آج : 16 September , 2015

ذو الحجہ کا مہینہ اور اس کے اعمال؛ قرآن و سنت کی روشنی میں

ذو الحجہ کا مہینہ اور اس کے اعمال؛ قرآن و سنت کی روشنی میں

ذو الحجہ کے مہینے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر متعدد مخصوص اعمال عائد کیے ہیں، جن میں سے سب سے اہم ’حج ‘ہے، جس کی مناسبت سے اس مہینے کا نام ہی ذی الحجہ یا ذوالحجہ پڑ گیا یعنی حج والا مہینہ، اس کے علاوہ اس مہینے میں ایک خاص حکم ہیجانوروں کی’قربانی‘کا، جو کہ’ عید الاضحی‘کے موقع پر کی جاتی ہے۔ان کے علاوہ یا ان ہی سے متعلق چند اعمال اور ہیں، جن سے بعض عوام میں غفلت برتی جاتی ہے، اس لیے ہم یہاں ان تمام پر اجمال کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ

عشرہ ذی الحجہ
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ’والفجر، ولیال عشر‘ میں جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے، وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرہ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔ ( معارف القرآن:۸ئ۹۳۷)ایک حدیث میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ اعمال ذی الحجہ کے (شروع) دس دنوں کی نیکیاں ہیں۔ کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی (ان دونوں کے علاوہ میں) جہاد کرے، تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: دوسرے دنوں کا جہاد بھی اس کی برابری نہیں کرسکتاالبتہ کوئی شخص اپنی جان ومال دونوں جہاد میں خرچ کردے، تو وہ بے شک اس عشرے کے اعمال سے بہتر ہوسکتا ہے۔ (بخاری:۹۶۹)یہ حدیث عشرہ ذی الحجہ کے احترام، برکت، فضیلت اور عظمت کی بیّن دلیل ہے اور چوں کہ یہ دن برکت والے ہیں، اس لیے ان میں ذکرِ الٰہی وانابت الی اللہ بہت بڑے اجر وثواب کا باعث ہے۔

صیام وقیام
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کے پہلے عشر ے میں ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، ان دنوں (یعنی یکم ذی الحجہ سے ۹؍ ذی الحجہ) میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے نفلی روزوں کے برابر اور ایک رات میں قیام کا ثواب شبِ قدر کے قیام کے برابر ہے۔ (ترمذی:۸۵۷)

حجِ بیت اللہ
اسلام کے جو پانچ ارکان ہیں، ان میں ایک اہم رکن’حج‘ ہے، شریعت کی اصطلاح میں مخصوص زمانے میں، مخصوص فعل سے، مخصوص مکان کی زیارت کرنے کو’حج‘ کہتے ہیں۔ (عمدۃ الفقہ:۴؍۲۱) اس کی فرضیت پر امت کا اجماع ہے،قرآنِ کریم میں حج کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجّْ الْبیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبیْلًا، وَمَن کَفَرَ فاِنَّ اللہَ غَنیٌِّ عَنِ العَالَمیْنَ۔لوگوں پر اللہ کا حق یعنی فرض ہے کہ جو اس گھر (کعبہ) تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ بھی اہلِ عالَم سے بے نیاز ہے۔(ا?ل عمران:۷۹)
حج کے فضائل احادیث میں بڑی کثرت سے وارد ہوئے ہیں، یہاں بطور نمونہ ایک حدیث ذکر کی جاتی ہے۔ حضرت ابو ہرہریرہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نبی کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص رضاء الہٰی کے لیے حج کرتا ہے، اس طرح کہ اس میں کسی قسم کی فحش اور برائی کی بات نہ کرے اور کسی قسم کی معصیت اور گناہ میں مبتلا نہ ہو تو وہ حج کے بعد اپنے گھر، گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر واپس لوٹے گا، جس طرح پیدائش کے وقت ماں کے پیٹ سے گناہوں سے پاک، دنیا میں آیا تھا۔ (بخاری:۹۹۳۱)
خیال رہے جس طرح حج کرنے پر فضائل کی کثرت ہے، اسی طرح اس عظیم ترین عمل سے کوتاہی برتنے پر سخت وعید بھی وارد ہوئی ہے، رسول اللہ کا ارشادِ گرامی ہے:جو شخص باوجود استطاعت کے حج نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے، چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔ (ترمذی:۲۱۸)

عرفہ کا روزہ
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ (یعنی ۹ ذی الحجہ) کا روزہ ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ (مسلم:۲۶۱۱)

بال وناخن
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمھارا قربانی کا ارادہ ہو تو تم اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رکے رہو۔ (مسلم:۷۷۹۱)یہ حکم استحبابی ہے اور صرف قربانی کرنے والوں کے ساتھ خاص ہے، وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ زیرِ ناف اور بغلوں کی صفائی اور ناخن کاٹے ہوئے۴۰ روز نہ گزر گئے ہوں، اگر چالیس روز گزر گئے ہوں تو امورِ مذکورہ کی صفائی واجب ہے۔ ( احسن الفتاوی:۷؍۷۹۴) اور حدیث میں مذکور ’نہی‘ خلافِ اولیٰ پر محمول ہے۔ (اعلاء السنن:۶۱؍۴۰۰۸)

تکبیرِ تشریق
۹ ذی الحجہ کی نمازِ فجر سے۳۱ ذی الحجہ کی نمازِ عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق پڑھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ تکبیرِ تشریق ہر مسلمان پر واجب ہے، خواہ وہ مسافر ہو یا مقیم، مرد ہو یا عورت، شہری ہو یا دیہاتی، آزاد ہو یا غلام، جماعت سے نماز پڑھنے والا ہو یا منفرد، البتہ ان دنوں کی کوئی نماز چھوٹ جائے تو بعد میں اس کی قضا کے وقت تکبیرِ تشریق پڑھنے کی ضرورت نہیں، اسی طرح پہلے کی کوئی قضا نماز جو کہ واجب الادا تھی، ان دنوں میں اس کی قضا کرے، تو بھی تکبیرِ تشریق نہیں کہی جائے گی۔یہ تکبیر مرد متوسط بلند آواز سے اور عورتیں آہستہ آواز سے پڑھیں۔ (خلاص الفتاویٰ:۱؍۶۱۲)علماء نے لکھا ہے کہ نمازِ عید کے بعد بھی تکبیرِ تشریق کا وجوب معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ یہ نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، اگرچہ فی نفسہ فرض نہیں، اسی پر مسلمانوں کا توارث ہے۔ (بحرالرائق:۲؍۹۸۲)تکبیرِ تشریق یہ ہے:اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر و للہ الحمد۔(کنز العمال:۸۵۷۲۱)

عید کی رات
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص عیدین(عید الفطر اور عید الاضحی) کی راتوں میں شب بیداری اور عبادت کا اہتمام کرے، اس کا دل قیامت کے دن اس وقت بھی زندہ رہے گا، جس دن سب کے دل مردہ ہوجائیں گے۔ (ابن ماجہ:۲۸۷۱)

عید الاضحیٰ
’عید‘ لفظ ’عود‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں’بار بار آنا‘، چناں چہ اس دن کو عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دن بار بار یعنی ہر سال آتا ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس دن کا نام ’عید‘ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ عود کرتا ہے یعنی بندوں پر اپنی رحمت او ر بخشش کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ (مظاہر حق جدید:۲؍۷۴۲) ’عید اضحی‘ یا ’عید الاضحی‘ کا مطلب ہے ’بقر عید‘ یعنی مسلمانوں کا وہ تہوار جو دس ذی الحجہ کو منایا جاتا ہے، جس میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔ (فیروز اللغات:۸۰۹)
رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ (جن کی اکثریت اب ایمان لاچکی تھی) کے لوگوں کے دو دن کھیل کود (تفریح وغیرہ) کے لیے مقرر تھے۔ آپﷺنے دریافت فرمایا: یہ دونوں دن کس بات کے لیے ہیں؟ ان لوگوں نے بتایا کہ ایامِ جاہلیت میں ہم لوگ کھیل کود کرتے تھے، تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو ان دونوں دنوں کے بدلے دوسرے دو دن عنایت فرمائے ہیں اور یہ ان سے بہتر ہیں؛ ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی۔ ( ابو داود: ۴۳۱۱)

قربانی
’القربان‘کے معنی ہیں ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ کی قْرب جوئی کی جائے اور عرف میں قربان بمعنی ’نسکیۃ ‘ یعنی ’ذبیحۃ ‘ کے آتے ہیں۔ (مفردات القرآن:۶۴۴)قربانی کرنے کا مطلب ہے؛عیدِ اضحی کو اونٹ یا دْنبہ وغیرہ قربان کرنا، ذبح کرنا۔ اس لفظ میں یاے تمنائی زائد ہے، کیوں کہ فارسی والوں کا قاعدہ ہے کہ بعض اوقات عربی مصدر کے آگے یاے مصدر ’ی‘ یا زائدہ اکثر بڑھا دیا کرتے ہیں، جیسے: خلاص سے خلاصی وغیرہ۔ (فرہنگِ آصفیہ:۲?۸۶۴۱)رسول اللہﷺکا ارشاد ہے: عید الاضحی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل جانور کی قربانی کرنا ہے، یہ قربانی قیامت کے دن اپنے بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی اور یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کردیا جاتا ہے، اس لیے خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ (ترمذی:۳۹۴۱)
حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمھارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انھوں نے عرض کیا: اس میں ہمیں کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی اور فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے (بھی) ایک نیکی۔(ابن ماجہ:۷۲۱۳)نیزرسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جو صاحبِ نصاب، باوجود استطاعت کے قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ (ابن ماجہ:۳۲۱۳)

مولانا ندیم احمد انصاری
بصیرت فیچرس


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں