نذر کی حقیقت

نذر کی حقیقت

ایک صحابی کا عجیب واقعہ
حضرت ابو لبابہ رضی الله تعالیٰ کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک بڑا عجیب سبق آموز اور عدیم المثال واقعہ ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا، بنو قریظہ مدینہ منورہ میں یہود کا قبلہ تھا۔ اور یہود بنی قریظہ کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف کسی کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوں گے۔

غزوہ خندق کے موقع پر جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مسلمانوں کے خلاف مدینہ منورہ پر چڑھائی کے ارادے سے آئے، تو اس وقت بنو قریظہ نے اپنا عہدتوڑا اور مسلمانوں کے خلاف قریش کے ساتھ جا ملے۔

23/ذی قعدہ،5 ہجری کو جب احزاب کفار ذلیل ورسوا ہو کر واپس چلے گئے اور حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر مدینہ منورہ آگئے، تمام مسلمانوں نے ہتھیار کھول دیے، تو اسی دن ظہر کے قریب حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، حضرت جبر ئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ فرشتوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں کھولے، اور نہ وہ واپس ہوئے ہیں ابھی فوراً بنو قریظہ کی طرف روانہ ہونا ہے۔

چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا اور پچیس دن تک محاصرہ جاری رہا اور بالآخر مجبور ہو کر بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ ان کے بارے میں حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم جو فیصلہ فرمائیں وہ انہیں منظور ہے۔

چناں چہ ان کے بارے میں فیصلہ کیا گیاکہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کیے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی ، غلام بنایا جائے اور ان کا تمام مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

بنو قریظہ کے محاصرے کے دوران بنو قریظہ نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنے صحابی ابو لبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیجیے، تاکہ ہم اپنے بارے میں ان سے مشورہ کریں،آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس پیغام کو منظور فرمایا، اورحضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کو ان کے پاس بھیج دیا، جب بنو قریظہ نے حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کو دیکھا، تو ان کے مرد اور عورتیں اور بچے، بوڑھے، سب ہی ان کے آگے رونے، گڑگڑانے لگے، ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کادل پسیج گیا، پھر انہوں نے حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم محمد صلی الله علیہ وسلم کے حکم کو مان لیں او راپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیں ، تو وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ اس کے جواب میں حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ نے اپنے حلق پر ہاتھ پھیر کر ظاہر کیا کہ تمہیں ذبح کر ڈالیں گے۔

حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات کہی اور ابھی تک وہاں سے قدم نہیں اٹھایا تھا کہ میں متنبہ ہوا اور اس بات پر سخت نادم ہوا کہ تونے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں خیانت کی۔

اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی﴿یا ایھا الذین آمنوا لا تخونوا الله والرسول وتخونوا اٰمنتکم﴾․

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت ( یعنی ان کے پیغام واحکام) میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔

پھر کیا تھا؟ ایسا لگا جیسے احساس ندامت وشرمندگی نے حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کے قلب وشعور پر بجلی گرادی ہو، وہ بے تاب ہو گئے اور دیوانہ وار مسجد نبوی پہنچے اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا اور یہ اعلان کیا کہ جب تک کہ میں توبہ نہ کر لوں اور پھر جب تک الله تعالیٰ میری توبہ قبول نہ کرلے مجھ پر کھانا پینا حرام ہے۔

جب نماز کاوقت آتا تو ان کے بیٹے آتے او ران کو کھول دیتے، پھر جب وہ نماز پڑھ لیتے ، تو ان کے ہاتھ باندھ دیتے، لوگ ان کے پاس آتے اور کھولنے کے لیے کہتے تو انکار کر دیتے اور فرماتے کہ جب تک رسول کریم صلی الله علیہ وسلم خود آکر نہ کھولیں گے، میں یہاں سے نہ ہٹوں گا، چناں چہ مسلسل سات دن تک اسی طرح اس ستون سے بندھے کھڑے رہے، یہاں تک کہ غش کھا کر گر پڑے ۔ آخر کا ر الله تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ الله تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے، اب تو اپنے آپ کو کھول ڈالو، انہوں نے کہا خدا کی قسم! جب تک رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے مجھے نہیں کھولیں گے، میں خود اپنے آپ کو ہر گز نہیں کھولوں گا۔

چناں چہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے او راپنے دست مبارک سے انہیں کھولا۔

حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کا گھر چوں کہ بنو قریظہ کے قبیلے میں واقع تھا او راس ساتھ رہنے کی وجہ سے حضرت ابولبابہ رضی الله عنہ کے دل میں بنو قریظہ کے لیے ہم دردی کا جذبہ پیدا ہوا، جو اس گناہ کا سبب بنا، اس لیے حضرت ابولبابہ رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول ! میں اپنا گھر الله کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، اسی طرح اپنا سب مال واسباب بھی صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے تہائی مال کو قبول فرمایا۔ ( السیرة النبویہ لابن ہشام، غزوہ بنی قریظہ237/3،والبدایہ والنہایہ، سنة خمس من الھجرة النبویہ، فصل فی غزوة بنی قریظہ125/4،والکامل فی التاریخ، السنة الخامسہ من الھجرة، ذکر غزوة بنی قریظہ75/2)

نذر کے متفرق مسائل
٭… اگر کسی نے صدقہ کرنے کی نذر مانی، مثلاً یہ کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک ہزار روپے صدقہ کروں گا۔ تو اب کام ہو جانے کی صورت میں ایک ہزار فقراء پر صدقہ کرنا ضروری ہے، مال دار پر خرچ کرنے سے نذرادانہ ہو گی۔(رد المحتار، کتاب الصوم، مطلب فی النذر الذی یقع للأموات440/2)

٭…اگر کسی نے بکری ذبح کرکے صدقہ کرنے کی نذر مانی، تو ایسی بکری ذبح کرنا ضروری ہے، جس کی قربانی جائز ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب النذر، فصل، وأما شرائط الرکن،85/5)

٭… اگر کسی نے نذر کو کام سے معلق کیا، یعنی اگر میرافلاں کام ہو گیا، تو میں تین روزے رکھوں گا اور اس نے کام ہونے سے پہلے تین روزے رکھ لیے، تو اب کام ہونے کے بعد دوبارہ تین روزے رکھنا ضروری ہو گا۔ (ردالمحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،735/3)

٭… اگر کسی نے ایک مہینہ روزے رکھنے کی نذر مانی، تو تسلسل ضروری نہیں، البتہ اگر متعین مہینے مثلاً رجب کے مہینے کے روزوں کی نذر مانی ، تو اس صورت میں اس پورے مہینے کے روزے رکھنا لازم ہوں گے، البتہ اگر اس صورت میں بھی ایک دو روزے نہ رکھ سکا، تو صرف ان روزوں کی قضا لازم ہے جو نہیں رکھے۔ (ردالمحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،741/3)

٭… کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا کام ہو گیا، تو مسجد میں اتنے روپے دوں گا، یا فلاں جگہ کے مسکینوں پر صدقہ کروں گا، تو اب کام ہو جانے کی صورت میں کسی بھی مسجد میں اتنے روپے دینے سے نذر ادا ہو جائے گی، اسی طرح جس جگہ کے مسکینوں پر صدقہ کرنے کی نذر مانی تھی، اس جگہ کے علاوہ کسی اور مسکین پر صدقہ کیا، تب بھی نذر ادا ہو جائے گی۔(رد المحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،740/3)

غیر الله کے نام کی نذر
مسلمان اپنے عمل میں آزاد نہیں، بلکہ شریعت کا پابند ہے او راس کے ہر عمل کے لیے شریعت کی طرف سے راہ نمائی موجود ہے، اپنے ذہن سے کسی عبادت میں کمی بیشی یا تبدیلی کرنا ہر گز جائز نہیں او راپنے ذہن سے کسی عمل کے بارے میں شریعت کی طرف سے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا سرسرا گم راہی ہو گی۔

چناں چہ نذر کے مسئلے میں شریعت کی طرف سے واضح تعلیمات موجود ہیں ، زمانہ جاہلیت میں مشرک بتوں کے نام کی نذر ونیاز مانتے تھے اور اب بعض جاہل مسلمان الله تعالیٰ کے علاوہ انبیا اولیا کے نام پر نذر ونیاز مانتے ہیں ، حالاں کہ الله تعالیٰ کی ان بزگزیدہ شخصیات نے اپنی پوری زندگیاں لوگوں کو جاہلی رسم ورواج اور شرک کی ظلمتوں سے نکالنے اور اسلام جیسے پاکیزہ مذہب اور الله تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف مائل کرنے میں صرف کر دیں۔

لہٰذا نذر ونیاز صرف الله تعالیٰ کے نام پر ہو گی، الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور مخلوق، چاہے کسی نبی کے نام کی ہو، یا کسی ولی کے نام کی، جائز نہیں۔ اس کی پھر مختلف صورتیں ہیں:

پہلی صورت
پہلی صورت یہ ہے کہ کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں فلاں بزرگ کے نام کا بکرا ذبح کروں گا او رجب کام ہو گیا، تو اس بزرگ کے نام پر بکرا ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت بھی جانور پر الله تعالیٰ کا نام نہیں لیا، بلکہ جس بزرگ کے نام کی نذر مانی تھی، اس کا نام جانور ذبح کرتے وقت لیا۔

حکم:یہ صورت باتفاق واجماع امت حرام ہے اور یہ جانور میتہ (مردار) ہے۔ (التفسیر الکبیر، سورة البقرة، 173،و تفسیر روح المعانی، سورة البقرة،440/1,173،والجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة البقرة:221/1,173،وأحکام القرآن للجصاص، تحریم ما أھل بہ لغیر الله153/1،والکشف والبیان فی تفسیر القرآن، سورة البقرة:239/1,173،وتفسیر ابن کثیر، سورة البقرة،421/1,173)

دوسری صورت
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بزرگ کے نام کی نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں فلاں بزرگ کے نام پر بکری ذبح کروں گا اور اس بزرگ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اس کے نام پر بکری ذبح کی، اگرچہ جس وقت بکری ذبح کررہا تھا، اس وقت اس پر الله تعالیٰ کا نام لیا، لیکن اس ذبح سے مقصد غیر الله کی خوش نودی مقصود تھی۔

حکم…یہ صورت بھی باتفاق فقہاء حرام ہے اور مذبوحہ جانور حرام ہے چناں چہ”التفسیر الکبیر للإمام رازی“ میں ہے:”قال العلماء: لو أن مسلما ذبح ذبیحة وقصد بذبحھا التقرب إلی غیر الله صار مرتدا، وذبیحتہ ذبیحة مرتد․“ (التفسیر الکبیر، سورة البقرة:11/5,173)

یعنی اگر مسلمان نے کوئی جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے اس کا مقصد تقرب الی غیر الله ہو، تو یہ مرتد ہو جائے گا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ ہو گا۔ اور”حاشیہ بیضاوی“ میں ہے:”فکل ما نودی علیہ بغیر اسم الله فھو حرام، وإن ذبح باسم الله تعالیٰ، حیث أجمع العلماء لو أن مسلما ذبح ذبیحة، وقصد بذبحھا التقرب إلی غیر الله صار مرتدا، وذبیحتہ ذبیحة مرتد․(حاشیہ علی تفسیر البیضاوی، سورة البقرہ:173، ص:123)

یعنی ہر وہ جانور جس کو غیر الله کے نام کر دیا گیا ہو، وہ حرام ہے، اگرچہ بوقت ذبح الله ہی کا نام لیا ہو، اس لیے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ کسی جانور کو غیر الله کے تقرب کے لیے کوئی مسلمان ذبح کرے، تو وہ مرتد ہو جائے گا اوراس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ کہلائے گا۔

”الدرالمختار“ میں ہے:”ذبح لقدوم الأمیر نحوہ کواحد من العظماء یحرم؛ لأنہ أھل بہ لغیر الله، ولوذکراسم الله، ولو ذبح للضیف لایحرم․“(الدرالمختار، کتاب الذبائح،217/5)

یعنی اگر کسی امیر یا بڑے کے آنے پر جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے اس کی تعظیم مقصود ہو، تو وہ حرام ہے، کیوں کہ وہ”وما أھل بہ بغیر الله“ میں داخل ہے، اگرچہ بوقت ذبح الله کا نام لیا ہو، لیکن اگر اس ذبح سے مقصد مہمان کو گوشت کھلاناہے، تو یہ جائز ہے۔

اسی طرح”تفسیر قرطبی“ میں ہے:
کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ ام المومنین! ہمارے کچھ رضاعی رشتہ دار عجمی لوگوں میں سے ہیں او ران کے یہاں تو روز روز کوئی نہ کوئی تہوار ہوتا ہے، یہ اپنے تہواروں کے دن کچھ ہدایا ہمارے پاس بھی بھیج دیتے ہیں، ہم اس کو کھائیں یا نہیں؟

اس پر حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا:”أما ما ذبح لذلک الیوم فلاتاکلوا، ولکن کلوا من أشجارھم․“(الجامع للأحکام القرآن للقرطبی، سورة البقرہ:224/2,173)

یعنی جو جانور اس دن کے لیے ذبح کیا گیا ہو، وہ نہ کھاؤ، لیکن ان کے درختوں کے پھل وغیرہ کھا سکتے ہو۔

ماأھل بہ لغیر الله کا مطلب
اگر کسی نے کسی بزرگ کے نام کی نذر مانی او رکسی بزرگ کے نام پر جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے اس بزرگ کی خوش نودی اور تعظیم مقصود ہو، تو یہ جانور حرام ہو گا، اگرچہ ذبح کرتے وقت اس پر الله کا نام لیا ہو اور یہ جانور بھی ”وماأھل بہ لغیر الله“ میں داخل ہو گا۔

علامہ قرطبی رحمہ الله فرماتے ہیں:
”وجرت عادة العرب بالصیاح باسم المقصود بالذبیحة، وغلب ذلک فی استعمالھم حتی عبربہ عن النیة التي ھی علة التحریم․“ (الجامع لأحکام للقرطبی، سورة البقرہ:224/2,173)
یعنی اہل عرب کی عادت تھی کہ جس کے لیے ذبح کرنا مقصود ہوتا، ذبح کرتے وقت اس کا نام بلند آواز سے پکارتے اور یہ رواج ان میں عام تھا، یہاں تک کہ اس آیت میں تقرب إلی غیر الله، اس کو جو کہ اصل علت تحریم ہے، اہلال کے لفظ سے تعبیر کر دیا ۔

تیسری صورت
تیسری صورت یہ ہے کہ غیر الله کے نام پر نذر مانی اور اس میں غیر الله کے نام پر جانور ذبح کرنے کی نذر نہیں ہوتی، بلکہ جانور کو اس بزرگ کے نام پر زندہ چھوڑ دیا جاتا ہے او راس سے نفع اٹھانے اور ذبح کرنے کو حرام سمجھا جاتا ہے۔

حکم… اس صورت کا حکم یہ ہے کہ ایسا جانور” بحیرہ“ اور ”سائبہ“ کے حکم میں ہے۔

الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس فعل سے منع فرمایا ہے﴿مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَةٍ وَلاَ سَآئِبَةٍ ﴾․ سورہ المائدہ:103)

الله تعالیٰ نے نہیں مقرر کیا، بحیرہ کو اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حامی کو، لیکن کافر باندھتے ہیں الله تعالیٰ پر بہتان۔

حضرات مفسرین نے ”بحیرہ“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ”بحیرہ“ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کا دودھ بتوں کے نام کر دیتے تھے، کوئی اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔ اور ”سائبہ“ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب التفسیر، باب ماجعل الله من بحیرة… رقم: 4623، والجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة المائدہ:209/6 ,103،وتفسیر روح المعانی، سورة المائدہ:41/4,103)

لہٰذا اگر کسی نے بزرگ کے نام پر کوئی جانور مزار وغیرہ پر چھوڑ دیا تو اس طرح جانور کو غیر الله کے نام پر چھوڑنا یہ عمل بنص قرآن حرام ہے، لیکن ان کے اس حرام عمل سے او راس جانو رکو حرام سمجھنے کے عقیدے سے یہ جانور حرام نہیں ہوتا، اس لیے وہ عام جانوروں کی طرح حلال ہے، البتہ وہ جانور مالک کی ملکیت ہے، اگر مالک نے اس کو بیچ دیا، تو خریدنے والے کے لیے حلال ہے۔

لیکن اگر کسی نے جانور کی بزرگ کے نام پر نذر مانی کہ فلاں بزرگ کے نام پر ذبح کروں گا اور پھر وہ جانور اس مالک نے شرعی طریقے پر ذبح کر لیا تو اس صورت میں ناذر کا مقصد ذبح ہوتا ہے، اس لیے وہ جانور ”وماأھل بہ لغیر الله“ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور جانور کو مزار پر زندہ چھوڑنے میں ناذر کا مقصد ذبح نہیں ہوتا۔ (کفایت المفتی:231/1،امداد الفتاوی99/4،فتاوی عزیزی،ص:484)

غیر الله کے نام کی نذر ونیاز ماننا اور اس طرح کی نذر ونیاز کو کھانا حرام ہے
کسی بھی پیغمبر ،صحابی، بزرگ کے نام کی نذر ونیاز ماننا جائز نہیں، اور اگر کسی نے اس طرح کی نذر ونیاز مانی ہے، تو اس کو کھانا حرام ہے۔

چناں چہ”کتب فقہ“ میں مذکور ہے:”اعلم أن النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام ومایؤخذ من الدراھم والشمع والزیت ونحوھا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا إلیھم فھو بالاجماع باطل وحرام، ( قولہ: باطل وحرام) لوجوہ: منھا أنہ نذر لمخلوق، ولا یجوز، لأن عبادة، والعبادة لا تکون لمخلوق، ومنھا: أن المنذور لہ میت، والمیت لا یملک․

ومنھا: أنہ إن ظن أن المیت یتصرف فی الأمور دون الله تعالیٰ کفر․“(حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالا یفسد471/1وحاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصوم، باب ما یلزم الوفاء بہ، ص:293)

یعنی اکثر عوام کی طرف سے مردوں کی خاطر جو نذر چڑھائی جاتی ہے اور بزرگوں کے مزارات پر جو موم بتی ، خوش بو ، روپیہ وغیرہ چڑھایا جاتا ہے، جس سے ان کا مقصد ان بزرگوں کو خوش کرنا اور ان کا تقرب حاصل کرنا ہوتا ہے اور یہ سب باتفاق ائمہ حرام ہے اور باطل ہے۔ اور اس کے حرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں:
ایک یہ کہ یہ مخلوق کے لیے نذر ماننا ہے، حالاں کہ نذر عبادت ہے، جو خالق کے ساتھ مخصوص ہے، دوسرے یہ کہ جس کے لیے نذر مانی ہے وہ مردہ ہے، بھلا وہ کسی چیز کا کیسے مالک ہو سکتا ہے؟ او رتیسرے یہ کہ اس میت کے ساتھ یہ اعتقاد بھی کیا جاتا ہے کہ وہ عالم میں تصرف کرتا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا تو کفر ہے۔
غیر الله کی نذر کا کھانا کیا کیا جائے؟
”فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال… غیر الله کی نذر ونیاز کا کھانا بلا علم تحفہ میں آجائے اور پھر واپس کرنے پر واپس نہ لیں، تو اس کو غرباء کو دیاجاسکتا ہے کہ نہیں؟ یا دفن کر دیا جائے، یا جانور کو دے دیا جائے؟

جواب… اگر غیر الله کے نام کی نذر ہے ، تو اس کو ایسی جگہ رکھ دیا جائے، کہ اسے جانور کھا لے۔ (فتاوی محمودیہ344/1)

مٹھائی وغیرہ پر غیر الله کی نذر ونیاز ہونے کا شبہ ہو تو کیا کرے؟
سوال… اگرجمعہ کے دن کسی قسم کی مٹھاتی کوئی لا کر تقسیم کرے، اور لوگ اس کو بغیر دریافتکیے کہ کیسی ہے؟ کس کے نام کی ہے؟ اور کس قسم کی؟ تو کیا ایسی مٹھائی کھانا جائز ہے؟

جواب… اگر شبہ ہو تو تحقیق کرے کہ یہ مٹھائی کیسی ہے، اگر شبہ نہ ہو تو بلاوجہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے، دل چاہے لے، نہ دل چاہے نہ لے۔(فتاوی محمودیہ،60/14)

ایصال ثواب کے لیے قبرستان میں ذبح کیے ہوئے جانور کا حکم
کسی پیغمبر، صحابی یا ولی کے نام کی نذر ماننا تو جائز نہیں، لیکن اگر کوئی الله کے نام پر کوئی جانور ذبح کرکے صدقہ کرے یا او رکوئی چیز صدقہ کرکے اس کا ثواب اس بزرگ کو بھیجے تو یہ جائز ہے۔

چناں چہ”کفایت المفتی میں ہے:
سوال… ایک جانور عندالله واسطے ایصال ثواب بزرگان دین کے ہے، جس کو زید نے قبرستان میں ذبح کیا، تو اس غرض سے کہ بزرگان دین کی قبریں بھی اسی قبرستان میں ہیں، جس میں جانور دبح کیا اور زید کو وہ ذبیحہ اس قبرستان میں مساکین کو کھلانا بھی مقصود ہے تو بموجب شرع شریف ذابح وذبیحہ کے واسطے کیا حکم ہے؟

جواب… جانور ذبح کرنے میں دو جہتیں ہیں ایک تو یہ کہ جانور کو ذبح کرنا، یعنی اس کی جان قربان کرنا اور اراقہ دم کسی کام کی غرض سے ہو، دوسرے یہ کہ اس کے ذبح سے صرف گوشت حاصل کرنا مقصود ہو اور گوشت کا صدقہ کرکے ثواب حاصل کرنا یا اپنے خرچ میں لانا، یا مہمان کو کھلانا یا دعوت میں خرچ کرنا مراد ہو۔

ایصال ثواب کے لیے بھی جانور کو ذبح کرنے میں یہی دونوں جہتیں متحقق ہو سکتی ہیں، دونوں کا حکم جدا جدا ہے۔ مفصل بیان کیا جاتا ہے:
اول یہ کہ نفس ذبح یعنی جان قربان کرنے سے مقصود تقرب الی غیر الله ہو، یعنی کسی بزرگ، ولی وغیرہ کی طرف تقرب حاصل کرنے او راس کی تعظیم کرنے او راس کی خوشی چاہنے کے لیے ذبح کیا جائے تو یہ حرام ہے اور وہ ذبیحہ بھی (مااھل بہ لغیر الله) میں داخل ہو کر حرام ہوجاتا ہے، خواہ اپنے گھر ذبح کیا جائے، یا قبرستان میں یا کسی اور جگہ میں۔

دوسری صورت یہ کہ ذبح سے مراد تقرب الی الله ہو، یعنی ذبح کرنے والا خاص خدا کی رضا مندی اور تعظیم عبادت کے خیال سے ذبح کرے اور پھر اس فعل پر اس کو جو ثواب ملے، وہ کسی دوسرے کو بخش دے اس صورت میں کوئی نقصان اور الزام ذابح اورذبیحہ میں نہیں ہے، یعنی ذابح کا یہ فعل حلال اورذبیحہ جائز ہے، مگر اس کے لیے کسی مکان او رجگہ کی تخصیص نہیں، او رنہ قبرستان میں لے جانے کی ضرورت ہے … ۔( کفایت المفتی، 249/1)

ابوعکاشہ مفتی ثنا الله خان ڈیروی
رفیق شعبہ تصنیف وتالیف واستاذجامعہ فاروقیہ کراچی

الفاروق میگزین، ربیع الاول 1437 مطابق دسمبر 2015ء


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں