ریل گاڑی، بس، کشتی اور ہوائی جہاز میں وضو اور نماز

ریل گاڑی، بس، کشتی اور ہوائی جہاز میں وضو اور نماز

پانی کے جہاز میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم
سوال:… جہاز میں بغیر لرزش کے بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب:… چلتے ہوئے جہاز میں بلا عذر بیٹھ کر فرض نماز پڑھنا بموجب قولِ راجح جائز نہیں ، در مختار میں ہے : ”صلی الفرض في فلک جار قاعداً بلا عذر صح لغلبة العجز وأساء، وقالا: لا یصح إلا بعذر، وھو الأظھر“․

پس صاحبین کا قول جو راجح ہے، اس کے بموجب عدمِ جواز کا حکم ہے اور امام صاحب کا قول: ”جواز صلوة“ غلبہ عجز پر مرتب ہے، لیکن اس زمانہ میں چوں کہ دخانی جہاز چلتے ہیں، ان میں یہ علت متحقق نہیں، لہٰذا بالاتفاق بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہ ہوا۔(فتاوی مظاہر العلوم، کتاب الصلوة، جہاز میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم: 1/97)

ہوائی جہاز میں جمعہ پڑھنے کا حکم
سوال:…ہماری تبلیغی جماعت نے بیرون ملک کا ایک طویل سفر کرنا ہے، جس میں دن کا اکثر حصہ جہاز میں گذرے گا، جہاز میں تین چار آدمی مل کر جمعہ پڑھنے کی گنجائش ہے؟کیا ہم دورانِ سفر جمعہ پڑھیں یا ظہر کی نماز ادا کریں؟
الجواب: جمعہ کے لیے مصر یا فناء مصر شرط ہے (اور) فضا نہ مصر میں داخل ہے (اور )نہ فناء مصر میں ، لہٰذاوہاں ظہر ادا کریں۔ (خیر الفتاوی، کتاب الصلاة، ہوائی جہاز میں جمعہ پڑھنے کا حکم: 3/102)

ہوائی جہاز سے روٴیت ہلال کا حکم
سوال:… اگر کوئی شخص ہوائی جہاز سے پروازکر کے چاند دیکھے اور زمین پر کسی کو نظر نہ آئے تو محض ہوائی جہاز کی روٴیت کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟
جواب: اگر کسی شخص نے ہوائی جہاز سے پروازکر کے چاند دیکھا اور زمین پر کسی کو نظر نہیں آیا تو محض ہوائی جہاز کی روٴیت شرعا معتبر نہیں، لیکن اگر ہوائی جہاززیادہ بلندی پر نہ ہو اور کوئی شخص جہاز میں بیٹھے ہوئے چاند دیکھ لے تو اس کی روٴیت مقبول ہوگی، کیوں کہ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ جو شخص خارجِ مصر، یا کسی اونچی جگہ سے چاند دیکھے تو اس کی روٴیت مقبول ہو گی۔

ملاحظہ فرمائیں، فتاوی ہندیہ میں ہے:
وذکر الطحاوي أنہ تقبل شھادة الواحد إذا جاء من خارج المصر، وکذا إذا کان علی مکان مرتفع کذا في الھندیة، وعلی قول الطحاوي اعتمد الإمام المرغیناني وصاحب الأقضیة والفتاوی الصغری․ (الفتاوی الھندیة: 1/198، الباب الثاني في روٴیة الھلال)

فتاوی قاضی خان میں ہے:
وإن جاء الواحد من خارج المصر، وشھد بروٴیة الھلال ثَمة روي أنہ تقبل شھادتہ، وإلیہ أشار في الأصل، وکذا لو شھد بروٴیة الھلال في المصر علی مکان مرتفع․ (فتاوی قاضي خان علی ھامش الھندیة: 1/196، الفصل الأول: روٴیة الھلال والدر المختار مع الشامي: 2/388، کتاب الصوم، سعید۔ وکذا في إمداد الفتاح، ص: 67، بیروت)

اسلامی فقہ میں ہے:
جب مطلع صاف ہو تو چاند دیکھنے میں کسی تکلیف کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر مطلع غبار آلود یا بدلی ہو یا ایسا شہر ہو جہاں دس منزلہ اور بیس منزلہ مکان ہی مکان ہوں تو وہاں اگر دوربین سے یا ہوائی جہاز سے چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے،بشرطیکہ اس کا انتظام اسلامی حکومت کرے یا کوئی باقاعدہ قابل اعتماد افراد کریں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جس ڈگری پر عام طور پر وہاں چاند کی روٴیت ہوتی ہو اس سے زیادہ اونچائی سے نہ دیکھا گیا ہو، یعنی: جیسے ہوائی جہاز کو بہت اونچا نہ اڑایا گیا ہو، اس لیے کہ چاند کبھی غروب نہیں ہوتا، وہ کہیں نہ کہیں دکھائی دیتا ہی ہے، اس لیے اس کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ (اسلامی فقہ:1/382)

آلات جدیدہ میں مرقوم ہے:
شرط یہ ہے کہ ہوائی پرواز اتنی اونچی نہ ہو جہاں تک زمین والوں کی نظریں پہنچ ہی نہ سکیں، کیوں کہ شرعاً روٴیت وہی معتبر ہے کہ زمین پر رہنے والے اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ سکیں، اس لیے اگر تیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر کے کوئی شخص چاند دیکھ آئے تو ایسی بستی کے لیے وہ روٴیت معتبر نہیں، جس کو عام انسان باوجود مطلع صاف ہونے کے اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ (آلات جدیدہ کے شرعی احکام، ص: 186، کتب خانہ قاسمی دیوبند)

نظام الفتاوی میں ہے:
اگر خبر دینے والے شاہدین ہوائی جہاز سے دیکھ کر طریقہ موجب کے ساتھ جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے، خبریا شہادت دیں تو حسب ضابطہ شرعی اعتبار کر لیا جائے گا اور اس طرح وہ خبر یا شہادت بھی معتبر ومقبول ہو سکتی ہے۔ (منتخبات نظام الفتاوی، ص:229، اصلاحی کتب خانہ)

جدید فقہی مسائل میں ہے؛
مطلع ابر آلود ہو تو گمانِ غالب کافی ہے، لہٰذا ایسی صورت میں ہوائی جہاز اور دوربین کے ذریعہ روٴیت معتبر ہونی چاہیے، بشرطیکہ ہوائی جہاز کی پرواز اتنی اونچی نہ کی گئی ہو کہ مطلع بدل جائے۔

چناں چہ مجلس تحقیقاتِ شرعیہ ندوة العلماء لکھنوٴ کی تجویز (7) اس طرح ہے:
”ہوائی جہاز سے اتنی بلندی پر اڑ کر چاند دیکھنا جس سے مطلع متأثر ہوتا ہو معتبر نہیں ہے اور شریعت نے اس کا مکلف بھی نہیں کیا ہے، فقہی کتابوں میں جہاں اونچی جگہوں پر چڑھ کر چاند دیکھنے کا تذکرہ ہے، اس سے مراد وہ اونچائی ہے جو عموماً شہروں میں ہوا کرتی ہے، تا کہ مکانوں اور درختوں کی بلندی افق کو دیکھنے میں حائل نہ ہو، خواہ وہ کسی زریعہ سے ہو، لہٰذا ہوائی جہاز سے اس قدر اونچائی پر پہنچ کر اگر چاند دیکھا جائے جس سے مطلع بدل جاتا ہے تو وہاں زمین والوں کے لیے معتبر روٴیت نہیں قرار پائے گی“۔ (جدید فقہی مسائل: 2/24، نعیمیہ)

مزید ملاحظہ ہو: امداد المفتین، جلد دوم، ص: 483-481، دارالاشاعت، وایضاح المسائل، ص: 80، نعیمیہ) واللہ اعلم (فتاوی دار العلوم زکریا، کتاب الصوم، روٴیت ہلال، ہوائی جہاز سے روٴیت ہلال کا حکم: 3/241-239، زم زم پبلشرز)

ہوائی جہاز والے افطاری کس اعتبار سے کریں ؟
جہازسے سفر کرتے ہوئے اگر کسی ایسے مقام کے اوپر سے گذریں کہ اس جگہ زمین والے غروب آفتاب کی وجہ سے افطار کر رہے ہوں اور بلندی کی وجہ سے سورج نظر آ رہا ہو، تو اس جہاز کے مسافروں کے لیے روزہ افطار کرنا جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ ان کی نظروں سے بھی سورج اوجھل ہو جائے۔ تب روزہ افطار کرنا درست ہو گا۔

نماز مغرب پڑھ کر ہوائی جہاز میں سوار ہوا اور آفتاب دوبارہ نظر آنے لگا
شہر میں موجود کسی روزہ دار شخص نے غروب آفتاب کے وقت روزہ افطار کر لیا اور اس کے فورا بعد جہاز کے ذریعے سفر پر روانہ ہوا تو جہاز کے بلندی پر جاتے ہی سورج دوبارہ نظر آنے لگا، تو چوں کہ اس نے زمین پر یقینی طور پر سورج کو غروب ہوتے دیکھ لیا تھا اس لیے اس کا روزہ افطار کرنا درست ہو گیا، اب اس پر دوبارہ سورج نظر آ جانے کی وجہ سے قضا واجب نہیں ہو گی، مگر حقیقی طور پر اس کی نگاہوں کے سامنے سورج غروب ہونے کی وجہ سے روزے داروں کی مشابہت اختیارکرتے ہوئے کھانے پینے سے رکنا ضروری ہے۔اور اگر نماز مغرب بھی پڑھ کر سوار ہوا تھا تو مغرب کی نماز دوبارہ پڑھنا واجب نہیں، روزہ بھی صحیح ہو گیاہے۔
(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلوٰة، مطلط في صلوٰة الوسطیٰ: 2/16، 17، دار عالم الکتب) (البدائع الصنائع، کتاب الصلوٰة، فصل حکم الصوم الموٴقت إذا فات عن وقتہ: 2/102، 103)

ہوائی جہاز میں دن بہت بڑا یا بہت چھوٹاہو جائے تو نماز روزہ کا حکم
سوال: زید ہوائی جہاز کے ذریعہ مغرب کی سمت جا رہا ہے، سورج غروب نہیں ہو رہا تو نماز کس طرح ادا کرے اور روزہ کس وقت افطار کرے؟ یا اس کے برعکس مشرق کی طرف جا رہا ہے، جس کا دن بالکل چھوٹا رہے گا، اس کی نماز اور روزہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا

الجواب باسم ملہم الصواب:
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ تحت (قولہ: حدیث الدجال) قال الرملي في شرح المنھاج ویجري ذٰلک فیما کو مکثت الشمس عند قوم مدة اھ قال في إمداد الفتاح، قلت: وکذٰلک بقدر لجمیع الاٰجال کالصوم والزکوٰة والحج والعدة واٰجال البیع والسلم والإجارة وینظر ابتداء الیوم فیقدر کل فصل من الفصول الأربعة بحسب ما یکون کل یوم من الزیادة والنقص کذا في کتب الأئمة الشافعیة، ونحن نقول بمثلہ، إذا صل التقدیر مقول بہ إجماعا في الصلوات اھ․ (وبعد سطر) وفي ھٰذا الحدیث أن لیلة طلوعھا من مغربھا تطول بقدر ثلاث لیال لٰکن ذٰلک لا یعرف إلا بعد مضیھا لإبھامھا علی الناس فحٍ قیاس ما مر أنہ یلزم قضاء الخمس لأن لازائد لیلتان فیقدران عن یوم ولیلة وواجبھا الخمس․

وقال أیضاً تحت قولہ: فقد الأمران (تتمة) لم أر من تعرض عنہ عندنا لحکم صومھم فیما إذا کان یطلع الفجر عندھم کما تغیب الشمس أو بعدہ بزمان لا یقدر فیہ الصائم علی اکل ما یقیم بنیتہ ولا یمکن أن یقال بوجوب موالاة الصوم علیم لأنہ یوٴدي إلی الھلاک، فإن قلنا بوجوب الصوم یلزم القول بالتقدریر، وھل یقدر لیلھم بأقرب البلاد إلیہم کما قالہ الشافعیة ھنا أیضاً، أم یقدر لھم بما یسع الأکل والشرب أم یجب علیہم القضاء فقط دون الأداء کل محتمل، فلیتأمل․ (رد المحتار ص: 329، ج:1)

ان عبارات سے ثابت ہوا کہ مغرب کی طرف جانے والا شخص اگر چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کر سکتا ہو تو ہر نماز اس کا وقت داخل ہونے پر ادا کرے اور اگر اس کا دن اتنا طویل ہو گیا کہ چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازوں کا وقت نہیں آتا تو عام ایام میں اوقات نماز کے فصل کا اندازہ کر کے اس کے مطابق نمازیں پڑھے، یہی حکم روزہ کا ہے کہ اگر طلوعِ فجر سے لے کر چوبیس گھنٹے کے اندر غروب ہو جائے تو غروب کے بعد افطار کرے، جن ممالک میں مستقل طور پر ایام اتنے طویل ہوں کہ چوبیس گھنٹے میں صرف بقدر کفایت کھانے پینے کا وقت ملتا ہو، ان میں قبل الغروب افطار کی اجازت نہیں، تو عارضی طور پر شاذ ونادر ایک دن طویل ہو جانے سے بطریق اولیٰ اس کی اجازت نہ ہو گی، البتہ اگر چوبیس گھنٹے کے اندر غروب نہ ہو تو چوبیس گھنٹے پورے ہونے سے اتنا وقت پہلے کہ اس میں بقدرِ ضرورت کھا پی سکتا ہو، افطار کر لے، اگر ابتداءِ صبح صادق کے وقت بھی سفر میں تھا تو اس پر روزہ فرض نہیں، بعد میں قضا رکھے اور اگر اس وقت مسافر نہ تھا تو روزہ رکھنا فرض ہے اور اتنے طویل روزے کا تحمل نہ ہو تو سفر ناجائز ہے۔

جو شخص جانبِ مشرق جا رہا ہے، نماز کے اوقات اس پر گذرتے رہیں گے، ان اوقات میں نماز ادا کرے گا اور روزہ غروب ہونے کے بعد افطار کرے، کیوں کہ صوم کے معنی ہیں، طلوع فجر سے غروب شمس تک اِمساک۔ قال في التنویر: ھو إمساک عن المفطرات حقیقة أو حکماً في وقت مخصوص، وفي الشرح وھو الیوم، وفي الحاشیة، أي: الیوم الشرعي من طلوع الفجر إلی الغروب․ (رد المحتار، ص:88، ج:2) فقط واللہ تعالیٰ اعلم (احسن الفتاوی، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة المسافر: 4/70،71)

ہوائی جہاز کے عملے کے لیے سحری وافطاری کے احکام
سوال: ہوائی جہاز کے عملے کے لیے ماہِ رمضان کے روزوں سے متعلق چند سوالات ہیں، جن کی وضاحت مطلوب ہے، جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہے اسی طرح ایمان کے لیے صحیح عقائد اور ان پر عمل ضروری ہے۔ اس ضمن میں علمائے راسخ ہی صحیح نمائندگی کر سکتے ہیں، آپ سے گذارش ہے کہ ان سوالات کے تفصیلی جوابات شریعت اورحنفی علم فقہ کی روشنی میں عنایت فرما کر مشکور کریں۔

ہوائی جہاز کے عملے کی مختلف قسم کی ڈیوٹی کی نوعیت اس طرح ہے کہ وہ گھر پر ہی Stand by Dutyرہتا ہے اور اسی صورت میں ڈیوٹی پر چلا جاتا ہے، جب کہ دوسرا عملہ جو ڈیوٹی پر جا رہا تھا، Operating Crewعین وقت پر بیمار ہو جائے یا کسی اور وجہ سے ڈیوٹی پر جانے سے قاصر ہے، ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے اور زیادہ تر اس قسم کی ڈیوٹی والا Stand by Dutyگھر ہی رہتا ہے، اس شکل میں اگر عملہ روزہ رکھنا چاہے تو وہ دیر سے دیر، کب تک روزہ کی نیت کر سکتا ہے؟

جواب: رمضان کے روزے کی نیت نصف النہار شرعی سے پہلے کر لی جائے تو روزہ صحیح ہے، ورنہ صحیح نہیں ۔ ابتدائے صبح صادق سے غروب تک کا وقت، اگر دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اس کا عین وسط یعنی درمیانی حصہ ”نصف النہار شرعی“ کہلاتا ہے اور یہ زوال سے قریباً پونا گھنٹہ پہلے شروع ہوتا ہے۔ روزہ کی نیت اس سے پہلے کر لینا ضروری ہے، اگر عین نصف النہار شرعی کے وقت نیت کی یا اس کے بعد نیت کی تو روزہ نہیں ہو گا۔

سوال: نیت کرنے کے بعد اگر فلائیٹ پر جانا پڑے اور عملے نے روزہ توڑ دیا تو اس کا کیا کفارہ ادا کرنا ہو گا؟

جواب: کفارہ صرف اسی صورت میں لازم آتا ہے، جب کہ روزہ کی نیت رات میں یعنی صبح صادق سے پہلے کی ہو، اگر صبح صادق کے بعد اور نصف النہار شرعی سے پہلے روزے کی نیت کی تھی اور پھر روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم نہیں ہو گا۔

سوال: فلائٹ دو قسم کی ہوتی ہے، ایک چھوٹی فلائٹ ہوتی ہے، مثلاً: کراچی سے لاہور یا اسلام آباد وغیرہ اور واپسی کراچی، صبح جا کر دوپہر تک واپسی، یا دوپہر جا کر رات میں واپسی۔ اور دوسری فلائٹ لمبے دورانیہ کی ہوتی ہے، جو ملک سے باہر جاتی ہے، اس صورت میں عملے کو روزہ رکھنا مستحب ہے یا نہ رکھنا؟ زیادہ تر عملہ چھوٹی فلائٹ میں روزہ رکھنا چاہتا ہے۔

جواب: سفر کے دوران روزہ رکھنے سے اگر کوئی مشقت نہ ہو تو مسافر کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے اور اگر اپنی ذات کو یا اپنے رفقاء کو مشقت لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔

سوال: ہوائی جہاز کا عملہ دو قسم کے مسافروں میں آتا ہے، دونوں قسم کا عملہ ڈیوٹی پر شمار ہوتا ہے، ایک قسم کا عملہ وہ ہے جس پر جہاز یا مسافروں کی ذمہ داری نہیں ہوتی، وہ سفر اس لیے کر رہا ہوتا ہے کہ اسے آدھے راستے یا دو تہائی راستے پر اتر کر ایک دو دن آرام کے بعد پھر جہاز آگے کی منزل کی طرف لے جانا ہے۔ دوسری قسم کا عملہ وہ ہوتا ہے جس پر جہاز اور مسافروں کی ذمہ داری ہوتی ہے، ان دونوں قسم کے عملے پر روزے کے کیا احکام ہیں؟

جواب: جس عملے پر جہاز اور اس کے مسافروں کی ذمہ داری ہے، اگر ان کو یہ اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے کی صورت میں ان سے اپنی ذمہ داری کے نبھانے میں خلل آئے گا تو ان کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ دوسرے وقت قضا کرنی چاہیے، خصوصاًاگرروزہ کی وجہ سے جہاز اور اس کے مسافروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو ان کے لیے روزہ رکھنا ممنوع ہو گا۔ مثلاً: جہا زکے کپتان نے روزہ رکھا ہو اور اس کی وجہ سے جہاز کو کنٹرول کرنامشکل ہو جائے۔

سوال: سفر دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک سفر مغرب سے مشرق کی طرف، جس میں دن بہت چھوٹا ہے، جب کہ دوسرے سفر میں جو مشرق سے مغرب کی طرف ہے، اس میں دن بہت لمبا ہو جاتا ہے، سورج تقریباًجہاز کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور روزہ بیس بائیس گھنٹے کا ہو جاتا ہے، اس صورت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ گھنٹوں کے حساب سے کھول لیتے ہیں، مثلاً: پاکستان کے حساب سے روزہ رکھا تھااور پاکستان میں جب روزہ کھلا، اسی حساب سے انہوں نے بھی روزہ کھول لیا، اس صورت میں بعض مرتبہ سورج بالکل اوپر ہوتا ہے اور جس مقام سے جہاز گزر رہاہوتا ہے، وہاں ظہر کا وقت ہوتا ہے، کیا اس طرح سے روزہ کھول لینا صحیح ہے؟

جواب: گھنٹوں کے حساب سے روزہ کھولنے کی جو صورت آپ نے لکھی ہے یہ صحیح نہیں ہے، افطار کے وقت روزہ دار جہاں موجود ہو، وہاں کا غروب معتبر ہے، جو لوگ پاکستان سے روزہ رکھ کر چلیں، ان کو پاکستان کے غروب کے مطابق روزہ کھولنے کی اجازت نہیں ، جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، ان کے وہ روزے ٹوٹ گئے اور ان کے ذمہ ان کی قضا لازم ہے۔

سوال: اوپر کے استواء (Higher Latitudes) میں جہاں سورج 22-20گھنٹے تک رہتا ہے، یا اور اوپر جانے سے چھ ماہ تک سورج غروب نہیں ہوتا اور اگلے چھ ماہ جہاں اندھیرا رہتا ہے، وہاں کے کیا احکامات ہیں، نماز اور ورزے کے بارے میں؟ اکثر لوگ ان جگہوں پر مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ کے اوقات کا اعتبار کرتے ہوئے نماز اور روزہ اختیار کرتے ہیں، کیا اس طرح کرنا درست ہے؟

جواب: مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ کے اوقات کا اعتبار کرنا تو بالکل غلط ہے، جن مقامات پر طلوع وغروب تو ہوتا ہے، لیکن دن بہت لمبا اور رات بہت چھوٹی ہوتی ہے، ان کو اپنے ملک کے صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھنا لازم ہے۔ البتہ ان میں جو لوگ ضعف کی وجہ سے اتنے طویل روزے کو برداشت نہیں کر سکتے وہ معتدل موسم میں قضا رکھ سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں نماز کے اوقات بھی معمول کے مطابق ہوں گے اور جن علاقوں میں طلوع وغروب ہی نہیں ہوتا، وہاں دو صورتیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ وہ چوبیس گھنٹے میں گھڑی کے حساب سے نماز کے اوقات کا تعین کر لیا کریں اور اسی کے مطابق روزوں میں سحر اور افطار کا تعین کر لیا کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہاں سے قریب تر شہر جس میں طلوع وغروب معمول کے مطابق ہوتا ہے، اس کے اوقاتِ نماز اور اوقاتِ سحر وافطار پر عمل کر لیا کریں۔

سوال: بعض حضرات درمیانی استواء (Mid Letitudes) میں بھی اپنی نمازیں اور روزہ مدینہ منورہ کی نمازوں اور روزہ کے اوقات کے ساتھ ادا کرتے ہیں، یہ کہاں تک درست ہے؟

جواب: اوپر معلوم ہو چکا ہے کہ ہر شہر کے لیے اس کے طلوع وغروب کا اعتبار ہے، نماز کے اوقات میں بھی اور روزہ کے لیے بھی، مدینہ منورہ کے اوقات پر نماز وروزہ کرنا بالکل غلط ہے اور یہ نمازیں اور روزے ادا نہیں ہوئے۔

سوال: کراچی سے لاہور اسلام آباد جاتے ہوئے گو کہ لاہور / اسلام آباد میں سورج غروب ہو چکا ہوتا ہے اور روزہ کھولا جا رہا ہوتا ہے، مگر جہاز میں اونچائی کی وجہ سے سورج نظر آتا رہتا ہے، اس صورت میں روزہ زمین کے وقت کے مطابق کھولا جائے یا کہ سورج جب تک جہاز سے غروب ہوتا ہوا نہ دیکھا جائے، تب تک ملتوی کیا جائے؟

جواب: پرواز کے دوران جہاز سے طلوع وغروب کے نظر آنے کا اعتبار ہے۔پس اگر زمین پر سورج غروب ہو چکا ہو، مگر جہاز کے افق سے غروب نہ ہوا ہو، تو جہاز والوں کو روزہ کھولنے یا مغرب کی نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو گی، بلکہ جب جہاز کے افق سے غروب ہو گا تب اجازت ہو گی۔

سوال: دوسری صورت میں جب عین روزہ کھلتے ہی اگرسفر شروع ہو تو جہاز کے کچھ اونچائی پر جانے کے بعد پھر سے سورج نظر آنے لگا اور مسافروں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے کہ روزہ گڑ بڑ ہو گیا یا مکروہ ہو گیا، اس کے متعلق کیا احکام ہیں؟

جواب: اگر زمین پر روزہ کھل جانے کے بعد پرواز شروع ہوئی اور بلندی پر جا کر سورج نظر آنے لگا تو روزہ مکمل ہو گیا۔ روزہ مکمل ہونے کے بعدسورج نظر آنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص تیس روزے پورے کر کے اور عید کی نماز پڑھ کر پاکستان آیا تو دیکھا کہ یہاں رمضان ختم نہیں ہوا، اس کے ذمہ یہاں آ کر روزہ رکھنا فرض نہیں ہو گا۔

سوال: اگر عملے نے سفر کے دوران یہ محسوس کیا کہ روزہ رکھنے سے ڈیوٹی میں خلل پڑ رہا ہے اور روزہ توڑ دیا تو اس کا کیا کفارہ ادا کرنا ہو گا؟

جواب: اگر روزے سے صحت متاثر ہو رہی ہو اور ڈیوٹی میں خلل آنے اور جہاز کے مسافروں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑ دیا جائے، اس کی صرف قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا، واللہ اعلم! (آپ کے مسائل اور ان کا حل، کتا ب الصوم، ہوائی جہاز کے عملے کے لیے سحری وافطاری کے احکام:4/559-556) (جاری)

مفتی محمد راشد ڈسکوی
رفیق شعبہ تصنیف وتالیف واستاذجامعہ فاروقیہ کراچی
ماہنامه الفاروق
جمادی الثانی 1437ھ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں