اور ان کی صحبت اور مجالست سے حاصل ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ تعلیم کتاب و حکمت سے بھی اصل مقصود تزکیہ ہے، یہ نہ ہو تو ساری تعلیم بیکار ہے، اعمال و اخلاق کے بغیر نرے علوم و معارف کی حق تعالی کے یہاں کوئی قدر نہیں، آدمی ساری دنیا کی کتابیں چاٹ لے، لیکن اگر انسانی اخلاق اور ایمانی اعمال نہیں تو پڑھا لکھا جانور تو ہوسکتا ہے مگر انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔
تزکی کے بغیر نہ ایمان میں رسوخ کی کیفیت اور یقین و اطمینان کی قوت پیدا ہوگی نہ اخلاق درست ہوسکیں گے، نہ اخلاص کی دولت ملے گی، نہ اعمال پر مداومت نصیب ہوگی، نہ اندر کا فرعون (مکار نفس) ہلاک ہوگا، نہ مخلوق سے لڑائی بند ہوگی۔
نفسِ ما ہم کم تر از فرعون نیست
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: ’’تعلمنا الایمان ثم تعلمنا القرآن‘‘ (سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فی الایمان، ص۷، طبع قدیمی) کہ: ’’ہم نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا‘‘۔ یہ ایمان کا سیکھنا ہی تزکیہ کہلا تا ہے کہ قلب غیر اللہ کے بتوں سے پاک ہو، اعمال ریا و غیرہ سے پاک ہوں اور نفس کمینے اخلاق سے پاک ہو، معاشرہ امور جاہلیت سے پاک ہو، کمائی حرام اور مکروہ ذرائع سے پاک ہو، و غیر ذلک۔
یہی تزکیہ تھا جس کی وجہ سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالی نے بہت سی بشارتوں سے نوازا اور انہیں آسمانی وحی کی شہادت اور سند ملی۔ سورۂ فتح میں ان کے امتیازی اوصاف ذکر کرتے ہوئے ایک وصف باہمی رحمت و شفقت ذکر کیا گیا ہے: ’’رحماء بینھم‘‘ یہ وصف کامل تزکیہ کے بعد ہی حاصل ہوسکتا ہے اور اسی کو نہ سمجھنے کی خرابی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پہلا وصف یہی بیان فرمایا: ’’أبرُّھم قلباً‘‘ کہ ان کے دل بہت پاک صاف تھے، دوسرا وصف بیان فرمایا: ’’وأعمقھم علماً‘‘ ان کا علم بڑا گہرا تھا، تیسرا وصف بیان فرمایا: ’’و أقلھم تکلفاً‘‘ ان کی زندگی تکلفات اور تصنع سے پاک تھی۔ (مشکوۃ، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۲، ط:قدیمی)

حضرات صوفیاء اور اشاعتِ دین
حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ جن کے ذریعہ دین کی تبلیغ و اشاعت سلاطین کی تلوار اور علماء کے قلم سے بھی زیادہ ہوئی ہے، ان کا خاص موضوع یہی ہے کہ نفوس کی تربیت اور اخلاق کا تزکیہ کیا جائے، ان کے یہاں بھی تربیت کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے جذب ہو پھر سلوک، اسی کا نام مجذوب سالک رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ طریقہ اقرب الی القرآن ہوگا، البتہ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نقل فرمائی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان چار مناصب میں سے تزکیہ کو کتاب و حکمت کی تعلیم کے بعد سب سے آخر میں رکھا ہے، اس سے ایک تو اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا اول و آخری مقصد تزکیہ ہے، دوسرے اس طرف اشارہ ہے کہ تزکیہ بقدر ضرورت تو تعلیم سے پہلے ہونا چاہیے، مگر کامل تزکیہ کی نوبت علم کے بعد ہی آسکتی ہے، یعنی علم کے بعد عمل ہوگا اور علم ہی ذریعہ بنے گا عمل کا، گویا اس آیت میں تربیت کا دوسرا طریقہ بیان فرمایا ہے جو حضرات صوفیاء کے یہاں سالک مجذوب کہلاتا ہے، لوگوں کی استعدادیں مختلف ہوتی ہیں، کسی کو تعلیم کے بعد بھی تزکیہ کی ضرورت رہتی ہے اور کسی کو تزکیہ کے بعد تعلیم کی حاجت ہوتی ہے۔ نہ تزکیہ کے مراتب ختم ہوتے ہیں، نہ تعلیم کی انتہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب صرف تعلیم اور سمجھانا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کی تعمیل کرانا اور قوم کو ایک با عمل امت بنانا بھی تھا، جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے نقشہ کے مطابق تعلیم و تربیت پر محنت نہیں ہوتی اور افراد کی اصلاح کے ذریعہ ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں نہیں آتا سیاسی محنت صحیح طریق پر بار آور نہیں ہوگی اور تمام قوتیں شر و فساد کی نذر ہوجائیں گی۔

اسلامی سیاست اور موجودہ سیاست
دینی تربیت کے فقدان ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ باوجودیکہ تمام زعماء اور سیاسی لیڈر اسلامی خدمت کا اعلان فرما رہے ہیں اور ملک و ملت کی صحیح نمائندگی کا دم بھرتے ہیں، یقیناً ان میں سے بعض حضرات مخلص بھی ہوں گے اور وہ اسلام کے نام کو محض اقتدار طلبی کے لیے استعمال نہیں کرتے ہوں گے، لیکن ان اسلامی نمائندوں کی اکثریت اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جس اسلام کا ہم نام لیتے ہیں، اسی اسلام نے سیاست کے بھی کچھ آداب تجویز کیے ہیں اور بے ہنگم سیاست بازی پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں، مثلاً موجودہ سیاست کی بنیاد ہی اس بات پر قائم ہے کہ ایک شخص اقتدار طلبی کے لیے کھڑا ہو، اپنی پارٹی بنائے، اپنا پروگرام قوم کے سامنے رکھے اور قوم سے اپیل کرے کہ اس کو ووٹ دے کر کرسیِ اقتدار پر فائز کیا جائے، اس کے بعد وہ جانے اور قوم کے مسائل۔
اب دیکھیے کہ اسلام اقتدار طلبی کے مزاج ہی کی جڑکاٹ دیتا ہے، اسلام اقتدار کی خواہش کو پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ ذمہ داری معاشرہ پر ڈالتا ہے کہ وہ ایسے افراد کو آگے لائے جو:
’’ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ‘‘ (القصص: ۸۳)
’’جو نہیں چاہتے زمین میں اونچا ہونا اور نہ فساد۔‘‘
کے معیار پر پورے اتریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسے شخص کو جو عہدہ کی درخواست لے کر آئے عہدہ نہیں دیتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اور منتیں کر کر کے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کو عہدے دیئے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو عہدۂ قضاء کی پیش کش کی، انہوں نے انکار کیا، امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے باپ نے بھی تو قبول کیا تھا، عرض کیا: ان میں ہمت ہو گی مجھ میں نہیں، امیرالمومنین نے منت و سماجت کی مگر ان کی معذرت غالب آگئی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بہت اچھا مگر کسی اور کو نہ بتانا، ورنہ کوئی بھی اس کے لیے آمادہ نہ ہوگا۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات میں ہے کہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کا جامع مسجد دہلی میں وعظ تھا جس میں ایک انگریز بہادر بھی موجود تھا، تقریر کے بعد اس نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے سلطنت کیوں جاتی رہی؟ کسی نے کچھ جواب دیا، کسی نے کچھ، اس نے کہا: میں بتاتا ہوں کہ اصلی وجہ یہ تھی کہ اس منصب کے اہل لوگوں نے اس سے گریز کیا اور نا اہل لوگ اوپر آگئے اور یہی نااہلی زوالِ سلطنت کا باعث بنی۔

مسلمانوں کی نمائندگی
ہم جانتے ہیں کہ اس زمانہ قحط الرجال میں جس میں انسانوں کی تو افراط ہے، مگر آدمی بہت کم ہیں، نہ اسلام کا معیاری معاشرہ ہے نہ معیاری نمائندے مل سکتے ہیں، لیکن کم از کم اتنا تو ہو گہ جو لوگ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ لے کر اٹھیں، ان میں صوم و صلوٰۃ کی پابندی، دینی شعائر کا احترام، اسلام کے ضابطہ حیات پر کامل اذعان اور اسلامی اخلاق و اعمال پائے جائیں، وہ قول کے سچے اور بات کے پکے ہوں، انہیں غریب مسلمانوں کے مسائل کی سمجھ بوجھ اور دینی احکام کا شعور ہو، ملت کے تمام افراد کے یکساں ہمدرد ہوں، وہ اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا نہ بنیں۔

 

تحریر: محدث العصر حضرت علامہ سید محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ
بشکریہ ماہنامہ بینات۔ ذوالقعدہ ۱۴۳۷ھ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں