آج : 21 January , 2016
اسلامی تحریک تاجکستان کے قائد ’سنی آن لائن‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے:

تاجک حکومت کے اقدامات نوجوانوں کو انتہاپسندی کی جانب دکھیل رہے ہیں

تاجک حکومت کے اقدامات نوجوانوں کو انتہاپسندی کی جانب دکھیل رہے ہیں

نوٹ: ان کے اوقات پہلے سے ’بک‘ ہوچکے ہیں۔ ایک وفد ملاقات کے لیے آتاہے تو دوسرا قریب ہی کہیں اپنی باری کا انتظار کرتاہے۔ انٹرویو کے لیے کچھ زیادہ ٹائم نہیں ہے۔ اپنے سوالات کو جلدی سے ان کے سامنے رکھتاہوں۔ انتہائی نرمی، سکون اور دقت نظر سے جوابات پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کبیری اپنے دوستوں میں ’استاد کبیری‘ کے نام سے مشہور ہیں جن کے ہاتھ میں وسطی ایشیا کی واحد دینی اور اسلام پسند جماعت (اسلامی تحریک تاجکستان) کی قیادت ہے۔عربی ادب، انٹرنیشنل ریلیشنز، سیاسیات اور استشراق جیسے اہم سبجیکٹس میں تاجکستان، روس اور یمن کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ جامعة الایمان کے صدر شیخ عبدالمجید الزندانی جیسی عبقری شخصیات سے فیض حاصل کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر کبیری دنیا کی مختلف یونیورسٹیز میں لیکچرز دے رہے ہیںاور زیادہ تر جرمنی میں رہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر کبیری تہران میں منعقد عالمی اتحاد کانفرنس میں شرکت کی۔ اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (سنی آن لائن) نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے ان سے خصوصی گفتگو کی ہے ۔ یہ انٹرویو فارسی زبان میں دو قسطوں میں شائع ہوچکاہے، اس کے اہم گوشے اردو اور انگریزی میں ترجمہ ہوچکے ہیں جو نذر قارئین ہیں۔

اسلامی تحریک تاجکستان کیسے وجود میں آئی؟
تاجکستان کے عوام دیندار اور دینی و ملی اقدار کے پابند ہیں۔ سابق سوویت یونین تمام تر ظلم وجبر کے باوجود ان کی دینی حمیت ختم نہ کرسکی۔ عوام نے اپنی اصلیت محفوظ رکھی اور آزادی کے بعد ایک گروہی کام کے لیے متفکر ہوئے؛ اس کا ایک ذریعہ باقاعدہ سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنا تھا۔ یہ کوشش وسطی ایشیا کی تمام ریاستوں میں عملی ہوگئی۔ پہلی بار 1990ءکو روس کے ’اشترخان‘ شہر میں ’اسلامی تحریک پارٹی سوویت یونین‘ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ میں اس جماعت کا سب سے کم عمر رکن تھا اور یونیورسٹی میں میری تعلیم کا پہلا سال تھا۔ اس وقت یہ جماعت ماسکو میں رجسٹرڈ ہوگئی۔ ایک سال بعد سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور کئی ریاستیں سامنے آئیں۔ اس وقت پارٹی کی سرگرمیوں کا دوسرا دور شروع ہوا، لیکن صرف تاجکستان میں یہ جماعت رجسٹرڈ ہوگئی اور ہمارے ازبک، کرغیز، تاتار، آذربائیجانی سمیت وسطی ایشیا کے دیگر بھائی یہ کام نہ کرسکے۔
الحمدللہ تاجکستان میں سیدعبداللہ نوری اور محمدشریف ہمت زادہ جیسے اساتذہ کی رہنمائی و قیادت میں پارٹی منظم ہوگئی۔ ایک سال بعد بیانوے میں ایک آزاد انتخابات منعقد ہوا جس کے نتیجے میں ایک مخلوط حکومت کے ہاتھوں عنان اقتدار آیا اور ہر سوچ کی نمایندگی کرنے والے لوگ اس میں شامل تھے۔ لیکن دیگر ریاستوں کے لیے یہ جمہوری حکومت خطرہ بن چکی تھی اور انہیں ڈر تھا کہیں دیگر آزادشدہ ریاستوں کے عوام ایسی ہی مثالی حکومتوں کا مطالبہ نہ کریں۔ چنانچہ روسی اور ازبک افواج کے تعاون سے قدامت پسند تاجک کمیونسٹوں اور عسکریت پسندوں نے اس نئے جنم لینے والی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور قومی حکومت جلاوطنی پر مجبور ہوگئی۔
اسی اقدام سے خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ بغاوت کے فورا بعد اسلامی تحریک کے کارکن اور بعض دیگر پارٹیوں کے ارکان بھی گرفتار ہوئے، بعض کو قتل کیا گیا اور بعض نے ہجرت کی راہ اپنالی۔ اس قومی فتنے کے نتیجے میں دولاکھ تاجک شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہماری پارٹی بھی ہجرت پر مجبور ہوئی۔ پانچ سالوں تک یہ سلسلہ جاری رہا اور باغیوں کو بالاخر یقین ہوگیا عسکری طریقے سے اسلامی تحریک کو نہیں کچل دیا جاسکتا، تو صلح کے مذاکرات پر آئے۔ چنانچہ انیس سو ستانوے کو ماسکو میں صلح نامہ دستخط ہوا۔
اس ڈیل کے مطابق تاجکستان وسطی ایشیا میں واحد ملک تھا جس کے آئین میں ایک دینی سیاسی جماعت کو تسلیم کیا گیا۔ اسی مصالحت کے نتیجے میں دس سال تک ہماری جماعت اور حکومت کے درمیان اچھے تعلقات استوار ہوئے اور دیگر جماعتوں اور گروہوں کے درمیان بھی ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ ہم نے نوجوانوں کو پھلنے ابھرنے کا موقع دیا اور خواتین سمیت معاشرے کی تمام اکائیوں پر محنت کی۔

تحریک کا تاجک معاشرے پر اثرات
معاشرے سے مضبوط تعلقات کے نتیجے میں ہمارے ووٹ بینک میں زور آیا اور دوہزاردس کے عام انتخابات میں روسی بولنے والوں سمیت دیگر اقلیتوں نے بھی ہمارے حق میں ووٹ ڈالا۔ یہ چیز حکمراں جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔ چنانچہ فراڈ سے کام لیتے ہوئے انہوں نے ہمارے حاصل کردہ ووٹ صرف دس فیصد اعلان کیا۔ بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ کاروں سمیت اندرونی مبصرین اور حتی کہ الیکشن کمیشن کے بعض عہدیداروں نے ہمیں بتایا کہ اسلامی تحریک پارٹی کے ووٹ چالیس فیصد سے بھی زائد تھے۔ وسطی ایشیا کے حالات کو مدنظر رکھاجائے تو یہ بہت بڑی بات ہے اور اس کا تصور بھی مشکل ہے۔
عوام میں ہماری جماعت کو پذیرائی ملنے سے بعض عناصر طیش میں آئے۔ ان کا خیال تھا سیاسی اور عسکری میدانوں میں ہمیں شکست سے دوچار نہ کرسکے، چنانچہ ہماری فکری و اعتقادی بیخ کنی کے لیے کمربستہ ہوئے۔ کہاگیا دنیا میں جو دہشت گردی و انتہاپسندی بڑھ رہی ہے اس کی جڑیں مساجد و مدارس جیسے دینی شعائر میں پیوست ہیں۔ متعدد خطبا و ائمہ مساجد جو حکومتی پالیسیوں کے حامی نہ تھے، برطرف کردیے گئے۔ سینکڑوں علمائے کرام کے لیے منابر شجرہ ممنوعہ قرار پائے اور اکابر علما کو گھروں میں محصور کردیا گیا۔ مساجد و مدارس کی تعداد کو محدود رکھا گیا۔ اٹھانوے فیصد مسلم آبادی والے ملک میں صرف چار یا پانچ دینی مدرسے موجود ہیں۔ پھر داڑھی، حجاب و پردہ اور سفید کپڑے پر وار کیا گیا اور نماز کی ادائیگی گھر اور مسجد سے باہر ممنوع قرار دی گئی۔
حکومتی عناصر کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو اشتعال دلا یاجائے اور انہیں کسی پرتشدد عمل پر اکسایاجائے یا اسلامی تحریک کوئی اقدام اٹھائے؛ مثلا احتجاجی ریلی نکالے۔ پرتشدد اقدامات کا تصور تاجکستان میں مختلف ہے، حتی کہ سڑکوں پر احتجاج کرنا ’تشدد‘ شمار ہوتاہے۔ آج تک ہماری جماعت نے کوئی احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا البتہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے میں نے نصیحت سے کام لیاہے۔ ان کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں اور بالاخر گزشتہ سال انہوں نے ہمارے دفتروں پر دھاوا بول دیا۔

حالات کیوں بدلے؟
وزیر دفاع کے نائب پراسرار طورپر اپنے کچھ ساتھیوں سمیت قتل ہوئے۔ جنرل عبدالحلیم ایک دیندار نوجوان تھے جن کی مجھ سے دیرینہ دوستی تھی۔ ان پر بغاوت کی کوشش کا الزام لگا اور کہا گیا میرے حکم پر بغاوت کی ناکام کوشش ہوئی ہے۔ حالانکہ مجھے اس کا علم نہیں اور انہیں دراصل کس وجہ سے قتل کیا گیا، یہ بھی واضح نہیں ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ نے اسلامی تحریک کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دی اور ہماری وارنٹ گرفتاری جاری ہوئی۔ لیکن الحمدللہ اب تک میں موجود ہوں اور زیادہ تر جرمنی میں رہتاہوں۔ گھروالے ترکی میں ہیں۔
اسلامی تحریک کے باقاعدہ ارکان آخری رکن سازی میں پینتالیس ہزار تھے۔ کم ازکم پانچ لاکھ افراد ہماری جماعت کے حامی ہیں۔ تاجکستان کے کل ووٹرز کی تعداد بیس لاکھ ہے۔ آخری انتخابات میں ہمارے ووٹس دس فیصد اعلان ہوئے، لیکن بین الاقوامی مبصرین، تجزیہ کاروں اور حتی کہ تاجکستان الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کا اعتراف ہے ہمارے ووٹ چالیس و پچاس فیصد کے درمیان میں تھے۔ میں نے سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کیاہے اور کم ترین تعداد یعنی چالیس فیصد کو لیتاہوں جو بہت بڑی رقم ہے۔

’نہضت‘ پر تنقید اور اس کی حقیقت
ہم سے شکوہ کیاجاتاہے کہ ہم نے تاجک عوام کے لیے کچھ نہیں کیاہے۔ اسلامی تحریک پارٹی کو دیگر ملکوں کی دینی جماعتوں سے موازنہ کرنا غلطی ہے۔ ہم نے تاجکستان کے سخت قوانین کے تحت کام کیا اور قانون سازی میں ہمارا کردار عملی طورپر نہ ہونے کے برابر تھا۔ البتہ ہم نے خطبا و ائمہ کی حمایت کی ہے۔ سینکڑوں مساجد و سکولز ہماری جماعت کے تعاون سے تعمیر ہوئے۔ بیرون ملک طلبا بھیج کر ان کی اعلی تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ اس سلسلے میں بھی ہمیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باجود ہم تنقید سے گریزاںنہیں ہیں اور ہمارا خیال ہے ہم اس سے زیادہ بھی کام کرسکتے تھے لیکن ہمارا اندازہ نہیں تھا کہ ایسی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

تاجک طلبا کو کیوں بیرون ملک سے واپس بلاگیا؟
تاجک حکومت نے ایک سنگین غلطی کا ارتکاب کرتے ہوئے عالم اسلام کے مختلف جامعات اور دینی مدارس سے طلبا کو واپس بلالیا۔ اکثر طلبا اہل سنت کی یونیورسٹیز اور مدارس میں زیر تعلیم تھے جیسے سعودی عرب، پاکستان اور دارالعلوم زاہدان (ایران) و غیرہ۔ دوسری جانب تاجکستان میں ان کی تعلیم کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی تھی، چنانچہ یہ نوجوان اِدھرادھر ٹھوکریں کھاتے رہیں اور بعض طلبہ شدت پسندوں کے نرغے میں گئے۔ لیکن قم سے کم تعداد میں طلبا کو واپس بلایاگیا؛ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ طلبہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ ہم خیال تھے اور ان پر نظر رکھنا ان کے لیے آسان تھا۔ الازہر یونیورسٹی سے حکومت کے اچھے تعلقات تھے، مگر وہاں سے بھی طلبہ کو واپس بلایا گیا۔
حکومت چاہتی ہے تاجک علماءکی نئی نسل عالم اسلام کی جامعات میں تعلیم حاصل نہ کریں اور تنگ سوچ ان میں باقی رہے۔ اگر علمائے کرام اعلی تعلیم حاصل کریں اور علمی و فقہی سرچشموں سے فیض یاب ہوجائیںتو مسائل کا حل ایک کشادہ ذہن سے کریں گے۔ ایسے علما و دانشوروں پر حکومت کی گرفت مشکل ہوتی ہے۔

تاجک نوجوان کیوں داعش میں شامل ہورہے ہیں؟
تاجک قوم مسلمان، برداشت رکھنے والی اور معتدل ہے۔ لیکن کیوں اس ملک کے بہت سارے باشندے داعش جیسے شدت پسند گروہوں میں شامل ہوجاتے ہیں؟ اس کی وجہ حکومت کی غلط پالیسیاں ہیں۔ تاجکستان کے سپیشل فورسز کے کمانڈر کرنل حلیم اف داعش سے جاملاہے۔ اس نے کہاہے وہ اقدار کی حفاظت کی خاطر شام چلاگیاہے۔ اس نے کہاہے جب مجھے حکم ملتا کہ اپنی بہنوں کا پردہ اتارو اور دوسو ڈالر کے بدلے بدکار عورتوں کو پردہ پہناو اور پھر ان کا ویڈیو بناکر شائع کرو تاکہ لوگ دیکھیں’باپردہ خواتین‘ کیسے کام کرتی ہیں! میں یہ برداشت نہیں کرتا اور اسی لیے داعش سے ملاہوں۔ ظاہر ہے ایسے اقدامات سے کم برداشت رکھنے والے لوگ شدت پسندی کو ترجیح دیں گے۔
ہم نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں کہ صحیح راستہ بندوق اٹھانا نہیں ہے، ہمیں ضبط نفس سے کام لیتے ہوئے اسلام کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے۔ مساجد کو آباد کرنا چاہیے اور پرامن انداز میں اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک سیٹلائیٹ ٹی وی چینل بھی لانچ کیاہے اور اس کی مزید ترقی کے لیے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور ’سنی آن لائن‘ ویب سائٹ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں مولانا عبدالحمید کے بہت سارے چاہنے والے موجود ہیں اور ان کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔

’نہضت اسلامی‘ اور عالم اسلام
ہماری جماعت نے متعدد اسلامی اور غیراسلامی مراکز و محافل سے تعلقات قائم کیے ہیں۔ امریکا، یورپ، ترکی اور عرب و مسلم ملکوں سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن مسلم ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ افغانستان، ترکی، ایران، پاکستان اور خلیجی ممالک سے ہمارے ثقافتی اور مذہبی اشتراک ہے۔ لیکن تاجک عوام اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ہم ایسے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں، ہم پر ’شیعہ پسندی‘ کا الزام عائد ہوتاہے۔ ترکی میں ہمارے خاندان ہے اور ترک حکام سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، اس پر ہمیں پان ترکیسم کے الزام موصول ہوتے ہیں، بعض لوگ پان عربیسم اور اخوانی ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ حتی کہ بدعات و خرافات کی مخالفت میں بولنے کے پاداش میں ہم پر ’وہابیت‘ اور سلفیت کا الزام بھی عائد کیاگیا۔ لیکن ہم سب سے متوازن اور برابر کے تعلقات چاہتے ہیں۔
ہمارا تعلق عالم اسلام میں موجود دینی تحریکوں میں کسی خاص تحریک یا مکتبہ فکر سے نہیں ہے۔ ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور ان کے اچھے پوائنٹس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن تاجکستان کے حالات مختلف ہیں اور ہم کسی مخصوص تحریک کے سوفیصد دلدادہ نہیں ہیں۔ ہم ترکی میں نجم الدین اربکان، پاکستان کی دینی جماعتوں اور عرب دنیا میں اخوان جیسی تحریکوں سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں، لیکن اسلامی تحریک تاجکستان ایک قومی اور اسلامی تحریک ہے جو ایک مخصوص علاقے میں سرگرم عمل ہے۔
آج اگر ہم ایران میں ہیں، کل سعودی عرب یا ترکی و غیرہ بھی جاسکتے ہیں۔ لہذا ہم پر کوئی الزام نہیں لگاسکتا کہ ہم کسی مخصوص ملک کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور جانبداری کرتے ہیں۔اس سلسلے میں ہمارے لیے دوسروں کی نگاہیں اہم نہیں ہیں۔

اتحاد امت کا راستہ کیا ہے؟
اتحاد کے لیے کانفرنسز کا انعقاد معاون ہوسکتاہے لیکن ہرگز کافی نہیں ہے۔ اتحاد کی سوچ دلوں میں ہونی چاہیے۔ سیاسی اختلافات کو الگ کرکے مذہبی اختلافات اور چپقلش پر فائق آنا ممکن ہے۔ ہر بات پر متفق ہونا ضروری نہیں، ہمیں فکری و مسلکی اختلافات کو تسلیم کرنا پڑے گا، ورنہ ہم سنی مسلمان نہ کہلائیں گے اور شیعہ حضرات ’شیعہ‘ نہ رہیں گے۔ سیاست کو مذہبی اختلافات سے خلط کرکے مسائل گھمبیر کردیاگیاہے۔
مشرق وسطی کے معروضی حالات کو مدنظر رکھا جائے تو افسوس سے کہنا پڑتاہے مستقبل قریب تک حالات میں بہتری کی امید نہیں ہے۔ میرے خیال میں، اللہ کرے یہ غلط ہو، ایک عالمی پالیسی دنیا میں جاری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ باہمی اختلافات سے دوچار کیا جائے اور یہ خانہ جنگی کنٹرول سے باہر نہ ہو۔
میرا خیال ہے مسلم عقلا و دانشور ساتھ بیٹھ کر کوئی حل نکالیں، خاص طور پر سعودی عرب، ایران، ترکی، پاکستان و دیگر ملکوں کی سطح تک کوئی اقدام ہونا چاہیے۔ قیامت کو ان ملکوں کے سربراہوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اب مسلمان قومیں یا آمر حکام کے نرغے میں ہیں یا شدت پسند تنظیموں کے زد میں۔ اسلام کے دشمن اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اتحاد امت کے لیے تکراری نعروں سے ہاتھ کھینچنا چاہیے۔ مسائل کی جڑوں کو پیدا کریں۔ ایک دن میں کوئی کام شاید نہ ہوجائے لیکن ایک سال کے دوران کم از کم ایک قدم آگے بڑھیں۔ کیا ہے اچھا ہوتا یہ کانفرنس شاہ سلمان، صدر روحانی اور صدر اردوغان سے مطالبہ کرتی کہ تین ماہ کے اندراندر وہ ایک دوسرے سے ملیں اور گفتگو کریں۔ لیکن یہ کانفرس اس جرات کو اپنے اندر نہیں دیکھتی اور ہم ہر سال اکٹھے ہوتے ہیں، دوست ہوتے ہیں اور آپس میں ملتے ہیں لیکن مسائل اپنی جگہ باقی ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں