دارالعلوم زاہدان کے استاد تفسیر سے خصوصی گفتگو

دارالعلوم زاہدان کے استاد تفسیر سے خصوصی گفتگو

نوٹ: گزشتہ کئی سالوں سے شعبان و رمضان کے مبارک مہینوں میں دارالعلوم زاہدان، ایران، کی جانب سے سالانہ تعطیلات کے موقع پر ترجمہ و تفسیر قرآن پاک کے دورے منعقد ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ہے طلبہ اور دینی مدارس سے وابستہ افراد کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ حضرات و خواتین بھی اس دورے میں شریک ہوتے ہیں۔
اس روحانی و علمی دورہ تفسیر کی تاریخ کیا ہے اور اس کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ ان سوالات کے جواب اور بعض دیگر متعلقہ مسائل جاننے کے لیے ’سنی آن لائن‘ نے دارالعلوم زاہدان کے مایہ ناز استاد تفسیر و حدیث مولانا عبدالغنی بدری دامت برکاتہم کا انٹرویو لیا جو نذرِ قارئین ہے۔

✶✶براہ کرم سب سے پہلے دارالعلوم زاہدان کے دورہ تفسیر کی تاریخ پر روشنی ڈالیں۔
✶جہاں تک مجھے یاد ہے تقریبا بیس انیس سال قبل جب مولانا نعمت اللہ توحیدی رحمہ اللہ دارالعلوم زاہدان منتقل ہوچکے تھے، ان ہی کی محنتوں سے اس دورے کا آغاز ہوا۔ شروع میں طلبہ کی تعداد کم تھی اور لوگوں کو اس مبارک دورے کا علم نہیں تھا، لیکن مولانا توحیدی عوام کی افادیت کی خاطر بعض اوقات مثلا عصر کے بعد مسجد میں پڑھاتے تھے۔ ان کی محنتوںکی بدولت رفتہ رفتہ مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اس دورے کے بارے میں مزید پتہ چلا۔
مولانا توحیدی کے سانحہ ارتحال پیش آیا تو یہ ذمہ داری برادرم مولانا حافظ احمد اسماعیل زہی کے سپرد ہوئی اور انہوں نے بھی چند سال تک بخوبی قرآن پاک کے چشموں سے لوگوں کو سیراب کرایا۔ یہاں تک کہ دوہزار تیرہ میں صدر جامعہ حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی مشورت اور حکم پر یہ ذمہ داری میرے حوالے ہوئی۔ یہ تیسرا سال ہے کہ الحمدللہ دوستوں کی دعاوں اور مشوروں سے میں سرگرم عمل ہوں۔

✶✶اس دورے میں کس طریقے سے قرآن پڑھایا جاتاہے؟
✶دارالعلوم زاہدان کے جتنے بھی اساتذہ تفسیر گزرے ہیں سب کا طرز ایک ہی رہاہے۔ ہم شیخ التفسیر امام الموحدین مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے طرز پر پڑھاتے ہیں۔ مولانا حافظ احمد اور مولانا نعمت اللہ دونوں مولانا جاجروی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں۔ مجھے بھی تین مرتبہ مولانا عبدالغنی جاجروی رحیم یارخانی کے پاس دورہ تفسیر پڑھنے کی توفیق نصیب ہوئی۔
میرا خیال ہے مولانا حسین علی رحمہ اللہ کا طرز انتہائی خاص اور بے مثال ہے۔ میرے استاذ مولانا دین محمد درکانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں مولانا حسین علی الوانی رحمہ اللہ کا طریقہ تدریس قرآن و تفسیر ایک الہامی طرز ہے؛ جس طرح جماعت تبلیغ کا کام دعوت و اصلاح کے سلسلے میں ایک الہامی طریقہ ہے جسے اللہ تعالی نے مولانا الیاس رحمہ اللہ کو عطا فرمایا۔ مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے طریقے میں دو ماہ کے مختصر عرصے میں تمام قرآنی آیات کا ترجمہ ہوتاہے اور اہم مسائل و معارف پرتفصیل کے ساتھ احاطہ بھی ہوتاہے۔

✶✶براہ کرم ہمارے قارئین کے لیے مولانا حسین علی رحمہ اللہ کا طریقہ مزید واضح کریں۔
✶مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے خصوصی طرز میں تفہیم قرآن کے لیے مخصوص الفاظ اور اصطلاحات موجود ہیں جو انتہائی مختصر مگر پرمعنی اور جامع و کامل مفاہیم کے حامل ہیں۔ ان کی مدد سے قرآن سمجھنا بہت آسان ہوتاہے۔
اسی طرح قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر سے پہلے ایک مقدمہ پڑھایا جاتاہے جسے ہمارے اساتذہ ’مسئلہ الہ‘ کہا کرتے تھے اور ہم نے اس کا نام ’مقدمہ تفسیر قرآن مجید‘ رکھاہے۔ اس مقدمے میں کلیدی نکات اور اسرار پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور خاص کر توحید سے متعلق مباحث بیان ہوتے ہیں۔ توحید و شرک کی اقسام، مسئلہ علم غیب و غیرہ اس مقدمے میں آتے ہیں اور بعض مصطلحات مثلا طاغوت اور جبت کی توضیح و تفسیر کی جاتی ہے۔ اس طریقے میں توحید کا رنگ غالب ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے مولانا غلام اللہ خان کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: آپ کے استاذ (مولانا حسین علی) قرآن کی حرکات وسکنات سے توحید ثابت کرتے ہیں۔

✶✶کیا جب مولانا حسین علی اپنے استاذ مولانا محمدمظہر نانوتوی رحمہمااللہ کے پاس قرآن پڑھتے تھے، اس وقت بھی شعبان ورمضان ہی میں دورہ تفسیر منعقد ہوتا؟
✶شعبان و رمضان میں دورہ تفسیر منعقد کرانے کا سلسلہ مولانا حسین علی رحمہ اللہ نے شروع کیاہے اور اس کا سہرا ان کے سر جاتاہے۔ آپ نے گنگوہ اور سہارنپور میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد خرافات و بدعات کی بیخ کنی کے غرض سے میانوالی پنجاب میں اپنی بستی میں دورہ ترجمہ و تفسیر کا آغاز کیا۔ یہاں آپ نے کئی ممتاز شاگرد کی تربیت فرمائی جن میں مولانا غلام اللہ خان، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا محمدامیر بندیالوی، قاضی شمس الدین ، مولانا مفتی محمدحسین نیلوی اور مولانا عبداللہ درخواستی کے اسامی گرامی قابل ذکر ہیں۔

✶✶کیا آپ اپنے اساتذہ کے علاوہ دیگر مفسرین کی کتب اور طریقوں سے بھی استفادہ کرتے ہیں؟
✶قرآن پاک ایک زندہ جاوید کتاب ہے جس کی تعلیمات ہر دور میں انسانی معاشرے کے لیے بہترین ہیں۔ اسی لیے اس عظیم کتاب کو وقت کی زبان میں تشریح و تفسیر کرنی چاہیے اور ہم اس مسئلے پر بہت توجہ کرتے ہیں۔ قرآنی آیات کی تفسیر میں مخاطبین اول، یہود ونصاری اور مشرکین تک اس کتاب کو محدود نہیں کرنی چاہیے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے فرمایاہے صدراسلام کے بہت سارے غلط عقائد اور انحرافات اس امت میں بھی پائی جاتی ہیں؛ لہذا ان کی نشاندہی ضروری ہے۔ مثلا تحریف اور حق چھپانے کی عادت دیکھنے کے لیے اس دور کے علمائے سوءکو پیش کیا جاسکتاہے اور نفاق کی مثال دیکھنی ہو تو کرپٹ حکام، آمر حکمران اور بے دین مالداروں کی مثال لے لیں۔
ہماری کوشش ہے عصر حاضر کے مصداقوں کو بھی بیان کریں اور بلاضرورت شدیدہ شان نزول کی چکر میں نہ پڑجائیں جس سے طالب علم کا ذہن اسی خاص واقعہ تک محدود رہتاہے۔
مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے طرز کے علاوہ ہم امام شاہ ولی اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھی کے طرز سے بھی استفادہ کرتے ہیں جن کا مرکزی موضوع خلافت اور مدنیت کا مسئلہ ہے۔ لہذا ہم مختلف تفاسیر سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر سال ایک نئی تفسیر کو مدنظر رکھ کر قرآن کی تشریح میں اس کی مدد لیتے ہیں۔

✶✶اس دورہ تفسیر میں کس حد تک معاشرتی امور پر توجہ دی جاتی ہے؟
✶جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے طرز کی اصل توجہ توحید اور عقائد و ایمانیات سے وابستہ مسائل ہیں۔ لیکن ضرورت کے پیش نظر یہاں ایمانیات کے علاوہ معاشرتی و اخلاقی مسائل پر بھی کافی توجہ دی جاتی ہے، خاص کر ظہر کی نماز کے بعد جب درس ہوتاہے تو اکثر عوام بھی شریک ہوتے ہیں اوران کے لیے بعض مسائل کا جاننا ضروری ہے۔

✶✶اس دورے کے شرکا کا تعلق اکثر کن طبقوں سے ہے؟
✶اس سے پہلے دورہ تفسیر کے حوالے سے اشتہار اور عوام و خواص کو اطلاع دینے کا کام کمزور تھا، اب اس مسئلے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور اس کا دائرہ وسیع تر کردیا گیاہے۔ پہلے صرف علما و طلبا شریک ہوتے تھے ، اب عصری جامعات کے طلبہ، سرکاری ملازمین اور دیگر تعلیم یافتہ حضرات و خواتین بھی شرکت کرتے ہیں۔ جتنے طالب علم ہیں اتنے ہی طلبہ و اساتذہ سرکاری تعلیمی اداروں سے آتے ہیں۔ ستر سے زائد خواتین جامعہ کے مدرسة البنات ہمہ وقت قیام پذیر ہوچکی ہیں جن کا تعلق دیگر شہروں اور صوبوں سے ہے اور ان میں تعلیم یافتہ خواتین بھی کم نہیں۔ ان کے علاوہ دو سو سے زائد خواتین باقاعدہ داخلہ لے کر دورے میں شریک ہوچکی ہیں۔

✶✶ہمیں اپنا قیمتی وقت دینے کا بہت بہت شکریہ۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں