آج : 31, December 2014

لاپتا طیارے کا ملبہ برآمد، سمندر سے 40 لاشیں نکال لی گئیں

لاپتا طیارے کا ملبہ برآمد، سمندر سے 40 لاشیں نکال لی گئیں

انڈونیشیا کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس نے ائیر ایشیا کے لاپتا طیارے کا سمندر میں سراغ لگا لیا ہے اور کم سے کم 40 لاشیں نکال لی ہیں۔

اس سے قبل انڈونیشیا کے حکام نے کہا تھا کہ انھیں انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو کے قریب بحیرۂ جاوا میں اتوار کی صبح لاپتا ہونے والے ایئر ایشیا کے مسافر بردار طیارے کا ملبہ نظر آ گیا ہے۔ ایک انڈونیشی عہدے دار نے کہا ہے کہ 95 فیصد امکان ہے کہ یہ ملبہ ایئر ایشیا کی پرواز QZ8501 کا ہے۔
ملائیشیا کی نجی فضائی کمپنی ایئرایشیا کا یہ طیارہ انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے بحیرۂ جاوا کے اوپر لاپتا ہوگیا تھا۔ اس میں عملے کے ارکان سمیت 162 افراد سوار تھے اور پرواز کے 45 منٹ بعد اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا تھا۔
انڈونیشیا کے ٹیلی ویژن پر براہِ راست دکھائی جانے والی ایک اخباری کانفرنس میں ملبے کے علاوہ ایک لاش بھی پانی پر تیرتی دکھائی گئی۔ طیارے پر سوار مسافروں کے رشتے دار ان تصاویر کو دیکھ کر صدمے کی حالت میں آ گئے۔ ایئر ایشیا کے سربراہ ٹونی فرنینڈس نے ٹویٹر پر کہا: ”میرا دل QZ8501 سے متعلق تمام افراد کے لیے غم سے بھرا ہوا ہے۔ میں ایئرایشیا کی جانب سے تعزیت کرتا ہوں”۔
تلاش کے دائرے میں وسعت
ایئر ایشیا کے مسافر طیارے کے تلاش کی سرگرمیوں میں مدد کے لیے امریکا اپنا بحری جہاز یو ایس ایس سمپسن بھی بھیج رہا ہے۔ پہلے سے جاری تلاش کی سرگرمیوں میں امریکا سمیت متعدد ممالک شریک ہیں۔ دو روز تک جاری رہنے والی تلاش کی کارروائیوں میں کشتیاں اور ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے تھے۔
تلاش کی کارروائیوں میں آسٹریلیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے طیارے بھی مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق انڈونیشیا کے 12 بحری جہاز، تین ہیلی کاپٹر اور پانچ فوجی طیارے ان کارروائیوں میں شریک ہیں۔
طیارے پر انڈونیشیا کے 149، جنوبی کوریا کے تین جب کہ برطانیہ، ملائیشیا اور سنگاپور کا ایک، ایک شہری سوار تھا۔ مسافروں میں بچے بھی شامل تھے۔ عملے کے سات ارکان میں سے چھے کا تعلق انڈونیشیا جب کہ معاون پائلٹ کا تعلق فرانس سے بتایا جاتا ہے۔
ایئر ایشیا ملائیشیا کی نجی فضائی کمپنی ہے اور لاپتا ہونے والے طیارے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ صرف چھے سال پرانا تھا اور تکنیکی اعتبار سے بالکل ٹھیک تھا۔
حکام کے مطابق طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز طوفان سے بچنے کے لیے مقررہ روٹ سے بائیں مڑنے کی اجازت مانگی تھی جو دے دی گئی لیکن اس کے بعد پائلٹ طیارے کو 1800 میٹر بلند لے جانا چاہتا تھا جس کی یہ کہہ کر اجازت نہیں دی گئی کہ اس وقت ایک اور طیارہ بھی فضا میں محو پرواز تھا۔
طیارے کے مسافروں کے عزیز ورشتے دار اپنے پیاروں کے بارے میں کسی بھی خبر کے منتظر ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔
اس سال مارچ میں ملائیشیا کا ایک اور مسافر طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتا ہو گیا تھا جس کا آج تک سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اس پرواز پر 239 افراد سوار تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں