آج : 31 August , 2016
اور اس کے نتائج و ثمرات

عہد رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فقہی تربیت (چوتھی قسط)

عہد رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فقہی تربیت (چوتھی قسط)

عہد صحابہ میں چھ مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنہم کی آرا کی پیروی
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ المتوفی ۲۴۱ھ ’’کتاب العلل‘‘ میں بلند پایہ فقیہ و حافظ حضرت مسروق رحمہ اللہ کا بیان نقل کرتے ہیں:
عہد صحابہ میں چہ صحابہ: حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابوموسی بن قیس اشعری رضی اللہ عنہم فتوی دیتے تو ان کے قول پر بات ٹھہرتی، ان میں تین صحابی اپنے قول اور فتوے کو دیگر تین صحابہ کے مقابلے میں چھوڑ دیتے تھے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عمر کے مقابلے میں اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اور حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اپنی رائے اور فتویٰ سے دست بردار ہوجاتے تھے۔ (۱)
اب یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ تفقہ، فقہی بصیرت اور تفریعِ مسائل کا نام ہی رائے ہے۔
عہد رسالت، خلافتِ راشدہ اور عہد صحابہ سے اس سنت پر عمل برابر جاری و ساری تھا۔ (۲)

عظیم مجتہدین کی عظیم تر مجتہدین کے حق میں اپنی فقہی آرا سے دست برداری
یہاں یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ مذکورہ بالا صورت میں ایک عظیم مجتہد کا دوسرے عظیم تر مجتہد کے مقابلے میں اپنی رائے کو چھوڑ کر دوسرے مجتہد کی رائے کو اختیار کرنا، اجتہاد کی ایک قسم ہے۔ چنانچہ امام ابولحسن الکرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ان تقلید المجتھد لغیرہ ممن ھو أعلم منہ و ترک رأیہ لرأیہ ضرب من الاجتھاد فی تقویۃ رأی الأخر فی نفسہ علی رأیہ بفضل عملہ و تقدمہ و معرفۃ وجوہ النظر و الاستدلال، فلم یحل فی تقلیدہ ایاہ من أن یکون مستعملا لضرب من الاجتھاد یوجب عندہ رجحان قول من قلدہ‘‘۔(۳)
’’بلاشبہ ایک مجتہد کا اپنے سے بڑے مجتہد و عالم کی تقلید کرنا اور اپنی اجتہادی رائے کو اس کی اجتہادی رائے کے مقابلے میں نظرانداز کرنا، دوسرے مجتہد کی رائے کو اپنی رائے کے مقابلے میں چھوڑنا دراصل اس کی علمی برتری اور علم میں اس کی پیش قدمی کی وجہ سے ہے۔
اس کی وجوہِ نظر کی معرفت اور استدلال کے پیش نظر ترجیح دینا اور اس کی تقلید کرنا اس امر سے خالی نہیں کہ وہ اجتہاد کی ایک قسم پر عمل پیرا رہا، جس نے اس امر کو اس کے خیال میں ضروری کردیا کہ اس نے جس کی تقلید اختیار کی ہے اس کے قول کو اپنے قول پر ترجیح دے۔‘‘

چھ مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تین صحابی کوفی
چنانچہ مذکورہ بالا چھ علما میں سے تین حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہم کا شمار مجتہدین فقہاء کوفہ سے ہے۔ (۴) اور دوسرے تین حضرات علما و مجتہدین کا تعلق بقیہ اسلامی بلاد سے ہے۔
مذکورہ بالا چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کا شمار ان مجتہدین صحابہ میں ہے، جنہیں فقہ و نظر میں بلند مقام حاصل تھا، جو عہد رسالت میں بھی فتوی دینے کے اہل تھے اور فتویٰ دیتے تھے، چنانچہ مؤرخ ابن سعد رحمہ اللہ نے ’’الطبقات الکبری‘‘ میں ایک مستقل باب ’’ذکر من کان یفتی بالمدینہ و یقتدی بہ من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ قائم کیا ہے، اس میں ان مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنہم کو نام بنام گنوایا ہے۔ (۵)

مجتہدین صحابہ میں تین صحابہ رضی اللہ عنہم پر ابواب احکام کی انتہا
امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد علی بن المدینی رحمہ اللہ متوفی ۲۳۴ھ کا بیان ہے کہ احکام سے متعلق صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم تین صحابہ رضی اللہ عنہم پر منتہی ہوا، انہی سے وہ علم سیکھا اور روایت کیا گیا:
حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم ۔ ان میں سے ہر ایک کے شاگرد تھے جو ان کے قول پر عمل کرتے اور لوگوں کے فتوے دیتے تھے۔ (۶)
مذکورہ بالا بیان سے بھی یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ عہد صحابہ میں عوام الناس ان کے فتووں پر عمل پیرا رہتے تھے، غور فرمائیں کیا یہ تقلید شخصی نہیں؟

حضرت عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے شاگرد اپنے استادوں کے اقوال اور فتاویٰ کے مقلد و ناشر
مؤرخ علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ متوفی ۴۶۳ھ نے بسند متصل علی بن المدینی رحمہ اللہ متوفی ۲۳۴ھ کا بیان ان الفاظ میں زینت کتاب کیا ہے:
’’لم یکن من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم أحد لہ أصحاب یقومون لہ بقولہ فی الفقہ الا ثلاثۃ: عبداللہ بن مسعود و زید بن ثابت و ابن عباس و کان لکل واحد منھم أصحاب یقومون لقولہ و یفتون الناس‘‘۔(۷)
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کوئی ایک صحابی ایسا نہ تھا جس کے شاگرد فقہ میں اس کے اقوال پر جمے رہتے اور عمل کرتے اور اس کے فقہی مذہب کو اختیار کرتے ہوں، مگر صرف تین صحابی: حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم ایسے تھے کہ ان میں سے ہر ایک کے شاگرد اُن کے قول کو اختیار کرتے اور لوگوں کو اس کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔‘‘
یہاں یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ علی بن المدینی سے ایک نامور مجتہد خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام رہ گیا ہے۔ ابواب احکام کے جن ائمہ مجتہدین پر انتہا ہوتی ہے، وہ تین نہیں چار ہیں، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ان تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عہد صحابہ (پہلی صدی ہجری) میں مطلق تقلید ہی نہیں، تقلید شخصی کا بھی عوام میں رواج ہوچلا تھا۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس کا موضوعِ سخن
صحابۂ رسول مسجید میں بیٹھ کر پیش آنے والے مسئلوں کے حکموں کے متعلق آپس میں بحث و مباحثہ کرتے رہتے تھے۔ یہ فقہی بصیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طبیعت میں ایسی رچ بس گئی تھی کہ ان کی مجالس میں موضوع سخن ہی فقہی مسائل ہوتے تھے۔ چنانچہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ ’’المستدرک‘‘ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں:
’’أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا جلسوا کان حدیثھم معنی الفقہ الا أن یقرأ رجل سورۃ أو رجلاً أن یأمر بقراء ۃِ سورۃ‘‘۔(۸)
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب بیٹھتے تو ان کا موضوعِ سخن فقہ اور فقہی مسائل ہوتے تھے، مگر یہ کہ کوئی صحابہ کوئی سورت پڑھنا شروع کرتا یا کوئی صحابی کسی کو کوئی سورت کی تلاوت کی فرمائش کرتا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں موضوع سخن فقہی مسائل ہوتے تھے یا پھر قرآن کی تلاوت ہوتی تھی۔
امام ابوبکر الجصاص رحمہ اللہ متوفی ۳۷۰ھ ’’أحکام القرأٰن‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ان أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجتمعون فی المسجد یتذاکرون حوادث المسائل فی الأحکام‘‘۔ (۹)
’’اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھ کر پیش آنے والے مسئلوں کے حکموں کے متعلق آپس میں بحث و مباحثہ کرتے رہتے تھے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا صحابہ رضی اللہ عنہم کو فقہی بصیرت حاصل کرنے کی ترغیب و تاکید اور اس سنتِ متوارثہ پر قرآن و سنت کی رہنمائی
امام ابوبکر الجصاص رحمہ اللہ ’’أحکام القرآن‘‘ میں رقمطراز ہیں:
’’محمد سیرین رحمہ اللہ (۳۳۔۱۱۰ھ/۶۵۳۔۷۲۹ء) احنف بن قیس رحمہ اللہ (۶۷ھ/ ۶۸۶ء) سے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قیادت و سیادت سے بہرہ مند ہونے سے پہلے فقہی بصیرت (اور مسائل کے حل کا فہم) حاصل کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد میں بیٹھ کر پیش آنے والے مسئلوں کے احکام میں مباحثہ کرتے تھے۔ (ان کے بعد) تابعین بھی اس طریقے و روش پر گامزن رہیاور ان کے بعد اانے والے فقہا کا ہمارے زمانے (۳۷۰ھ/۹۸۰ء) چوتھی صدی ہجری تک سلسلہ بدستور قائم ہے۔‘‘
اس حقیقت کا انکار رَذیل اور جاہل لوگ کرتے ہیں جنہوں نے ملتی جلتی سنن و آثار کو اٹھا کر دیکھا، ان کے مطالب و معانی اور احکام کو نہ پاسکے، ان میں بحث کرنے اور ان سے فقہی احکام نکالنے سے عاجز آگئے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’رُبّ حامل فقہ غیر فقیہ و رُبّ حامل فقہ الی من ھو أفقہ منہ‘‘۔ (۱۰)
’’بہت سے فقہی حدیثوں کے راوی فقیہ نہیں اور بہت سے فقہی حدیثوں کے سننے والے ان کا منشأ و مطلب زیادہ اچھا سمجھتے ہیں۔‘‘
اس حقیقت سے منکر جماعت کی مثال ایسی ہے جیسی اللہ تعالی نے بیان کی ہے:
’’ مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ‘‘۔ (۱۱)
’’ان لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا، پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا، ان کی مثال گدھے کی سی ہے جو کتابیں لادے ہوئے ہو۔‘‘
اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ‘‘۔ (۱۲)
’’یعنی وہ (باتیں جو یہ پوچھتے ہیں) تم پر کھولی جائیں تو تم کو بری لگیں گی۔‘‘
اس سے مراد بے محل و بے جا سوالات ہیں، جیسے ’’مَن أبی؟‘‘ میرا باپ کون ہے؟ اور ’’أین أنا؟‘‘ میں کہاں ہوں؟ جن سے ہر شائستہ انسان کو ناگواری ہوتی اور تکلیف پہنچتی ہے۔ اس قسم کے فضول و لایعنی سوالات کی قباحت و ممانعت کا اظہار اس آیۂ شریفہ میں یوں کیا گیا ہے:
’’ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ ‘‘ (۱۳)
’’اور اگر تم اُنھیں دریافت کرتے رہو گے اس زمانے میں جب کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔‘‘
اس قسم کے سوالات کی شریعت میں اجازت نہیں، لیکن ایسے سوالات جن سے حق تعالیٰ کی رضا جوئی اور احکام الہی کی تعمیل کرنا مقصود ہو وہ اس کے زمرے میں داخل نہیں، یہی وجہ ہے کہ نت نئے مسائل کے متعلق احکام الہی کے اظہار و بیان سے کسی سائل کو ناگواری نہیں، بلکہ خوشی و مسرت ہوتی ہے، اس لیے کہ ان پر عمل سے ہر ایک کی دینی و دنیوی زندگی سنورتی ہے، چنانچہ ایسے تمام سوالات جن کا تعلق معاش کے شعبوں سے ہو یا معاد کے، ان سے مقصد احکام کی بجاآوری ہے، وہ سب ’’عفو‘‘ یعنی درگزر کے دائرے میں داخل ہیں، چنانچہ آیۂ شریفہ میں ارشاد ہے: ’’عفا اللہ عنھا‘‘ ’’اللہ تعالی نے ان کی بات سے درگزر کیا۔‘‘ یعنی اس قسم کے دینی مسائل میں بحث و تکرار پر تم سے بازپرس نہیں کی اور ان مسائل کے حقائق تم پر روشن کردیئے۔ ذرا غور فرمائیں! یہ فقہی بصیرت کیسا عظیم احسان الہی ہے؟
اس مقام پر ’’عفو‘‘ درگزر کرنے کا مطلب ایسے سوالات سے درگزر کرنا، اجازت دینا، سہولت فراہم کرنا، اور لگائی ہوئی پابندی کو ڈھیل دینا، آسانی کرنا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ باری تعالی کا ارشاد ہے: ’’فتاب علیکم و عفا عنکم‘‘ (۱۴) ’’اس نے تم پر رحمت سے توجہ فرمائی اور تم سے درگزر کی۔‘‘
یہاں عفا عنکم کے معنی سَھَلَ عَلَیکُم کے ہیں، یعنی تمہیں سہولت بخشی ہے (تم اس سے فائدہ اٹھاؤ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے:
’’الحلال ما أحل اللہ و الحرام ما حرم اللہ و ماسکت عنہ فھو عفو‘‘۔
’’حلال وہ ہے جسے اللہ تعالی نے حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے حرام کیا اور جس سے اللہ تعالی نے سکوت و خاموشی اختیار کی وہ عفو در گزر کی حدود میں داخل ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سہولت دی گئی ہے، فائدہ اٹھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’عفوت لکم عن صدقۃ الخیل و الرقیق۔‘‘ (۱۵) ’’میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ سے درگزر کی۔‘‘ (۱۶) مذکورہ بالا ارشادات نبوی سے اجتہاد کے موقع و محل کی تعیین بھی ہوجاتی ہے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجتہادی طریقے کی پیروی
شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ متوفی ۴۷۳ھ ’’المحرر فی أصول الفقہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’أصحابی کالنجوم بأیھم اقتدیتم اھتدیتم۔‘‘ ’’میرے صحابہ ستاروں کی طرح الہی کی طلب و جستجو میں ان کے طریقے پر چلنے میں پوشیدہ ہے، نہ ان کی تقلید کرنے میں۔ اور ان کا طریقہ رائے و اجتہاد پر عمل کرنا تھا اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد: ’’میرے بعد آنے والوں کی پیروی کرو اور میرے خلفاء کے طریقے پر چلتے رہو‘‘ کا مطلب تھا کہ جن باتوں میں حکم صریح نہ پاؤ، ان میں ان کے طریقہ اجتہاد و رائے پر گامزن رہو۔ (۱۷)

بعض مجتہد اکابر و اصاغر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بکثرت فتووں کے اسباب
اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے (فتوے اور) روایتیں کم ہونے کا سبب یہ ہے کہ تابعین کے فائدہ اٹھانے سے پہلے وہ اللہ تعالی کو پیارے ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر صحابہ میں سے حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے بکثرت (فتوے اور) روایتیں مروی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’فصارت قضایاہ و فتاواہ متبعۃ فی مشارق الارض و مغاربھا‘‘۔ (۱۸)
’’چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلوں اور فتووں کی اسلامی قلمرو کے مشرق و مغرب میں ہر طرف پیروی کی جاتی تھی۔‘‘
یہ بھی تقلید تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے زیادہ زمانہ پایا، انہوں نے حکمرانی کی، ان سے سوالات کیے گئے، انہوں نے لوگوں کے فیصلے چکائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے امام تھے جن کی اقتدا اور پیروی کی جاتی تھی اور یہ جو افعال و اعمال کرتے تھے ان کو نظر میں رکھا جاتا تھا، ان کی طرف توجہ دی جاتی تھی، ان سے فتوے پوچھے جاتے، وہ ان کا جواب دیتے تھے، انہوں نے حدیثیں سنی تھیں اور وہ حدیثیں سناتے تھے، یہ اکابر صحابہ میں سے تھے، ان کے علاوہ دوسرے اکابر صحابہ جیسے حضرت ابوبکر، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح عامر بن عبداللہ، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل، حضرت ابی بن کعب، سعد بن عبادہ، عبادہ بن الصامت، اسید بن حضیر، معاذ بن جبل اور انہی جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت کم روایتیں منقول ہیں۔ ان اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کثرت سے روایتیں منقول نہیں جس کثرت سے کم عمر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں، جیسے حضرت جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری، ابوہریرہ عبدالرحمن بن صخر، عبداللہ بن عمر بن الخطاب، عبداللہ بن عمرو بن العاص، عبداللہ بن عباس، رافع بن خدیج، انس بن مالک، براء بن عازب رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اور انہی جیسے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، ان مذکورہ بالا تمام صحابہ کا شمار فقہاء صحابہ میں کیا جاتا ہے، یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔
اور ان سے کم عمر صحابہ جیسے حضرت عقبہ بن عامر جہنی، زید بن خالد جہنی، عمران بن الحصین، نعمان بن بشیر، معاویہ بن ابی سفیان، سہل بن سعد مساعدی، عبداللہ بن یزیدی الخطبی، مسلمہ بن مخلد الزرقی، ربیعہ بن کعب الاسلمی، ہند بن ارثہ اسلمی، اسماء بن حارثہ اسلمی، یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے اور ساتھ رہتے تھے، چنانچہ ان سے زیادہ روایتیں منقول ہیں اور ان دونوں میں اور انہی جیسے صحابہ میں علم زیادہ رہا، اس لیے کہ یہ زیادہ مدت تک زندہ رہے اور ان کی عمریں بھی لمبی ہوئیں اور تابعین کو ان کے علم سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا موق ملا اور بیشتر بڑے صحابہ ان سے پہلے وفات پاگئے اور ان اکابر صحابہ کرام سے زیادہ علم نہیں پھیلا، اس لیے بھی کہ اس وقت انہی صحابہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ (۱۹)

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اجتہاد میں مرتبہ و مقام
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایسے بلندترین فقیہ تھے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے مجتہد اعظم و خلیفہ راشد سے فقہی مسائل میں سو سے زیادہ مسئلوں میں اختلاف رکھتے تھے، ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’أما اختلافھما فلو تقصی یبلغ أزید من ماءۃ مسئلۃ‘‘۔ (۲۰)
’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین اختلافی مسائل کو اگر شمار کیا جائے تو ان کی تعداد سو سے بھی زیادہ نکلے گی۔‘‘

فقہ و بصیرت کا گھاٹ
ابن سعد رحمہ اللہ نے بسندِ متصل حضرت مسروق کوفی رحمہ اللہ کا بیان نقل کیا ہے:
’’لقد جالست أصحابَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوجدتھم کالاخاذ، فالاخاذ یُروی الرجل و الاخذ یُروی الرجلین و الاخاذ یُروی العشرۃ و الاخاذ یُروی الماءۃ و الاخاذ لو نزل بہ أھل الأرض لأصدرھم، فوجدت عبداللہ بن مسعود من ذلک الاخاذ‘‘۔ (۲۱)
’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہم نشینی کی سعادت حاصل رہی ہے، چنانچہ میں نے انہیں گڑھوں (تالاب) کی طرح پایا (کوئی کم علم والا، کوئی زیادہ علم والا) کوئی ایک آدمی کو سیراب کرتا، کوئی دوکو سیراب کرتا، کوئی دس کو اور کوئی سو دو سو کو سیراب کرتا۔ ان میں ایسا بھی تالاب تھا کہ اگر اس سرزمین والے سب ہی آتے تو وہ سب کو سیراب کرکے لوٹاتا تو میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو (فقہی بصیرت میں) ایسا ہی تالاب پایا۔‘‘
علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ متوفی ۷۹۴ھ ’’البحر المحیط‘‘ میں رقمطراز ہیں:
’’و أما ابن مسعود کان فقیہ الصحابۃ منتدباً بالفتوی و کذلک ابن عباس و زید بن ثابت ممن شھد لہ الرسول بانہ أفرض الأئمۃ رضی اللہ عنھم۔المعتبر تصدیۃ لھذا المعنی من غیر نکیر۔ و لا شک فی کون العشرۃ من أھل الاجتھاد و کذلک من انتشرت فتاویٰ کابن مسعود و عائشۃ و غیرھم کثرت فتاواھم غیر أن الذی اشتھر منھم الفتاویٰ و الأحکام جماعۃ مخصوصۃ۔‘‘ (۲۲)
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فتوے سے وابستگی رہی ہے، اس لیے وہ مفتی اور فقیہ صحابی کے لقب سے مشہور تھے ، یہی حال حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسائل میراث کے سب سے بڑے عالم ہونے کی شہادت دی ہے اور وہ یہ خدمت برابر سرانجام دیتے رہے، اس امر میں کسی کا اختلاف نہیں، اور عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے مجتہدین ہونے میں بھی شک و شبہ نہیں ہے، اور ایسے صحابہ جن کے فتوے شائع ہیں، جیسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں جن کے فتوے کثیر تعداد میں موجود ہیں، وہ صحابہ رضی اللہ عنہم جو احکام (حلال و حرام) سے متعلق مسائل میں شہرت رکھتے ہیں، وہ ایک مخصوص اور محدود جماعت ہے۔‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا روایتی معیار
اہل علم میں سے کسی کو اس بات میں شک نہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فقہ و درایت اور اتقان و احتیاط اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری و قربت کا جو مرتبہ و مقام حاصل تھا، وہ کم ہی صحابہ کو حاصل ہوگا، چنانچہ امام عمرو بن میمون یمانی ثم کوفی رحمہ اللہ متوفی ۷۴ /۷۵ھ کا بیان ہے:
’’مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہمنشینی کی برسوں سعادت حاصل رہی ہے۔ میں نے انہیں حدیثیں بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ ایک بار انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی تو احتیاط کا یہ عالم تھا کہ انہیں سہو کا اندیشہ و خطرہ ہوا اور خوف طاری ہوگیا، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے فرمایا تھا یا اس کے قریب قریب بات کہی تھی یا اسی قسم کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ علم میں ان کا یہ مقام تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے وقت گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی، بیان روایت میں احتیاط کا یہ حال تھا۔‘‘ (۲۳)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ کے مذکورہ بالا بلند معیار کا اندازہ مؤرخ اسلام علامہ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ کے بیان سے کیا جاسکتا ہے، وہ ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں رقمطراز ہیں:
’’أبو عبدالرحمن عبداللہ ابن أم عبدالھذلی صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و خادمہ و أحد السابقین الأولین و من کبار البدریین، و من نبلاء الفقھاء و المقرئین کان ممن یتحری فی الاداء و یتشدد فی الروایۃ و یزجرتلامذتہ عن التھاون فی ضبط الألفاظ‘‘۔ (۲۴)
’’حضرت ابوعبدالرحمن عبداللہ بن ام عبد ہذلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کے خادم ہیں، سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں، بڑے بدری صحابہ میں سے ہیں، نہایت بلند پایہ فقہاء اور قاریوں میں سے ہیں، ان صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جو بیان روایت میں متشدد، بہت سخت اور بہت محتاط تھے، وہ اپنے شاگردوں کو الفاظ حدیث کے ضبط میں سستی اور بے احتیاطی پر سختی سے روک ٹوک کرتے تھے۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا روایتی معیار کتنا سخت اور بلند تھا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجتہدین کو ہدایت
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم پر ایسا زمانہ بھی گزرا کہ ہم فیصلہ نہیں کرتے تھے، فتویٰ نہیں دیتے تھے، کیونکہ اس وقت ایسے مسائل (اجتہادیہ) پیش نہیں آتے تھے، پس اگر کسی کو حکم بتانا ہو تو کتاب سے بتائے، اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنت رسول اللہ سے بتائے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی نہ ہو تو پھر اپنی رائے سے حکم بتائے اور فیصلہ صادر کرے۔ (۲۵)
لہذا اگر نئے مسائل میں اجتہاد سے کام لینے کا پہلے سے رواج نہ ہوتا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مجتہدین کو اپنی اجتہادی رائے اور فقہی بصیرت سے مسئلے کا حکم پیش کرنے کی ہدایت نہ فرماتے، اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس امر پر ان کی نکیر کرتے۔ یہ بات (ان پر نکیر نہ کرنا) اس امر کی شاہد ہے کہ ان کے یہاں اجتہادی رائے پر عمل کا معمول اور دستور تھا۔ (۲۶) اس لیے جس میں اجتہاد کی اہلیت و صلاحیت نہ ہو، اس کو اجتہاد کی ہرگز اجازت نہیں۔ (۲۷)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذہب و فتووں کی تشکیل و تدوین
علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ متوفی ۷۵۱ھ نے ’’اعلام الموقعین‘‘ میں امام محمد بن جریر طبری کا بیان نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’لم یکن أحد لہ أصحاب معروفون، حرروا فتیاہ و مذھبہ غیر ابن مسعود رضی اللہ عنہ‘‘۔ (۲۸)
’’کوئی مجتہد صحابی ایسا نہ تھا سوائے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جس کے مشہور و معروف شاگرد اس کے فتووں اور اس کے مذہب کو قید تحریر میں لائے ہوں۔‘‘
سب سے پہلے تشکیل و تدوین مذہب اور فتووں کی جمع و ترتیب کی سعادت صرف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کو حاصل ہے اور وہ بھی مرکز علم کوفہ میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی و حوالہ جات
۱: کتاب العلل و معرفۃ الرجال، استنبول، المکتبۃ الاسلامیۃ، ۱۹۸۷ء، ج۱، ص۱۹۷۔ الطبقات الکبری، ج۲، ص۳۵۱، تاریخ الثقات للعجلی، ص۲۷۸ (ترجمہ ۸۸۶، عبداللہ بن مسعود) سیر اعلام النباء، ج۲، ص۳۸۸، ترجمہ ابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ۔
۲: عہد صحابہ: جمہور مؤرخین کے نزدیک دور صحابہ پہلی صدی ہجری کے اختتام پر ختم ہوتا ہے، چنانچہ امام ابواسحاق الشیرازی رحمہ اللہ متوفی ۴۷۶ھ ’’طبقات الفقاء‘‘ (بغداد، ۱۳۵۶ھ، ص۲۲۔۲۳) میں رقمطراز ہیں: ’’و انقراض عصر الصحابۃ مابین تسعین الی ماءۃ‘‘ (صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ نوے سے سو کے مابین ختم ہوگیا) پہلی صدی ہجری کے خاتمے سے پہلے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سفر آخرت اختیار کیا، اس کی تفصیل مؤرخ واقدی رحمہ اللہ متوفی ۲۰۷ھ نے یوں پیش کی ہے: ۱۔ کوفے میں آخری صحابی حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ (۸۶ھ) میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ۲۔ مدینے میں آخری صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ(۹۱ھ) سو برس کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ۳۔بصرے میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (۱۰ق ھ۔۹۱ھ) نے اور بعض کا قول ہے ۹۳ھ میں انتقال کیا۔ ۴۔ شام میں حضرت عبداللہ بن جریر رضی اللہ عنہ نے (۸۸ھ) وفات پائی۔ ۵: (مکہ میں) حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے (۲ھ۔۱۰۰ھ) میں وفات پائی۔ مؤرخ اسلام علامہ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ نے حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کا ذکر پہلی صدی ہجری کی وفیات کے ذیل میں کیا ہے، لیکن لکھا ہے: ’’قال وھب بن جریر سمعت أبی یقول: کنت بمکۃ سنۃ عشر و ماءۃ، فرأیت جنازۃ فسألت عنھا، فقالوا: ھذا أبوالطفیل۔ قلت: ھذا ھو الصحیح بثبوت اسنادہ و ھو مطابق لما قیلہ‘‘۔ (تاریخ الاسلام، ص:۵۲۸، حوادث و وفیات ۸۰۔۱۰۰ھ) وہب ابن جریر رحمہ اللہ کا بیان ہے: میں نے اپنے باپ سے سنا کہتے تھے کہ: میں ۱۱۰ھ میں مکہ میں تھا، میں نے ایک جنازہ دیکھا اور اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ صحابی رسول حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ ہے، میں (الذہبی) کہتا ہوں: یہ قول صحیح ہے، اس کے سند درست اور سابقہ بیان کے مطابق ہے۔
۳: أصول الجصاص، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۰ھ، ج۲، ص۳۷۳۔
۴: طبقات الفقہاء للشیرازی، ص۱۲۔
۵: الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر، ۱۴۰۵ھ، ج۲، ص۲۳۴۔ سیر أعلام النبلاء، ج۲، ص۴۲۳۔
۶: الجامع، ج:۲، ص۲۸۹۔
۷: مقدمۃ ابن الصلاح، ص۴۴۱، سیر أعلام النبلاء، ج۲، ص۴۳۸۔
۸: المستدرک علی الصحیحین و معہ تلخیص الذہبی و کتاب الدرک لتخریج المستدرک لابن حجر، بیروت، دارالمعرفہ، ۱۹۵۸ء، ج۱، ص۲۸۶۔
۹: أحکام القرآن للجصاص، مصر، ۱۳۴۷ھ، ج۲، ص: ۵۹۰۔۵۹۱۔
۱۰: سنن أبی داؤد، کتاب العلم، کراچی میر محمد کتب خانہ، ج۲، ص۵۱۵۔ سنن ترمذی، ابواب العلم، کراچی ایچ ایم سعید کمپنی، ج۲، ص۹۰۔
۱۱: الجمعۃ: ۵۔
۱۲: المائدۃ: ۱۰۱۔۱۰۲۔
۱۳: ایضاً۔
۱۴: البقرۃ: ۱۸۷۔
۱۵: سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ، باب فی زکوۃ السائمۃ، کراچی میرمحمد کتاب خانہ (۱/۲۲۳) ۔ سنن الترمذی، ابواب الزکوۃ، کراچی ایچ ایم سعید (۱/۱۳۴ٌ
۱۶: أحکام القرآن للجصاص، مصر، ۱۳۴۷ھ، ج۲، ص: ۵۹۰۔۵۹۱۔
۱۷: أصول الجصاص، ج۲، ص۳۸۶۔۳۸۷۔
۱۸: حجۃ اللہ البالغۃ، کراچی، قدیمی کتب خانہ، ج۱، ص۲۸۱۔
۱۹: الطبقات الکبری، ج۲، ص۳۷۶۔
۲۰: الاحکام فی اصول الاحکام، ج۶، ص۶۱۔
۲۱: طبقات، ج۲، ص۳۴۳۔
۲۲: البحر المحیط، ج۶، ص:۲۱۱۔۲۱۲۔
۲۳: أصول الجصاص، ج۲، ص۲۲۔
۲۴: تذکرۃ الحفاظ، طبع: ۱۹۵۵ء، ج۱، ص۱۳۔۱۴۔
۲۵: أصول الفقہ للجصاص، ج۲، ص۲۳۱۔
۲۶: ایضاً، ج۲، ص۲۳۱۔
۲۷: ایضاً، ج۲، ص۲۳۶۔
۲۸: اعلام الموقعین عن کلام رب العالمین، بیروت، دارالجلیل، ج۱، ص۲۰۔

جاری ہے…

تیسری قسط
تحریر: مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی
بشکریہ ماہنامہ بینات۔ ذوالقعدہ ۱۴۳۵ھ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں