مسلمان شریعت میں مداخلت اور دستور میں تبدیلی ہرگز برداشت نہیں کرسکتے

مسلمان شریعت میں مداخلت اور دستور میں تبدیلی ہرگز برداشت نہیں کرسکتے

ممتاز قومی رہنماالحاج قمرالاسلام وزیر حکومت کرناٹک نے کہاہے کہ ہندوستانی مسلمان شریعت میں کسی قسم کی مداخلت اور دستور میں تبدیلی کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے آر ایس ایس اور اس کی حلیف تمام فرقہ پرست و فاشسٹ طاقتوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ شریعت میں مداخلت اور دستور میں تبدیلی کرنے کے اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہ کریں ورنہ انہیں نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے تمام سیکولر مزاج عوام کی شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

الحاج قمرالاسلام کل یہاں کے بی این آڈیٹوریم میں مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام منعقدہ کل جماعتی اجلاس عام میں صدارت خطاب کر رہے تھے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دین بچائو ، دستور بچائو تحریک کے ضمن میں کل جماعت اجلاس کاانعقادکیا گیا تھا جو بیحد کامیاب رہا۔ الحاج قمرلاسلام نے مزید کہا کہ اسلام دین حق ہے اور نمرودی طاقتیں مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑسکتیں، انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے اگر چیکہ ملک کا اقتدار حاصل کر لیا ہے لیکن وہ اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا اپنا خواب پورا نہیں کرسکتی ۔ الحاج قمرالاسلام نے ہندو توا ایجنڈہ کے تحت متعارف کئے جارہے پروگراموں کو دستور مخالف قراردیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں دین و دنیا کی بہتری کے علاوہ صحت کو بنائے رکھنے کے تمام پروگرام پیش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نماز سے بڑھ کر جسمانی و روحانی فائدہ دینے والی کوئی عبادت نہیں اور اس کی کسی مذہب میں نظیر نہیں ۔ الحاج قمرالاسلام نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانان ہند کا نمائندہ بورڈ ہے اور مسلمان کلمہ کی بنیاد پر متحد ہو کر بورڈ کے ہر فیصلہ پر عمل کریں گے ۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قائدین ، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا منت اللہ رحمانی، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا عبدالرکریم پاریکھ، ابراہیم سلیمان سیٹھ ، غلام محمودبنات والا کی ملی و دینی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان قائدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین و دستور کو بچانے کے لئے نوجوانوں سے بھر پور کام لیا جائیگا۔
انہوں نے علماء و دانشوران ملت سے اپیل کی کہ وہ نئی نسل کی عصری تقاضوں کے مطابق رہنمائی و تربیت پر توجہہ دیں ۔ قبل ازیں کارروائی کا آغاز قاری ڈاکٹر عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اُردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔
الحاج اسد علی انصار چیرمین ضلع وقف مشاورتی کمیٹی گلبرگہ نے نعت خوانی کا شرف حاصل کیا۔ کل جماعتی اجلاس عام کی سرپرستی تقدس مآب ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین بارگاہ بندہ نوازؒ و رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فرمائی ۔
انہوں نے اپنے خطاب گرامی میں تعلیمی نصاب اور تاریخ کو زعفرانی رنگ دینے کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں مسلمان ایک ہزار سال کی تاریخ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے تاریخ اور نصاب سے مسلم حکمرانوں کے تذکرہ کو غائب کرنے کی کوششوں کیخلاف این سی آر ٹی سی سے پرزور احتجاج کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ سے واقف کروانے اور غیر مسلم مورخین کی تصنیف کی گئی مسلم تاریخ کو برادران وطن تک پہچانے کی ضرورت ہے ۔
ڈاکٹر خسرو حسینی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دین بچائو، دستور بچائو تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے مسلمانوں کو اپنے مسلکی اور فروعی ، سیاسی اختلافات سے بلند ہو کر کام کرنا چاہئے ۔ محمد اصغر چلبل نائب صدر مرکزی سیرت کمیٹی و چیرمین کے ڈی یو نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو سڑک ، نل، نالی کے مسائل اور ہر طرح کے اختلافات سے بلند ہو کر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز میں نریندر مودی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے ہیں اور وہ ملک کے دستور کو تبدیل کرنے کے خطرناک عزائم رکھتے ہیں ۔
محمد اصغر چلبل نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے ملی تشخص کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک بنا رہے ۔انہوں نے فرقہ پرستوں کو ان کے مسلمانوں اور دستور کیخلاف جارحانہ عزائم میں ناکام بنانے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دین بچائو، دستور بچائو تحریک کو کامیاب بنانے اور اس مہم کے تحت غیر مسلم سیکولر عوام کی تائید حاصل کرنے پر زور دیا ۔
مولانا جاوید عالم قاسمی علیگ جمعیت العلماء نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان ہر طرح کے مصاٗب و آلام اور مظالم کو برداشت کرسکتا ہے لیکن دین کے معاملہ میں وہ ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں پر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے پر زور دیا۔ مولانا نصیر الدین خان رشادی نے کہا کہ مسلمانوں کے آپسی اختلافات نے انہیں کمزور کر دیا ہے ۔
ہمارے انتشار سے فرقہ پرستوں کے حوصلے اور عزائم بلند ہوئے ہیں ۔ مولانا عبدالرشید نے کہا کہ ہمارا اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اتحاد میں رخنہ پیدا کرنے والے عناصر سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ مولانا قاضی عبداولواحد رشادی، ڈاکٹر عبدالحمید اکبر اور امجد جاوید رکن کرناٹک اُردو اکادمی نے بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے خلاف ہونے والی سازوں سے ہمیشہ باخبر رہنے اور بروقت ان کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے ۔ سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست نے نہایت عمدگی کے ساتھ نظامت کی اور 4قراردادیں پیش کیں ۔ جن میں ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب کو مسلم پرسنلا لاء بورڈ کا نائب صدر ، الحاج قمرالاسلام کو ان کی ملی خدمات کے لئے بورڈ کا جنرل سیکریٹری بنانے اور دیگر مطالبات کئے گئے ۔
سید شاہ خلیل اللہ حسینی برادر سجادہ نشین گلسرم، سید شاہ ضیاء الرحمن صاحب سجادہ نشین چوکھنڈی شاہ پور کے علاوہ علمائے کرام مشائخین عظام شہ نشین پر موجود تھے ۔ مساجد کمیٹیوں ، دینی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران آئمہ و موذنین ، دانشوران کی کثیر تعداد کے علاوہ خواتین نے بھی شرکت کی ۔

بصیرت آن لائن


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں